کوروناوائرس سے متعلق چند قابل غور باتیں
إعداد أردو ترجمهأ.د/حمد محمد الهاجري أبوعبدالله النوري
حالیہ دنوں لوگوں کی کوئی
بھی مجلس کورونا وائرس سے متعلق گفتگو سے
خالی نہیں ہوتی ، یہ خطرناک بیماری ملک چین سے شروع ہوکر دنیا کے کئی ممالک میں
پھیل گئی ان دنوں اس سلسلے میں گفتگو کرنے والے کچھ تو خیر خواہی اور امانت داری کے
جذبے والے ہیں جو اس کے متعلق ثابت شدہ باتیں
بتاتے ہوئے اس میں مبتلا کرنے والی چیزوںسے بچاؤ کی تلقین کرتے ہیں جبکہ
کچھ ایسے بھی ہیں جو افواہوں اور جھوٹی خبروں کو بڑھاوا دے کر لوگوں کو خوف و ہر
اس میں ڈال رہے ہیں تیسری قسم ایسے لوگوں کی بھی ہے جو حقیقت میں مذاق کو ملاکر اس موقع کو ہنسی مذاق اور غفلت کا وقت تصور کررہے ہیں جبکہ مسلمانوں
کو چاہئے کہ وہ ہر حال میں اللہ سے ڈریں اور خوشی اور غمی ہر حال میں اللہ کی طرف
رجوع کریں اور عبرت و نصیحت پکڑیں اور علم اور خیر خواہی اور شرعی اصول اور علمی
قواعد پر مشتمل باتیں ہی اپنی زبان سے نکالیں۔
یہ چند قابل غور باتیں
ہیں جن میں انسانی زندگی میں پیش آنے والے اس طرح کے خوفناک حالات میں مسلمانوں کے
لئے ضروری آداب مذکور ہیں :
پہلی بات:معاشرے
میں پھیلنے والی بیماریوں کے صحی اور شرعی دونوں طرح کے اسباب ہوتے ہیں ،صحی سبب
جیسے لوگوں میں کسی جراثیم یا وائرس کا پھیلنا یا کسی خاص کھانے سے زہر پیدا ہونا
وغیرہ اور شرعی اسباب جیسے نافرمانوں کی تادیب ظالموں کی ہلاکت اہل طاعت اور صلاح
کے مقام کو اونچا کرنا ، لہذا وبائیں جس طرح برائیوں کے پھیلنے کی سزائیں ہوتی ہیں
کہ اس طرح سرکش سرکشی سے باز آجائے بدبخت اپنی بدبختی سے افاقہ میں آئے اور
نافرمان کو اس کی سزا مل جائے، جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے:﴿وما أصابكم من مصيبة فبما
كسبت أيديكم و يعفو عن كثير ﴾[الشورى
:٣٠].اور آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا :((جس قوم میں برائی اس حد تک پھیل جائے کہ وہ اسے کھلم کھلا
انجام دینے لگیں تو ان میں طاعون اور ایسی
بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے آبادی و اجداد میں نہیں گذری ہوں گی))[اسے
امام ابن ماجہ نے ۴۰۱۹
نمبر پہ روایت کیا ہےاور علامہ البانی نے اسے صحیح ترغیب و ترہیب (۱/۴۶۸)میں حسن قرار دیا ہے ]۔اور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ :جب بھی کسی قوم میں زنا
کاری عام ہوجاتی ہے ان میں کثرت سے اموات واقع ہونے لگتے ہیں ۔[اسکی
تخریج ابو نعیم نے حلیہ (۱ /
۳۲۳)میں کی ہے]۔اور
وبائیں کبھی کبھار اللہ کی جانب سے مومن بندوں کے لئے آزمائش ہوتی ہیں تاکہ اللہ
انہیں آزمائیں اور ان کے درجات بلند کریں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے
:((بندہ آزمائش میں گھرا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بے گناہ ہوجاتا ہے))[اسے
امام احمد نے مسند میں (۴۸۱)نمبر
پر نقل کیا ہے۔اور احمد شاکر نے اسے صحیح قرار دیا ہے]۔
دوسری بات:انسان
اللہ کی قدرت کے سامنے بہت کمزور ہے ، جا انسان نے اتنا گمان کرلیا ہے کہ وہ دنیا كا
مالک بن گیا ہے، اور سوچتا ہے کہ وہ جو چاہے کرسکتاہے ،وه انسان اللہ سبحانہ و
تعالی کے سامنے کتنا کمزور ہے ﴿وما يعلم جنود ربك إلا هو﴾[المدثر/٣١].لہذا
ہم غور کریں کہ کورونا وائرس خالی آنکھ سے دیکھا بھی نہیں جاتا وہ خون اور خلیوں
میں گردش کرکے انسان کو بے حال کردیتا ہے اور بسا اواقات انسان موت کی نیند سونے
پر مجبور ہوجاتا ہے۔اللہ کس قدر پاک ہے انسان کتنا بھی بڑا ہوجائے کتنی بھی
ایجادات کرلے طب اور صنعت و حرفت میں کتنا بھی ماہر ہوجائے وہ اللہ کے سامنے کمزور
ہی رہے گالہذا انسان کو اپنی طاقت اور اللہ کی عطا کردہ صلاحیتوں پر فخر نہیں کرنا چاہئے اللہ تعالی بسا اوقات
اپنے کونی نشانیوں کو ظاہر کرتے ہیں تاکہ بندے اللہ کی طرف لوٹ آئیں ، اللہ کا
فرمان ہے:﴿وما نرسل بالآيات الا تخويفا﴾[الاسراء:٥٩]،اور
فرمان باری ہے:﴿فلولا إذ جاءهم بأسنا تضرعوا ولكن قست قلوبهم و زين لهم الشيطان مت
كانوا يعملون﴾[الانعام :٤٣].
تیسری بات:اس
میں کوئی شک نہیں کہ انسان کورونا وائرس اور اس جیسی وباؤں کے سبب خوف کا شکار
ہوجاتا ہے ،یہ طبعی خوف ہے جس پر اسے ملامت نہیں کیا جائے گا لیکن یہ عادت سے
زیادہ نہیں ہونی چاہئے اور اس کا دل میں گھر کرنا بھی درست نہیں ہے نہ ہی اس کے
سبب واجب کا چھوڑنا اور حرام کا ارتکاب لازم آئے بلکہ بندے کو اللہ پر توکل اور
بھروسہ کرتے ہوئے اس طرح کی چیزوں کو اپنے دل سے نکال دینا چاہیے جیساکہ فرمان
باری تعالی ہے:﴿الذين قال لهم الناس ان الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم فزادهم ايمانا
وقالوا حسبنا الله ونعم الوكيل ﴾[آل عمران:١٧٣].اور
فرمان باری تعالی ہے:﴿قل لن يصيبنا الا ما كتب الله لنا هو مولانا وعلى الله فليتوكل
المؤمنون﴾[التوبة:٥١].اور
مسلمان صرف اللہ سے ہی عافیت ، شفاء اور سلامتی کی امید رکھے اور حادثات اور مصائب
سے اسے اور زیادہ اللہ کے قریب ہونا چاہئے ﴿ومن يعتصم بالله فقد هدي الى
صراط مستقيم ﴾[آل
عمران:١٠١].
چوتھی بات:اطباء
اب تک تو اس مرض کا علاج دریافت نہیں کرسکے ہیں مگر اس کا علاج موجود ہے جیسا کہ
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:((بے دل اللہ تعالی نے کوئی بھی بیماری نہیں
اتاری مگر اس کے ساتھ اس کا علاج بھی اتارا ہے جو اسے جانتا ہے جانتا ہے جونہیں جانتا
وہ نہیں جانتا))[اسے حاکم نے مستدرک میں ۸۲۰۵ نمبر پہ روایت کرتے ہوئے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی تائید
کی ہے]۔
پانچویں
بات :بعض امراض اور وباؤں کا متعدی اور اثر
دار ہونا ثابت ہے ، مگر یہ خود بخود متعدی
نہیں ہوتے بلکہ اللہ کی اجازت اور تقدیر کے محتاج ہوتے ہیں لہذا ہم مشاہدہ کرتے
ہیں کہ کبھی صحیح اور تندرست شخص کو مریض کے پاس لے جایا جائے تو بھی وہ بیمار
نہیں ہوتا اور کبھی کبھار صحیح سالم شخص احتیاط کرتے ہوئے بھی بیماری کا شکار
ہوجاتا ہے۔
مگر ہمیں بیمار کرنے والے
اسباب سے بچنا چاہئے اور جسے کوئی بیماری لاحق ہو اسے حتی الامکان تندرست لوگوں کے
پاس نہیں جانا چاہئے یہی فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم :((مریض آدمی کو تندرست کے
پاس نہ ہے جاؤ )مسلم اور (مجذوم (کوڑھ میں مبتلا شخص)سے اسی طرح بھاگو جس طرح شیر
سے بھاگتے ہو) بخاری اور (طاعون پھٹکار اور عذاب ہے جسے بنو اسرائیل یا تم سے پہلے
لوگوں کی جانب بھیجا گیا تھا جب تم کسی جگہ اس کے واقع ہونے کی خبر سنو تو وہاں نہ
جاؤ اور اگر تم کسی ایسی جگہ ہو تو وہاں سے نہ بھاگو )کا تقاضہ بھی ہے ۔: متفق
علیہ
لہذا مسلمان کو حتی
الامکان ان بیماریوں سے بچنے کے اسباب اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئے اور
اس طرح کے مرض میں مبتلا لوگوں کے موجودگی کے امکان والی بھیڑ کی جگہوں پر جانے سے
بچے ،اس مرض مبتلا شخص کے کسی بھی چیز کا استعمال نہ کرے اپنے دونوں ہاتھوں کو
پانی اور صابون یا دیگر مطہرات سے دھولیا
کرے خاص کر ان چیزوں کو چھونے کے بعد جن پر اس مرض میں مبتلا شخص کے ہاتھ لگانے کا
اندیشہ ہو ،اور میڈیکل ماسک کا استعمال کرے ضروری ویکسین (ٹیکہ)لگالے اور اس جیسی
دیگر نفع بخش اسباب ۔
چھٹی بات:مسلم
کو شرعی اذکار کے اہتمام کا پابند ہونا چاہئے ،لہذا مسلمان کو چاہئے کہ وہ خود کو
قرآن و سنت پر مبنی صحیح عقیدہ ،شرعی
واجبات کی ادائیگی محرمات سے اجتناب ،سابقہ گناہوں سے توبہ کرکے محفوظ کرلے اور
پانچ وقت کی نمازوں اورا ن کے بعد اذکار کا پابند ہو گھروں میں داخل ہونے اور
نکلنے ، کسی جگہ ٹھہرنے کی دعاء کا اہتمام کرے صبح و شام کی دعائیں پڑھے سونے جاگنے
اور دیگر مناسبت کی ثابت شدہ دعاؤں کا اہتمام کرے ۔
کیونکہ اللہ کی فرماں برداری سے ہی اللہ کی
خصوصی رعایت حاصل ہوتی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن عباس کو وصیت کرتے
ہوئے فرمایا تھا:((تم اللہ تو یاد رکھو اللہ تمہیں یاد رکھیں گے اللہ تم اللہ کو
یاد رکھو اللہ کو اپنے ساتھ پاؤ گے))[اسے امام ترمذی نے ۲۵۱۶نمبر کے تحٹ نقل کیا ہے
اور علامہ البانی نے مشکاة (۵۳۰۲)میں
اسے صحیح قرار دیا ہے]۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ
وسلم سے یہ فرمان بھی ثابت ہے:((جس نے مدینہ کی سات عجوہ کھجوریں صبح صبح نہار منہ
کھالیں اسے شام ہونے تک کوئی چیز نقصان نہیں پئونچا سکتی))[امام
احمد نے اسے اسی لفظ کے ساتھ نقل کیا ہے اور اس کی اصل صحیحین میں بھی ہے]
ساتویں بات
: جسے
یہ بیماری لاحق ہو اسے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اس بیماری کو اللہ نے اس کے مقدر
میں لکھ دیا تھا لہذا وہ صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے اور علاج بھی کراتا رہے
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ:((جان لو اگر پوری دنیا آپ کو کوئی فائدہ
پہونچانا چاہے تو اللہ نے جتنی تقدیر میں لکھ دی ہے اس سے زیادہ فائدہ نہیں پہونچا
سکتے اور اگر پوری دنیا تمہیں کوئی نقصان پہونچانا چاہے اللہ کے طرف سے مقدر کردہ
نقصان سے زیادہ کوئی نقصان تمہیں نہیں پہونچا سکتے))[اسے
ترمذی نے ۲۵۱۶نمبر
پہ نقل کیا ہے اور البانی نے مشکاة (۵۳۰۲)میں
اسے صحیح قرار دیا ہے]۔اور یہ بیماری اس کے لئے بلندی درجات کا
سبب ہوگی اسی بابت آپ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا ہے :((مومن کا معاملہ کتنا عجیب ہے بے شک اس کا ہر معاملہ بھلائی کا ہے
، اور یہ صرف مومن کیلئے ہی ہے کہ جب اسے خوشی ملتی ہے شکر بجا لاتا ہے تو اس کے
لئے خیر ہوتا ہے اور اگر مصیبت پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لئے
بھلائی کا سبب ہوتا ہے))۔[اسے امام مسلم نے ۲۹۹۹نمبر پہ روایت کی ہے]۔
آٹهویں
بات:ایک مسلمان کو کسی بھی خبر، بات یا پیغام
کو بلا تحقیق کو پھیلانے میں جلد بازی سے بچنا چاہئیے کیونکہ ان میں سے بیشتر
خبریں بے بنیاد اور جھوٹی ہوتی ہیں ، ساتھ ہی ان سے لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا
ہوتا ہے ، اور معاشرے میں بے چینی کا ماحول بنتا ہے ، عقل مند اور دانشمند وہ ہوتا
ہے جو بلا تحقیق کوئی بات نہیں کرتا اور وہ
تحقیق پر اگر خبر صحیح ہوتو اس کے نتائج پر نظر ڈالتا ہے اگر اس کے نشر سے
خیر کی امید ہو تو اسے نشر کرتا ہے اور اگر اس کے نشر سے خیر کی امید نہ ہو بلکہ
نقصان کا اندیشہ ہو تو اسے چھوڑ دیتا ہے اور دبا دیتا ہے اس بارے میں ممانعت وارد
ہے کہ انسان ہر سنی ہوئی بات بول دے فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:((آدمی کے
جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کرے))[اسے
مسلم نے روایت کی ہے]۔