بسم اللہ الرحمن الرحیم
مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو پریشان حال کی دعا کو سنتا ہے حاجتمند کی ضرورت کو پورا کرتا ہے، پریشانی کو ختم کرتا ہے، تنگیوں کو آسان کرتا ہے ،ہمارے دل اللہ کے ذکر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے ، کوئی بھی چیز اس کی اجازت کے بغیر واقع نہیں ہوسکتی ،کسی بھی ناپسندیدہ امر سے نجات اس کی رحمت کے بغیر ناممکن ہے ،کسی بھی چیز کی حفاظت اس کی نگرانی کے بغیر ممکن نہیں ،کوئی بھی چاہت اس کی تیسیر اور آسانی کے بغیر حاصل نہیں ہوتى اور سعادت اور کامرانی کے حصول کی خاطر اس کی فرمانبرداری ضروری ہے۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ،وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، دونوں جہانوں کا پالنہار ہے ،پہلے اور بعد كے لوگوں کا معبود ہے ،آسمانوں اور زمینوں کا تھامنےوالا ہے۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہے ،جو کھلی اور واضح کتاب اور سیدھا راستہ دے کر بھیجے گئے ان پر ان کے تمام آل و اصحاب درود وسلام ہوں۔
امابعد:
یہ چند مفید وصیتیں ہیں جنہیں میں حالیہ دنوں میں معاشرے میں کورونا نام سے پھیلی ہوئی وباء سے لوگوں کی تذکیر کی خاطر پیش کر رہا ہوں ۔
میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہم سے اور پوری دنیا میں موجود تمام مسلمانوں سے ہر پریشانی اور بلاء کو اٹھا لے۔ اور ہم سے شدائد اور مصائب کو ختم کردے اور ہم سب کو اسی طرح اپنی حفاظت میں رکھے جس طرح اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے بے شک وہ ہر چیز کا مالک اور اس پر قادر ہے۔
۱-بلاء کے نزول سے پہلے پڑھی جانے والی دعاء
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرماتےہیں كہ میں نے رسول اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : ((جس نے ((بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيئ في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم ))تین بار پڑھ لی اسے صبح ہونے تک کوئی اچانک بیماری لاحق نہیں ہوگی،اور جس نے صبح کے وقت تین مرتبہ اس پڑھ لی اسے شام تک کوئی پریشانی لاحق نہ ہوگی)) [ابو داود وغیرہ نے اس کی روایت ہے]۔
۲۔بکثرت:((لا اله الا أنت سبحانك إني كنت من الظلمين )) پڑھتے رہیں۔
اللہ تعالی نے فرمایا :﴿ وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ (87) فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ (88)﴾ [الانبياء:88 ]
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے بارے میں فرمایا : ﴿وكذلك ننجي المؤمنين﴾:((یعنی:جب وہ پر یشانی کے حال میں ہم سے دعا کریں گے اور خصوصا جب مصیبت کے وقت اس دعا کے ذریعہ مجھ سے فریاد کریں)) ۔
پھر آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پیش کیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہیں :((حضرت یونس کی وہ دعا جسے انہھوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہتے ہوئے پڑھی تھی :((لا اله الا أنت سبحانك أني كنت من الظالمين ))جو بھی اس دعا کو کسی مصیبت کے وقت پڑھے اللہ اس کی دعا کو قبول کرے گا))[اسے امام احمد اور ترمذی نے نقل کی ہے]۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے الفوائد میں فرمایا :((دنیاوی پریشانیوں کو دور کرنے والی توحید سے بڑھ کوئی چیز نہیں اسی لئے پریشانی سے نجات کی دعا توحید پر مشتمل ہے اور ذو النون کی دعاء جسے کوئی بھی پریشان حال پڑھے اللہ توحید کے ذریعہ اس کے پریشانی کو دور کردیتے ہیں ۔
پس بڑی بڑی پریشانیاں شرک کے سبب رونما ہوتی ہیں اور ان سے نجات توحید ہی سے ممکن ہے یہی مخلوقات کی پناہ گاہ اور حفاظت کی جگہ ہے یہ تو ان کا قلعہ اور مدد کا سبب ہے۔اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے)) ۔
۳۔مصیبت کی سختیوں سے اللہ کی پناہ چاہنا
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ ((رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنگدستی، بدبختی، برے فیصلے اور دشمنوں کی خوشی سے پناہ مانگا کرتے تھے))۔
اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :((لو گو اللہ کی پناہ چاہو تنگدستی کی سختی ،بدبختی ،سوء قضاء اور دشمن کی خوشی سے))[ان دونوں کو بخاری نے روایت کیا ہے]۔
۴-گھر سے نکلنے کی دعاء کا اہتمام کرنا
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :((جب انسان گھر سے نکتے وقت :((بسم الله توكلت على الله ولا حول ولا قوة الا بالله)) پڑھتا ہے تو اس وقت کہا جاتا ہے : تجھے ہدایت مل گئی اللہ تیرے کافی ہوگیا تجھے شیطان کی شر سے حفاظت مل گئی تو شیطان اس دور ہوجاتا ہے اور اس (شیطان)سے دوسرا شیطان کہتا ہے :اس شخص سے تیرا کیا (ہونے والا)جو ہدایت پا گیا جس کے لئے اللہ کافی ہوگیا اور جو محفوظ ہو گیا؟)) ۔ [اسے امام ابو داود نے نقل کی ہے]۔
۵-صبح و ام اللہ سے عافیت کا سوال کرنا
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ :رسول اللہ صلی اللہ علیہ صبح و شام میں کبھی بھی اس دعا:(( اللهم إني أسألك العافية في الدنيا والآخرة ، اللهم إني أسألك العفو والعافية في ديني ودنياي وأهلي ومالي ، اللهم استر عوراتي ، وآمن روعاتي ، اللهم احفظني من بين يدي ومن خلفي ومن يميني وعن شمالي ومن فوقي ، وأعوذ بعظمتك أن أُغتال من تحتي کا پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے )) ۔[امام احمد وغیرہ نے اسے روایت کی ہے]۔
۶-کثرت سے دعاء کرنا
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :((تم میں سے جس کے لئے دعاء کا کا دروازہ کھل جائے اس کے لئے رحمت کا دروازہ کھل جاتا ہے اور اللہ تعالی کو عافیت کے سوال سے زیادہ پسندیدہ کوئی دعاء نہیں ۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :(( دعا اس چیز کے لئے بھی فائدہ مند ہے جو نازل ہو چکی ہے اور اس کے لئے بھی جو نازل نہیں ہوئی ہے تو اے اللہ کے بندوں تم دعا کو لازم پکڑو ))[اسے ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے]۔
۷-وباء کے انتشار والی جگہوں سے دور رہنا
حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ عمر رضی اللہ عنہ (ایک دفعہ)شام کی جانب نکلے سرغ نامی جگہ پر پہونچ کر انہیں معلوم ہوا کہ شام میں وباء پھیلی ہوئی ہے چنانچہ عبدالرحمن بن عوف نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جب تم کسی جگہ وباء کےپھیلنے کی خبر سنو تو وہاں نہ جاؤ اور اگر تمہارے موجودگی والی جگہ کوئی وباء عام ہو تو وہاں سے نکل کر نہ بھاگو))۔
اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :((کسی مریض شخص کو صحتمند اور تندرست کے پاس نہ لایا جائے)) ۔[ان دونوں روایتوں کو امام بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے]۔
۸-اچھائی اور بھلائی کے کام کرنا
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :((نیکی اور بھلائی کے کام انسان کو برے حادثات آفات اور ہلاکتوں سے بچاتے ہیں اور دنیا میں بھلائی کرنے والے ہی آخرت میں کامیابی پانے والے ہوں گے)) ۔[اسے امام حاکم نے روایت کی ہے]۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا :نیکی اور بھلائی کے کام، ذکر، دعاء ،تضرع، اللہ سے رونا اور توبہ بیماری کا سب سے بہترین علاج ہے اور یہ امور علتوں کو ختم کرنے ،بیماریوں سے شفایابی میں بہت موثر ہوتے ہیں،ان کا اثر قدرتی دواؤں سے بڑھ کر ہوتا ہے لیکن نفس کے استعداد اور قبولیت عقیدت کے بقدر ہی اس کا نفع حاصل ہوتا ہے ۔[زاد المعاد] ۔
۹-قيام الليل کا اہتمام کرنا
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :((لوگوں تم رات کی قیام کو لازم پکڑو کیونکہ یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کا طریقہ رہا ہے ،یہ اللہ کی فرماں برداری ہے برائیوں سے روکنے والی اور گناہوں کے معافی کا سبب ہے اور یہ بدن سے بیماریوں کو بھی دور کرنے والی ہے [اسے ترمذی وغیرہ نے نقل کیا ہے].
مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو پریشان حال کی دعا کو سنتا ہے حاجتمند کی ضرورت کو پورا کرتا ہے، پریشانی کو ختم کرتا ہے، تنگیوں کو آسان کرتا ہے ،ہمارے دل اللہ کے ذکر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے ، کوئی بھی چیز اس کی اجازت کے بغیر واقع نہیں ہوسکتی ،کسی بھی ناپسندیدہ امر سے نجات اس کی رحمت کے بغیر ناممکن ہے ،کسی بھی چیز کی حفاظت اس کی نگرانی کے بغیر ممکن نہیں ،کوئی بھی چاہت اس کی تیسیر اور آسانی کے بغیر حاصل نہیں ہوتى اور سعادت اور کامرانی کے حصول کی خاطر اس کی فرمانبرداری ضروری ہے۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ،وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، دونوں جہانوں کا پالنہار ہے ،پہلے اور بعد كے لوگوں کا معبود ہے ،آسمانوں اور زمینوں کا تھامنےوالا ہے۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہے ،جو کھلی اور واضح کتاب اور سیدھا راستہ دے کر بھیجے گئے ان پر ان کے تمام آل و اصحاب درود وسلام ہوں۔
امابعد:
یہ چند مفید وصیتیں ہیں جنہیں میں حالیہ دنوں میں معاشرے میں کورونا نام سے پھیلی ہوئی وباء سے لوگوں کی تذکیر کی خاطر پیش کر رہا ہوں ۔
میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہم سے اور پوری دنیا میں موجود تمام مسلمانوں سے ہر پریشانی اور بلاء کو اٹھا لے۔ اور ہم سے شدائد اور مصائب کو ختم کردے اور ہم سب کو اسی طرح اپنی حفاظت میں رکھے جس طرح اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے بے شک وہ ہر چیز کا مالک اور اس پر قادر ہے۔
۱-بلاء کے نزول سے پہلے پڑھی جانے والی دعاء
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرماتےہیں كہ میں نے رسول اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : ((جس نے ((بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيئ في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم ))تین بار پڑھ لی اسے صبح ہونے تک کوئی اچانک بیماری لاحق نہیں ہوگی،اور جس نے صبح کے وقت تین مرتبہ اس پڑھ لی اسے شام تک کوئی پریشانی لاحق نہ ہوگی)) [ابو داود وغیرہ نے اس کی روایت ہے]۔
۲۔بکثرت:((لا اله الا أنت سبحانك إني كنت من الظلمين )) پڑھتے رہیں۔
اللہ تعالی نے فرمایا :﴿ وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ (87) فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنجِي الْمُؤْمِنِينَ (88)﴾ [الانبياء:88 ]
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے بارے میں فرمایا : ﴿وكذلك ننجي المؤمنين﴾:((یعنی:جب وہ پر یشانی کے حال میں ہم سے دعا کریں گے اور خصوصا جب مصیبت کے وقت اس دعا کے ذریعہ مجھ سے فریاد کریں)) ۔
پھر آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پیش کیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہیں :((حضرت یونس کی وہ دعا جسے انہھوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہتے ہوئے پڑھی تھی :((لا اله الا أنت سبحانك أني كنت من الظالمين ))جو بھی اس دعا کو کسی مصیبت کے وقت پڑھے اللہ اس کی دعا کو قبول کرے گا))[اسے امام احمد اور ترمذی نے نقل کی ہے]۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے الفوائد میں فرمایا :((دنیاوی پریشانیوں کو دور کرنے والی توحید سے بڑھ کوئی چیز نہیں اسی لئے پریشانی سے نجات کی دعا توحید پر مشتمل ہے اور ذو النون کی دعاء جسے کوئی بھی پریشان حال پڑھے اللہ توحید کے ذریعہ اس کے پریشانی کو دور کردیتے ہیں ۔
پس بڑی بڑی پریشانیاں شرک کے سبب رونما ہوتی ہیں اور ان سے نجات توحید ہی سے ممکن ہے یہی مخلوقات کی پناہ گاہ اور حفاظت کی جگہ ہے یہ تو ان کا قلعہ اور مدد کا سبب ہے۔اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے)) ۔
۳۔مصیبت کی سختیوں سے اللہ کی پناہ چاہنا
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ ((رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنگدستی، بدبختی، برے فیصلے اور دشمنوں کی خوشی سے پناہ مانگا کرتے تھے))۔
اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :((لو گو اللہ کی پناہ چاہو تنگدستی کی سختی ،بدبختی ،سوء قضاء اور دشمن کی خوشی سے))[ان دونوں کو بخاری نے روایت کیا ہے]۔
۴-گھر سے نکلنے کی دعاء کا اہتمام کرنا
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :((جب انسان گھر سے نکتے وقت :((بسم الله توكلت على الله ولا حول ولا قوة الا بالله)) پڑھتا ہے تو اس وقت کہا جاتا ہے : تجھے ہدایت مل گئی اللہ تیرے کافی ہوگیا تجھے شیطان کی شر سے حفاظت مل گئی تو شیطان اس دور ہوجاتا ہے اور اس (شیطان)سے دوسرا شیطان کہتا ہے :اس شخص سے تیرا کیا (ہونے والا)جو ہدایت پا گیا جس کے لئے اللہ کافی ہوگیا اور جو محفوظ ہو گیا؟)) ۔ [اسے امام ابو داود نے نقل کی ہے]۔
۵-صبح و ام اللہ سے عافیت کا سوال کرنا
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ :رسول اللہ صلی اللہ علیہ صبح و شام میں کبھی بھی اس دعا:(( اللهم إني أسألك العافية في الدنيا والآخرة ، اللهم إني أسألك العفو والعافية في ديني ودنياي وأهلي ومالي ، اللهم استر عوراتي ، وآمن روعاتي ، اللهم احفظني من بين يدي ومن خلفي ومن يميني وعن شمالي ومن فوقي ، وأعوذ بعظمتك أن أُغتال من تحتي کا پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے )) ۔[امام احمد وغیرہ نے اسے روایت کی ہے]۔
۶-کثرت سے دعاء کرنا
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :((تم میں سے جس کے لئے دعاء کا کا دروازہ کھل جائے اس کے لئے رحمت کا دروازہ کھل جاتا ہے اور اللہ تعالی کو عافیت کے سوال سے زیادہ پسندیدہ کوئی دعاء نہیں ۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :(( دعا اس چیز کے لئے بھی فائدہ مند ہے جو نازل ہو چکی ہے اور اس کے لئے بھی جو نازل نہیں ہوئی ہے تو اے اللہ کے بندوں تم دعا کو لازم پکڑو ))[اسے ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے]۔
۷-وباء کے انتشار والی جگہوں سے دور رہنا
حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ عمر رضی اللہ عنہ (ایک دفعہ)شام کی جانب نکلے سرغ نامی جگہ پر پہونچ کر انہیں معلوم ہوا کہ شام میں وباء پھیلی ہوئی ہے چنانچہ عبدالرحمن بن عوف نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جب تم کسی جگہ وباء کےپھیلنے کی خبر سنو تو وہاں نہ جاؤ اور اگر تمہارے موجودگی والی جگہ کوئی وباء عام ہو تو وہاں سے نکل کر نہ بھاگو))۔
اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :((کسی مریض شخص کو صحتمند اور تندرست کے پاس نہ لایا جائے)) ۔[ان دونوں روایتوں کو امام بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے]۔
۸-اچھائی اور بھلائی کے کام کرنا
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :((نیکی اور بھلائی کے کام انسان کو برے حادثات آفات اور ہلاکتوں سے بچاتے ہیں اور دنیا میں بھلائی کرنے والے ہی آخرت میں کامیابی پانے والے ہوں گے)) ۔[اسے امام حاکم نے روایت کی ہے]۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا :نیکی اور بھلائی کے کام، ذکر، دعاء ،تضرع، اللہ سے رونا اور توبہ بیماری کا سب سے بہترین علاج ہے اور یہ امور علتوں کو ختم کرنے ،بیماریوں سے شفایابی میں بہت موثر ہوتے ہیں،ان کا اثر قدرتی دواؤں سے بڑھ کر ہوتا ہے لیکن نفس کے استعداد اور قبولیت عقیدت کے بقدر ہی اس کا نفع حاصل ہوتا ہے ۔[زاد المعاد] ۔
۹-قيام الليل کا اہتمام کرنا
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :((لوگوں تم رات کی قیام کو لازم پکڑو کیونکہ یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کا طریقہ رہا ہے ،یہ اللہ کی فرماں برداری ہے برائیوں سے روکنے والی اور گناہوں کے معافی کا سبب ہے اور یہ بدن سے بیماریوں کو بھی دور کرنے والی ہے [اسے ترمذی وغیرہ نے نقل کیا ہے].
10-کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھانکنا
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ :((برتنوں کو ڈھانپ دو اور پانی کے برتن کو بند کردو کیونکہ سال میں ایک رات کے اندر وباء نازل ہوتی ہے وہ جب کھلے برتن پر سے گذرتی ہے تو اس میں وہ وباء داخل ہوجاتی ہے))[مسلم کی روایت ہے].
ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا :((یہ ایسی بات ہے جس کے بارے میں ڈاکٹروں کو کوئی جانکاری نہیں].
اخیر میں عرض ہے کہ ہر مسلمان کو اللہ کے فضل کی امید کرتے ہوئے اللہ کے رحمت کی لالچ کرتے ہوئے اور اس پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے تمام معاملات رب العالمین کے سپرد کردینا چاہئے کیونکہ تمام معاملات اسی کے بس میں ہیں تمام چیزوں کا انتظام اسی کے ذمہ ہے۔
اسی طرح صبر اور ثواب کی امید کے ساتھ پیش آمدہ مصیبت کے مقابلہ کی کوشش بھی کرنی چاہئے کیونکہ اللہ تعالی نے صبر اور ثواب کی امید رکھنے والوں کیلئے بڑے ثواب اور اجر کا وعدہ فرمایا ہے فرمان باری تعالی ہے:﴿إنما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب﴾[الزمر:١٠]۔
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کی بابت سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا :((یہ عذاب ہی اللہ جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے پس اللہ نے اہل ایمان کی خاطر اسے رحمت بنا دیا ہے لہذا جو بھی بندہ اس کا شکار ہو اور وہ اسی جگہ صبر کرتے ہوئے ٹھہرا رہے اور یہ جانتا ہو کہ یہ مصیبت اسے اللہ کے حکم سے ہی لاحق ہوئی ہے تو اس کے لئے شہید کے مثل اجر لکھا جاتا ہے۔[اس کی تخریج امام بخاری نے کی ہے]۔
اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ وہ ہم سب کو نیک اعمال اور اقوال کی توفیق دے جن سے وہ خوش ہوتا ہے بے شک وہ حق کہنے والا ہے اور وہی سیدھے راستے کی رہنمائی کرنے والا ہے۔
اور تمام تعریفیں اکیلے اللہ کیلئے ہیں اور ہمارے نبی اور ان کی آل و اصحاب پر درود وسلام ہوں۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ :((برتنوں کو ڈھانپ دو اور پانی کے برتن کو بند کردو کیونکہ سال میں ایک رات کے اندر وباء نازل ہوتی ہے وہ جب کھلے برتن پر سے گذرتی ہے تو اس میں وہ وباء داخل ہوجاتی ہے))[مسلم کی روایت ہے].
ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا :((یہ ایسی بات ہے جس کے بارے میں ڈاکٹروں کو کوئی جانکاری نہیں].
اخیر میں عرض ہے کہ ہر مسلمان کو اللہ کے فضل کی امید کرتے ہوئے اللہ کے رحمت کی لالچ کرتے ہوئے اور اس پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے تمام معاملات رب العالمین کے سپرد کردینا چاہئے کیونکہ تمام معاملات اسی کے بس میں ہیں تمام چیزوں کا انتظام اسی کے ذمہ ہے۔
اسی طرح صبر اور ثواب کی امید کے ساتھ پیش آمدہ مصیبت کے مقابلہ کی کوشش بھی کرنی چاہئے کیونکہ اللہ تعالی نے صبر اور ثواب کی امید رکھنے والوں کیلئے بڑے ثواب اور اجر کا وعدہ فرمایا ہے فرمان باری تعالی ہے:﴿إنما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب﴾[الزمر:١٠]۔
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کی بابت سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا :((یہ عذاب ہی اللہ جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے پس اللہ نے اہل ایمان کی خاطر اسے رحمت بنا دیا ہے لہذا جو بھی بندہ اس کا شکار ہو اور وہ اسی جگہ صبر کرتے ہوئے ٹھہرا رہے اور یہ جانتا ہو کہ یہ مصیبت اسے اللہ کے حکم سے ہی لاحق ہوئی ہے تو اس کے لئے شہید کے مثل اجر لکھا جاتا ہے۔[اس کی تخریج امام بخاری نے کی ہے]۔
اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ وہ ہم سب کو نیک اعمال اور اقوال کی توفیق دے جن سے وہ خوش ہوتا ہے بے شک وہ حق کہنے والا ہے اور وہی سیدھے راستے کی رہنمائی کرنے والا ہے۔
اور تمام تعریفیں اکیلے اللہ کیلئے ہیں اور ہمارے نبی اور ان کی آل و اصحاب پر درود وسلام ہوں۔