بسم
الله الرحمن الرحيم
الحمدلله رب العالمين ،وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له،و
أشهد أن محمدا عبده ورسوله،صلى الله عليه وعلى آله وأصحابه أجمعين؛أما بعد:
بے شک کتاب الدروس المهمة لعامة الأمة امام
کبیر، شیخ ناصح ،مشفق مربی ،علامہ ،شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ کی
تحریر کردہ ایک اہم ترین موضوع سے متعلق بیش قیمت تالیف ہے،جسے انھوں نے
امت کے عام افراد کی خیر خواہی کے جذبے سے عقیدہ عبادت اور اخلاق سے متعلق دین کے
ان امور پر ان تحریر کی ہے،جن سیکھنا ہر شخص لو ضروری ہے،شیخ محترم رحمہ اللہ نے
اسے بہت ہی مفید اور نفع بخش طریقے پر ترتیب دی ہے،اس میں انہوں نے دین کی بنیادی
باتوں اور ایسے ضروری واجبات کو بیان کیا ہے جن کا جاننا ہر مسلمان مردو عورت
کیلئے ضروری ہے۔
یہ کتاب عوام کی تعلیم
اور انہیں دین کے باتوں کی تلقین اور ضروریات کی تعریف اور سیکھنے کے قابل عقیدہ و
عبادت سے متعلق قابل غور پہلووں کو ازبر کرنے کی خاطر بہت بہترین منہج ہے۔
اس کی ترتیب میں سب سے
پہلے خیر خواہی اور ضروریات دین کو
سمجھانے کے پیش عام افراد کو مد نظر رکھا
گیا ہے،اسی لئے اس رسالہ پر تعلیق کے آغاز
پر ہی میں یہ تنبیہ کرنا چاہوں گا کہ ، ہماری شرح کا اسلوب بھی آسان اور واضح
ہوگا، تاکہ عوام ؛جن کےلئے اس کتاب کو لکھا گیا ہے ان کے معیار کے مطابق ہو سکے([1])۔
اور شیخ نے واقعی اس
رسالے میں اچھے انداز میں بہت سے فوائد جمع کردیئے ہیں،اور بہت ہی جامع نصیحت کی
ہے،اور شیخ کے یہاں زندگی کے آخری ایام
تک اس رسالے کے تئیں کافی اہتمام تھا ،جس
کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس رسالہ کا آخری ایڈیشن آپ کی وفات کے سال منظر عام
پر آیا تھا ،جس میں کچھ مستقل دروس کے اضافہ یا بعض کے اندر اضافہ یا تکمیل کی صورت میں تعدیلات موجود ہیں،آپ نے
کچھ نئے دروس کا اضافہ بھی کیا ہے اور کچھ دروس کو مکمل کیا ہے اسی طرح ترتیب میں
بھی تعدیل کی ہے اور اس شرح میں ہم نے شیخ کی وفات والے سال میں شائع شدہ اس آخری
ایڈیشن پر اعتماد کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ شیخ کے نزدیک آخری عمر تک اس کتاب کی کافی اہمیت تھی،اللہ تعالی سے امید
کرتا ہوں کہ اس شرح میں اس جلیل القدر امام کے ساتھ وفاداری ہو اور اس باب میں
مجھے بھی حصے داری حاصل ہوجائے۔
اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ وہ ہم سب کو
نفع بخش علم اور صالح عمل عطا کرے،اور اپنی پسندیدہ اور خوشنودی والے اعمال اور
درست باتوں کی توفیق بخشے،اللہ کی رحمتیں نازل ہوں ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ
وسلم اور ان کے آل و اصحاب پر۔ □□□
مقدمة
شیخ عبدالعزیز بن باز
رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
((بسم اللہ الرحمن
الرحیم،تمام تعریفیں اللہ رب دو جہاں کیلئے ہیں،اور انجام اللہ کے پرہیز گار بندوں
کی خاطر اور درود و سلام کے نذرانے ہوں اللہ کے بندے اور اور اسکے رسول حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے تمام آل و اصحاب پر؛امابعد:یہ مختصر کلمات اسلام کے
ان مسائل کے بارے میں ہیں جن کا جاننا امت کے عام افراد کیلئے ضروری ہے،اس کا نام
میں نے الدروس
المهمة لعامة الأمة "عام مسلمانوں کیلئے اہم دینی
اسباق"رکھا ہے،اللہ تعالی سے دعاگو ہوں کہ وہ اسے مسلمان بھائیوں کے لئے نفع
بخش بنائے، اور اسے میری طرف سے قبول فرمائے ، بے شك
وہ بڑا سخی اور کرم نواز ہے))۔
شرح:
رسالے کی ابتداء میں یہ
مقدمہ ہے ، جس کی ابتداء شیخ رحمہ اللہ نے اللہ کی شایان شان تعریف اور کبریائی کے بیان سے کی ہے،اور یہ بتایا ہے کہ اچھا انجام اور
بہترین نتائج دنیا اور آخرت دونوں جہانوں اللہ کی اطاعت کرنے والے،نافرمانی سے
کنارہ کشی اختیار کرنے والے؟رب کے فرامین کو ماننے والے،منہیات سے دور رہنے
والے،بروز قیامت اللہ تبارک و تعالی اور اس کی مہمان نوازی کی رضا کو حاصل کرنے کی
خاطر تگ ودو کرنے والے تقوی شعار بندوں کیلئے ہے۔
اسی طرح (شروعات میں)
رسول مجتبی نبی مصطفی پر درود و سلام بھی پیش کیا ہے؛جو اللہ تبارک و تعالی کی مخلوقات میں سب سے بہتر،اور اس کے بندوں میں
سب سے اعلی ہیں اللہ کی رحمتیں سلامتی اور برکتیں آپ پر نازل ہوں۔
پھر آپ نے یہ بیان کیا ہے کہ یہ رسالہ بے
جا طوالت اور اختصار کے درمیان عمدہ مختصر
ہے ،بلکہ اس میں آسان عبارت کے ساتھ اختصار کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے،اور اللہ
تبارک و تعالی کے حکم سے یہ رسالہ اپنے ہدف سے باہر نہ ہوگا۔
اور شیخ نے اس رسالہ کو
ان بعض مسائل کے لئے خاص کیا ہے،جن کا جاننا امت کے عام افراد کیلئے ضروری ہے،یعنی
دین کے اہم واجبات اور ضروریات اور خاص طور پر وہ مسائل جن کی جہالت پر انسان
معذور نہیں ہوتا ساتھ میں ایسے مسائل بھی ذکر کئے ہیں جو فرائض
میں سے نہیں بلکہ مستحبات میں سے ہیں، لیکن وہ بھی ان امور میں سے ہیں جن سے عام
لوگوں کو واقفیت ہونی چاہئے۔
اس کا نام انہوں نے الدروس المهمة لعامة الأمة رکھا ہے جو کہ مسمی پر بالکل کھرا اترتا ہے،اور اس رسالہ کے مشمولات کے معنی کے
بالکل موافق عنوان ہے ، اسے دروس کی شکل میں بہترین انداز میں ترتیب دیا گیا
ہے:پہلا درس ۔۔۔۔دوسرا۔۔۔ تیسرا۔۔۔آخر تک۔
المهمة کا مطلب یہ ہیکہ اس کتاب کے مسائل اہم ترین ہیں جو عام مسلمانوں کے
لئے بہت ضروری ہیں ۔
اس رسالہ کے اندر مضامین مختلف نوعیت کے ہیں، اس میں انہوں نے عقائد ،عبادات کے باب کو ذکر کیا ہے،
خاص طور پر اسلام کی پانچ بنیادوں کو ذکر کیا گیا ہے،اسی طرح اس میں ان اخلاق کا
بھی تذکرہ کیا گیا ہے جن کا ایک مسلمان میں ہونا ضروری ہے،اور اس میں بڑے گناہوں
سے خبردار کرتے ہوئے کئی گناہوں کی گنتی بھی کرائی گئی،اور دین کو ڈھا دینے والے
اور انسان کو دین سے نکال دینے والے شرک اکبر سے بہت ہی سخت انداز میں تنبیہ کی گئی
ہے،الغرص یہ ایسا رسالہ ہے جو عام
مسلمانوں کیلئے ضروری تمام تر اہم اور بڑے مسائل پر مشتمل ہے۔
اور اللہ عزوجل سے دعا کرتا
ہوں کہ وہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کو نفع پہنچائے اور اسے میری طرف سے قبول کرے بے
شک وہ بڑا سخی اور کرم نواز ہے ؛یہ یقینا عظیم دعا ہے ، جس میں اللہ تعالی سے اس
رسالہ کو نفع بخش بنانے اور اس کے اچھی طرح قبول ہونے کی فریاد شامل ہے۔
اور اللہ کے فضل اور احسان
سے اس رسالہ کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی؛لہذا اس کے پڑھانے کیلئے کئی مجالس کا
اہتمام کیا گیا،بے شمار لوگوں پر مساجد کے
اندر اسکی قراءت اور مختصر تشریح اور
وضاحت کا اہتمام کیا گیا ، اور عوام کو
سکھانے اور انہیں دینی امور کو سمجھانے کیلئے اسے منہج قرار دیا گیا،کئی ایک
زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا ؛ یہ-ان شاءاللہ- اس رسالے کو اللہ کہ طرف سے عطا کردہ
مقبولیت کہ نشانیاں ہیں ۔
اور میں اللہ تعالی سے
دعا گو ہوں کہ وہ مولف کو اچھا بدلہ عطا کرے اور اس کے ذریعہ بروز قیامت ان کے
نامہ اعمال کو وزنی کرے،اور اس کے ذریعہ ہمیں فائدہ بخشے،اور اللہ ہی سے میں فریاد
کرتا ہوں کہ وہ اس شرح کے ذریعہ مسلمانوں کو نفع پہنچائے اور اسے میری طرف سے شرف
قبولیت سے نوازے،بے شک وہ سننے والا قریب اور قبولیت سے نوازنے والا ہے۔
□□□
پہلا
سبق:سورہ فاتحہ اور چھوٹی سورتیں
شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا:
پہلا سبق:سورہ فاتحہ اور
چھوٹی سورتیں.
سورہ فاتحہ اور حتی
الامکان چھوٹی سورتوں؛سورہ زلزلہ سے سورہ ناس تک کے قراءت کی تلقین اور تصحیح کرتے
ہوئے اسے یاد کروانا اور قابل فہم امور کی شرح کرنا۔
شرح:
یہ عام مسلمانوں کی خاطر
اہم دینی اسباق کے سلسلے کا پہلا سبق ہے؛جس میں سورہ فاتحہ اور چھوٹی سورتوں کی
تعلیم کے سلسلے میں ہے،اور شیخ نے یہ مشورہ دیا ہے کہ چھوٹی سورتیں؛سورہ زلزلہ سے
سورہ ناس تک سکھائی جائے جو کہ عوام کیلئے ان کی فرض اور تہجد سمیت تمام نفل نمازوں
کی ادائیگی میں کفایت کرے گی، اگر كوئى ایک
ہی سورت متعدد مرتبہ دوران تہجد پڑھے تو بهى كوحرج نہىں،حضرت قتادہ بن نعمان رضی
اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے
بوقت سحر صرف قل هو الله أحد کے ساتھ قیام کیا،وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں پڑھتا جب
صبح ہوئی تو ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر معاملہ بیان کیا جسے وہ
کم تر تصور کررہا تھا اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس ذات کی قسم
جس کے قبضے میں میری جان ہے بے شک یہ قرآن کا ایک تہائی حصہ ہے([2])۔
تعلیم کا یہ طریقہ کار سیکھنئ
اور یاد کرنے کے تئیں بہت سے لوگوں کی ہمت افزائی کا سبب ہے؛بایں طور کہ جب اس سے
کہا جائے گا کہ آپ کو جتنا یاد کرنا ہے وہ یہی چند سورتیں؛سورہ زلزلہ سے سورہ ناس تک ہیں،تو اسے یہ
محسوس ہوگا کہ ہمیں اپنی عبادت کے ادائیگی کی خاطر جتنی ضرورت ہے وہ تو بہت ہی کم
ہے ، جس سے اس کی ان سورتوں کو یاد کرنے اور ان کے معنی کو سمجھنے کیلئے بلند ہوگی،[١١:٠٧
م، ٢٠١٩/٢/١٧]
أبوعبدالله(دعوة صبيح): اور اس طرح وہ اس سورت کی تلاوت اس کے معنی اور مفہوم کو
سمجھتےہوئے کرے گا اسی لئے اگر مساجد میں عام مسلمانوں کیلئے خصوصی حلقے لگا کر
انہیں سورتوں کے یاد کروانے پر اکتفاء کیاجائے، اور جو انہیں یاد کرلے اسے کہا
جائے کہ آپ نے ضروری سورتوں کو یاد کرلیا
ہے،اب اگر آگے بڑھنا چاہیں تو مکمل قرآن حفظ کرانے والے حلقہ میں شامل ہو جائیں،ہوسکتا
ہے بعض لوگ انہیں ایک ماہ یا دو ماہ میں استطاعت اور حافظے کے اعتبار سے یاد کرلیں،الغرص
یہ منہج بہت ضروری ہے،کیونکہ عام آدمی اسے دیکھ کر یہ محسوس کرے گا کہ مطلوبہ
مقدار کوئی زیادہ نہیں ہے،بلکہ یہ تو کچھ ہی سورتیں ہیں جنہیں اللہ کے حکم سے جلد
ہی یاد کیا جاسکتا ہے۔
اور عوام کیلئے ان سورتوں
کی تعلیم کا طریقہ بیان کئے گئے منہج کے مطابق چار مرحلے پر مبنی ہوگا:
1-پہلا مرحلہ:تلقین
کرنا؛شیخ نے فرمایا:(تلقینا)،یعنی امام، مقرئ یا حافظ لوگوں کو ان سورتوں کی ایک ایک آیت کی مشق کرائیں؛پس وہ ان کے سامنے
پہلی آیت ایک اور دو مرتبہ دوہرائے پھر دوسری آیت ۔۔۔اسی طرح، یادرہے کہ قرآن تلقین
کئ ذریعہ لیا جاتا ہے،تاکہ اس کی سماعت صحیح طریقے پر حاصل ہو۔
2-دوسرا مرحلہ:پھر وہ سنی
ہوئی آیات کو پڑھیں،اور امام ،مقرئ یا حافظ ان کے قراءت کی تصحیح کریں، اسی لئے آپ
نے فرمایا:(تصحیحا للقراءة).
3-پھر اس کے بعد تیسرا
مرحلہ آتا ہے جو کہ یاد کرنے کا مرحلہ ہے،پس وہ شیخ کے ذریعہ تلقین،قراءت اور تصحیح شدہ سورتوں کو صحیح طرح
حفظ کریں اور کافی مقدار تک انہیں دہرائیں؛بعض لوگوں کو ایک سورت کوہی پچاس سے سو یا
دو سو مرتبہ تک دوہرانے کی ضرورت ہوتی ہے،تاکہ یہ سورت انہیں پختہ یاد ہوسکے۔
4-پھر اس کے بعد چوتھا مرحلہ
آتا ہے جو قابل فہم امور کے شرح اور ان سورتوں کے معنی کی تفسیر ان کے مفہوم اور
دلالت کی وضاحت کا مرحلہ ہے،سورہ فاتحہ
سے شروع کرتے ہوئے پھر سورہ زلزلہ سے ناس تک ۔
فائدے کے تکمیل کی غرض سے
میں شیخ کی ذکر کی ہوئی ان سورتوں کے معنی کو واضح کرنے کی خاطر سورہ فاتحہ سے شروع کرتے ہوئے سورہ زلزلہ سے
سورہ ناس تک مختصر وضاحت اور موجز تفسیر کہ شکل میں تعلىق چڑھا رہا ہوں.
□□□
أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ (1) الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (2) الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ (3) مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ (4) إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (5) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (6) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (7(﴾.
أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ (1) الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (2) الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ (3) مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ (4) إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (5) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (6) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (7(﴾.
ایک مسلمان جب بھی کتاب
اللہ کی تلاوت شروع کرے اسے استعاذہ کرنا چاہئے۔
اور استعاذہ: کا مطلب ہے
کہ اللہ تعالی سے التجاءکی جائے اور فریاد کی جائے کہ وہ اپنے بندے کو پناہ دے،اور
اسے شیطان مردود کے شر سے محفوظ رکھے۔
اور تلاوت قرآن سے پہلے استعاذہ
اس لئے مشروع ہے کیونکہ شیطان بندے کو اس کتاب کی
تلاوت اور اس کے ہدایات سے رہنمائی حاصل کرنے اور اس سے متاثر ہونے سے
روکنے سب سے زیادہ کوشس کرتا ہے،لہذا بندے کیلئے اس وقت اللہ سے پناہ حاصل کرنا
مشروع قرار پایا تاکہ وہ اللہ کے کتاب کی تلاوت شیطان کے وسوسوں اور شرارتوں سے
دور ہو کر اللہ کی حفاظت میں آجائے اور صحیح طریقے سے تلاوت کرسکے۔
اور ((الشیطان))
کا مطلب : سرکش بگڑا ہوا ، خود گمراہ اور اللہ کے بندوں کو گمراہ کرنے والا ،اور انہیں اللہ تبارک
وتعالی کی اطاعت سے روکنے والاہے۔
((الرجیم))کا مطلب:دھتکارا ہوا دور کیا ہوا لعنت زدہ
جسے اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنی رحمت سے دور کردیا ہو،اور چونکہ وہ خود اللہ کی
رحمت سے محروم ہے اسی خاطر وہ اللہ کے بندوں کو بھی دور کرنا چاہتا ہے،اسی واسطے
بندے کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اس شیطان مردود سے اللہ کی پناہ حاصل کریں، جو انسان
کو اللہ عزوجل کی فرمانبرداری اور عبادت اور اس کی رحمت سے بہرہ ور ہونے سے روکنے
کی جہد پیہم کرتا رہتا ہے۔
﴿بسم اللہ الرحمن الرحیم﴾کو
مختصرا بسملہ کہاجاتا ہے جو قرآن کہ ایک آیت ہے جسے سورہ براءہ(توبہ)کے علاوہ ہر
سورت کی تلاوت سے قبل پڑھا جاتا ہے۔
اور یہ بسملہ اللہ تبارک
و تعالی کی مدد کے حصول کی خاطر پڑھا جانے والا
کلمہ ہے، اس کے ساتھ تلاوت کی شروعات کا مطلب یہ ہے کہ:جو بھی اللہ کی کتاب
کی تلاوت کرتا ہے وہ اپنے تلاوت کی ابتداء اللہ کی مدد سے کرتا ہے؛اس لئے کہ بسم
اللہ میں موجود باء استعانت کیلئے ہے،یعنی :اللہ تبارک و تعالی کے نام کے ذکر کی
برکت کے ساتھ ابتداء کیا جاتا ہے۔
﴿اللہ﴾اللہ
تعالی پر علم ہے ، اور اس کا معنی اپنے تمام مخلوقات پر الوہیت اور عبودیت کا
حقدار ہے،اور وہ اللہ کی الوہیت؛کمال ،عظمت اور جلال کے اوصاف پر دلیل ہے،جن کے سبب اس بلند و بالا کو اللہ
ہونے ، اسکی عبادت کئے جانے اور اس کے
سامنے عاجزی اور خاکساری اختیار کئے جانے کا حق حاصل ہوا،اسی طرح وہ عبودیت؛بندے
کے :عاجزی خاکساری اور اللہ کی طرف توجہ جیسے اس اسم کے متقاضی افعال پر بھی دلیل
ہے۔
﴿الرحمان الرحيم﴾ رحمت سے مشتق دو نام ہیں،جو
اللہ سبحانہ وتعالی کیلئے صفت رحمت کے ثابت ہونے پر دلیل ہیں؛رہی بات رحمان کی تو یہ عام اور کشادہ رحمت پر دلالت کرتا ہے،فرمان باری
تعالی ہے:﴿وسعت
رحمتي كل شيء﴾[الأعراف:156] ، اور رحیم اللہ رب العلمین
کے مخصوص اور پارسا بندوں کیلئے خصوصی رحمت پر دلالت کرتا ہے،جیساکہ فرمان باری
تعالی ہے:﴿وكان
بالمؤمنين رحيما﴾[الأحزاب: 43 ]۔
الحمدلله الحمد :محبت کے ساتھ اللہ-جل و علا- کی
تعریف کرنا،اللہ عزوجل کی تعریف اس کے اسماء حسنی اور اعلی ترین صفات پر کی جائیگی،اور
اس کی ان گنت اور بے شمار نعمتوں اور
احسانات پر کی جائے گی۔
رب العلمین یعنی ان کا
خالق،مالک،انکے انتظامات کرنے والا،انکی حالات جاننے والا،اور ان سب میں اس کا کوئی
ساجھی نہیں،اور عالم میں اللہ کے علاوہ تمام لوگ شامل ہیں۔
الرحمان الرحیم:یعنی عام اور خاص رحمت کی
صفت سے متصف ہے جیسا کہ گذر چکاہے۔
مالك يوم الدين ایک دوسری قراءت میں ملك يوم الدين
ہے جس کا مطلب:حساب اور بدلہ لا دن ، دین
حساب کو کہا جاتا ہے،اور ہمارے رب کے اسماء میں سے الدیان
یعنی حساب لینے اور بدلہ دینے والا،اور اس میں اللہ تبارک وتعالی،اس سے ملاقات
اسکے سامنے کھڑے ہونے سے خوف دلایا گیا ہے،جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے:﴿وما أدراك ما يوم الدين ثم ما أدراك ما يوم
الدين يوم لا تملك نفس لنفس شيئا والامر يومئذ لله
﴾.سورة
الإنفطار ١٧-١٩
﴿إياك نعبد وإياك نستعين﴾
میں عبادت اور استعانت کے خالص اللہ-عزوجل- کیلئے ہونے کی طرف اشارہ ہے،لہذا فرمان
باری:إياك نعبد کا معنی ہے کہ میں تیرے لئے اپنے عبادت کو خالص کرتا ہوں،پس تیرے
سوا کسی کی عبادت نہیں کرتا،﴿وإياك نستعين﴾کا مطلب یہ ہے کہ میں صرف
تجھ سے ہی مدد مانگتا ہوں تیرے علاوہ کسی سے بھی مدد نہیں مانگتا۔
فرمان باری تعالی:﴿إياك نعبد﴾
میں شرک سے براءت ہے اور ﴿إياك نستعين﴾ میں حول و قوت سے براءت۔
﴿إياك نعبد﴾ لا إله إلا الله کا
اثبات ہے جبکہ ﴿إياك
نستعين﴾ میں لا حول ولا قوة الا بالله کا۔
﴿إياك نعبد﴾ میں شرک و ریاکاری سے
دوری ہے اور إياك نستعين میں خود پسندی اور تکبر سے بیزاری ۔
﴿إهدنا الصراط المستقيم﴾،یعنی:اے اللہ تو ہماری
اس جانب رہنمائی فرما اور ہمیں اس سیدھے راستے پر چلنے اور اس کے پیروی کی توفیق عنایت کر ، فرمان باری تعالی ہے:﴿وأن هذا صراطي مستقيما فاتبعوه ولا تتبعوا السبل
فتفرق بكم عن سبيله﴾ الأنعام: 153
اور وہ اللہ کا وہ دین ہے
جسے اللہ نے اپنے بندوں کی خاطر پسند فرمایا ہے:اور وہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا دین
قبول نہ کرے گا۔
﴿صراط الذين أنعمت عليهم﴾،یعنی:نبیوں،
صدیقوں،شہیدوں اور نیک کاروں کا راستہ اور ان کی رفاقت کیا ہی خوب ہے،جنہوں نے علم
نافع اور عمل صالح کے درمیان جمع کیا،بے شک اہل علم و عمل ہی انعام یافتہ لوگ ہیں
۔
﴿غير المغضوب عليهم﴾،سے مراد یہود اور ان کی
روش پر چلنے والے ہیں،جو حق جانتے ہوئے اس پر عمل نہیں کرتے۔
﴿ولا الضالين﴾ سے مراد نصاری اور بغیر علم و بصیرت اللہ تبارک
و تعالی کی عبادت کرنے میں ان کے طریقہ کار پر چلنے والے ہیں۔
اور ان کا مقصد یہ ہے کہ
برائی اور گمراہی کے داعی علماء سے خبردار
کیا جائے،جیساکہ سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں:((ہمارے اہل علم میں سے بگڑے ہوئے
لوگوں میں یہودیوں کی مشابہت پائی جاتی ہے،اور ہمارے عبادت گذاروں میں سے فاسد
لوگوں میں نصاری کی مشابہت پائی جاتی ہے))([3])
اس سورہ کو سمجھنے میں سب
سے بہتر مدد ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ
عنہ سے مروی حدیث سے ملے گی جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تبارک و تعالی سے
روایت کی ہے،فرمان باری تعالی ہے:((میں نے نماز"سورہ فاتحہ"اپنے اور اپنے
بندوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کردیا
ہے،اور میرے بندوں کو اس کی تمام طلب ہیں،جب بندہ کہتا ہے﴿الحمدلله رب العالمين﴾ تو
اللہ تعالی کہتا ہے،بندے نے میری حمد بیان کی جب کہتا ہے﴿ الرحمان الرحيم﴾
تو اللہ تعالی کہتا ہے میرے بندے نے میری ثناء بیان کی،جب کہتا ہے:مالك يوم الدين
اللہ کہتا ہے بندے نے میری بزرگی بیان کی،جب بندہ﴿
إياك نعبد وإياك
نستعين﴾ کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے:یہ میرے اور
بندے کے درمیان ہے اور بندہ جو بھی مانگے اسے ملے گا پس جب بندہ کہتا ہے:﴿إهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت
عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين ﴾،اللہ
فرماتا ہے:یہ میرے بندے کی خاطر ہے اور میرا بندے جو مانگے اسے ملے گا))([4])۔
اور ((قسمت الصلاة)) کا معنی ہے سورہ فاتحہ،اسے صلاة اس واسطے کہا گیا
کیونکہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی،نماز میں اس کی اہمیت کے پیش نظر
اسے صلاہ سے موسوم کیا گیا۔
اور اللہ اور بندے کے درمیان
اسے تقسیم کئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں سے ساڑھے تین آیات رب تعالی کیلئے ہیں
جو اس کا ابتدائی حصہ اور شروع کی تین آیتیں ہیں اسی طرح آخری کی ساڑھے تین آیات
بندے کی خاطر ہیں۔
بایں طور کہ اس کا پہلا
حصہ اللہ کی حمد و ثناء پر مشتمل ہے اور آخری حصہ میں بندے کیلئے دعاء ہے۔
اور اسے ((أم القرآن))
کے نام سے جانا جاتا ہے،کیونکہ اجمالی طور پر قرآن کے تمام تفصیلی محتویات موجود ہیں۔اور
یہ دروس اور عبرتوں سے بھری ہوئی ہے ، دین کے قواعد ,اصول ایمان اور شریعت کےاہم امور ،اخلاق و آداب اور ان کے علاوہ اس عظیم
سورت میں دیگر باتیں شامل ہیں ۔
□□□
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا (1) وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا (2) وَقَالَ الْإِنسَانُ مَا لَهَا (3) يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا (4) بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَىٰ لَهَا (5) يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ (6) فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ (8(﴾. یہ عظیم سورت سورہ زلزلہ ہے جس میں اللہ رب بلند و بالا نے قیامت قبل واقع ہونے والی ہولناکیون کا تذکرہ کیا ہے،قبل قیامت واقع ہونے والے امور میں سے کرہ زمین کا کانپنا اور اس کا جھنجھوڑا جانا بھی ہے۔ ﴿إذا زلزلت الأرض زلزالها﴾ یعنی وہ کانپے گی ہلے گی اور حرکت کرے گی۔ ﴿وأخرجت الأرض أثقالها﴾ یعنی زمین اپنے اندر موجود دفن شدہ مردوں کو باہر نکال دے گی،اپنے خزانے اگل دے گی، جو کہ زمین کی جانب سے وقوع قیامت اور اللہ کے سامنے وقوف کی نشانی ہوگی۔ ﴿وقال الانسان ما لها﴾یعنی انسان اپنی قبر سے حشر اور اللہ کے سامنے وقوف کیلئے کھڑا ہوتے ہوئے اس عجیب امر اور ہولناک منظر کو دیکھ کر بوکھلایا ہوا ہوگا اور کہے گا:اسے کیا ہوا؟!زمین کو یہ سب کیا ہوگیا ہے۔ ﴿يومئذ﴾ یعنی بروز قیامت﴿تحدث أخبارها﴾؛زمین اپنے اوپر واقع ہونے والے لوگوں کے اچھے برے کرموں کے بارے میں بتائے گی؛اس یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین اپنے اوپر واقع ہونے والے لوگوں کے اخبار ،احوال، اقوال و اعمال کی گواہی دے گی،اور اس کی ان کے خلاف یہ گواہی اللہ کى حکم سے ہوگی۔جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے:﴿بأن ربك أوحى لها ﴾یعنی اللہ نے اسے حکم دیا اور اسے اس گواہی کی اجازت بھی دی ہے۔ پھر اس کے بعد لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ ارض موقف سے اپنے اعمال کے بقدر بدلہ اور حساب کے لئے آئیں گے؛﴿يومئذ یعنی بروز قیامت يصدر الناس أشتاتا ﴾،یعنی نیک اور برے اعمال کے اعتبار سے لوگ الگ الگ اصناف اور گروہوں میں منقسم ہوں گے﴿ليروا أعمالهم ﴾یعنی:دیکھیں اور مشاہدہ کریں اور انہیں اپنے کئے ہوئے اعمال پر واقفیت حاصل ہو، چاہے وہ اعمال اچھے ہوں یا برے سب ان پر شمار کئے جا چکے ہوں گے ،ان اچھے اور بڑے اعمال کا شمار باریک ترازو کے ذریعہ ہوگا،وہ اپنے سارے کے سارے اعمال بلا کمی کے دیکھ لیں گے،نہ ہی اب کے اچھے اعمال میں کمی ہوگی اور نہ ہی بڑے اعمال میں،نہ تھوڑے میں اور نہ زیادہ میں پھر لوگوں کو ان کے نیک اعمال پر ثواب اور برے اعمال پر عقاب ملے گا۔ ﴿فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره (٧)ومن يعمل مثقال ذرة شرا﴾ يره ذرہ چھوٹی چیونٹیوں میں سے ایک کو کہتے ہیں،پس اس دن اچھے اور برے اعمال بالکل باریک ترازو سے پیمائش کئے جائیں گے،اس میں بندوں کو اس بارے میں وارننگ دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی نیک عمل کو کم تر نہ تصور کریں،اور تحقیق کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:(اتقوالنار ولو لشق تمرة)ترجمہ:تم جہنم سے بچو اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی سے۔اس لئے کہ بروز قیامت ترازو باریک ترین ہوگا۔ ﴿فمن يعمل مثقال ذرة﴾ یعنی نیکی میں سے خيرا يره ،ومن يعمل مثقال ذرة یعنی بدی میں شرا يره یعنی:اپنے عمل پر مکمل سزا ،اور اس میں وارننگ ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے گناہ کو بھی حقیر نہ سمجھیں جیسا کہ حضرت عائشہ سے مروی حدیث میں ہے کہ إياكم و محقرات الأعمال ،؛فإن لها من الله طالبا بلکہ ضروری ہے کہ انسان چھوٹے بڑے تمام گناہوں سے بچے ، اور اگر کوئی برائی ہوجائے تو فورا توبہ کرلے اور اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف لوٹ جائے۔ □□□ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا (1) فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا (2) فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا (3) فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا (4) فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (5)إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ (6) وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ (7) وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ (8) ۞ أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ (9) وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ (10) إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ (11)﴾. یہ عظیم سورہ عادیات ہے جس میں اللہ تعالی نے ان مخلوقات کی قسم کھائی اور اللہ تعالی اپنی مخلوقات میں سے جس کی چاہے ،قسم کھا سکتا ہے،اور وہ جس کی قسم کھاتا اسکی اہمیت کا بیان مقصود ہوتا ہے،رہی بات مخلوق کی وہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم میں اٹھا سکتا جیسا کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:جسے قسم اٹھانا ہو وہ اللہ کی قسم اٹھائے ورنہ خاموش رہے،اور دوسری جگہ ہے:جس نے غیراللہ کی قسم اٹھائی اس نے کفر یا شرک کیا ﴿والعاديات ضبحا﴾ یہ اللہ کی طرف سے ہانپتے ہوئےچلنے والے ان گھوڑوں کی قسم ہے جس کے اوپر صبر و احتساب سے متصف اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے سوار ہوتے ہیں، جن کا مقصد اس جہاد سے اللہ کے کلمہ کی سربلندی ہوتی ہے۔ اور عدو معروف ہے،جو اللہ تبارک و تعالی کے دین کے دشمنوں کے رہائش کی جانب چلنے کی رفتار کو کہا جاتا ہے،اور ضبح گھوڑے کی سانس کو کہا جاتا ہے،تیز رفتار چال کے سبب ان سے اس کیفیت یہ سانس نکلتی ہے۔ ﴿فالموريات قدحا﴾ یعنی ان کے تیز دوڑنے کے باعث جب ان کے ٹاپ سخت زمین اور کنکریوں پر لگتے ہیں تو اس سے چنگاری اور آگ نکلتی ہے،جو کہ انکی طاقت اور تیز رفتاری اور دشمنوں سے مڈبھیڑ کے وقت ان کی اہمیت کی نشانی ہوتی ہے۔ ﴿فالمغيرات صبحا﴾:المغيرات:یعنی اپنے دشمن پر دھاوا بولنے والے صبحا:بوقت صبح،دشمنوں پر حملہ کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لشکروں کا غالب طور سے یہی معمول تھا ﴿فأثرن به نقعا﴾ یعنی جب یہ اس قدر قوت اور تیزی سے دشمنوں کی پڑاو کے سمت نکلتے ہیں،تو ان کے تیزی کے دھاوا بولنے کے سبب میدان جنگ گردو غبار سے اندھیرا ہوجاتا ہے۔ ﴿فوسطن به﴾یعنی پھر وہ اپنے اوپر سوار اللہ کے راستے میں قتال کرنے والوں کے ساتھ فوجوں کے درمیان گھس جاتے ہیں،﴿جمعا﴾، یعنی: دشمنون کی جماعت پس وہ چلتے ہوئے اپنے اوپر سوار مجاہد کے ساتھ دشمنوں کی صفوں میں گھس جاتے ہیں،یہاں تک کہ اللہ تعالی کے حکم سے انہیں روند ڈالتے ہیں۔ یہی قسم ہے۔ اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے وہ انسان کی حالت کو بیان کرنا ہے﴿إن الانسان لربه لكنود﴾؛اور کنود کہتے ہیں، نعمت کے انکار کرنے والے کو،عام طور پر انسان کا یہی حال ہے،اللہ رب دو جہاں ان پر طرح طرح کی نعمتیں اور بے پایاں احسان کرتا ہے مگر یہ اللہ کے فضل اور نعمت کا منکر اور جھٹلانے والا ہوتا ہے،تنگ دست اور بخیلی و کنجوسی سے کام لیتا ہے،اللہ کے دیئے ہوئے مال ہی کو اللہ کے راستے میں ہی خرچ نہیں کرتا،الا یہ کہ جسے اللہ اس و بال سے محفوظ رکھے اور اسے نجات دیدے۔ ﴿وإنه﴾ یعنی یہ انسان ﴿على ذلك لشهيد﴾ یعنی اس مذموم عادت اور بری خصلت پر اپنے خلاف خود گواہ ہوتا ہے۔ ﴿وإنه لحب الخير﴾ یعنی مال﴿لشديد﴾؛ کتنا بھی مال مل جائے اسے قناعت نہیں ہوتی ،وہ مال سے خوب محبت کرتا ہے،اگر ایک وادی بھر کے اسے مال مل جائے تو بھی وہ دوسرے وادی کی تلاش میں نکل پڑے گا۔ پھر اللہ رب دو جہاں نے انسان کو ایسی چیز بتائی جس سے وہ ان صفات اور عادتوں سے محفوظ رہ سکتا ہے،فرمان باری تعالی ہے:﴿أفلا يعلم﴾ یعنی انسان ﴿إذا بعثر مافي القبور﴾یہ ایسی بات ہے جس کا یاد کرنا اور اس کی جانکاری بندے کیلئے ضروری ہے،اور اللہ کی نعمتوں کا اس طرح انکار اور مال کی یہ محبت اور اس خاطر اس قدر پاگل پن اور اس کے آگے اپنے اصل مقصد سے نابلد ہونے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بندے کو موت آدھرے گی،پھر قبروں سے اس کی تمام چیزیں نکالی جائیں گی،اور لوگ قبروں سے اعمال کے حساب اور اس پر بدلے کیلئے نکل پڑیں گے ۔ ﴿وحصل مافي الصدور﴾ یعنی اس دن اس میں موجود تمام چیزیں نکال لی جائیں گی،تاکہ بندے کو اس کی بخیلی ،کنجوسی، ناشکری اور دیگر بری خصلتوں کا صلہ دیا جائے۔ ﴿إن ربهم بهم يومئذ لخبير﴾ یعنی ان کے ظاہری اور باطنی ،ظاہر اور پوشیدہ تمام اعمال سے باخبر ہے،اور انہیں ان کا بدلہ دے گا۔ اور ((الخبير)) اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے،جس کا معنی معاملات کہ تہہ اور چیزوں کی پوشیدہ امور کو اسی طرح جاننے والا ہے جس طرح ظاہر اور اعلانیہ امور سے واقفیت ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿الْقَارِعَةُ (1) مَا الْقَارِعَةُ (2) وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ (3) يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ (4) وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ (5) فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ (6) فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ (7) وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ (8) فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ (9) وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ (10) نَارٌ حَامِيَةٌ (11(﴾. ﴿القارعة﴾، یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے،متعدد صفات کے سبب؛ اس کے نام بھی کئی ایک ہیں،پس یہ نشانیاں اور صفتیں ہیں،کیونکہ یہ اس دن کے عظیم صفت پر دلالت کرتی ہیں۔ اور ((القارعة)) یعنی جو دلوں اور کانوں کو اپنے ہولناکی شدت اور معاملے کی عظمت کے سبب جھنجوڑ کر رکھ دے۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (1) حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (2) كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ (3) ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ (4) كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ (5) لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ (6) ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ (7) ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ (8(﴾ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿وَالْعَصْرِ (1) إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ (2) إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (3)﴾. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ (1) الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ (2) يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ (3) كَلَّا ۖ لَيُنبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ (4) وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْحُطَمَةُ (5) نَارُ اللَّهِ الْمُوقَدَةُ (6) الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ (7) إِنَّهَا عَلَيْهِم مُّؤْصَدَةٌ (8) فِي عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ (9(﴾. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ (1) أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ (2) وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ (3) تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ (4) فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ (5(﴾. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ (1) إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ (2) فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَٰذَا الْبَيْتِ (3) الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ (4(﴾. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ (1) فَذَٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ (2) وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ (3) فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ (4) الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (5) الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ (6) وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ (7(﴾. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (1) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (2) إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ (3(﴾. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ (1) لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ (2) وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (3) وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ (4) وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (5) لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ (6(﴾. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (1) وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا (2) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا (3(﴾. إذا جاء نصرالله والفتح یعنی فتح مکہ ،آپ پر اللہ کی نعمت کی جانب اشارہ ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ایک ثابت شدہ اور لازمی طور پر واقع ہونے والا واقعہ ہے۔ فسبح بحمد ربك واستغفره إنه كان توابا:یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے تسبیح اور استغفار کیا کریں ،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سورت کے نزول کے بعد بکثرت یہ دعاء: سبحانك اللهم ربنا و بحمدك،اللهم اغفرلي پڑھتے حکم قرآن پر عمل کیا کرتے تھے۔ اس سورت سے حاصل ہونے والے فوائد میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجل کے قریب ہونے کا احساس دلانا بھی ہے؟بایں طور کہ جب فتح و نصر حاصل ہوجائے،کیونکہ عظیم طاعات کو استغفار سے ختم کیا جاتا ہے،اسی طرح ایمان و فرمانبرداری والی زندگی بھی اسی سے ختم کی جانی چاہیے لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وفات سے کچھ پہلے سب سے اخیر میں جو بات سنی گئی وہ اللهم اغفرلي وارحمني والحقني بالرفيق تھی۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ (1) مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ (2) سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ (3) وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ (4) فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ (5(﴾. یعنی اس کے دونوں ہاتھ خائب و خاسر ہوں،پہلا اس کے اوپر بد دعاء ہے اور دوسرا اس کے بارے میں خبر ہے۔ اور ابولہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا،جو کہ آپ کا شدید ترین دشمنوں میں سے تھا،آپ کو خوب تکلیف دیتا اور آپ کی اور آپ کے دین کی برائی کیا کرتا تھا،اس کے سبب نزول کے بارے میں یہ ثابت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صفاء پر نمودار ہویے اور کہا:(يا صباحاه!تو سارے قریش کے لوگ جمع ہوگئے ،اور انہوں نے کہا،تمہیں کیا ہوا؟آپ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن تم پر صبح یا شام ہی میں دھاوا بولنے والا ہے تو کیا تم میری بات مانو گے تو انہوں نے کہا ہا ں کیوں نہیں اس پر آپ نے فرمایا:میں تمہیں بہت ہی سخت عذاب کے بارے میں تمہیں خبر دار کرنے والا ہوں،ابو لہب نے اس وقت کہا:تیری بربادی ہو کیا تو نے ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا؟!تب اللہ تعالی نے تبت يدا أبي لهب وتب نازل فرمائی۔ [١٢:٣٥ ص، ٢٠١٩/٢/٢٤] أبوعبدالله(دعوة صبيح): جمع کردہ مال اولاد اور تجارت وغیرہ یہ سب اللہ کے یہاں اسے کچھ فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ [١٢:٤٢ ص، ٢٠١٩/٢/٢٤] أبوعبدالله(دعوة صبيح): وہ اور اس کی عورت جہنم رسید ہوں گے،اور یہ سورت ابولہب اور اسکی بیوی کے زندگی میں ہی نازل ہوئی تھی اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائی ہوئی باتوں کی سچائی پر عظیم نشانیوں اور عجیب دلائل ہیں اس میں اس بارے میں خبر ہے کہ وہ دونوں حالت کفر اور دین دشمنی ہی میں فوت ہوں گے،اور ہوا بھی ایسا ہی۔ اور اس کی بیوی جس کا نام اروی بنت حرب ام جمیل تھا حمالة الحطب وہ کانٹے اور تکلیف دہ چیزیں اٹھاکر ایذاء رسانی میں مبالغہ کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں کانٹے لاکر رکھ دیا کرتی تھی۔ [١٢:٤٦ ص، ٢٠١٩/٢/٢٤] أبوعبدالله(دعوة صبيح): في جيدها یعنی اس کی گردن حبل من مسد یعنی اس کے ذریعہ اسے جہنم کے کنارے تک اٹھا کر اسے اسکی گہرائی میں پھینکا جائے گا،یا یہ کہ وہ اپنے گردن میں پٹہ لٹکائے ہوئے جہنم میں اپنے شوہر پر لکڑیاں اٹھائے پھرے گی [٦:٠٢ ص، ٢٠١٩/٢/٢٤] أبوعبدالله(دعوة صبيح): اس سورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عظیم کامیابی اور فتح مبین کی بشارت دی گئی ہے۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (1) اللَّهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ (4(﴾. یہ سورہ اخلاص ہے ،جو ایک تہائی قرآن کے برابر ہے،جیسا کہ حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:(کیا تم میں سے کوئی ایک رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو سکتا ہے؟،پس یہ چیز ان پر گراں گذری اور انہوں نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ایسا کون کرسکتا ہے؟پس آپ نے فرمایا: الله الواحد الصمد تہائی قرآن ہے،اور اسے سورہ اخلاص بھی کہا جاتا ہے،کیونکہ اس میں خاص طور سے توحید علمی کو بیان کیا گیا ہے،اور سورة الكافرون کو بھی سورہ اخلاص کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں خاص طور پر عملی توحید کو بیان کیا گیا ہے،اور توحید کی دو قسمیں ہیں: علمی اور عملی ۔ ﴿قل هو الله أحد﴾،یعنی:وہ اکیلا ہے،کیونکہ اس کا کوئی شریک نہیں نہ اسماء و صفات اور نہ ہی ربوبیت اور الوہیت میں ﴿الله الصمد﴾ الصمد یعنی اپنے اسماء و صفات میں کامل ،اپنے یکتائی اور صفات میں بھی کامل اور صمد وہ ہے جس کی طرف تمام مخلوقات اپنے حاجات میں اس کی طرف متوجہ ہوتی ہیں،جس میں یہ دلالت ہے کہ اللہ تعالی اپنی صفات میں کمال کے سبب تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے،اور اس کے کمال قدرت اور تمام مخلوقات کا اس کا محتاج ہونا،اور یہ کہ وہ سب اس کی طرف حاجت پیش کرتے ہیں، اور بوقت حاجت اس کی جانب رجوع کرتے ہیں،انہیں اس سے ایک لمحہ بھی بے نیازی نہیں ۔ اس کے یکتا ، بے نیاز اور کمال ہ میں سے ہی یہ بھی ہے کہ لم يلد ولم يولد؛یعنی اصل اور فرع کی نفی کی گئی ،وہ پاک اور مقدس ہے ان سب سے۔ ﴿ولم يكن له كفوا أحد﴾،یعنی:اس کا کوئی ہمسر نہیں ،اور اس کا کوئی ساجھی نہیں،اور نہ اس لا کوئی ہم نام ہے،اور وہ ہر قسم کے مثال ہمسر اور ہم مثل سے پاک ہے۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (1) مِن شَرِّ مَا خَلَقَ (2) وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (3) وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ (4) وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (5(﴾. ●﴿قل أعوذ برب الفلق الفلق﴾ صبح،یعنی:میں صبح کو پیدا کرنے والے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں،اور اس کا معنی بیج پھاڑنے والا بھی بتایا گیا ہے۔ ﴿من شر ما خلق﴾ یعنی ہر اس مخلوق سے جس میں شر ہے،اور یہ ان تمام مخلوقات سے پناہ چاہنے کو عام جس میں برائیاں پائی جاتی ہیں ۔ ﴿ومن شر غاسق إذا وقب﴾ یعنی رات ، اور اس میں جو بھی کیڑے مکوڑے ،اور جو اس میں شیاطین بکھرے ہوتے ہیں،اور جو اس میں شر اور فتنے حرکت کرتے ہیں۔ ﴿ومن شر النفثت في العقد﴾ یعنی وہ جادو گرنیاں جو گرہوں میں پھونکیں مارتی ہیں، تاکہ وہ جادو کرسکیں اور وہ واقع ہو،اور وہ اللہ عزوجل کے حکم کے بغیر نہیں واقع ہوسکتا ہے۔ اور ان سے اللہ کی پناہ چاہنے میں جادو کی حقیقت اور تاثیر کی دلیل ہے،ان میں سے کچھ قتل کرتے ہیں،اور کچھ بیمار کرتے ہیں،اور اسی میں سے کچھ میاں بیوی کے مابین جدائی پیدا کرنے والے ہیں، اللہ ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے اور ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ ﴿ومن شر حاسد إذا حسد﴾ یعنی ہر حاسد کی شر سے جب ان میں حسد کی آگ لگے،اس میں نظر لگانے والا بھی شامل ہے؟کیونکہ نظر بد بلا حسد ممکن ہی نہیں ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (1) مَلِكِ النَّاسِ (2) إِلَٰهِ النَّاسِ (3) مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ (4) الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ (5) مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (6(﴾. ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (1) مَلِكِ النَّاسِ (2) إِلَٰهِ النَّاسِ﴾،ان میں اللہ سبحانہ و تعالی کی ربوبیت، الوہیت اور ملک کے ذکر کے ذریعہ اللہ کی پناہ چاہی گئی ہے،اور یہ تین نام رب الناس ملک الناس الہ الناس سورہ فاتحہ میں گزر چکے ہیں؛جب وہاں اللہ پر ثناء کے مقام پرآیا،اور کتاب کے اخیر میں اللہ سبحانہ و تعالی سے پناہ حاصل کرنے اور اس سے جڑنے سے متعلق وارد ہے۔ ﴿من شرالوسواس الخناس﴾:یعنی شیطان اس کو یہاں دو وصف کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے: ﴿الوسواس﴾ یعنی جو لوگوں کے دلوں سے وسوسے ڈالتا ہے۔ ﴿الخناس﴾ یعنی جو اللہ کے ذکر کے وقت چھپ کر بھاگ جاتا اور انسان سے دور ہوجاتا ہے۔ اور اس میں اللہ کے ذکر کو لازم پکڑنے پر ابھارا گیا ہے،اور یہ کہ وہ بندے کو شیطان سے حفاظت کیلئے سب سے بہترین ذریعہ ہے۔ ﴿الذي يوسوس في صدور الناس﴾ ، یعنی جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے اور برائیاں اور غلط خیالات ،فاسد عقائد اور برے معانی ڈالتا ہے۔ ﴿من الجنة والناس﴾،یعنی:جس طرح جنوں کی طرف سے وسوسے ہوتے ہیں اسی طرح انسان کی جانب سے بھی ہوتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ایک مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللہ سبحانہ و تعالی کے کلام کے معانی کو سمجھنے کا اہتمام کرے،اور عام افراد کیلئے انہیں؛سورہ فاتحہ اور پھر سورہ زلزلہ سے الناس تک ہی یاد کرلینا ،اسے دہراتے رہنا،اسکے معانی اور دلالت کو سمجھنے کا اہتمام کرنا کافی ہے تاکہ ہر مرتبہ اسکی تلاوت سمجھ کر اور غور سے پڑھیں،اور خطاب کو سمجھ سکیں ۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا (1) وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا (2) وَقَالَ الْإِنسَانُ مَا لَهَا (3) يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا (4) بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَىٰ لَهَا (5) يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ (6) فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ (8(﴾. یہ عظیم سورت سورہ زلزلہ ہے جس میں اللہ رب بلند و بالا نے قیامت قبل واقع ہونے والی ہولناکیون کا تذکرہ کیا ہے،قبل قیامت واقع ہونے والے امور میں سے کرہ زمین کا کانپنا اور اس کا جھنجھوڑا جانا بھی ہے۔ ﴿إذا زلزلت الأرض زلزالها﴾ یعنی وہ کانپے گی ہلے گی اور حرکت کرے گی۔ ﴿وأخرجت الأرض أثقالها﴾ یعنی زمین اپنے اندر موجود دفن شدہ مردوں کو باہر نکال دے گی،اپنے خزانے اگل دے گی، جو کہ زمین کی جانب سے وقوع قیامت اور اللہ کے سامنے وقوف کی نشانی ہوگی۔ ﴿وقال الانسان ما لها﴾یعنی انسان اپنی قبر سے حشر اور اللہ کے سامنے وقوف کیلئے کھڑا ہوتے ہوئے اس عجیب امر اور ہولناک منظر کو دیکھ کر بوکھلایا ہوا ہوگا اور کہے گا:اسے کیا ہوا؟!زمین کو یہ سب کیا ہوگیا ہے۔ ﴿يومئذ﴾ یعنی بروز قیامت﴿تحدث أخبارها﴾؛زمین اپنے اوپر واقع ہونے والے لوگوں کے اچھے برے کرموں کے بارے میں بتائے گی؛اس یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین اپنے اوپر واقع ہونے والے لوگوں کے اخبار ،احوال، اقوال و اعمال کی گواہی دے گی،اور اس کی ان کے خلاف یہ گواہی اللہ کى حکم سے ہوگی۔جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے:﴿بأن ربك أوحى لها ﴾یعنی اللہ نے اسے حکم دیا اور اسے اس گواہی کی اجازت بھی دی ہے۔ پھر اس کے بعد لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ ارض موقف سے اپنے اعمال کے بقدر بدلہ اور حساب کے لئے آئیں گے؛﴿يومئذ یعنی بروز قیامت يصدر الناس أشتاتا ﴾،یعنی نیک اور برے اعمال کے اعتبار سے لوگ الگ الگ اصناف اور گروہوں میں منقسم ہوں گے﴿ليروا أعمالهم ﴾یعنی:دیکھیں اور مشاہدہ کریں اور انہیں اپنے کئے ہوئے اعمال پر واقفیت حاصل ہو، چاہے وہ اعمال اچھے ہوں یا برے سب ان پر شمار کئے جا چکے ہوں گے ،ان اچھے اور بڑے اعمال کا شمار باریک ترازو کے ذریعہ ہوگا،وہ اپنے سارے کے سارے اعمال بلا کمی کے دیکھ لیں گے،نہ ہی اب کے اچھے اعمال میں کمی ہوگی اور نہ ہی بڑے اعمال میں،نہ تھوڑے میں اور نہ زیادہ میں پھر لوگوں کو ان کے نیک اعمال پر ثواب اور برے اعمال پر عقاب ملے گا۔ ﴿فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره (٧)ومن يعمل مثقال ذرة شرا﴾ يره ذرہ چھوٹی چیونٹیوں میں سے ایک کو کہتے ہیں،پس اس دن اچھے اور برے اعمال بالکل باریک ترازو سے پیمائش کئے جائیں گے،اس میں بندوں کو اس بارے میں وارننگ دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی نیک عمل کو کم تر نہ تصور کریں،اور تحقیق کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:(اتقوالنار ولو لشق تمرة)ترجمہ:تم جہنم سے بچو اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی سے۔اس لئے کہ بروز قیامت ترازو باریک ترین ہوگا۔ ﴿فمن يعمل مثقال ذرة﴾ یعنی نیکی میں سے خيرا يره ،ومن يعمل مثقال ذرة یعنی بدی میں شرا يره یعنی:اپنے عمل پر مکمل سزا ،اور اس میں وارننگ ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے گناہ کو بھی حقیر نہ سمجھیں جیسا کہ حضرت عائشہ سے مروی حدیث میں ہے کہ إياكم و محقرات الأعمال ،؛فإن لها من الله طالبا بلکہ ضروری ہے کہ انسان چھوٹے بڑے تمام گناہوں سے بچے ، اور اگر کوئی برائی ہوجائے تو فورا توبہ کرلے اور اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف لوٹ جائے۔ □□□ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا (1) فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا (2) فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا (3) فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا (4) فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (5)إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ (6) وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ (7) وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ (8) ۞ أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ (9) وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ (10) إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ (11)﴾. یہ عظیم سورہ عادیات ہے جس میں اللہ تعالی نے ان مخلوقات کی قسم کھائی اور اللہ تعالی اپنی مخلوقات میں سے جس کی چاہے ،قسم کھا سکتا ہے،اور وہ جس کی قسم کھاتا اسکی اہمیت کا بیان مقصود ہوتا ہے،رہی بات مخلوق کی وہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم میں اٹھا سکتا جیسا کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:جسے قسم اٹھانا ہو وہ اللہ کی قسم اٹھائے ورنہ خاموش رہے،اور دوسری جگہ ہے:جس نے غیراللہ کی قسم اٹھائی اس نے کفر یا شرک کیا ﴿والعاديات ضبحا﴾ یہ اللہ کی طرف سے ہانپتے ہوئےچلنے والے ان گھوڑوں کی قسم ہے جس کے اوپر صبر و احتساب سے متصف اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے سوار ہوتے ہیں، جن کا مقصد اس جہاد سے اللہ کے کلمہ کی سربلندی ہوتی ہے۔ اور عدو معروف ہے،جو اللہ تبارک و تعالی کے دین کے دشمنوں کے رہائش کی جانب چلنے کی رفتار کو کہا جاتا ہے،اور ضبح گھوڑے کی سانس کو کہا جاتا ہے،تیز رفتار چال کے سبب ان سے اس کیفیت یہ سانس نکلتی ہے۔ ﴿فالموريات قدحا﴾ یعنی ان کے تیز دوڑنے کے باعث جب ان کے ٹاپ سخت زمین اور کنکریوں پر لگتے ہیں تو اس سے چنگاری اور آگ نکلتی ہے،جو کہ انکی طاقت اور تیز رفتاری اور دشمنوں سے مڈبھیڑ کے وقت ان کی اہمیت کی نشانی ہوتی ہے۔ ﴿فالمغيرات صبحا﴾:المغيرات:یعنی اپنے دشمن پر دھاوا بولنے والے صبحا:بوقت صبح،دشمنوں پر حملہ کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لشکروں کا غالب طور سے یہی معمول تھا ﴿فأثرن به نقعا﴾ یعنی جب یہ اس قدر قوت اور تیزی سے دشمنوں کی پڑاو کے سمت نکلتے ہیں،تو ان کے تیزی کے دھاوا بولنے کے سبب میدان جنگ گردو غبار سے اندھیرا ہوجاتا ہے۔ ﴿فوسطن به﴾یعنی پھر وہ اپنے اوپر سوار اللہ کے راستے میں قتال کرنے والوں کے ساتھ فوجوں کے درمیان گھس جاتے ہیں،﴿جمعا﴾، یعنی: دشمنون کی جماعت پس وہ چلتے ہوئے اپنے اوپر سوار مجاہد کے ساتھ دشمنوں کی صفوں میں گھس جاتے ہیں،یہاں تک کہ اللہ تعالی کے حکم سے انہیں روند ڈالتے ہیں۔ یہی قسم ہے۔ اور جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے وہ انسان کی حالت کو بیان کرنا ہے﴿إن الانسان لربه لكنود﴾؛اور کنود کہتے ہیں، نعمت کے انکار کرنے والے کو،عام طور پر انسان کا یہی حال ہے،اللہ رب دو جہاں ان پر طرح طرح کی نعمتیں اور بے پایاں احسان کرتا ہے مگر یہ اللہ کے فضل اور نعمت کا منکر اور جھٹلانے والا ہوتا ہے،تنگ دست اور بخیلی و کنجوسی سے کام لیتا ہے،اللہ کے دیئے ہوئے مال ہی کو اللہ کے راستے میں ہی خرچ نہیں کرتا،الا یہ کہ جسے اللہ اس و بال سے محفوظ رکھے اور اسے نجات دیدے۔ ﴿وإنه﴾ یعنی یہ انسان ﴿على ذلك لشهيد﴾ یعنی اس مذموم عادت اور بری خصلت پر اپنے خلاف خود گواہ ہوتا ہے۔ ﴿وإنه لحب الخير﴾ یعنی مال﴿لشديد﴾؛ کتنا بھی مال مل جائے اسے قناعت نہیں ہوتی ،وہ مال سے خوب محبت کرتا ہے،اگر ایک وادی بھر کے اسے مال مل جائے تو بھی وہ دوسرے وادی کی تلاش میں نکل پڑے گا۔ پھر اللہ رب دو جہاں نے انسان کو ایسی چیز بتائی جس سے وہ ان صفات اور عادتوں سے محفوظ رہ سکتا ہے،فرمان باری تعالی ہے:﴿أفلا يعلم﴾ یعنی انسان ﴿إذا بعثر مافي القبور﴾یہ ایسی بات ہے جس کا یاد کرنا اور اس کی جانکاری بندے کیلئے ضروری ہے،اور اللہ کی نعمتوں کا اس طرح انکار اور مال کی یہ محبت اور اس خاطر اس قدر پاگل پن اور اس کے آگے اپنے اصل مقصد سے نابلد ہونے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بندے کو موت آدھرے گی،پھر قبروں سے اس کی تمام چیزیں نکالی جائیں گی،اور لوگ قبروں سے اعمال کے حساب اور اس پر بدلے کیلئے نکل پڑیں گے ۔ ﴿وحصل مافي الصدور﴾ یعنی اس دن اس میں موجود تمام چیزیں نکال لی جائیں گی،تاکہ بندے کو اس کی بخیلی ،کنجوسی، ناشکری اور دیگر بری خصلتوں کا صلہ دیا جائے۔ ﴿إن ربهم بهم يومئذ لخبير﴾ یعنی ان کے ظاہری اور باطنی ،ظاہر اور پوشیدہ تمام اعمال سے باخبر ہے،اور انہیں ان کا بدلہ دے گا۔ اور ((الخبير)) اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے،جس کا معنی معاملات کہ تہہ اور چیزوں کی پوشیدہ امور کو اسی طرح جاننے والا ہے جس طرح ظاہر اور اعلانیہ امور سے واقفیت ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿الْقَارِعَةُ (1) مَا الْقَارِعَةُ (2) وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْقَارِعَةُ (3) يَوْمَ يَكُونُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوثِ (4) وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ (5) فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ (6) فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ (7) وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ (8) فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ (9) وَمَا أَدْرَاكَ مَا هِيَهْ (10) نَارٌ حَامِيَةٌ (11(﴾. ﴿القارعة﴾، یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے،متعدد صفات کے سبب؛ اس کے نام بھی کئی ایک ہیں،پس یہ نشانیاں اور صفتیں ہیں،کیونکہ یہ اس دن کے عظیم صفت پر دلالت کرتی ہیں۔ اور ((القارعة)) یعنی جو دلوں اور کانوں کو اپنے ہولناکی شدت اور معاملے کی عظمت کے سبب جھنجوڑ کر رکھ دے۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (1) حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (2) كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ (3) ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ (4) كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ (5) لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ (6) ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ (7) ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ (8(﴾ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿وَالْعَصْرِ (1) إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ (2) إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (3)﴾. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ (1) الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ (2) يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ (3) كَلَّا ۖ لَيُنبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ (4) وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْحُطَمَةُ (5) نَارُ اللَّهِ الْمُوقَدَةُ (6) الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ (7) إِنَّهَا عَلَيْهِم مُّؤْصَدَةٌ (8) فِي عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ (9(﴾. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ (1) أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ (2) وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ (3) تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ (4) فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ (5(﴾. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ (1) إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ (2) فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَٰذَا الْبَيْتِ (3) الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ (4(﴾. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ (1) فَذَٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ (2) وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ (3) فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ (4) الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (5) الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ (6) وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ (7(﴾. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (1) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (2) إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ (3(﴾. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ (1) لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ (2) وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (3) وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ (4) وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (5) لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ (6(﴾. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (1) وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا (2) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا (3(﴾. إذا جاء نصرالله والفتح یعنی فتح مکہ ،آپ پر اللہ کی نعمت کی جانب اشارہ ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ایک ثابت شدہ اور لازمی طور پر واقع ہونے والا واقعہ ہے۔ فسبح بحمد ربك واستغفره إنه كان توابا:یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے تسبیح اور استغفار کیا کریں ،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سورت کے نزول کے بعد بکثرت یہ دعاء: سبحانك اللهم ربنا و بحمدك،اللهم اغفرلي پڑھتے حکم قرآن پر عمل کیا کرتے تھے۔ اس سورت سے حاصل ہونے والے فوائد میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجل کے قریب ہونے کا احساس دلانا بھی ہے؟بایں طور کہ جب فتح و نصر حاصل ہوجائے،کیونکہ عظیم طاعات کو استغفار سے ختم کیا جاتا ہے،اسی طرح ایمان و فرمانبرداری والی زندگی بھی اسی سے ختم کی جانی چاہیے لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وفات سے کچھ پہلے سب سے اخیر میں جو بات سنی گئی وہ اللهم اغفرلي وارحمني والحقني بالرفيق تھی۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ (1) مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ (2) سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ (3) وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ (4) فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ (5(﴾. یعنی اس کے دونوں ہاتھ خائب و خاسر ہوں،پہلا اس کے اوپر بد دعاء ہے اور دوسرا اس کے بارے میں خبر ہے۔ اور ابولہب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا،جو کہ آپ کا شدید ترین دشمنوں میں سے تھا،آپ کو خوب تکلیف دیتا اور آپ کی اور آپ کے دین کی برائی کیا کرتا تھا،اس کے سبب نزول کے بارے میں یہ ثابت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صفاء پر نمودار ہویے اور کہا:(يا صباحاه!تو سارے قریش کے لوگ جمع ہوگئے ،اور انہوں نے کہا،تمہیں کیا ہوا؟آپ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن تم پر صبح یا شام ہی میں دھاوا بولنے والا ہے تو کیا تم میری بات مانو گے تو انہوں نے کہا ہا ں کیوں نہیں اس پر آپ نے فرمایا:میں تمہیں بہت ہی سخت عذاب کے بارے میں تمہیں خبر دار کرنے والا ہوں،ابو لہب نے اس وقت کہا:تیری بربادی ہو کیا تو نے ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا؟!تب اللہ تعالی نے تبت يدا أبي لهب وتب نازل فرمائی۔ [١٢:٣٥ ص، ٢٠١٩/٢/٢٤] أبوعبدالله(دعوة صبيح): جمع کردہ مال اولاد اور تجارت وغیرہ یہ سب اللہ کے یہاں اسے کچھ فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ [١٢:٤٢ ص، ٢٠١٩/٢/٢٤] أبوعبدالله(دعوة صبيح): وہ اور اس کی عورت جہنم رسید ہوں گے،اور یہ سورت ابولہب اور اسکی بیوی کے زندگی میں ہی نازل ہوئی تھی اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائی ہوئی باتوں کی سچائی پر عظیم نشانیوں اور عجیب دلائل ہیں اس میں اس بارے میں خبر ہے کہ وہ دونوں حالت کفر اور دین دشمنی ہی میں فوت ہوں گے،اور ہوا بھی ایسا ہی۔ اور اس کی بیوی جس کا نام اروی بنت حرب ام جمیل تھا حمالة الحطب وہ کانٹے اور تکلیف دہ چیزیں اٹھاکر ایذاء رسانی میں مبالغہ کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں کانٹے لاکر رکھ دیا کرتی تھی۔ [١٢:٤٦ ص، ٢٠١٩/٢/٢٤] أبوعبدالله(دعوة صبيح): في جيدها یعنی اس کی گردن حبل من مسد یعنی اس کے ذریعہ اسے جہنم کے کنارے تک اٹھا کر اسے اسکی گہرائی میں پھینکا جائے گا،یا یہ کہ وہ اپنے گردن میں پٹہ لٹکائے ہوئے جہنم میں اپنے شوہر پر لکڑیاں اٹھائے پھرے گی [٦:٠٢ ص، ٢٠١٩/٢/٢٤] أبوعبدالله(دعوة صبيح): اس سورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عظیم کامیابی اور فتح مبین کی بشارت دی گئی ہے۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (1) اللَّهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ (4(﴾. یہ سورہ اخلاص ہے ،جو ایک تہائی قرآن کے برابر ہے،جیسا کہ حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:(کیا تم میں سے کوئی ایک رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہو سکتا ہے؟،پس یہ چیز ان پر گراں گذری اور انہوں نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ایسا کون کرسکتا ہے؟پس آپ نے فرمایا: الله الواحد الصمد تہائی قرآن ہے،اور اسے سورہ اخلاص بھی کہا جاتا ہے،کیونکہ اس میں خاص طور سے توحید علمی کو بیان کیا گیا ہے،اور سورة الكافرون کو بھی سورہ اخلاص کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں خاص طور پر عملی توحید کو بیان کیا گیا ہے،اور توحید کی دو قسمیں ہیں: علمی اور عملی ۔ ﴿قل هو الله أحد﴾،یعنی:وہ اکیلا ہے،کیونکہ اس کا کوئی شریک نہیں نہ اسماء و صفات اور نہ ہی ربوبیت اور الوہیت میں ﴿الله الصمد﴾ الصمد یعنی اپنے اسماء و صفات میں کامل ،اپنے یکتائی اور صفات میں بھی کامل اور صمد وہ ہے جس کی طرف تمام مخلوقات اپنے حاجات میں اس کی طرف متوجہ ہوتی ہیں،جس میں یہ دلالت ہے کہ اللہ تعالی اپنی صفات میں کمال کے سبب تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے،اور اس کے کمال قدرت اور تمام مخلوقات کا اس کا محتاج ہونا،اور یہ کہ وہ سب اس کی طرف حاجت پیش کرتے ہیں، اور بوقت حاجت اس کی جانب رجوع کرتے ہیں،انہیں اس سے ایک لمحہ بھی بے نیازی نہیں ۔ اس کے یکتا ، بے نیاز اور کمال ہ میں سے ہی یہ بھی ہے کہ لم يلد ولم يولد؛یعنی اصل اور فرع کی نفی کی گئی ،وہ پاک اور مقدس ہے ان سب سے۔ ﴿ولم يكن له كفوا أحد﴾،یعنی:اس کا کوئی ہمسر نہیں ،اور اس کا کوئی ساجھی نہیں،اور نہ اس لا کوئی ہم نام ہے،اور وہ ہر قسم کے مثال ہمسر اور ہم مثل سے پاک ہے۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (1) مِن شَرِّ مَا خَلَقَ (2) وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (3) وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ (4) وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (5(﴾. ●﴿قل أعوذ برب الفلق الفلق﴾ صبح،یعنی:میں صبح کو پیدا کرنے والے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں،اور اس کا معنی بیج پھاڑنے والا بھی بتایا گیا ہے۔ ﴿من شر ما خلق﴾ یعنی ہر اس مخلوق سے جس میں شر ہے،اور یہ ان تمام مخلوقات سے پناہ چاہنے کو عام جس میں برائیاں پائی جاتی ہیں ۔ ﴿ومن شر غاسق إذا وقب﴾ یعنی رات ، اور اس میں جو بھی کیڑے مکوڑے ،اور جو اس میں شیاطین بکھرے ہوتے ہیں،اور جو اس میں شر اور فتنے حرکت کرتے ہیں۔ ﴿ومن شر النفثت في العقد﴾ یعنی وہ جادو گرنیاں جو گرہوں میں پھونکیں مارتی ہیں، تاکہ وہ جادو کرسکیں اور وہ واقع ہو،اور وہ اللہ عزوجل کے حکم کے بغیر نہیں واقع ہوسکتا ہے۔ اور ان سے اللہ کی پناہ چاہنے میں جادو کی حقیقت اور تاثیر کی دلیل ہے،ان میں سے کچھ قتل کرتے ہیں،اور کچھ بیمار کرتے ہیں،اور اسی میں سے کچھ میاں بیوی کے مابین جدائی پیدا کرنے والے ہیں، اللہ ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے اور ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ ﴿ومن شر حاسد إذا حسد﴾ یعنی ہر حاسد کی شر سے جب ان میں حسد کی آگ لگے،اس میں نظر لگانے والا بھی شامل ہے؟کیونکہ نظر بد بلا حسد ممکن ہی نہیں ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (1) مَلِكِ النَّاسِ (2) إِلَٰهِ النَّاسِ (3) مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ (4) الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ (5) مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (6(﴾. ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (1) مَلِكِ النَّاسِ (2) إِلَٰهِ النَّاسِ﴾،ان میں اللہ سبحانہ و تعالی کی ربوبیت، الوہیت اور ملک کے ذکر کے ذریعہ اللہ کی پناہ چاہی گئی ہے،اور یہ تین نام رب الناس ملک الناس الہ الناس سورہ فاتحہ میں گزر چکے ہیں؛جب وہاں اللہ پر ثناء کے مقام پرآیا،اور کتاب کے اخیر میں اللہ سبحانہ و تعالی سے پناہ حاصل کرنے اور اس سے جڑنے سے متعلق وارد ہے۔ ﴿من شرالوسواس الخناس﴾:یعنی شیطان اس کو یہاں دو وصف کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے: ﴿الوسواس﴾ یعنی جو لوگوں کے دلوں سے وسوسے ڈالتا ہے۔ ﴿الخناس﴾ یعنی جو اللہ کے ذکر کے وقت چھپ کر بھاگ جاتا اور انسان سے دور ہوجاتا ہے۔ اور اس میں اللہ کے ذکر کو لازم پکڑنے پر ابھارا گیا ہے،اور یہ کہ وہ بندے کو شیطان سے حفاظت کیلئے سب سے بہترین ذریعہ ہے۔ ﴿الذي يوسوس في صدور الناس﴾ ، یعنی جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے اور برائیاں اور غلط خیالات ،فاسد عقائد اور برے معانی ڈالتا ہے۔ ﴿من الجنة والناس﴾،یعنی:جس طرح جنوں کی طرف سے وسوسے ہوتے ہیں اسی طرح انسان کی جانب سے بھی ہوتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ایک مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللہ سبحانہ و تعالی کے کلام کے معانی کو سمجھنے کا اہتمام کرے،اور عام افراد کیلئے انہیں؛سورہ فاتحہ اور پھر سورہ زلزلہ سے الناس تک ہی یاد کرلینا ،اسے دہراتے رہنا،اسکے معانی اور دلالت کو سمجھنے کا اہتمام کرنا کافی ہے تاکہ ہر مرتبہ اسکی تلاوت سمجھ کر اور غور سے پڑھیں،اور خطاب کو سمجھ سکیں ۔
[1])) یہ شرح حقیقت میں
مسجد نبوی میں دیئے گئے،سال 1435ھ کے آخری ماہ میں منعقد 12 مجالس پر مشتمل دروس
کا مجموعہ ہے،جس پر میں کچھ تعدیلات اور
اضافے اور تنقیح کیا ہے،اور اللہ تعالی ہی اکیلا توفیق دینے والا ہے۔