امت پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حقوق
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انبیاء کرام اور رسولوں کے بعد سب سے بہتریں لوگ ہیں ،اللہ تعالی نے انہیں اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کیلئے اختیار فرمایا تھا وہ اس امت میں علم و فہم کے اعتبار سے سب سے اونچا مقام رکھتے ہیں ان کے دل سب سے پاک تھی ان کی راہ سب سے سیدھی ہے وہ اللہ کے حدود پر رکنے والے ، اللہ کی طرف رجوع کرنے والے دنیا زندگی میں زاہد آخرت کی خواہش رکھنے والے تھے ، صحابیوہ ہیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کی حالت میں ملاقات کی ہو اور اسی حالت پر وفات بھی ہوئی ہو قرآن پاک اور سنت مطہرہ میں ان کی فضیلت اور قدرو منزلت کا تذکرہ بے شمار جگہوں پر کیا گیا ہے ۔
صحابہ کرام کے اقوال و افعال اور ان کی پوری زندگی قرآن کریم کی تطبیق تھی ہر محاذ پر وہ سنت نبوی کی پیروی کرتے تھے تحریف اور کمی اور زیادتی سے حفاظت کرکے دین کا ہم تک پہونچانے اور اسے پوری دنیا میں پھیلانے ان کی قربانی بے نظیر ہے انہوں نے اپنے تمام تر امکانیات کو اللہ کے رسول کی مدد اور دین کی دفاع میں نچھاور کردیا سخت ترین ایذا رسا میوں کا سامنا ہوا انہوں اس پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا وہ اندھیروں میں چتاغ کی مانند ہیں ہدایت و رہنمائی کے امام ہیں لائق اتباع نمونے ہیں، اللہ تعالی اور رسول الله صلى الله عليه وسلم نے قرآن مجید میں ان کی خوب تعریف کی ہے:
ارشاد بارى تعالى ہے :(وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَداً ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ) [التوبة: 100].
ایكاور مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے :(مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللهِ وَرِضْوَاناً سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْأِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً) [الفتح: 29].
ایكاور مقام پر بهى ارشاد بارى تعالى ہے :(لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحاً قَرِيباً) [الفتح:18].
اور حضرت أبوهريره رضي الله تعالى عنه سے مروي هے كه رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمايا كه:( لا تسبوا أصحابي، لا تسبوا أصحابي، فوالذي نفسي بيدِه! لو أن أحدَكم أنفق مثلَ أحدٍ ذهبًا، ما أدرك مدَّ أحدِهم، ولا نصيفَه) [صحيح مسلم].
اور حضرت أبوبرده رضي الله تعالى عنه سے مروي هے كه رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمايا كه:(النجومُ أمنَةٌ للسماءِ، فإذا ذَهَبَتِ النجومُ أتَى السماءَ ما توعَدُ، وأنا أمنَةٌ لأصحابي، فإذا ذهبْتُ أتى أصحابِي ما يوعدونَ، وأصحابي أمنَةٌ لأمَّتِي، فإذا ذهبَتْ أصحابي أتى أمتي ما يوعدونَ)[صحيح الجامع].ان کے علاوہ دیگر آیات و احادیث میں ان عظیم ہستیوں کے فضائل اور مناقب بیان ہوئے ہیں بہر حال ہم پر صحابہ کرام سے متعلق عظیم حقوق مرتب ہوتے ہیں ، ان کی ادائیگی ہم پر از حد ضروری ہے،اس لئے کہ انہیں کی قربانیوں کی بدولت یہ دین ہم تک بلا مشقت پہونچا ہے ، ہم کتنا بھی ان کی تعظیم کریں ان کے حق کو کما حقہ ادا نہیں کرسکتے ،آئیے مختصر طور پر ہم خود پر ان کے حقوق کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں:
ارشاد بارى تعالى ہے :(وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَداً ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ) [التوبة: 100].
ایكاور مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے :(مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللهِ وَرِضْوَاناً سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْأِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً) [الفتح: 29].
ایكاور مقام پر بهى ارشاد بارى تعالى ہے :(لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحاً قَرِيباً) [الفتح:18].
اور حضرت أبوهريره رضي الله تعالى عنه سے مروي هے كه رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمايا كه:( لا تسبوا أصحابي، لا تسبوا أصحابي، فوالذي نفسي بيدِه! لو أن أحدَكم أنفق مثلَ أحدٍ ذهبًا، ما أدرك مدَّ أحدِهم، ولا نصيفَه) [صحيح مسلم].
اور حضرت أبوبرده رضي الله تعالى عنه سے مروي هے كه رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمايا كه:(النجومُ أمنَةٌ للسماءِ، فإذا ذَهَبَتِ النجومُ أتَى السماءَ ما توعَدُ، وأنا أمنَةٌ لأصحابي، فإذا ذهبْتُ أتى أصحابِي ما يوعدونَ، وأصحابي أمنَةٌ لأمَّتِي، فإذا ذهبَتْ أصحابي أتى أمتي ما يوعدونَ)[صحيح الجامع].ان کے علاوہ دیگر آیات و احادیث میں ان عظیم ہستیوں کے فضائل اور مناقب بیان ہوئے ہیں بہر حال ہم پر صحابہ کرام سے متعلق عظیم حقوق مرتب ہوتے ہیں ، ان کی ادائیگی ہم پر از حد ضروری ہے،اس لئے کہ انہیں کی قربانیوں کی بدولت یہ دین ہم تک بلا مشقت پہونچا ہے ، ہم کتنا بھی ان کی تعظیم کریں ان کے حق کو کما حقہ ادا نہیں کرسکتے ،آئیے مختصر طور پر ہم خود پر ان کے حقوق کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں:
- قرآن کریم و حدیث شریف میں مذکور ان کے فضائل کو قبول کرنا اور ان پر ایمان لانا۔
- بلا کسی کی تمییز کئے ہوئے ان میں سے سب سے محبت کرنا،ان کی عظیم اور توقیر کرنا اور ان کے فضائل کا اعتراف کرنا۔
- بھلائی کے ساتھ ان کا ذکر کرنا ان کے لئے اللہ کی خوشنودی اور مغفرت و رحمت کی دعا کرنا۔
- ان میں سے کسی کو ناپسند نہ کرنا اور براءت نہ ظاہر کرنا،ان کے قدروقیمت میں کمی نہ کرنا۔
- ان پر جھوٹ نہ گڑھنا اور نہ ہی انہیں برا بھلا کہنا اور نہ ہی کرن طعن کرنا ۔
- ان کے درمیان اجتہادی اختلافات اور لڑائیوں پر خاموشی اختیار کرنا۔
- ان کے کسی بھی برائی کا ذکر نہ کرنا۔
- انہیں تکلیف دینے والوں اور برا بھلا کہنے والوں پر رد کرنا اور اگر ایسا کرنے والے اپنی غلطی سے باز آکر توبہ نہ کرے تو ان سے براءت ظاہر کرنا۔
- ان کی عزتوں کا دفاع کرنا۔
- ان کے سلسلے میں حسن ظن رکھنا اور ان کی تابع داری اور اقتداء کرنا ۔
- ان کے سلسلے میں بنائے گئے فلم اور سیریل نہ دیکھنا بلکہ ان کی مخالفت اور ان کا بائیکاٹ کرنا اور ان کے انتشار کا سبب نہ بننا کیونکہ کوئی بھی ان کا کردار ادا نہیں کرسکتا۔