القائمة الرئيسية

الصفحات


دعوت إلی  اللہکے فضائل
ممتازعالم نسىم احمد نورى(قصىم، سعودى عرب)
دعوت الی  اللہ تعالی ایک  جلیل القدر عمل ہے،اس کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند وبالا ہے،یہ عمل اللہ سے قریب کرنے والے اعمال میں سے ایک اہم عمل ہے،ہمارے اسلاف نے اس کی اہمیت اور قدر و منزلت کو جانا اور سمجھا، اس کی خاطر انہوں نے خوب جد و جہد اور سعی و کوشش کی ، وہ اسی سبب اللہ کے فضل و کرم سے سعادت مندہوئے،خلافت زمین کے مستحق قرار پائے، عزت و رفعت نے ان کی قدم بوسی کی،اور رب کریم کی کرم  و عنایت سے انہىں کے سبب مشرق و مغرب میں لوگوں کی ایک عظیم تعداد نے اپنے خالق حقیقی سے جڑ کر خوش نصیبوں میں شمولیت اختیار کی۔
مگر صد افسوس عصر حاضر میں مختلف الأنواع  ذرائع اور امکانیات كى كثرت اورکچھ اجتماعی اور شخصی کاوشوں کے اس میدان میں سرگرم عمل ہونے کے باوجود بھی جس طرح یہ کام ہونا چاہئے اس طرح نہیں ہورہا ہے، ہماری بڑی اکثریت دعوت دین کے سلسلے میں لاپرواہی،کوتاہی اور غفلت کا شکار ہے،جہاں اس کے بہت سے اسباب  و وجوہات ہوسکتے ہیں،وہیں شاید ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ ہم اس عمل عظیم کے فضائل ہی سے آگاہ نہیں، یا آگاہی کے باوجود بھی ہم نے تجاہل عارفانہ کا رویہ اختیار کر رکھا ہے،اسی پس منظر میں خود کو جھنجھوڑنے ،غافل لوگوں کو بیدار اور تجاہل عارفانہ کرنے والوں کو تنبیہ ،بے خبر لوگوں کو آگاہ کرنے اور دعوت إلی اللہ  کے میدان میں کام کرنے والوں کی ہمت افزائی اور تقویت کے ارادے سے اس مشن  کے فضائل پر مشتمل چند سطور مختصر طور پر ملاحظہ ہوں:
قارئىن كرام: کتاب وسنت میں دعوت الی کے مشن سے جڑے ہوئے لوگوں اور ان کے ساتھ کسی بھی طرح کا  تعاون پیش کرنے والے خوش نصیبوں کی کئی اعتبار سے متعدد فضائل بیان کئے گئے ہیں،کہیں اس فريضہ کو انبیاء و رسل علیہم السلام کا مشن(سوره حج:75) قرار دیتے ہوئے اسے إمام الأنبیاء خاتم  النبیین صلی اللہ علیہ وسلم  کی بعثت کا مقصد(سوره سبا:28) قرار دیا گیا ہے،اور یہ بتایا گیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام نے اس فريضہ کو صرف خود سرانجام دینے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ اپنی امت کے لوگوں کو بھی اس عظیم عمل سے وابستگی کا حکم(سوره آل عمران:79) دیا۔اور اللہ تعالی نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو کاروں کا شعار(سوره يوسف:108) قراردیا ہے۔اور یہ فرمایا کہ ان سے بہتر بات(سوره فصلت:33) کسی اور کی ہوہی نہیں سکتی۔اور  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب علم و عمل معلم کو ایسی عمدہ زمین(متفق علىہ) سے تشبیہ دی ہے جو بارش کے پانی سے سیراب ہوکر لوگوں کو فیض یاب کرتی ہیں۔اور حکمت والے معلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قابل رشک(متفق علىہ) قرار دیا ہے۔اسى لئے اللہ کے نىك بندوں سے خصوصی طور پرمتقی لوگوں کا امام بنائے جانے کی خاطر  دعاء کرنا(سوره فرقان:74) وارد ہے تاکہ وہ نیکی کے کاموں میں ان کی پیروی کریں اور انہیں بھی ان کے برابر اجر و ثواب ملتا رہے۔اسى طرحدعوت دين كا مقام و مرتبہ اور قدر و منزلت   درج ذيل متعدد پہلؤوں  سے بهى نماىاں اور اجا  وگر ہوتى ہے:
*دعوت الی اللہ امت محمدیہ پر فرض قرار دیا گیا ہے(سوره آل عمران:104)،تمام امتوں میں امتیاز اور اس كے سب سے بہترین امت ہونے میں ایک اہم سبب دعوت دین ہے(سوره آل عمران:110)،دعوت دین کامیابی کےحصول کی شرط (سوره عصر:1-3)،اور نصرت امت کا سبب  ہے(سوره محمد:7)۔..
* اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اس کو جہاد کا نام دیا ہے(سوره فرقان:52)۔لوگوں کو ڈرانے کی غرض سے دین سیکھنے کیلئے نکلنے کو جہاد فی سبیل اللہ کی خاطر جانے کے مقابل(سوره توبہ:122) ذکر فرمایا ہے۔مسجد نبوی شرىف میں خیر سکھلانے کیلئے آنے والے کا مقام و مرتبہ اللہ تعالی کی راہ میں جہاد(مسندأحمد 8587،16/248) کی خاطر نکلنے والے کی طرح ہے۔
* خیر کی تعلیم دینے کی غرض سے مسجد جانے والے کا اجر  مکمل حج کرنے والے کے ثواب کے برابر ہے(صحىح ترغيب وترہيب1/110)۔
*اللہ تعالی نے نیکی کا حکم دینے والے کو اجر عظیم دینے کا وعدہ فرمایا ہے(سوره نساء:114)۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کیلئے شاداں و فرحاں رہنے اور اس پر رحمت الہی کے نزول(صحىح سنن ابن ماجہ 1/45) کی دعا کی ہے جو آپ کی بات سن کر دوسرے شخص تک پہنچائے ۔دعوت الی اللہ داعی کی جانب سے لوگوں پر صدقہ شمار ہوتا ہے(شرح مسلم از نووى 1/120)۔جس شخص کے ذریعے کوئی دوسرا انسان ہدایت پاجائے اس کا اجر و ثواب انتہائی جلیل القدر ہے(متفق علىہ)۔اللہ اس کے فرشتے آسمانون اور زمینوں کی  مخلوق لوگوں کو خیر کی تعلیم دینے والے پر درود بھیجتے ہیں(صحىح سنن ترمذى 2/343)۔
*دعوت دینے والے کو دعوت کے نتیجے میں عمل کرنے والے کے مثل ثواب ملتا ہے(مسلم)۔داعی کا اجر و ثواب اس کی موت کے ساتھ منقطع نہیں ہوتا،بلکہ جب تک اس کی دعوت پر عمل ہوتا رہے گا،اس ثواب جاری رہے گا(صحىح سنن ابن ماجہ 1/46