إن عدة الشهور عندالله اثناعشر شهر
عن أبي بكرة رضي الله عنه ...
ماہ رجب ہجری سال کا ساتواں مہینہ ہے،رجب ترجیب(تعظیم) سے ماخوذ ہے
جس کا معنی قابل قدر ہونے ہونے کے ہیں ، کیونکہ زمانہ جاہلیت میں بھی اس کی عظمت
کے پیش نظر قتال وغیرہ سے اجتناب کیا جاتا تھا،اس کے کئی ایک نام ہے ،اسے رجب الأصم،منصل الأسنة ، رجب مضر،رجب مرجب،مقيم ،هرم کہا جاتا ہے۔
حرمت والے مہینوں سے متعلق فرمان باری تعالی ہے:فلا تظلموا فيهن أنفسكم.
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :إن الظلم في الأشهر الحرم أعظم خطيئة و وزرا من الظلم فيما سواه وإن
كان الظلم على كل حال عظيما ولكن الله يعظم من أمره ما يشاء .
لہذا مسلمانوں کو ان مہینوں میں خاص طور پر اللہ کی حدود کو لازم
پکڑتے ہوئے ،فرائض اور واجبات کی ادائیگی کرتے ہوئے ،سنت کی پیروی کرتے ہوئے ،ظلم
سے بچ کر ان کی تعظیم کرنی چاہئے۔
ہم نے جانا کہ اس ماہ کی حرمت والے مہینوں میں سے ہونے کے سبب خصوصی
فضائل حاصل ہے مگر کیا اس کے علاوہ اس ماہ کو کسی خاص عبادت یا کسی واقعے کے سبب
خاص کرنے سے متعلق کوئی خصوصیت بھی حاصل ہے؟
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تبيين
العجب بما ورد في شهر رجب میں رقمطراز ہیں کہ اس ماہ
میں کسی خاص یا عام دن میں روزے یا کسی خاص رات میں قیام کے سلسلے میں کوئی صحیح
روایت وارد نہیں ہے۔
اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ شرعی مواسم کے علاوہ بعض
راتوں کو عبادت کیلئے خاص کرنا،سلف کو پسند نہ تھی اور نہ ہی وہ ایسا کیا کرتے
تھے۔
لہذا اگر کوئی ماہ رجب کے سبب روزہ رکھے ،قیام کرے،صدقہ کرے اس لئے
کہ اس میں ان کی فضیلت ہے تو درست نہیں ۔ ہاں حرمت والے مہینوں میں عام عبادات کا
اہتمام کرنا چاہیے۔
خاص طور پر رجب میں روزے رکھنے والوں کو میں ابن عمر اور ابن عباس سے
انہیں زبردستی کھانا کھلانے کا ذکر ملتا ہے۔
کیونکہ اس کی خصوصی تعظیم اور اس میں عبادات کی تخصیص جاہلیت کا رویہ
ہے۔
بدعات رجب:
صلاة الرغائب(پہلی جمعرات کو روزہ رکھ کر مغرب اور عشاء کے مابین
مخصوص کیفیت میں روزہ نماز پڑھ کر دعاء کرنا)۔
کونڈے(22رجب کو ،نہاکر کھانا،اس دن گوشت کھانے والا نہ کھائے،چھپ کر
پردے کے آڑ میں کھانا)۔
دلیل : خواب داستان عجیب نامی منشور،امام جعفر صادق کے نام پر 22 رجب
کو نیاز کریں ان کے ذریعہ حاجت طلب کرنا)
- چودہ سو سال بعد کی ایجاد ہے۔
- وصیت کا انکشاف چودہ سو سال بعد ہی کیوں
ہوا۔
غیر اللہ کے نام کی نذر حرام جعفر صادق کیونکر حکم دیں گے۔
عبادت اللہ لے لئے خاص ہونا چاہئے ورنہ شرک تو کیسے۔۔۔نذر کی وصیت۔
ذرا سوچیں:
22رجب سے امام جعفر صادق کا کیا تعلق ہے،نہ
ولادت نہ وفات، تو پھر کیا
چاشنی والا زہر
اس دن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات
بڑا بھلا کہنے والے روافض کی پس کردہ ۔
یہ کہانی جھوٹی ہے اور قطعا نا قابل اعتماد ہے۔
پندرھویں رجب کو صلاة أم داود.
صلاة الألفية (قضاء عمری)۔
مردوں کی روحوں کی جانب سے صدقہ کرنا۔
قبروں کی خصوصی زیارت۔
مخصوص ایجاد شدہ دعاؤں کا اہتمام.
زيارة رجبیہ ماہ رجب میں مسجد نبوی کی خصوصی زیارت۔
ماہ رجب ہی میں زکاة نکالنے کا اہتمام کرنا۔
عتیرہ(رجبیہ):عیدالاضحی کی طرح خاص
قربانی کرنا۔
اس کے حرام یا مکروہ ہونے میں اختلاف ہے مگر کم سے کم مکروہ کہا جائے
گا (خاص اس ماہ کی قربانی ورنہ اتفاقیہ طور پر اس ماہ میں ذبح کرکے گوشت کھانے میں
کوئی حرج نہیں۔۔إنما الأعمال بالنيات).
رجب کی ستائیسویں رات کو عبادت اور اگلے دن روزہ رکھنا ۔
اس ماہ میں لوگوں کی اس قدر پابندی کا سبب چند اہم
واقعات؛ولادت نبوی(پہلی تاریخ)،بعثت نبوی(27یا 25تاریخ)،اسراء و معراج(تاریخ میں
اختلاف ہے فتح الباری میں ابن حجر نے دس سے زیادہ اقوال نقل کئے ہیں ۔
مان بھی لیں تو عبادات کے تخصیص کی کیا دلیل ہے۔
عبدالحئی لکھنوی(الآثار المرفوعة)صوم صباح تلك الليلة لا أصل له ۔۔۔ ).کے ورود کا عقیدہ ہے جبکہ وہ واقعات اس ماہ میں پیش ہی
نہیں ائے۔
یہ ماہ رمضان کی تیاری کا مہینہ ہے:
ابوبکر بلخی فرماتے ہیں کہ رجب زراعت کا مہینہ ہے ،شعبوں سینچائی اور
رمضان کٹائی کا مہینہ ہے۔(ہوا ،بدلی،برسات)۔
لطائف المعارف۔
اس بارے میں ضعیف روایات:
اللهم بارك لنا في رجب وشعبان و بلغنا رمضان.
نو وی ابن رجب البانی نے ضعیف کہا ہے۔
رجب شهرالله،شعبان شهري،رمضان شهر أمتي بھی ضعیف ہے۔