حديث
نمبر7: توبہ كے وجوب كا بيان
حضرت
اغر بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا(اے لوگو،تم اللہ سے توبہ کرو،میں دن میں سو بار توبہ کرتا ہوں)مسلم
شریف
یہ
حدیث ہر شخص پر توبہ کے واجب ہونے پر دلیل ہے؛کیونکہ یہ امر ہے ، اور امر وجوب کے
لئے ہوتا ہے۔
فرمان
باری تعالی: {وتوبوا إلى الله جميعا أيه المؤمنون لعلكم تفلحون(٣١)}.النور
اور
فرمایا:{وأن استغفروا ربكم ثم توبوا إليه د} هود:٣.
چونکہ
ہر انسان سے گناہ اور اللہ کی اطاعت میں کوتاہی ہوتی ہی ہے،لہذا ہر شخص کو
توبہ کرنی چاہئے،اور یاد رہے کہ توبہ جس طرح گناہ کے کام کرنے کے بعد کرنی چاہئے
اسی طرح بھلائی کے مامور بہ کام کے چھوٹ جانے پر بھی کرنی چاہیے ۔
اور
توبہ فوری طور پر واجب ہے ، اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے،کیونکہ انسان نہیں جانتا
کہ اسے موت کب لاحق ہوجائے ، اور یہ بھی برائی برائی کو کھینچتی ہے جو کہ
برائی پر اصرار ہے اس سے دل سخت ہوتے ہیں اور یہ اللہ سے دوری کے سبب ہوتے ہیں، جس
طرح کہ یہ ایمان کی کمزوری کا باعث بھی ہے کیونکہ یہ فرمانبرداری سے بڑھتا ہے اور
معصیت سے کم ہوتا ہے۔
لہذا
مسلمان کو چاہیے کہ وہ از ماہ کو اللہ سے توبہ کرتے ہوئے، اللہ پر رجوع کرکے
ختم کریں، اور وہ کام کریں جو اللہ کو پسند ہوں، اور اپنے خالق کے دروازے پر عاجزی
و انکساری اور خوف کے ساتھ کھڑے ہوں۔
توبہ
نصوح(سچی توبہ) جس کیلئے اللہ نے حکم فرمایا ہے اس کی پانچ شرطیں درج
ذیل ہیں:
1-اخلاص: بایں طور کہ توبہ کا مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضا مندی
کا حصول ہو،اور گناہ سے توبہ اللہ کی فرماں برداری،اسکی محبت اور اسکی تعظیم
کے خاطر ہو،بندہ اس کے ذریعہ اللہ کی ثواب کا طالب ہو اور اس کے عذاب سے
خائف ہو۔
2-جس برائی میں ملوث تھا اسے ترک کردے،اگر کوئی حرام کام کررہا
تھا تو اس سے فورا باز آجائے،اگر کوئی ایسے واجب کو تک کرتا تھا جس کی قضاء ممکن
ہو؛ جیسے حج اور زکاة وغیرہ تو جلد از جلد اس کی ادائیگی کرے،اگر برائی کسی
انسان کے حق سے متعلق ہو جیسے کسی کا مال ہو تو صاحب مال کی حیات کے حالت
میں اسے اس کے حقدار کو لوٹادے،اگر وفات ہوگئی ہو تو اسے اس کے وارثین تک
پہنچا دیں،اور صاحب مال کی معرفت نی ہو تو اس مال کو اس کی طرف سے صدقہ کردے، اگر
وہ حق غیبت کی صورت میں تھا اور غیبت کئے گئے شخص کو اس کی جانکاری ہو یا اس
کا اندیشہ ہو تو وہ اس سے بری ہوجائے ورنہ ان کے لئے مغفرت کی دعاء کرتے
ہوئے غیبت کے عوض اسکی اسی مجلس میں تعریف کرے کیونکہ نیکیاں برائیوں کو ختم
کردیتی ہیں ۔
[٩/١ ٢:٥٨ م] أبوعبدالله(دعوة صبيح): 3-توبہ کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ
توبہ کرنے والا اس برائی کے کام پر شرمندہ ہو،اور یہ خواہش کرے کہ کاش اس نے یہ
گناہ انجام ہی نہ دیا ہوتا،تاکہ اس کے سبب اسے اللہ کے سامنے تذلل و خاکساری حاصل
ہو۔
4-توبہ کرنے والا یہ عزم کرے کہ وہ کبھی بھی اس گناہ کی جانب
نہیں لوٹے گا، یہی توبہ کا اصل ثمرہ بھی ، صاحب توبہ کے سچا ہونے کی دلیل
بھی ہے۔
5-توبہ اس کے متعین شدہ وقت میں ہو اگر توبہ وقت کے ختم ہونے کے
بعد ہو تو قبول نہ ہو گی،اس کی دلیل حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے
جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے سورج کے مغرب سے طلوع
ہونے سے قبل توبہ کرلی اس کی توبہ اللہ قبول کرتا ہے ، اور حضرت عبداللہ ابن عمر
رضی اللہ ربی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالی
بندے کے توبہ کو اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک کہ غرغرے کی حالت نہ ہو۔یعنی بندے
کی روح حال تک نہ پہنچ جائے، اور وہ اس طرح ہوجائے جیسے مریض کسی چیز سے غرارہ
کرتا ہے۔ و اللہ اعلم
اے
ہمارے رب جسے گنہگار کے گناہ سے نقصان نہیں ہوتا ، اور نہ ہی فرمانبرداری سے کوئی
فائدہ ہوتا ہے، ہمیں توبہ اور اپنے جانب رجوع کی توفیق عطا کر، اے ہمارے کارساز تو
ہمیں خواب غفلت سے بیدار کر اور ہمیں مہلت کے اوقات سے استفادہ کی توفیق دے
، اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے بنا جنھوں نے تجھ پر بھروسہ کیا اور تو ان کیلئے
کا فی ہوگیا، اور جنھوں نے تجھ ہدایت طلب کی اور تونے انہیں ہدایت عطا کی، تجھ سے
مدد طلب کی اور تونے ان کی مدد فرمائیں تجھ گڑگڑائے اور تونے ان پر رحم کیا، اور
اے اللہ تو ہمیں ہمارے والدین اور تمام مسلمانوں کو بخش دے۔