حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا: ( رسول اللہ صلی اللہ نے غلام آزاد مرد عورت چھوٹے بڑے تمام
مسلمانوں پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو بطور زکاة فطر فرض قرار دیا ہے اور یہ
حکم فرمایا ہے کہ لوگوں کے نماز عید کے لئے نکلنے سے پہلے ہی اس کی ادائیگی کردی
جائے(متفق علیہ
یہ
حدیث چھوٹے بڑے مرد عورت آزاد غلام تمام مسلمانوں پر زکاة فطر کے واجب ہونے کی
دلیل ہے ، جس کا مقصد روزے دار کے روزے کو خراب کرنے اور اور اس کے ثواب میں کمی
کا سبب بننے والے امور سے پاک کرنا اور فرح و سرور کے دن مسکینوں کو کھانا فراہم
کرنا ہے، اور اس عمل میں کرم اور مساوات کی صفت سے متصف ہونا پایا جاتا ہے، اس کے
ذریعہ اللہ کی نعمتوں پر شکر کا اظہار بھی ہوتا ہے ، کہ اس نے ہمیں روزے اور
قیام اور دیگر نیک اعمال کی حسب استطاعت توفیق دی۔
اور
زکاة فطر كی مقدار:کھانے(گیہوں ، جو، کھجور، کشمکش ، پنیر یا اس جیسی چیز جسے لوگ
بطور کھانا استعمال کرتے ہوں جیسے چاول ان میں سے ایک صاع،اور صاع کی مقدار
سوا دو کلو ہے۔
اور
وہ اسے اسی شہر میں نکالے گا جہاں اس کے رمضان کے دن پورے ہوں وہیں وہ عید
سے قبل نکالے،بہتر تو یہی ہے مگر اس کا عید سے ایک دو دن پہلے نکالنا بھی جائز ہے
کیونکہ بعض صحابہ سے ایسا کرنا ثابت ہے۔
امام
ابوداود فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد سے نماز سے قبل ادائیگی زکاةسے متعلق
دریافت کرتے ہوئے سنا ؟انہوں نے کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما عید کے ایک یا فو
پہلے نکالا کرتے تھے اور حدیث کے راوی بھی وہی ہیں۔
اور اگر عید سے متعلق پتہ ہی نماز کے بعد چلے،یا صدقہ نکالتے
وقت شہر سے باہر رہے یا ایسے شہر میں رہے جس میں کوئی مستحق نہ ہو تو ایسے شخص کا
نماز کے بعد نکالنا بھی کافی ہوگا۔
کھانے
کے بدلے قیمت کا نکالنا ایک قول کے مطابق جائز نہیں کیونکہ یہ منصوص کے خلاف ہے۔
امام
ابو داود فرماتے ہیں کہ:امام احمد سے کہا گیا اور میں سن رہا تھا کہ درہم دے سکتا
ہے؟ تو انھوں نے فرمایا: مجھے خوف ہے کہ وہ قبول نہ کیا جائے کیونکہ
وہ خلاف سنت ہے۔
انسان
اسے اپنی طرف سے اور ان لوگوں کی طرف سے نکالے جن کے اخراجات اس پر
لازم ہیں جیسے اس کی بیوی اور اس کے اولاد اگر وہ اپنی طرف سے نکالنے کی استطاعت
نہ پائیں تو ، اگر انہیں استطاعت ہو تو خود نکالیں کیونکہ وہی اس کے مخاطب ہیں
جیساکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں گذر چکا ہے۔
اور پیٹ میں موجود جنین پر اگر چار مہینے مکمل ہوگئے ہوں تو اس
کی طرف سے بھی نکالنا مسنون ہے۔
انسان
کو چاہئے کہ وہ اس کے لینے والے کے مستحق ہونے کی تاکید کرلے اس لئے کہ بعض لوگ
کسی مقصد کے سبب اپنے گھر والوں یا مخصوص لوگوں کو زکاة دینے کی عادت بنا لیتے ہیں
، جو کہ جائز نہیں ہے،کیونکہ زکاة اللہ کا حق ہے ، اس میں اپنی منمانی درست نہیں،
اور ہو سکتا ہے کہ اس شخص کی حالت بدل گئی ہو اور وہ صدقے کا مستحق ہی نہ ہو۔
فقیر
کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنا
کسی اور سے صدقہ فطر لے اور اسے وزن کرکے اپنے یا گھر کے
کسی فرد کی طرف سے صدقہ نکالے ۔
انسان
کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ زکاة میں ردی چیز نکالے ؛ کیونکہ اللہ پاک ہے اور
پاکیزہ چیز ہی کو پسند کرتا ہے، فرمان باری تعالی ہے:{يا أيها الذين آمنوا أنفقوا
من طيبت ما كسبتم ومما أجرجنا لكم من الأرض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون ولستم
بآخذيه إلا أن تغمضوا فيه واعلموا أن الله غني حميد(٢٦٧)}البقرة والله أعلم.
اے اللہ ہمارے نفوس کو تقوی عطاکر ، اور اسے پاک کردے تو ہی سن
سے بہتر پاک کرنے والا ہے ، اے اللہ تو ہی ہمارے نفس کا کار ساز اور مالک ہے،اے
اللہ تو تمام معاملات میں ہمارے انجام کو بہتر کردے ، اے اللہ تو ہمیں دنیا کی ذلت
اور اجرت کے عذاب سے محفوظ رکھ، اے اللہ ہماری ہمارے والدین اور تمام مسلمانوں کو
بخشش عطا کر ۔