یہ حدیث اس عظیم بدلے اور ہمیشگی والی نعمت پر دلیل ہے جسے اللہ تعالی نے اپنے نیک بندوں کیلئے بطور رحمت اور ان کے نیکیوں کے بدلے تیار کر رکھی ہے،جس کے خوبی اور مقدار کو اللہ تعالی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے۔
●ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:پس غور کریں کہ اللہ تعالی نے ان کے چھپ کر رات کو نماز پڑھنے کے سبب ان کے کیلئے کیسا بدلہ چھپا رکھی ہے،جسے کوئی بھی نہیں جانتا!اللہ نے قیام کے وقت بستر میں ان کے قلق و اضطراب کے بدلے جنت میں ان کے آنکھوں کی ٹھنڈک کا طرح تیار کر رکھی ہے۔
جنت کی صفت،اسکی نعمتوں اور جنتیوں کے بیان کے سلسلے میں بہت سی آیات اور احادیث وارد ہیں۔
فرمان باری تعالی ہے:وفيها ما تشتهيه الأنفس وتلذ الأعين وأنتم فيها خالدون٧١ الزخرف
اور ایک جگہ ارشاد باری تعالی ہے:وبشر الذين ءامنوا وعملوا الصالحات أن لهم جنت تجري من تحتها الأنهر كلما رزقوا منها من ثمرة رزقا قالوا هذالذي
جہنم اور جہنمیون کی چند صفات(اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے)هم فيها أزواج مطهرة وهم فيها خالدون٢٥البقرة
اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے گروہ کی صورتیں چودہویں رات کے چاند کے مانند چمکدار ہوں گے۔وہ اس میں نہ تھوکین گے اور نہ ہی ان کی ناک سے گندگی نکلے گی،اور نہ ہی انہیں قضاء حاجت کی ضرورت ہوگی،اس میں انکے برتن سونے کے ہوں گے ، انکی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی ان کی دھونی
عود کی ہوگی،ان کا پسینہ مسک ہوگا،ان میں سے ہرایک کی دو بیویاں ہوں گی جن کے پنڈلیون کی گڈی خوبصورتی کے سبب گوشت کے اوپر سے ظاہر ہورہے ہوںگے ۔
ان کے درمیان اختلاف اور دشمنی نہ ہوگی،ان کا دل ایک آدمی کے دل کے مانند ہوگا،وہ صبح و شام اللہ کی ہاکی بیان کریں گے۔
جنت میں سب سے بڑی نعمت دیدار الہی ہوگی،حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ نے چودہویں کی چاند کے سمت دیکھ کر فرمایا:بے شک تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو بامشقت دیکھ رہے ہو۔لہذا اگر ہوسکے تو طلوع اور غروب شمس سے پہلے نماز سے سستی نہ برتنا۔پھر انہوں نے وسلم وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس و قبل غروبها طه ١٣٠ کی تلاوت فرمائی۔
بے شک جنت کی نعمتوں کو بیان کرنا مشکل ہے،اس تصور عقل سے پرے ہے،اس کی خاطر لوگوں کو کوشش کرنی چاہئے اور ایک دوسرے سے سبقت کرنی چاہیے یہی اس امت کے پہلے لوگوں کا حال تھا،پھر ان کے بعد جو لوگ آئے انھوں نے اس طریقہ کار کو الٹ دیا،اور وہ دنیا اور اسکے سامان ہو اکٹھا کرنے میں مشغول ہوگئے۔
حسن فرماتے ہیں کہ جب تم لوگوں کو بھلائی کے سلسلے میں دیکھو تو ان سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اور جب انہیں ہلاکت کی طرف دیکھو تو انہیں اور ان کے اختیار کو ترک کردو
لہذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے پاس موجود اس عظیم نعمت کو حاصل کرنے کی کاوش کرے اور زندگی بھر نیک اعمال کے تئیں تگ ودو کرتے ہوئے اہل جنت کے ان اوصاف پر پورا اترنے کی کوشش میں لگا رہے جنہیں اللہ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی وضاحت گرمائی ہے؛اللہ اور ہر اس چیز پر ایمان لانا جس پر ایمان واجب ہے تقوی اور استقامت کو لازم پکڑنااور نفلی عبادات پر حرص رکھنا اور اچھے اخلاق؛احسان عفو غصہ کو پی جانا برائی سے دوری جھوٹ کی مجلسون سے دوری حرام چیزوں سے شرمگاہ کئ حفاظت وغیرہ کو اپنانا و اللہ اعلم ۔
اے سب سے زیادہ کرم کرنے والے ،اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے ہم تجھ سے تیری جنتون میں ہمیشگی کا سوال کرتے ہیں، اور یہ کہ تو ہم سے راضی ہو جا، اور ہمیں اپنے کرم والے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت نصیب فرما اور اے اللہ تو ہمیں ہمارے والدین اور تمام مسلمانوں کو بخشش عطا کر۔
●ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:پس غور کریں کہ اللہ تعالی نے ان کے چھپ کر رات کو نماز پڑھنے کے سبب ان کے کیلئے کیسا بدلہ چھپا رکھی ہے،جسے کوئی بھی نہیں جانتا!اللہ نے قیام کے وقت بستر میں ان کے قلق و اضطراب کے بدلے جنت میں ان کے آنکھوں کی ٹھنڈک کا طرح تیار کر رکھی ہے۔
جنت کی صفت،اسکی نعمتوں اور جنتیوں کے بیان کے سلسلے میں بہت سی آیات اور احادیث وارد ہیں۔
فرمان باری تعالی ہے:وفيها ما تشتهيه الأنفس وتلذ الأعين وأنتم فيها خالدون٧١ الزخرف
اور ایک جگہ ارشاد باری تعالی ہے:وبشر الذين ءامنوا وعملوا الصالحات أن لهم جنت تجري من تحتها الأنهر كلما رزقوا منها من ثمرة رزقا قالوا هذالذي
جہنم اور جہنمیون کی چند صفات(اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے)هم فيها أزواج مطهرة وهم فيها خالدون٢٥البقرة
اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے گروہ کی صورتیں چودہویں رات کے چاند کے مانند چمکدار ہوں گے۔وہ اس میں نہ تھوکین گے اور نہ ہی ان کی ناک سے گندگی نکلے گی،اور نہ ہی انہیں قضاء حاجت کی ضرورت ہوگی،اس میں انکے برتن سونے کے ہوں گے ، انکی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی ان کی دھونی
عود کی ہوگی،ان کا پسینہ مسک ہوگا،ان میں سے ہرایک کی دو بیویاں ہوں گی جن کے پنڈلیون کی گڈی خوبصورتی کے سبب گوشت کے اوپر سے ظاہر ہورہے ہوںگے ۔
ان کے درمیان اختلاف اور دشمنی نہ ہوگی،ان کا دل ایک آدمی کے دل کے مانند ہوگا،وہ صبح و شام اللہ کی ہاکی بیان کریں گے۔
جنت میں سب سے بڑی نعمت دیدار الہی ہوگی،حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ نے چودہویں کی چاند کے سمت دیکھ کر فرمایا:بے شک تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو بامشقت دیکھ رہے ہو۔لہذا اگر ہوسکے تو طلوع اور غروب شمس سے پہلے نماز سے سستی نہ برتنا۔پھر انہوں نے وسلم وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس و قبل غروبها طه ١٣٠ کی تلاوت فرمائی۔
بے شک جنت کی نعمتوں کو بیان کرنا مشکل ہے،اس تصور عقل سے پرے ہے،اس کی خاطر لوگوں کو کوشش کرنی چاہئے اور ایک دوسرے سے سبقت کرنی چاہیے یہی اس امت کے پہلے لوگوں کا حال تھا،پھر ان کے بعد جو لوگ آئے انھوں نے اس طریقہ کار کو الٹ دیا،اور وہ دنیا اور اسکے سامان ہو اکٹھا کرنے میں مشغول ہوگئے۔
حسن فرماتے ہیں کہ جب تم لوگوں کو بھلائی کے سلسلے میں دیکھو تو ان سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اور جب انہیں ہلاکت کی طرف دیکھو تو انہیں اور ان کے اختیار کو ترک کردو
لہذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے پاس موجود اس عظیم نعمت کو حاصل کرنے کی کاوش کرے اور زندگی بھر نیک اعمال کے تئیں تگ ودو کرتے ہوئے اہل جنت کے ان اوصاف پر پورا اترنے کی کوشش میں لگا رہے جنہیں اللہ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی وضاحت گرمائی ہے؛اللہ اور ہر اس چیز پر ایمان لانا جس پر ایمان واجب ہے تقوی اور استقامت کو لازم پکڑنااور نفلی عبادات پر حرص رکھنا اور اچھے اخلاق؛احسان عفو غصہ کو پی جانا برائی سے دوری جھوٹ کی مجلسون سے دوری حرام چیزوں سے شرمگاہ کئ حفاظت وغیرہ کو اپنانا و اللہ اعلم ۔
اے سب سے زیادہ کرم کرنے والے ،اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے ہم تجھ سے تیری جنتون میں ہمیشگی کا سوال کرتے ہیں، اور یہ کہ تو ہم سے راضی ہو جا، اور ہمیں اپنے کرم والے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت نصیب فرما اور اے اللہ تو ہمیں ہمارے والدین اور تمام مسلمانوں کو بخشش عطا کر۔