القائمة الرئيسية

الصفحات

جہنم اور جہنمیون کی چند صفات

حدیث نمبر 6: جہنم اور جہنمیون کی چند صفات(اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:تمہاری یہ آگ جسے انسان جلاتا ہے جہنم کی گرمی کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے، انہوں نے عرض کیا اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہی کافی تھی!نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:پس اسے 69 گنا بڑھا کر رکھا گیا ہے ہر ایک کی تپش اس کے برابر ہے۔متفق علیہ
یہ حدیث جہنم کے آگ کی گرمی کے شدت پر دلالت کررہی ہے،اور یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کی آگ اس قدر شدت کے باوجود بھی جہنم کی تپش کے مقابلے میں معمولی حصہ ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:(وأصحاب الشمال ما اصحاب الشمال(٤١)في سموم وحميم(٤٢) و ظل من يحموم (٤٣)لا بارد ولا كريم(٤٤) الواقعة
اور فرمان باری تعالی ہے:(واما من خفت موازينه(٨)فامه هاوية(٩)وما أدراك ماهيه(١٠)نار حامية(١١)القارعة.
اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:((میں نے جہنم میں جھونکا تو اس میں مجھے زیادہ تر عورتیں نظر آئیں))
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(بے شک اللہ نے اپنے اس شخص کے سلسلے میں عہد کرلیا ہے کہ جو نشہ خوری کرے گا اسے طینة الخبال میں سے پلائے،لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم طینة الخبال  کیا ہے تو آپ نے فرمایا:(جہنمیون کا پسینہ ))،یا ((جہنمیون کے بدن سے نکلنے والی چیزیں))
بے شک اللہ تعالی نے ہمیں اپنی کتاب میں جہنم سے ڈرایا ہے،اور اس نے ہم پر رحمت کا معاملہ کرتے ہوئے ہمیں اس کے عذاب کی مختلف قسموں سے باخبر کیا ہے،تاکہ ہم اس سے مزید خوف  کھائیں اور اس سے ڈرتے رہیں، اور ہم جہنمیون کے تمام صفات سے دوری اختیار کریں ۔
لہذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ جہنم سے؛ جو کہ ہلاکت اور تنگی کا گھر ہے ، بدبختی اور سخت عذاب کا ٹھکانہ ہے،اللہ کی اشاعت،اس کے احکام کی فرمانبرداری اور منہیات کے اجتناب کے ذریعہ سے بچیں۔اور جہنمیون کے کاموں اور ان کی صفات جیسے اللہ کے ساتھ شرک و کفر کرنا رسولو ں  کی تکذیب اللہ لی نشانیوں کا مذاق اڑانا قتل کرنا سود کھانے نماز چھوڑنے زکاة نہ دینے رمضان میں بلاعذر جان بوجھ کر روزے نہ رکھنا  سے دور رہیں، اور برے اخلاق؛جھوٹ،خیانت، ظلم،والدین کی نافرمانی، رشتہ ناطہ توڑنے اور  کتاب و سنت کے نصوص سے ثابت شدہ دیگر گناہ ست بچنا۔
اس حدیث میں جو ہمارے سامنے ہے اسی میں اس بارے میں بھی دلیل ہے کہ دنیا کی آگ کو دیکھ کر ہمیں جہنم کی آگ کو یاد کرنا چاہئے جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے:((نحن جعلناها تذكرة ومتاعا للمقوين(٧٣)الواقعة
یعنی مسافروں کیلئے  اور کہا گیا ہے کہ مسافر اور مقیم دونوں میں سے فائدہ اٹھانے والوں کیلئے کیونکہ ہر کسی کا کھانا آگ ہی پر پکتا ہے۔و اللہ اعلم
اے اللہ ہمیں جہنم سے نجات عطا کر اور ہمیں رسوائی اور ہلاکت والے گھر سے اپنی پناہ میں رکھ،اور اے اللہ تو ہمیں اپنی رحمت سے نیک کاروں کے گھر میں داخل فرما،اور اے اللہ تو ہمیں ہمارے والدین اور تمام مسلمانوں کو بخش دے۔