عـــــــــــــــــــادت
سريه
نقصانات،حکم
اور أسباب و علاج
ممتاز
عالم نسيم أحمد نورى(قصيم,سعودى عرب)
جب
نو جوان اس قبیح عادت کا شکار ہوتے ہیں تو وہ اس عادت کو معمولی سمجھتے ہیں انھیں
احساس تک نہیں ہوتا کہ اس وجہ سے انکی آئندہ زندگی میں کتنے مصائب اور مشکلات
درپیش ہوں گے,یہ اس قدر مضر ہے کہ اس کا اثر زندگی کے آخری سانس تک انسان کو
کریدتا رہتا ہے ,وہ کبھی بھی کامیابی کی اڑان نہیں بھر سکتا!ایسا شخص رشتہ ازدواج
میں منسلک ہونے کے بعد بھی اس خبیث عادت کے ترک کرنے کی قدرت نہیں جٹا پاتا,اپنے
آپ کو کمزور اور ناکارہ محسوس کرتا ہے،بیوی کے ہوتے ہوئے بھی اسے اس سے لطف اندوزی
کی خواہش نہیں ہوتى,اس کے ذہن و دماغ میں بس اسی قبیح عادت کی فکر ہوتی ہے،خود
اعتمادی ناپید ہوکر رہ جاتی ہے,غرضیکہ یہ ایک خبیث اور مہلک مرض ہے جس کا نتیجہ
صرف اور صرف انسان کی بربادی ہی ہے!!!
لہذا
ہم نوجوانوں کو اس سے خبردار کرتے ہوئے
کہتے ہیں کہ اس پر تسلسل کے باعث اللہ تعالی کی حرام کردہ امر کے ارتکاب کے
ساتھ ساتھ مختلف بڑی جسمانی اور نفسانی
پریشانیاں لاحق ہوتی ہیں!
عادت
سر یہ:
اسے
استمناء کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،جو اعضاء تناسل کے ساتھ شہوت کی ادراک کے
غرض سے چھیڑ چھاڑ کو کہتے ہیں. چونکہ عادت سریہ حقیقت میں غیر موجود شئے کے تصور
یعنی خیالی پلاؤ کا نتیجہ ہوتا ہے اس لئے اس کے خطورت کو سمجھنا بالکل آسان
ہے،باین طور کہ اس طریقہ پر عمل سے فطری طریقے کے مطابق شہوت کی تکمیل نہیں ہوپاتی
جس سے خون کے دوران کا متاثر ہونا لازم آتا ہے جو کہ پورے جسم اور خصوصی طور پر عضو
تناسل کے لئے بہت ہی مضر ہوتا ہے،سرعت قذف اور عدم انتصاب کی بیماریاں بھی لاحق ہو
سکتی ہے اور پھر نوجوان مجبور ہوکر طرح طرح کی علاج کیلئے یہاں وہاں بھاگا پھرتا ہے!
نقصانات:
یہ عادت کے متعدد جسمانی ،نفسیاتی،معاشرتی اور دینی
نقصانات پریشانیوں کا سبب ہوتی ہے،جیسے؛
· گناہ اور شرمندگی کا احساس،حقارت اور گندگی
کا شعور.
· جلد بازی
· نفسیاتی پریشانی اور وسوسے
· تنہائی پسندی اور دوسروں پر شک.
· طویل مدت جنسی برودت،شادی کے بعد جنسی تعلقات
میں عدم دلچسپی.
· غیرت زندہ دلی اور رونق کا اختتام
· کان اور آنکھ پر اثر انداز ہونا.
· نفسیاتی اور جسمانی قوت کی کمی.
· خون کی کمی اور چہرے کا پیلاپن.
· بھوک کا خاتمہ
· ذہنی کمزوری
· دبلاپن اور رگوں کا ڈھیلاہونا.
· پیشاب میں جلن.
· پیشاب کےسا تھ دھات کا نکلنا.
· بروستات میں اکرن اور اس کا بڑا ہونا.
· بروستات میں طویل مدتی التہاب
· طبیعی جنسی عمل کے وقت جل انزال ہونا.
· پیشاب کی نالی کا زیادہ حساس ہونا.
حکم:اس
عادت کی حرمت پر نقلی اور عقلی دلائل:
نقلی
دلیلیں:
قرآنی
دلیل:ارشاد باری تعالی ہے:(والذين
لفروجهم حافظون*إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين)
سوره
مؤمنون5-6
ارشاد
بارى:(وليستعفف الذين لا يجدون نكاحا حتى يغنيهم
الله من فضله)سوره نور33
اس
آیت میں اللہ کا حکم ہے کہ جو نکاح کی طاقت نہ پائے وہ پاکدامنی اختیار کرے اور صبر
سے کام لے یہاں تک کہ اللہ تعالی اسے اپنے فضل سے بے نیاز کردے.
اسی
طرح فرمان باری تعالی ہے:(قل للمؤمنين يغضوا من
أبصارهم ويحفظوا فروجهم ذلك أزكى لهم إن الله بخير بما يصنعون)سوره
نور :30
اس
آیت میں اللہ تعالی نے شرمگاہ کی حفاظت اور اس کے عدم حفاظت کی طرف اکسانے والی چیزوں سے احتراز کرنا،جیسے کہ نگاہوں کا اللہ کی حرام
کردہ چیزوں سے دور رکھنا وغیرہ
سنت
سے دلیل:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہاتھ سے نکاح
کرنے والے شخص پر لعنت وارد ہے جو کہ اس عادت میں ملوث کیلئے رحمت الہی سے دوری کا
موجب ہے.
جمہور
علماء کاقول:مجموع فتاوی میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے استمناء کے حکم کے بارے میں
سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ہاتھ سے منی نکالنا جمہور علماء کے نزدیک حرام
ہے اور دو قول مین سے سب سے صحیح ہے.
عقلی
دلیلیں:استمناء فطرت کے مخالف ہے اور اس کا کرنا غیر
مالوف امر ہے،اس لئے کہ اللہ تعالی نے جسم میں جہاز تناسلی کو ایک اہم امر ؛بيوى شوهر
كے مابین مشروع ملاپ کے ذریعہ نسل انسانی کے بقاء کی غرض سے بنایا ہے.
کوئی
بھی صاحب عقل ذرا بھی غور کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ یہ قبیح عادت جانور بھی نہیں اپناتے
چہ جائیکہ اشرف المخلوقات اس میں مبتلا ہوں.
اگر
کوئی کہے کہ یہ عادت نوجوانوں کیلئے اس پر فتن دور میں آسانی کا سبب ہے دو پریشانیوں
میں سے کم درجہ پریشانی ہے،ان سے کہا جا ئے گا کہ أخف
الضررين كا
یہ قاعدہ اس وقت درست ہوگا جب کوئی شرعی حل موجود ہی نہ ہو.
اس
کے اسباب:
ایمان
و یقین کی کمزوری ذاتی رقابت کا فقدان اور مقام احسان سے غفلت .
خاندانی
اور مدرسی تربیت میں کمزوری.
واقعی
اور افتراضی و دیگر صحبت کا فساد.
جنسی
ہیجان؛بایں طور کہ انسان اپنے نفس پر کنٹرول کھو بیٹھے اور اس ہیجان کا سبب کئی چیزیں
ہو سکتی ہین،جیسے:
فحش
مناظر کا مشاہدہ حالانکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ نظر محرم شیطان کے تیروں میں سے ہے.
اخلاق
سے گرے ہوئے ایسے چینلز کا مشاہدہ جس کا مقصد صرف اور صرف نسل نو کو برائی کے دلدل
میں ڈھکیلنا ہے.
موسیقی،ناچ
،گانےاور اس جیسی فضول مجالس اور محفلوں میں شرکت.
فون
یا انٹرنیٹ کے ذریعہ شہوت کو بھڑکانے والی باتیں کرنا.
پیٹ
کے بل سونا.
شہوت
کی فکر میں رہنا؛اور یہ ایک اہم نقطہ ہے کیونکہ اکثر نوجوانوں کے پاس شیطان آکر غلط
چیزوں کے بارے میں سوچنے کو مزین کرتا ہے جو پریشانی کا سبب بن جاتا ہے.
خالی
وقت میں جنسی امور کے بارے میں سوچنا.
بدگمانی؛باین
طور کہ عادت سر یہ کے مرتکب لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ایسا کرنے سے اپنی خواہش پوری کرتے
ہیں جبکہ تسلسل کے ساتھ یہ ایک مہلک بیماری کی شکل لے لیتی ہے،اس لئے کہ وہ چند سیکنڈ
لطف اندوز ہوتا ہے پھر نئے سرے سے پریشان ہوتا ہے جس کی وجہ سے اکثر لوگ متعدد مرتبہ
اس قبیح عادت کو انجام دیتے ہیں جو کہ خودکشی کے مترادف ہے.
اس
پریشانی کے حل کی خاطر رباعی پروگرام:
بدنی
طاقت:ایسے نشانات اختیار کرنا جو جسم کی صحیح نشونما
اور مضبوطی پ ہونچانے میں معاون ہوں .
ذہنی
طاقت:ایسے دماغی نشاط اختیار کرنا جن سے ذہنی حاجات
کی تکمیل ہو.
روحانی
طاقت:کثرت عبادت اور ذکر میں مصروف ہونا تاکہ فضول
سوچ کے لئے وقت ہی نہ مل سکے.
نفسیاتی
طاقت:عقلی قناعت اور ایسے بدیل مہیا کرنا خو عاطفی نفسی ہیجان
پر کنٹرول رکھ سکے.
اس
عادت پر کنٹرول کے لئےروزانہ عادات کی ایک
مثال:
اپنے
دن کی شروعات اللہ کے نام سے کریں .
اس
عادت کی طرف ابھارنے والی چیزوں سے دور رہیں کیوں کہ ان کی موجودگی میں کامیابی مشکل
ہوگی.
خالی اوقات کو پر کرنے،اس طرف لے جانیوالی اشیاء
کے مقابلہ،تنہائی کو اچھے اعمال میں صرف کرنے کی خاطر روزانہ محنت کرنا.
کچھ
وقت اللہ کی طرف توجہ اور توفیق و مدد کی طلب میں مشغول ہونا،اور اس بات پر یقین رکھنا
کہ اگر ہماری نیت درست ہوگی تو اللہ ضرور توفیق عطا کرے گا.
اللہ
تعالی سے صلہ کو اس عادت سے نجات کے مشن میں رکن اساسی تصور کرنا اور اپنی شخصیت،نفس
اور زندگی کے لئے سب سے بڑی شئی تصور کرنا.
اگر
اس سے پہلے توبہ کے بعد پھر سے گناہ سرزد ہوا ہے تو اس بار اللہ کے سامنے قوت عزیمت
اور مضبوط خطہ حیات کو ثابت کریں تاکہ اللہ ان میں برکت عطا کرے.
ماثور دعاوں کی پابندی کے ساتھ ساتھ اپنی زبان اپنے لہجے اور اپنی تعبیرات سے اللہ تعالی
سے سرگوشی کریں اپنے مشکلات کو رب دوجہان کے
حضور پیش کرتے ہوئے اس سے اپنی حاجت طلب کریں.
ہر کامیاب دن کے بدلے ایک متعین مالی رقم بطور انعام
خود کو دین اور انھیں بڑے انعام کی خاطر ذخیرہ کریں.
اس
فعل سے مرحلہ وار چھٹکارا کے طور پر پہلے تیس دن متعین کریں پھر بعد میں سو دن تک بڑھائیں
اور ہر مرحلہ میں کامیابی پر خود کو خصوصی انعام سے نوازین .
یومیہ
انعام کے باعث جب مال کی مقدار زیادہ ہوجائے
تو ڈھائی سو دن کے مدت کیلئے خود کو بڑا انعام دین.
پھر
اس عادت کے ارتکاب پر ایک سالہ مدت کے گذرنےکی خوشی میں خود کو بہتر مکافاہ دیں.
پھر
ہر سال کے گذارنے پر خود کو بدلہ دیں .
مال
کو جمع کرنے کیلئے خصوصی صندوق رکھیں پھر اسے کسی خاص جگہ(بینک اکاونٹ) رکھین،مکافاہ
کے وقت مال نکال کر اس مادی بدلے اور بفضل خدا
لطف اندوز ہوں.
مال
کو بینک میں جمع کرنے سے پہلے مال اپنے سامنے رکھ کر اپنے کامیابی کی علامتوں کا معاینہ
کریں،اور اللہ کا شکر ادا کریں .
اگر
تمام تعلیمات پر عمل کے باوجود اپنے اس مشن میں ناکام ہوجائیں تو جمع شدہ مال کو کسی
نفع بخش رفاہی ادارے کو بطور عطیہ دیدیں اور پھر ان تعلیمات پر از سر نو عمل کریں.
اس قبیح عادت کی طرف ابھارنے اور بھڑکانے والی چیزوں
سے دوری.
اللہ
کی طرف متوجہ ہوکر پہلے کی طرھ یا اس سے زیادہ اللہ کی مدد کا سوال کرنا.
اپنے
خطے کا مراجعہ کریں تاکہ کمزوری والے پوائنٹ کے دراسہ کے بعد اس مرتبہ اس کی تلافی
ممکن ہو.
اپنے
مالی بدلے کی مقدار متعین کریں.
ہر
دن اپنے آپ کو مکافاہ پیش کرتے ہوئے سو دن کیلئے ٹارگٹ بنائیں.(راجع)
سو
دن کے مکمل ہونے پر خود کو مکافاہ دیں.
اگر
ناکام ہوجائیں تو اس مال کو صدقہ کردیں جبکہ کامیابی کی صورت میں ڈھائی سو دنوں کا
ٹارگٹ بنا و.
پھر
اپنے آپ کو بدلہ دیں اور سال مکمل کریں.
ہر
کامیاب سال پر خود کو انعام سے نوازیں.
اس
طرح آپ کامیاب ہوں گے اور خود کو تمام طرح سے بہتر اور کامیاب تصور کریں گے.
مجھے
امید ہیکہ اس سبق سے استفادہ کیا جائیگا.
تنگ
ازار پہننے سے پرہیز کرنا کیونکہ اس سے شہوت کی برانگیختگی لازم آتی ہے.
پیٹ
کے بل سونے سے پرہیز کریں کیونکہ شہوت اور سوئے ہوئے جذبات بھرکتے ہیں اور آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے اس سے منع بھی کیا ہے.
جانے
انجانے میں شرمگاہ پر بلاوجہ ہاتھ نہ لگائیں.
شہوت
کے سلسلے میں نہ سوچنا اور شیطانی خیالات کو نظر انداز کی کوشش کرنا.
شہوت
کے منافی موضوع میں غور شروع کرکے اس سلسے میں سوچ وفکر سے دور رہنا.
دل
کے مطمئن ہونے کی صورت میں روز قیامت اور اللہ کے حضورحساب و عرض کا خیال کرتے ہوئے
شیطان كى شر سے اللہ کی پناہ مانگنا.
غسل
یا زائد بالوں کی صفائی کے وقت شرمگاہ پر توجہ
مرکوز نہ کرنا،تاکہ برے خیالات نہ آئیں.
عورتوں
اور بے داڈھی بچوں سے کے بیچ بلا ضرورت نہ بیٹھنا.
زیادہ
کھانے پینے سے پرہیز کرنا اور کھانا تناسل کرتے ہوئے شرعی آداب کو ملحوظ رکھنا.
صحت
مند اور مفید کھانے اختیار کرنے اور شہوت کو بھڑکانے والی غذاؤوں سے دور رہنا.
ہر
دن بلا ناغہ ورزش کو مشغلہ بنائیں.
خالی
جگہوں اور فراغت سے دور رہنا اور ہمہ وقت اذکار کی پابندی کرنا.
شادی
کرنے میں جلدی کرنا کیونکہ سب سے بہتر علاج یہی ہے.
ہوسکتا
ہے کہ اس عادت سے چھٹکارا کی خاطر علاج کی ضرورت پیش آئے تو ایسی صورت میں اس سلسلے
میں مہارت رکھنے والوں سے مدد لینے میں تردد سے کام نہ لیں.
اللہ
اس تحریر سے نفع پہنچائے
والسلام
التحديث الأخير: الأربعاء 21/11/1440هـ الموافق 24يوليو2019 02:21(ظهراً)
التحديث الأخير: الأربعاء 21/11/1440هـ الموافق 24يوليو2019 02:21(ظهراً)