حج
كيسے كريں؟
(حج و زيارت سے
متعلق اہم مسائل)
ممتازعالم
بن نسيم احمد(قصيم,سعودى عرب)
قارئین کرام : حج اسلام کے پانچ ارکان میں سےایک اہم رکن
ہے،اللہ تعالی نے اسے ہر قادر شخص پر عمر میں ایک مرتبہ فرض قراردیا ہے اور اس میں
اہل اسلام کیلئے بہت سے دینی اور دنیوی منافع عياں رکھے ہیں لہذا عازمین حج کیلئے
ضروری ہے کہ وہ اس عظیم عبادت کو شروع کرنے سے پہلے اس سے متعلق تمام احکام
وآداب.سے بخوبى واقفیت حاصل کرلیں،تاکہ اس عبادت کو اللہ کی مرضی اور حکم کے مطابق
بحسن و خوبی ادا کرتے ہوئے حج کے مقاصد کو پاسکیں، اسی ہدف کو مد نظر رکھتے ہوئے
آئیے ہم ذیل کے سطور میں اس عظیم عبادت کے
شروط ،ارکان، واجبات اور اہم مسائل ملاحظہ فرمائیں:
الحج عبادة
و من شروط قبول العبادة الاخلاص والمتابعة
حج كى فضیلت: اس سلسلے میں بہت سی احادیث وارد ہیں ,کسی حدیث
میں اسے اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ركن
بتایا گیا ہے,جيساكہ ارشاد نبوی rہے:(بني
الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمداً رسول الله، وإقام الصلاة،
وإيتاء الزكاة، والحج، وصوم رمضان).(بخاري ومسلم),کسی میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر حاجی ہر طرح کے معاصی سے
دوررہ کر سنت كے مطابق حج کے اعمال ادا کرتا ہے تو وہ ایسا ہی ہوجاتا ہےگویا اسکی
آج ہی ولادت ہوئی ہو,ارشاد نبوی rہے: (من
حج لله فلم يرفث ولم يفسق رجع كيوم ولدته أمه)(بخاري ومسلم).یہی نہیں بلکہ حج مقبول کی جزاء
صرف اور صرف جنت بتلائی گئی ہے,جيساكہ نبی کریم r نے فرمایا: (العمرة إلى العمرة كفارة لما بينهما، والحج
المبرور ليس له جزاء إلا الجنة).(بخاري ومسلم),ايك دوسرى حديث میں (جسے اصحاب سنن نے نقل كيا ہے اور علامہ البانى نے "صحيح
الجامع" میں اس پر صحت كا حكم بهى
لگايا ہے) اس عظيم عبادت کےدنیوی اور
اخروی.دونوں.فوائد.کا.تذکرہ. کرتے ہوئے رسول اللہ r نے فرمایا:(تابعوا بين الحج والعمرة فإنهما ينفيان الفقروالذنوب،كما
ينفي الكيرخبث الحديدوالذهب والفضة، وليس للحجة المبرورة ثواب إلا الجنة).
الحجاج والعمار
وفد الله
حج كى تعريف:عربی زبان میں حج کے معنی ”قصد و اراده ”کے ہیں،شریعت کی اصطلاح میں مخصوص وقت میں مخصوص
اعمال کی ادائیگی کیلئے مکہ کا قصد کرنے کو حج کہتے ہیں.
حج کی حکمت:حج اور عمرہ کرنے سے انسان گناہوں سے پاک ہوکر
آخرت میں اللہ کی نعمتوں کا مستحق بن جاتا ہے.
حج کی قسمیں:حج کی تین قسمیں ہیں؛
1-حج افراد. 2-حج
قران. -حج تمتع.
حج کی شرطیں:کسی شخص پر حج کے واجب ہونے کیلئے درج ذیل شرطوں
کا پایا جانا ضروری ہے؛
1-اسلام,2-عقل,3-بلوغت, 4-قدرت(زاد سفر اور سواری
کی طاقت),5-آزادی, 6-محرم(عورت کیلئے), واضح رہے کہ اگر عورت بغیر محرم حج کرلیتی ہے تو وہ اس کی وجہ سے گنہگار توہوگی
مگر اس کا حج صحیح ہوگا.
حج کے ارکان:حج کے چار اہم رکن ہیں؛
1-احرام, 2-طواف , 3-سعی ,
4-وقوف عرفہ.
نوٹ:ان میں سےایک رکن بھی چھوٹ جائے تو حج باطل ہوجائیگا.
حج کے واجبات :حج کے درج ذیل سات واجبات ہیں:
1- میقات سے احرام باندھنا.
2- میدان عرفات میں غروب شمس تک وقوف(دن میں وقوف
پانے والوں کیلئے).
3- 10ذوالحجہ کی کم ازکم آدھی رات مزدلفہ میں
گذارنا.
4-تشریق
کی راتیں منی میں گذارتا.
5- تینوں
جمرات کے رمی میں ترتیب.
6- حلق یا قصر(عمرہ اور حج دونوں کے بعد حلق أفضل
ہے،الا یہ کہ عمرہ اور حج کے درمیان وقت تنگ ہوتو عمرہ کے بعد قصر ہی کرائیں تاکہ یوم
النحر کے دن حلق ممکن ہو).
7- طواف
وداع(حج کا سب سےآخری عمل).
تنبيہ:رکن کے فوت ہونے پر حج مکمل نہ ہوگی،واجب فوت
ہوجائے تو دم دیکر اس کمی کو پوری کرلی
جائیگی،سنت کے چھوڑنے پر کچھ بھی لازم نہ آئیگا.
محظورات احرام درج ذیل ہیں:
1- بدن کے کسی بھی حصہ سے بال نکالنا.
2- ناخن تراشنا.
3-سر ڈھکنااور عورتوں کا منہ ڈھکنا(الا یہ کہ
اجنبی مرد قریب ہوں ).
4-مردوں کا اعضاءجسم کے مطابق سلا ہوا
کپڑا (مثلا:جبہ،یا کرتا ،پاجامہ)وغیرہ پہننا.
5-خشکی کا(کھانے کے قابل) شکار مارنا یا اس میں
مدد کرنا.
6- نکاح کرنا.
7- جماع کرنا.(واضح رہے کہ اگر جماع تحلل اول سے
قبل واقع ہوتو دونوں کا حج فاسد ہونےاور
ایک اونٹ بطور فديہ دینے کے ساتھ ساتھ حج کے اعمال کو پورا کرنے کے بعد آئندہ سال
پھر اس فاسدحج کی قضاء کرنی ہوگی،لیکن اگر تحلل اول کے بعد ہو تو حج فاسد نہ ہوگا
البتہ ایک بکری بطور فدیہ دینا واجب ہوگا).
8- آدمی کا عورت کے ساتھ چمٹنا اور بوس
وکناركرنا،اگراس فعل کے ساتھ انزال بھی ہو جائے تو اس پر ایک اونٹ اوراگر انزال نہ
ہو تو بھی ایک بکری بطور فدیہ دینی ہوگی،ان دونوں حالتوں میں حج فاسد نہیں ہوگا.
وضاحت:گزشتہ محظورات میں عورت مرد سب کیلئے ایک ہی حکم
ہے سوائےسلے ہوئے کپڑوں کے سلسلے میں اس لئے کہ عورت زیب و زینت والے کپڑوں کے
علاوہ کوئی بھی کپڑا پہن سکتی ہے،عورت اپنا سر بھی ڈھكے گی.
ميقات سےاحرام باندهناحج کےواجبات میں سے ہے, اور یہیں سے اعمال حج کی ابتداء بھی ہوتی
ہےتو آئیے ہم مواقیت کی طرف بھی اشارہ کرتے چلیں:
مواقیت
کی دو قسمیں ہیں؛
1-مواقیت زمانيہ:اس سے حج کے مہینے(شوال،ذوالقعدہ اور ذوالحجہ)مراد
ہیں.
2-مواقیت مکانیہ:وہ جگہیں جہاں سے اللہ کے مہمان حج یا عمرہ کیلئے
احرام باندھتے ہیں،احرام باندھنے کیلئے
الگ الگ جہات میں درج ذیل پانچ جگہیں متعین ہیں:
1-ذوالحليفہ(ابيارعلى):اہل مدینہ, 2-جحفہ(رابغ):اہلشام
ومصر، 3-یلملم:اہل یمن, 4-قرن منازل(سیل کبیر):اہل نجد
اور طائف, 5-ذات عرق:اہل عراق ،خراساناور نجد کے شمالی حصہ کے
لوگوں کی میقات.(یہ مواقیت مذکورہ ملکوں کے علاوہ ان لوگوں کے احرام باندھنے کی
بھی جگہ ہے جن کا وہاں سے حج یا عمرہ کی
نیت سے گذر ہو، میقات کے اندر قیام پذیرلوگ حتی کہ اہل مکہ بھی حج کیلئے اپنی قیام
گاہ ہی سے احرام باندھیں گے،یاد رہے کہ حدود حرم کے اندر رہنے والوں کو عمرہ کی
نیت حل(يعنى:خارج حرم) سے کرنی ہو گی).
ان مختصر بنیادی معلومات کے بعد آئیے ہم عام فہم
اسلوب میں حج تمتع(1) کا مختصر طریقہ ملاحظہ فرمائیں:
حج تمتع كرنےوالامکہ پہونچ کر پہلے مکمل عمرہ کی
ادائیگی کے بعد 8ذوالحجہ(یوم الترویہ)کو اپنی رہائش گاہ سے حج کا احرام
باندھ کر منی روانہ ہوگا اور پھر تمام مناسک ادا کرتے ہوئے حج مكمل كرے گا.توآئيے ہم سب سے پہلے عمرہ کا
مکمل مسنون طریقہ ذہن نشین کریں:
ميقات:مذکورہ پانچوں مواقیت میں سے کسی ایک پرپہونچ کرروز مرہ کے لباس
اتاردیں اور دوسفیدچادروں میں سے ایک ازار(تہ بند) اور دوسرا رداء(چادر)کے طور پر
زیب تن کرلیں اور پھر "اللهم
لبيك عمرة متمتعا بها إلى الحج" کہتے ہوئے احرام میں داخل ہوجائیں(2) اور بآواز بلندتلبیہ پکارتے رہیں ,يہاں تک کہ مکہ پہونچ جائیں,واضح رہے کہ احرام میں داخل ہوتے ہی مذکورہ محظورات احرام کی پابندی ضرورى ہوجاتی ہیں ورنہ فديہ
لازم آئے گا.
طواف:مكہ پہنچ كر,,,خانہ کعبہ کے گرد سات چکر لگانا،طواف کعبہ کیلئے درج ذيل سات
شروط ہیں:
1-نیت, 2-طہارت, 3-ستر 4, -مسجد کے اندر سے طواف , 5-خانہ کعبہ
کا طواف کرنے والے کے بائیں جانب ہونا,
6-سات بار چکر لگانا, 7- طواف کے ساتوں چکر مسلسل پورا کرنا(بلا حاجت طواف
کے سات چکر میں فصل نہ کرنا).
ان شروط کے علاوہ طواف
کی درج ذیل سنتیں بھی اہم ہیں؛
1-رمل:چھوٹے چھوٹے قدم رکھتے ہوئے تیز چال چلنا،یہ طواف قدوم کے پہلے تین چکروں
میں صرف قادر مرد حضرات کیلئے مسنون ہیں.
(1) کیونکہ تمتع ہی حج کی تین قسموں میں سب سے افضل ہے،اور
ہمارے ممالک(برصغیر) سے آنے والے لوگ حج تمتع ہی کرتے ہیں اور رسالہ کے آخر میں باقى
دونوں اقسام کا تذکرہ بھی موجود ہے.
(2)حاجی اگر فضائی
راستوں سے ڈائریکٹ مکہ(جدہ)کیلئے آرہے ہوں تو انھیں جہاز پر سواری سے .قبل ہی تمام
تیاریوں کے بعد احرام کے .سفید کپڑے زیب تن کرلینا چاہئے،اسلئے کہ جہاز کے میقات کےبرابری میں پہنچنے پر عملہ کی طرف سے
نیت کرنے کا اعلان ہوتا ہے.
2-اضطباع:داہنے کندھے کو کھولنا یہ طواف قدوم کے ساتوں
چکر میں صرف مردوں کیلئے مسنون ہے.
3- طواف کے ہر چکر میں حجر
اسود اور رکن یمانی کوبوسہ دینا (واضح رہے کہ یہ سنت ہے،اوران دنوں اس جگہ
کافی رش ہوتی ہے،لہذا اس کیلئے مسلمانوں
کو تکلیف دینا حرام ہے).
4-پہلا طواف شروع کرنے سے پہلے "بسم الله و الله
اكبر" پڑھنا.
5-طواف کے دوران دعائیں
کرنا,رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان(ربنا آتنا في الدنيا حسنة
وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار)[البقرة:201]
6- طواف سے فارغ
ہوتے وقت ملتزم کے پاس دعا کرنا.
7-طواف سے فارغ ہوکر
مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھنا،پہلی رکعت میں سوره فاتحہ
کے بعد(قل ياايها الكافرون) اور دوسری میں
(قل هوالله أحد) پڑھنا.
8-دو رکعت سے فارغ
ہوکر زم زم پینا.
9-مسعى(سعی
کی جگہ)کی طرف جانے سے پہلے حجر اسود کااستلام (اگرممکن ہوتو).
سعی: عبات
کی نیت سے صفا اور مروہ نامی دو پہاڑیوں کے درمیان چلنا بھی حج کا
اہم رکن ہے،اس کے بھی درج ذیل شروط ہیں:
1-نیت. 2-طواف کے بعد ہی سعی کرنا. 3-بلا حاجت سعی کے چکرون کے
درمیان فصل نہ کرنا. 4-پورے سات چکر مکمل کرنا.
اسی طرح سعی کی درج ذیل سنتین بھی ہیں:
1-خبب:دونوں سبز رنگ کی لائٹوں کے درمیان تیز چال
چلنا.(صرف قادر مردوں کیلئے عورتوں اور کمزور لوگوں کیلئے نہیں).
2-صفا اورمروہ پہاڑی پر دعا کیلئے کھڑےہونا.
3-ہر چکر میں صفا
اورمروہ پہاڑی پر دعاء کرنا.
4-صفا اور مروہ پہاڑی
پر چڑھتے ہوئے تین مرتبہ
"الله اکبر" اور اسی طرح"لا اله
إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لا إله إلا اللّه وحده, انجز وعدہ ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده"پڑھنا.
5-طواف اور سعی کے درمیان بلا شرعی عذر فصل نہ کرنا.
تمام شروط و واجبات کی رعایت کرتے ہوئے طواف وسعی کے ادائیگی کے
بعد اب اپنے سر کے بال حلق یا قصر کراکر حلال ہوجائیں ، اب الحمدلله آپ کا عمرہ مکمل ہوگیا،اب تک احرام
کی وجہ سے جن امور کا ارتکاب آپ پر حرام تھا ساری چیزیں اب حلال ہوجائیں گی.
أيام حج(8ذوالحجہ سے 13ذوالحجہ تک )کےاعمال:
8ذوالحجہ(يوم
الترويہ):اپنى قيام گاه ہى سے احرام
باندھ.کر تلبیہ:" لببك
اللهم لبيك،لبيك لا شريك لك لبيك،إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك لبيك"پکارتے
ہوئے نماز ظہر سے پہلے پہلے منی پہونچ جائیں،وہاں ظہر،عصر،مغرب،عشاء اور فجر کی
نمازیں ان کے وقت ہی میں قصر کرکے ادا کریں.
تنبيہ: اگر حج تمتع کا ارادہ
رکھنے والی عورت طواف عمره سے پہلے ہی ناپاکی کا شکار ہوجائے اور اسے حج کے فوت
ہونے کا خدشہ ہو تو وہ حج کا احرام باندھ
کر قرآن کا ارادہ کرلے گی،واضح رہے کہ نا پاک عورتیں طواف کعبہ کے علاوہ تمام
مناسک انجام دیں گی.
9ذوالحجہ(يوم عرفہ):آج کے دن طلوع آفتاب کے بعد منی سے عرفات کا رخ کریں ،وہاں
پہونچ کر زوال کے بعد ظہر و عصر کی نمازیں مسجد نمرہ یا اطراف میں جمع اورقصر
کرکے پڑھیں،امام وقت کا دین و دنیا کی بھلائی پر مشتمل خطبہ سماعت
کرکے،میدان عرفات میں جہاں بھی جگہ ملے وہیں غروب آفتاب تک ذکر و اذکار
،دعاء,تلبيہ خوانى اور توبہ و استغفار میں
مصروف رہیں، خوب رو رو کر،گڑگڑا کر اللہ کے حضور اپنے عاجزی کا اظہار کریں اور دین
و دنیا کی بھلائیوں کا سوال کریں.
مزدلفہ كى جانب:غروب
آفتاب کے بعد بغیر مغرب کی نماز پڑھے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوں اور مزدلفہ پہونچ کر
سب سے پہلے نماز مغرب وعشاء جمع اور قصر كرکے.ادا کریں،اور پھر تمام بشری ضروریات سے فراغت کے بعد دن بھر کی تھکاوٹ سے
فجر تک آرام کریں.
10ذوالحجہ(يوم النحر):مزدلفہ میں نماز فجر کی ادائیگی کے بعد صبح کے خوب روشن ہونے تک
ذکر و اذکار اور دعاء و استغفار میں مشغول رہیں ،تلبیہ کے الفاظ بھی زیادہ سے زیادہ
دوہراتے رہیں , پھر طلوع شمس سے قبل جمرہ عقبہ(مکہ کی سمت موجودجمرہ: جمرہ
عقبہ کہلاتا ہے،اس سے قبل جمرہ صغری اور وسطی ہیں جن
کی آج کے دن رمى نہیں ہوگی) کو کنکری مارنے اور دیگر اعمال کی ادائیگی کےلئے منی
کا رخ کریں، کنکری مزدلفہ یاراستے میں کسی بھی جگہ چنے جاسکتے ہیں،جمرہ عقبہ
پہنچنے تک بآواز بلند تلبیہ پکارتے
رہیں،وہاں پہونچ کر تلبیہ بند کردیں اور اسے علیحدہ طور اللہ اکبر کہتے
ہوئے سات کنکریا ں ماریں،پھر قربانی کریں اور سرکے بال حلق یا
قصر کراکے حلال ہوجائیں.اس کے بعد آپ پر احرام کی وجہ سے عائد شده : نکاح اور
ہمبستری(یہ پابندی طواف افاضہ کے بعد ہی ختم ہوگی)کے علاوہ تمام پابندیاں ختم
ہوگئیں،حاجت کے مطابق ناخن تراشنا،خوشبو
لگانا،سلے ہوئے کپڑے پہننا،سر ڈھکنا وغیرہ جائز ہے.
طواف افاضہ(طواف
زیارت یا طواف حج بھی اسی کو کہا جاتا ہے):آج ہی کے دن مسجد حرام جاکر طواف افاضہ
اور سعی حج کرنا بھی مسنون ہے،البتہ کمزوری یا دیگر مجبوریوں کی وجہ سے ان کا ایام تشریق یا ان کے بعد بھی سفر سے پہلے تک
مؤخر کرنا جائز ہے.
أيام تشريق (13,12,11"ذوالحجہ "):ایام تشریق کی راتیں منی
میں گزاریں اور ہر دن زوال کے بعد(شام يا رات تك بهى جائز ہے )تینوں جمرات کو سات سات کنکریاں ماریں،سب سے
پہلے جمرہ صغری کو اللہ اکبر کہتے ہوئے سات کنکریاں مارکر تھوڑا دائیں جانب
ہٹ جائیں اور قبلہ رخ ہوکر خوب دعائیں
کریں, پھر اسی طرح جمرہ وسطی کو بھی سات کنکریاں ماریں اور تھوڑا بائیں ہٹ کر
دعائیں کریں،پھر جمرہ عقبہ(کبری)کو اسی
طرح سات کنکریاں مارکر آگے بڑھ جائیں یہاں دعاء کیلئے نہ رکیں.
تنبیہ:اگر
کوئی شخص صرف دو ہی دن منی میں قیام کرکے واپس جانا چاہے تو یہ بھی جائز ہے،لیکن
ایسی صورت میں 12ذوالحجہ کے غروب آفتاب سے
پہلے ہی حدود منی سے نکلنا ضروری ہوگا،بصورت دیگر 13ذوالحجہ کا قیام بھی لازمى
ہوگا.
طواف وداع:مکہ
پہونچ کر وطن واپسی سے قبل طواف وداع کرنا،حیض ونفاس والی عورتوں کے علاوہ تمام
لوگوں پر واجب ہے،چھوڑنے کی صورت میں دم دینا پڑے گا.
حج "افراد"اور"قران"سے متعلق
وضاحت:
حج افراد میں
حاجی میقات سے صرف حج کی نیت سے"لبيك اللهم حجا" کہتا ہے،اسے مکہ پہونچ کر طواف قدوم کے بعد منی جاکر تمام
اعمال متمتع ہی کی طرح کرنے ہوں گے،ہاں حج افراد کرنے والے کے ذمہ قربانی
نہیں ہوتی.
حج قرانمیں
حاجی میقات سے حج وعمرہ دونوں کی کی نیت:"لبيك
اللهم عمرة وحجا"کہتا
ہے.وہ مکہ پہونچ کر پہلے عمرہ کے ارکان ادا کرکے حلال ہوئے بغیر احرام ہی کی حالت
. میں 8ذوالحجہ تک باقی رہے گا اور پھر اس دن منی جاکر بقیہ سارے اعمال ادا کركے
حج مكمل كرے گا،چونکہ اس نے عمرہ کرتے وقت ہی
طواف اور سعی کرلیا ہے اسلئے انہیں دوبارہ
انجام نہیں دے
گا.
حج بدل:کسی فوت
شدہ یا عاجز(ایسا بیمار جس کے شفایابی کی امید نہ ہو) شخص کی جانب سے بھی حج کیا
جا سکتا ہے.اگر دوسرا شخص کسی کی جانب سے حج کرتا ہے تو حج کا خیر و ثواب میت کو
پہنچنے کے ساتھ ساتھ حالت حیات میں واجب ہوچکے حج کى فرضيت بھی ادا ہوجائیگى.سنن نسائی کی ایک روایت میں
ہے کہ جب نبی کریم rسے ایک شخص نے اپنی فوت شدہ ماں کی جانب سے حج کرنے کے سلسلے
میں سوال کیا،تو آپ r نے فرمایا:آپ کا کیا خیال ہے اگر آپ کی والدہ پر کسی انسان کا قرض
ہوتا تو کیا آپ اس کو ادا کرتے؟آدمی نے جواب دیا:ہاں ضرور!,پھر نبی کریم r نے فرمایا:تو آپ ان کی طرف سے حج بھی کرو!.
تنبيہ: حج بدل
کرنے والے کیلئے ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنی طرف سے حج کرچکا ہو.
نوٹ:سفر پر
نکلنے سے پہلے عازم حج کیلئے اپنی نیت خالص کرنا،تمام گناہوں سے سچی توبہ
کرنا،حقوق کی ادائیگی،احکام حج کا سیکھنا،اور حلال کمائی سے حج کرنے كى سعى
ازحدضروری ہے.
آداب زيارت مدينہ منوره:
اگر وطن واپسی سے قبل
وقت ملے تو مسجد نبوی کی زیارت کے غرض سے مدینہ کا سفر کیا جاسکتا ہے(واضح
رہے کہ حج کے اعمال طواف وداع کے بعد ہی ختم ہوجاتے ہیں،مدینہ کا اعمال حج سے کوئی
تعلق نہیں)وہاں پہونچ کر روضہ میں دو رکعت نفل كى ادائیگی،مسجد نبوی میں
کثرت سے نمازیں پڑھنا،آپ r اور حضرت أبوبكر صديق و عمر فاروق رضی اللہ
عنہما کے قبروں کی زیارت،اہل بقیع غرقد کی اورشہداء احد کیلئے
دعائيں مشروع ہيں, اپنے رہائش سے با وضو ہوکر مسجد قباء جانے اور وہاں دو رکعت نفل پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ
کے برابر ہے .
اس کے علاوہ کچھ تاریخی مقامات:مسجد قبلتین،مسجد خندق(سبع
مساجد),مسجد جمعہ،سقیفہ بنی ساعدہ وغیرہ بھی تاریخی ناحیہ سے دیکھے جاسکتے
ہيں مگر ان چیزوں پر وقت گذاری نہ
کرکے مسجد نبوی میں عبادت میں مشغول رہنا افضل اور باعث خیر ہے.
اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو حرمين شريفين کی زیارت کا موقع
نصیب فرمائے،اور ارض حرمین کے ایمانی ماحول کے مطابق اپنے اعمال کے اصلاح کی توفیق
بخشے(آمین)
* * *
فوائد:
- (احرام:تمام
تیاریوں(سلے ہوئے کپڑےنکالنا وغیرہ)کےبعدحج ياعمرہ کیلئے نیت کرنےکواحرام کہا
جاتا ہے.
احرام کے کیلئے تین چیزیں واجب ہیں:
1-مقررہ میقات سے احرام باندھنا(نیت کرنا).
2-سلے ہوئے کپڑے اتارنا.
لہذا مرد حضرات قمیص،پاجامہ،جبہ اور عمامہ وغیرہ نہیں پہن سکتے اور
نہ ہی ان کے علاوہ کسی چیز سے سر ڈھکنا
درست ہے،مرد موزے یا جوتے بھی نہیں پہن
سکتے ہیں،جبکہ عورت کیلئے دستانہ اور نقاب
کے سوا ہر کپڑا پہننا درست ہے.
3-تلبیہ پکارنا:"لببك اللهم
لبيك،لبيك لا شريك لك لبيك،إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك لبيك"توحید پر مشتمل یہ کلمات محرم(حج یا عمرہ کا عازم)نیت کرتے
ہوئے،میقات سے آگے بڑھنے سے پہلے پہلے ہی پڑھنا شروع کرے ،واضح رہے کہ مردوں کیلئے
تلبیہ کے الفاظ بآواز بلند بار بار پڑھنا مستحب ہے،عمرہ کرنے والا طواف اور حاجی
جمرہ عقبہ کے رمی کے وقت تلبیہ بند کردیں
گے.)
- (
وقوف عرفہ:نویں ذوالحجہ کے ظہر سے دس
زو الحجہ کی فجر کے درمیان میدان عرفات میں ایک گھڑی یا اس سے زیادہ وقوف کی
نیت سے حاضر ہونا یاد رہے کہ جس سے یہ رکن فوت ہوجائے اس کا حج فوت ہوجائیگا
،ایسے شخص کو عمرہ مکمل کرکے حلال ہوکر آئندہ سال قضاء کی نیت کرنی ہوگی ،ایسے
شخص پر ہدی بھی لازم ہوگی اگر اس نے شرط نہ لگائی ہو،اور جسے دشمنوں نے بیت
اللہ سے پہلے ہی روک لیا ہو وہ بھی ہدی پیش کرکے حلال ہوجائیگا،اسی طرح وہ
شخص بھی جسے حج یا عمرہ کی نیت کے بعد بیماری یا مرض لاحق ہوجائے،یا اخراجات
کم پڑجائیں اور اس نے اس حالت میں ثابت شدہ"محلي
حيث حبستني"والی نیت نہیں کی ہو
تو اسے بھی حسب استطاعت ھدی پیش کرکے حلال ہونے کا حق ہے(نیت کی صورت میں بلا
ہدی حلال ہوجائیگا).)
- حج میں تحلل اول
طواف،رمی اور حلق یا تقصیر میں سے دو کے ادائیگی سے حاصل ہوجاتی ہے.
- اگر حج تمتع کا
ارادہ رکھنے والی عورت طواف سے پہلے ہی ناپاکی کا شکار ہوجائے اور اسے حج کے
فوت ہونے کا خدشہ ہو تو وہ حج کا
احرام باندھ کر قرآن کا ارادہ کرلے گی،واضح رہے کہ نا پاک عورتیں طواف
کعبہ کے علاوہ تمام مناسک انجام دیں گی.
- محرم ہدی کے جانور
اور مرغی وغیرہ گوشت کھانے کی نیت سے ذبح کرسکتا ہے، موذی
درندے:شیر،بھیریا،چوہا،بچھو وغیرہ مار سکتا ہےاور اسی طرح حاجی کیلئے سمندری
شکار بھی جائز ہے.
یادرہے کہ حرم کے درخت، گھاس کاٹنا یا شکار کو مارنا محر م اور
غير محرم سب كيلئے حرام ہے,ايساكرنےپر فديہ واجب ہوگا.مدينہ ميں بهى يہ اعمال حرام ہیں,البتہ فديہ نہيں دينا ہوگا.
- بچے کا حج نفلی
ہوگا،بلوغت کے بعد واجب حج لازم ہوگی.
- حج واجب ہوئے شخص کی
حج کے ادائیگی سے قبل فوت ہونے کی صورت میں اس کے ترکہ سے مال لے کر حج کیا
جائیگا.
- حج بدل کرنے والے
کیلئے ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنی طرف سے حج کرچکا ہو.