مملكت سعودى عرب اور حجاج كرام كى خدمت
ممتاز نوري(داعى و مترجم صبىح اسلامك دعوة سىنٹر)
حرمین
شریفین اورركن خامس كى ادائىگى کىلئے
وہاں پہونچنے والےضىوف
الرحمن كى خدمت باعث شرف و سعادت ہے,حرمىن
شرىفىن ىعنى روئے زمىن كے دو مقدس ترين سرزمین نے متعدد ادوار دیکھےہیں،کئی
حکومتوں کے عروج و زوال كو دیکھا ہے,بہت سے لوگوں نے ىہاں پر حكوت كى
,سبهى نے انكى اوروہاں پر حج وعمره كى خاطر تشريف لانے والے الله كے مہمانوں كى خدمت كو
قابل فخر اور باعث سعادت تصور كىا ,مگر
موجوده دور كى سعودى عر ب كى مبارك حكومت نے حرمین شریفین🕋 کی ایسی خدمت کی ہےجس کی زمانہ قديم میں نہ صرف بنو امیہ بلکہ
بنوعباسیہ اور ماضى قريب كے عثمانی عہد میں بھی بقول تمام مورخین کوئی مثال نہیں ملتی۔
اسی طرح حرمین شریفین اور
حاجیوں کی خدمت میں بھی مملکت نے کسی طرح کی کمی نہیں ہونے دی ہے،ایسے خدمات پیش
کئے ہیں جن کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی لوگ دیکھتے ہی دنگ رہ جاتے ہیں یقینا اس حکومت
نے دل و جان سے حرمین کی خدمت کرتے ہوئے جدید ترین سہولیات مہیا کی
ہیں؛حاجی کے ایئرپورٹ پر پہنچتے ہی ان کو گرمجوشی سے خوشامد کیا جاتا ہے ، مختلف
ہدایاجات پیش کئے جاتے ہیں، زبانی طور پر دینی رہنمائی کے ساتھ ساتھ مختلف زبان
میں رہنما کتابیں پیش کئے جاتی ہیں غرضیکہ ان کو اس نئے ملک میں اپنائیت کا ایسا
احساس دلایا جاتا ہے کہ خوشی سے ان کی آنکھیں
بھر آتی ہیں،سعودی حکومت نے حاجیوں کی سہولت کے لئے ایئرپورٹ پر ٹرمینل خاص
کردیئے ہیں جنھیں صرف حج و عمرہ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے،ایئر پورٹ سے نکلنے کے
بعد جدید ترین ایئر کنڈیشنڈ بسیں ،ہر طرح کی داو پیچ سے خالی عمدہ سڑک کا انتظام
دیکھ کر لوگ خوشی سے پھولے نہیں سنتے ہیں،مکہ پہونچ کر حرم شریف سے قریب اعلی اور
جدید ترین سہولیات والے رہائش بھی لوگوں کے توجہ کا مرکز ہوتے ہیں،مکہ کی سڑکیں
وہاں صفائی کا انتظام امن و سلامتی کی فضاء بھی خوب تر ہوتی ہے ،جگہ جگہ مختلف
زبانوں میں دینی رہنمائی کے مراکز قائم
کئے گئے ہیں،جن کی مدد سے حاجی یا عمرہ کرنے والے صحیح تعلیمات کی روشنی میں اپنے
عبادات کو بخوبی انجام دے سکتے ہیں،
حرم مکی پہونچ کر پرسکون
ماحول اور مسجد حرام کی دیدہ زیب عمارت اور اسکی دیگر سہولیات ؛سیکوریٹی(188ممالک
سے آئے ہوئے مختلف تہذیب و ثقافت کے 40لاکھ سے زائد لوگوں کوپندرہ بیس کلو میٹر کے
رقبہ میں بآسانی کنٹرول کرنا یہ یقینا صبر
طلب عمل ہے جو بلاشبہ اللہ کی مدد خاص کے بغیر ممکن نہیں) صفائی،ایسی کہ لوگوں کی اس بھیڑ کے باوجود بھی
کبھی کسی طرح کی گندگی دیکھنے میں نہیں آتی ،حمامات میں بھی بدبو نہ کے برابر ہوتی
ہے،صفائی کا ایک دقیق انتظام کیا گیا ہے طواف کے دوران صفائی کا منظر دیکھنے کے
قابل ہوتا ہے طواف میں رخنہ ڈالے بغیر دو سے
تین منٹ میں انتہائی مہارت کے ساتھ بلا کسی کو تکلیف دیئے پورا مطاف صاف
کردیا جاتا کے ،اعلی نوعیت کی بے غبار
قالینین جبکہ اس سے پہلے کنکری پر نمازیں ادا کی جاتی تھیں ، ایئر کنڈیشن
جبکہ اس کا اس سے قبل وجود ہی نہ تھا،جگہ جگہ زمزم کا پانی:پورے مسجد حرام کے احاطے
میں کہیں اور کسی بھی منزلت پر ہوں زمزم کا ٹھنڈا پانی ہر جگہ دستیاب ہوتا ہے،سخت
گرمی کے موسم میں ٹھنڈے سنگ مرمر سے مزین خانہ کعبہ کے صحن،بیت اللہ کے زائرین کو
حیرت میں ڈالتے ہیں،ہر طرح کے دروس اور نصیحتوں کی محفلوں کے باوجود ماحول اتنا پر
سکون ہوتا ہے کہ جس کا کوئی جواب نہیں جسے درس میں بیٹھنا ہے ہے بیٹھے جسے درس سے
دلچسپی نہ ہو اسے ایسی جگہ بآسانی مل جائے گی جہاں بلا کسی شور شرابے کے وہ تلاوت
و ذکر و اذکار انجام دے سکتا ہے،سعودی حکومت نے مختصر سی مدت میں حجاج کرام کے
سہولیات اور ان کی تعداد میں اضافے کی خاطر
کافی تبدیلیاں اور کاوشین کی ہیں ابھی تیس سال پہلے تک 5لاکھ سے زائد
حاجیوں کی گنجائش نہیں ہوتی تھی مگر اب 40لاکھ سے زائد حاجی سہولت کے ساتھ اپنے
فریصہ حج اور دیگر عبادات کی انجام دہی
کرتے ہیں ،آئندہ سالوں میں حاجیوں کی تعداد میں
مزید اضافے کی خاطر انتظامات کئے
جا رہے ہیں امید کہ جلدہی حاجی حضرات کی
تعداد کروڑ سےمتجاوز ہوجائے گی.
ہر حال حکومت سعودی عرب
نے اول روز سے ہی حاجیوں کی خدمت کو اپنے
تمام اہداف پر برتری دی ہے اور اپنے خدمات کو مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ روز بروز
خوب سے خوب تر بنانے کی کوشش کی ہے اور ان کے چھوٹے سے چھوٹے مسئلے کو بھی بڑی اہمیت
دیتے ہوئے ان کا حل پیش کیا ہے حاجی 8ذوالحجہ سے 12یا 13تک مشاعر مقدسہ میں ہوتا
ہے اس سات دن کے مختصر وقفے کی خاطر مملکت سعودی عرب نے ایسی خدمات اور سہولیات پیش
کی ہیں جنھیں دیکھ کر لوگ حیران و ششدر رہ جاتے ہیں،منی میں جو خیمے حاجیوں کے لئے
نصب کئے گئے ہیں وہ پہلے معمولی اور نارمل ہوا کرتے تھے لیکن ... میں ان میں آگ لگ
جانے کے سبب انہیں فائر پروف سے بدل دیا گیا ہے،وہاں کے راستے ڈبل یا تین منزلے
کردیئے گئے تاکہ حاجیوں کے قافلے رش کا سامنا کئے بغیر اپنے تمام مناسک بآسانی ادا
کرسکیں,حاجیوں کے قافلوں کو راستوں کی رہنمائی اور انہیں بآسانی مشاعر میں آمد و
رفت کی خاطر ایک خاصی بڑی تعداد میں فوجی دستے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں جو حجاج
کی خدمت کو شرف و سعادت تصور کرتے ہوئے رہنمائی کے ساتھ ساتھ ان کی ہر ممکن خدمت
کرتے نظر آتے ہیں ،
کوئی تھکے ہوئے بزرگوں کو اپنی پیٹھ پر اٹھاکر ان کے منزل تک
پہونچاتا ہے تو کوئی مریض کی مرہم پٹی کرتا ہے ،کوئی چھوٹے بچوں کو گود اٹھاکر ان
کا دل بہلاتے ہوئے اسلامی اخوت کا ثبوت پیس کرتے ہیں ،کوئی سخت گرمی کے موسم میں
حاجیوں پر ٹھنڈے پانی کے پھوار برساتے ہوئے ان
کی تپش کو کم کرتا ہے،کوئی پانی تقسیم کرتا ہے تو کوئی ناشتہ پہونچاتا ہے .
غرضیکہ یہ فوجی دستے ہر طرح سے ضیوف الرحمن کی خدمت کرتے ہوئے رب دو جہاں کی رضا
حاصل کرتے ہیں ، ان میں اللہ کے مہمانوں کے لئے خدمت کا غضب سا جذبہ ہوتا ہے اپنے
آرام کو تج کر وہ انکی خدمت میں لگے رہتے ہیں, محنت
و جفاکشی کا عالم یہ ہوتا ہے کہ تھکان سے چور ہوکر بھی آرام گاہ نہیں جاکر وہیں
راستے میں ہی،کوئی جمرات کے پاس کنارے ہو کر تھوڑی دیر سستاکر پھر اللہ کے مہمانوں
کے خدمت میں لگ جاتے ہیں.
آئیے ہم مشاعر کے پہاڑی
اور سخت علاقے میں تعمير كرده دو منزلے راستے ہی کی بات کرلیتے ہیں کم ہی
راستے ہیں جو سنگل ہوں ورنہ سب میں کبری ہے ، مشاعر مقدسہ کی ریل جو منی ،مزدلفہ
،عرفات تک کافی بہترین انداز میں دوڑائے گئے ہیں کیا وہ سال کے بارہ مہینے اسی طرح
لوگوں کے بھیڑ کو یہاں سے وہاں منتقل کرتے ہیں
،وہاں پر تعمیر شدہ ڈبل منزلے حمامات،جگہ جگہ پانی کےانتظامات،وہاں کے
لائٹ،پنکھے،ایئر کنڈیشنز،ریل اسٹیشن کے خود کار زینے،لفٹ, بڑے بڑے اسکرین دیگر ملحقات کا
دوسرے دنوں میں کوئی استعمال ہے؟ پہاڑوں کو کاٹ کر بنائی گئی گذرگاہین کیا کسی ہائی
وے سے کم ہیں مگر کیا دوسرے دنوں میں ان کی
ضرورت پڑتی ہے،پورے مشاعر میں جگہ جگہ ہیلتھ منسٹری کی جانب سے قائم کئے گئےاسپتالوں ، ہیلتھ سینٹروں، اور
فرسٹ ایڈ کے مراکز پر سال کے دوسرے ایام میں کوئی جاتا بھی ہے ،فن تعمیر کا نمونہ
جمرات کے پانچ منزلہ پر مشتمل شاندار گذر گاہ اور آمدورفت ك علیحدہ
راستے جہاں تین لاکھ حاجی فی گھٹنہ اپنے مناسك کی
ادائیگی کرتے ہیں اور جگہ جگہ پر تعمیر کئے گئے ایمرجنسی ہیلی پیڈ کو کبھی اور بھی
استعمال کیا جاتا ہے مسجد نمرہ مسجد خیف مسجد مزدلفہ اور دیگر مساجد کبھی اور بھی
نمازیں پڑھی جاتی ہیں ،اس کا سادہ سا جواب یہی ہوگا کہ دوسرے دنوں میں ایک آدھ
گھنٹے کیلئے آئے چند زائرین کے
علاوہ وہاں کوئی نظر تک نہیں آتا،تو ان انتطامات
سے فائدہ کون اٹھائے گا؟! وہاں کے فائر پروف خیمےچند دنوں کے لئے استعمال کی غرض
سے مہیا کردہ یہ سروسیس اور انتظامات یوں ہی بلا محنت و مشقت مفت میں انجام پڑگئی ہیں ؟ ہرگز نہیں ...یہ
مبارک سعودی حکومت کی جانب سے اللہ کے
مہمانوں کے لئے بیش قیمت تحفہ ہے.
حج کے دنوں میں ڈاکٹروں
،ہیلی کاپٹروں،اور صفائی کے 23000سے زیادہ عملہ و دسیون ہزار کے فوجی دستے کی
فراہمی کون کرتا ہے؟
یہ سب اللہ تعالی کے فضل
وکرم کے بعد مملکت سعودی عرب کی
انتھک کاوشوں کا ثمرہ ہے،یہ تو حج کے موسم
کو حصول اجر و ثواب کا موسم تصور کرتے ہیں یہاں کے تمام لوگ عام شہری سے لیکر
سرکاری ملازمین چھوٹے عہدیداروں سے لیکر بڑے سے بڑے عہدہ دار تک اس سالانہ اجتماع
کی کامیابی کے لئے ہر ممکن کوشس کرتے ہیں چاہے یہاں کے عام شہری ہوں یا سرکاری
ملازمین ،مدارس و جامعات میں زیر تعلیم افراد ہوں یا فوجی دستے سے متعلق لوگ وزیر
ہوں یا گورنر یہاں تک کی خادم الحرمین الشریفین بھی حاجیوں کی راحت کیلئے کوشاں
ہوتے ہیں ان کے خوشی پر خوشی محسوس کرتے ہیں اور اللہ کے مہمانوں ادنی سی تکلیف بھی انہیں پریشان کردیتی ہے
کیا سعودی حکومت سے پہلے یہ
انتظامات تھیں اس کے پانچ فیصد انتظام بھی نہ تھا سعودی حکومت کے قیام سے قبل حاجی
آنے کیلئے ڈرتے تھے خوف و ہراس کا ماحول ہوتا تھا،لوگوں کے جان و مال اور عزت
محفوظ نہ تھے ، حج کو آتے ہوئے لوگ اپنے گھر والوں کو اس طرح الوداع کہتے جیسے موت
یقینی ہو مگر ملک موسس شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن بن فیصل آل سعود نے اپنی حکومت
کے قیام کے بعد یہاں کے ماحول کو پرامن بنانے کے بعد پوری دنیا کے لوگوں کو یہ خوشی
کا پیغام دیا اور لوگوں کو حج کیلئے آنے کی اجازت دی
سعودی حکومت روز اول سے ہی
بڑھ چڑھ کر حرمین اور حجاج کی خدمت کیلئے
کوشاں ہے ہر مشکل کو ختم کرکے آسانیاں پیدا کرتی ہے ہر سال نت نئے خدمات زمانہ کے
تقاضے کے اعتبار سے کرتی ہے
ہرسال کثیر تعداد میں
لوگوں کے مفت علاج کئے جاتے ہیں،صرف امسال موسم حج کے درمیان open
heart process
کے 30angioplasty کے
513
dialysis کے 1594
telescope process کے 175 اور بچوں کی ولادت
کے 11حالات پیش آئے اور سب کا مفت علاج کیا گیا
ان کے علاوہ کئی sick patient کو ایمبولینس کے ذریعہ مشاعر میں خصوصی رعایت کی گئی تاکہ ان کے
مناسک ادا ہوسکیں ، یہ ایسی خدمات ہیں جن کا کوئی معاوضہ ہی نہیں ہوسکتا
یہ مبارک حکومت حج کو سیاسی
تجارتی مقاصد سے اوپر تصور کرتی ہے اس سے
وہ کسی فائدے کی امید نہیں رکھتی بلکہ حاجیوں اور اللہ کے گھر کی خدمت کے لئے وہ
دل کھول کر خرچ کرتے ہیں،تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود بھی یہ کسی کو حج و
عمرہ کی ادائیگی سے نہیں روکتے قطر اور ایران کے حاجی مثال کے طور پر دیکھے جا
سکتے ہیں.
سب کا مقصد افضل اور احسن
طریقے سے پرامن ماحول میں حج کی ادائیگی ہے،لوگ خدمات سے راضی ہوں اور اپنے فرائض
کی ادائیگی لوگ بآسانی کرسکیں.
حرم کی توسیع تزئین اور
حاجیوں کی تمام چھوٹی بڑی سہولتوں کا خیال کیا جاتاہے ،کنکری کے تھیلے بھی لوگوں میں
مفت تقسیم کئے جاتے ہیں
رہائشی مکانات اور چھوٹے
ہوٹلوں کو دوگنے قیمت میں خرید کر تعمیر نو
مدینہ
دیگر مساجد اور شرعی زیارت
گاہوں کی تعمیر نو
رسوم کی معافی
خادم حرمین کا لقب
وزارہ حج
صحت ،دفاع مدنی،امن،
جوالہ ، کشافہ،ہیلی کاپٹر سے نگرانی،مصنوعی
بارس
ملک اور گورنر مکہ
یہ تمام خدمات بلا تفریق
ملک و قومیت اور مسلک مذہب صرف مسلمان ہونے کے ناطے ہوتا ہے