شب و روز كى مسنون نمازیں
ممتازعالم نسىم أحمد
مدنى(قصىم,سعودى عرب)
نماز اسلام کے پانچ ارکان میں سے دوسرا اہم رکن ہے،یہ مسلم و کافر
میں فرق کرنے والی عبادت ہے،قیامت کے دن سب سے پہلے اسی کے بارے میں سوال کیا جائے
گا،بندے اللہ سے قریب کرنے والی سب سے بہتر عبادت ہے صحیح حدیث میں ہے کہ بندہ
اللہ سے سب سے زیادہ قریب حالت سجدہ میں ہوتا ہے جنت میں اسی کے سبب درجات کی
بلندی حاصل ہوگی یہ مومن کے دل کا سکون اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے،چونکہ نماز اللہ
اور بندے کے درمیان ایک مضبوط واسطہ اور کڑی ہے صرف ایک وقت میں نہ رکھ کر اللہ نے
اسے دن کے مختلف اوقات میں فرض کئے ہیں تاکہ بندہ ہمہ وقت اللہ سے جڑا رہے اور
غفلت کا شکار نہ ہو ، جس طرح پودے کی صحیح نشونما کیلئے دن کے مختلف حصے میں اسکی
سینچائی ضروری ہوتی ہے اگر پورے دن کا حصہ ایک ہی وقت میں ڈال کر پورے دن آرام
کریں تو پودا مرجھاجائے جس طرح بلا پانی پودے کی نشونما ممکن نہیں ہے،أقم
الصلاة لدلوك الشمس إلى غسق الليل وقران الفجر کہہ کر اللہ رب دو جہاں نے
مختلف اوقات میں کل پانچ نمازیں(ظہر 4 رکعت،عصر چار رکعت،مغرب
تین رکعت،عشاء چار رکعت اور فجر دو رکعت)فرض کی ہیں ،ان اوقات کی
وضاحت مسلم شریف میں موجود حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے مروی حدیث میں بھی ہے،
جن کا ہر مسلمان پر پڑھنا ضروری ہے ان کا بلا عذر وقت کے نکلنے تک موخر
کرنا بھی گناہ کا باعث ہے،ان کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پہلے یا بعد
کی کچھ سنتین بتلائی ہیں جن میں بعض کو آپ فرض ہی کی طرح سفر و حضر دونوں
حالت میں پابندی کے ساتھ پڑھا کرتے تھے وہ ہیں ؛نماز فجر سے پہلے کی
دو رکعت اور نماز وتر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کبھی نہیں چھوڑتے،ان کے علاوہ
کچھ سنتیں ایسی ہیں جو موکدہ ہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ حالت سفر میں انہیں
چھوڑ دیا کرتے تھے وہ ہیں؛ظہر کے پہلے چار رکعت اور ظہر کے بعد دو رکعت مغرب اور
عشاء دو دو رکعت اور فجر سے پہلے دو رکعت (فجر سے پہلے کی دو رکعتیں آپ کبھی نہین
چھوڑتے تھے جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے)انہین سنن رواتب بھی کہا ہے جن کی کل
تعداد بار رکعتین ہیں آپ سے اس بارے میں خوب فضیلت وارد ہیں
جیسا کہ حضرت ام حبیبہ کی روایت میں ان کے پڑھنے والوں کو جنت میں ایک گھر کی
بشارت دی گئی ہے،ان کے علاوہ بھی آپ سے فرض نمازوں کے پہلے یا بعد میں کئی
سنتیں ثابت ہیں جن میں نماز عصر کے پہلے چار رکعت نماز پڑھنا ، نماز
مغرب سے قبل دو ہلکی رکعتوں کی ادائیگی،نماز عشاء سے قبل دو رکعت پڑھنا ہے
مگر یہ سنت موکدہ یا سنت راتبہ نہیں،یہ نمازیں تھیں جن کا فرض نمازوں کے
پہلے یا بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھنا مسنون ہے،ان کے علاوہ مخصوص
تعداد میں مخصوص ہیئت میں نوافل یا احتیاطی سنتوں کو لوگوں پر ضروری
قراردینا مسلک و مذہب کے نام پر علماء کا قول تو ہوسکتا ہے مگر آپ صلی اللہ علیہ
وسلم سے اس کی کوئی ثابت دلیل میری نظر میں نہیں ہے ہاں مطلق نوافل کی ادائیگی
سوائے اوقات نہی کے کبھی بھی کی جاسکتی لہذا مطلق نوافل دن و رات میں ممنوعہ اوقات
کے علاوہ کبھی بھی حسب استطاعت پڑھی جاسکتی ہیں۔
یاد رہے کہ میں نے اس مقالہ میں صرف روزانہ پڑھی جانے والی
نمازوں کی تعداد بیان کی ہے ،لہذا میں نے دیگر اوقات و اسباب کے تحت پڑھی جانے
والی موکدہ سنتوں؛نماز کسوف وخسوف،نماز تراویح،نماز استسقاء یا اسباب کے ساتھ
خاص دیگر سنتوں؛تحیة المسجد،وضوء کی دو رکعت،طواف کی دو رکعت نماز استخارہ احرام
کی دو رکعت ،قبل سے قبل دو رکعت اسی طرح توبہ کے وقت مسنون دو رکعت کا تذکرہ نہیں
کیا ہے۔
اسی طرح روز جمعہ نماز جمعہ سے قبل کوئی خاص اور موکدہ سنت نہیں ہاں
امام کے منبر پر بیٹھنے تک مطلق نفل کی ترغیب وارد ہے ،اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ
وسلم سے روزانہ نماز چاشت کی بابت بھی مکمل حج و عمرہ کی خوشخبری وارد ہے۔لہذا حسب
استطاعت ہم جتنا چاہیں اوقات نہی کے علاوہ نوافل کا اہتمام کریں ، نماز سب سے اہم
عبادت تو ہے ہی کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعلت قرة عيني في الصلاة کہہ
کر تو کہیں أرحنا بها يابلال
نماز کی اہمیت کو واصح کیا ہے تو کسی کے خنت مین نبی اپنی مرافقت کے
سوال پر اپ نے فرمایا فأعني على نفسك بكثرة السجودیہی نہیں بلکہ نماز آپ کہ آخر
وصیت تھی آپ کے آخری وقت میں الصلاة الصلاة کے الفاظ آپ کی زبان مبارک پر
جاری تھے
اخیر میں بعض بھائیوں کے ایک اشکال کی وضاحت ضروری
سمجھتا ہوں وہ یہ کہ بعض بھائیوں کا تصور ہے کہ سنت نمازیں پیارے نبی
صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے پڑھی جاتی ہیں جبکہ یہ درست نہیں انسان کی ساری نمازیں
اس کے خود کیلئے ہوتی ہیں ہاں انسان کوئی بھی نیک کام انجام دے اس کا ثواب نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ملتا رہے گا۔
(مسودہ،،،زیر ترتیب مضمون)