باطل عقائد اور شبہات کا ازالہ؛
(1)مزار پر جانے سے بیٹا بیٹی کا مل جانا
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں اولاد نہیں ہوتی کافی علاج کے بعد بھی جب کامیابی نہیں ملتی تو ہم قبروں کا رخ کرتے ہیں اور وہاں جاکر بابا سے مانگنے سے ہمیں اولاد مل جاتی ہے؟
میرے بھائیوں:دعاء عبادت ہے جو صرف اللہ کیلئے لائق و زیبا اس کا کسی اور کیلئے پھیرنا شرک ہے،،،اگر آپ کو وہاں جاکر اولاد مل جاتی ہے تو کیا قبر والے نے دیا ہر گز نہیں،دینے والا اللہ ہی ہے،کیونکہ قبر والا تو سن بھئ نہیں سکتا اور ایسے لوگوں سے نفع و نقصان کی امید لگانے والے سے بڑا گمراہ کوئی ہو ہی نہیں سکتا، جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے:(ومن أضل ممن يدعوا من دون الله من لا يستجيب له إلى يوم القيامة وهم عن دعائهم غافلون)
کیونکہ بندہ موت کے بعد اس دنیا سے کٹ جاتا ہے،برزخ کی زندگی میں ہوتا ہے،یہاں سے وہاں آواز نہیں پہنچ سکتی تو جواب دینا یا نفع و نقصان کا تصور ہی نہیں پیدا ہوتا۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ مردے سنتے ہیں جیسا کہ بدر کے مقتولین کو جب کنویں میں پھینکا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خطاب کیا تھا اور جب صحابہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ مردوں سے خطاب کررہے ہیں تو آپ نے فرمایا تھا کہ اس وقت وہ تم سے زیادہ ہماری باتوں کو سن رہے ہیں۔
اس میں کوئی دلیل نہیں ہے کہ مردے سنتے ہیں،کیونکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا ۔
ورنہ صحابہ یہ ہرگز نہ کہتے کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ مردوں سے خطاب کررہے ہیں،،،گویا ان کے یہاں یہ بات بالکل واضح تھی کہ مردے زندوں کی باتیں نہیں سنتت ہیں!
اسی طرح اللہ نے مردوں کے عدم سماعت کی بابت فرمایا:(إنما يستجيب اللذين يسمعون والموتى يبعثهم الله يوم القيامه)
پھر کچھ لوگ کہتے ہیں چلو آپ کی بات تو بجا ہے مگر،،،وہاں جانے پر کیوں مل جاتا ہے؟
تو یہ جاننا چاہئے کہ قبروں پر جاکر اولاد کا سوال کرنا شرک ہے، اور اللہ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوتا،کتنے لوگ وہاں جاکر بھی بے مراد ہی رہتے ہیں،جس کو ملا دیا گو اللہ نے ہی مگر اس کا ایمان جو چلا جو کہ سب سے بہترین اثاثہ ہے۔
(2)قرآن پڑھ کر مردے کو ثواب بخشنا
اس بارے میں علماء کے مابین اختلاف ہے؛
1-بخشا جو سکتا ہے۔
2-نہیں بخشا جا سکتا ہے۔
منع کے قائلین میں سے امام شافعی رحمہ اللہ بھی ہیں۔
امام ابن کثیر نے فرمان باري تعالى:{ وان ليس للإنسان إلا ما سعى کی تفسیر کے ضمن میں یہ کہا ہے کہ قرآن پڑھ کر ثواب نہیں بخشا جا سکتا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو اللہ کے نبی کے صحابہ کے پاس مال کم اور قرآن زیادہ تھا مثال کے طور پر حدیث واہبہ میں ایک صحابی کو مہر کیلئے کوئی مال نہ ملا سوائے تہ بند کے مگر قرآن کو مہر بنایا گیا۔
فائدہ:مزدوری اور پیشہ بھی مہر ہو سکتے ہیں۔
کیا ہمیں کہیں ملتا ہے کہ کسی صحابی نے قرآن پڑھ کر ثواب کسی میت کو بخشا ہو۔
اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو سب سے بہتر قرآن پڑھنے والے تھے کیا آپ نے کبھی قرآن پڑھ کر بخشا خدیجہ یا حمزہ یا کسی اور کیلئے؟!
اگر واقعی ثواب ہوتا تو کسی نی کسی سے وارد ہوتی۔۔۔۔۔
اسی لئے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ کے نبی اور صحابہ نے داعیہ اور امکان کے باوجود کوئی کام نہیں کیا ہے وہ کرنا کار خیر نہیں ہوسکتا!۔
(3)مصافحہ ایک یا دونوں ہاتھوں سے؟
سنت ایک ہہ ہاتھ سے ہے،جیسا کہ
▪حضرت عبداللہ بن بسر سے مروی ہے کہتے ہیں کہ:ترون يدي هذه صافحت بها رسول الله صلى الله عليه وسلم(التمهيد لابن عبدالبر بإسناد صحيح).
▪حضرت عمر کا ایک ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پکڑے ہویے تھے(صحیح بخاری،باب المصافحہ)
▪جب ایک مسلمان اپنا ہاتھ دوسرے بھائی کے ہاتھ میں دے کر مصافحہ کرتا ہے تو اس کے سارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں(مسند احمد)
دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنے کے بھی بعض لوگ (بعض علماء سے بھی منقول ہے مگر راجح ایک ہہ ہاتھ سے ہے یہ اور بات کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنے والے کو برا بھلا نہیں کہا جائے گا جسے اس فتوی پر اعتماد ہو وہ اس پر بھی عمل کرسکتا ہے مگر راجح ایک ہاتھ والا ہے) اور مصافحہ کہتے ہی ایک ہاتھ کے دوسرے ہاتھ کے ملنے کو
حقیقت میں دو ہاتھ (دو + دو =چار)ہاتھ سے مصافحے کے حوالے سے کوئی ایسی حدیث وارد ہی نہیں جسے صحیح یا ضعیف کہا جا سکے۔
ہاں اس بارے میں بخاری شریف میں عبداللہ بن مسعود سے مروی ایک حدیث جس میں ہے کہ آپ نے درود کا طریقہ پوچھا تو آپ نے ان کا ایک ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ میں کرلیا(جوکہ تین ہاتھ سے مصافحہ کی دلیل ہے جس کا قائل کوئی نہیں خاص طور پر یہ کہ اس میں بڑے کے دو اور چھوٹے کے ایک ہاتھ کا تذکرہ ہے جبکہ آج کل پیر اور اور مرید کے درمیان الٹا ہے،پیر کا ایک یا چند انگلیاں ہوتی ہیں جبکہ مرید کے دونوں ہاتھ ہوتے ہیں، حقیقت میں یہ مصافحہ سے متعلق نہیں بلکہ یہ تعلیم سے متعلق آپ کی شفقت تھی تاکہ وہ شرح صدر کے ساتھ آپ کی بات توجہ سے سن سکیں اور یہ بات بھی یاد رہے کہ اس باب سے پہلے مصافحہ کے باب میں بخاری شریف کے اندر ہی ایک ہاتھ سے مصافحہ والی دلیل بھی وارد ہے)۔
بعض لوگ ہہ اشکال پیش کرتے ہیں کہ انگریز ایک ہاتھ سے سلام کرتے ہیں:
جبہ داڑھی بھی تو انگریزوں کے یہاں پائے جاتے ہیں چھوڑ دو گے؟!
یاد رہے جو چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اگر فرعون بھی اسے انجام دے تو اسے چھوڑا نہیں جائے گا ۔۔۔ورنہ یہ مسلمانوں کو نبی کی سنت سے دور کرنے کا سب سے آسان طریقہ ہوگا!😀😀😀😀
📌مصافحہ کے بعد سینے پر ہاتھ پھیرنا ۔۔۔۔
(٤)نبي نور تھے یا بشر؟
کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے؟
بشر اور آدمی تھے مگر ہماری طرح(اشکال)
قل إنما أنا بشر مثلكم يوحى إلي ...(الكهف)
سورہ انبیاء کی آیت نمبر 2اور 3 میں(جو محبوب کو اپنی طرح کہے وہ ظالم ہے)۔
سورہ انبیاء ہی کی ساتویں آیت میں یہ بھی تو ہے کہ نبی کو ہم نے انسانوں میں سے بنایا ہے۔
اعتراض:کافر اور مسلم دونوں انسان ہیں مگر(مثل ہیں کیا)۔
قرآن اور رامائن دونوں کتاب ہیں(برابر ہیں کیا)۔
ہم تھوکیں تو بدبو آئے لوگ گھن کھائیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوک تو شفاء ہوجاتا تھا،اندھے کو آنکھ آجاتی تھی،دکھنے میں آدمی تھے باقی ساری چیزوں میں فرق تھا،صحابہ آپ کے وضوء کے باقیات کو چہروں پر ملتے تھے۔
مقام کے اعتبار سے نہیں تخلیق کے اعتبار سے بھی فرق تھا۔۔۔
آپ کو پیچھے دکھائی دیتا تھا۔
سایہ نہیں تھا۔(ایلاءوالی حدیث میں سایا ثابت ام المومینین نے سایہ دیکھ کر پہچان لیا۔
نور من نوراللہ اور کاغذ کے دو ٹکڑے
طائف میں پتھر - اونٹ کی اوجھڑی-کفارکا گلے میں پٹہ ڈال کر کھینچنا۔بیٹیوں کو طلاق ابولہب کے بیٹے سے۔ابو بکر کے پچھے سواری -غار میں چھپنا۔
کہتے ہیں آپ سوتےدل جاگتاتھا۔
شق صدر کے وقت آپ دیکھ رہے تھے؟
میرا رب کھلاتاہے پلاتا ہے
نور اور بشریت میں کوئی منافات نہیں فتمثل لہا بشرط
فبھت الذی کفر میں بشریت کی حکمت
احمد رضا کا شعر
واجب میں عبدیت کہاں ۔۔۔۔ممکن میں طاقت نہیں
حیران ہوں ۔۔۔۔تو یہ بھی نہیں اور وہ بھی نہیں
پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ أنا بشر مثلكم...
بعض نور بعض بشر
نور والوں کی دلیل :
قد جاء كم من الله نور وكتاب مبين
يهدي به الله ...يهدي بهما الله
دلیل:
فآمنوا بالله ورسوله والنور الذي أنزلنا معه.
ایک حدیث:
ان أول ما خلق الله نور نبيكم.جابر بن سمرہ
پہلے صفات پیدا ہوئی یا ذات
جیسا کہ تم کہتے ہو صفات کے اعتبار سے نور تھے
قدم مبارک کے نیچے کعبہ کے نیچے کی مٹی لگی تھی باقی الگ جنت کی نعمتوں سے
کیا قرآن نے نور کو بشر کے مقابلے میں ذکر کیا ہے
یہ سوال گویا اسی طرح ہے کہ کوئی کہے تم موچی ہو یا ۔مسلمان؟
کہتے ہیں سینہ چاک کرنے پر ایک قطرہ بھی خون نہ نکلا تو یہ معجزہ تھا جیسے حضرت عیسی کا باپ کے بغیر پیدا ہونا،احد میں خون (فاطمہ چٹائی جلاکر زخم پر رکھ رہی تھیں ۔
خلقت کے اعتبار سے بھی نور کہتے ہیں اور کہتے ہیں کبھی نور غالب آتی کبھی بشریت
اگر نور تو والدین چچا بھی نور تھے وہ یہ کہ سکتے ہیں کہ اللہ بشر سے نور پیدا کرنے پر قادر ہے۔
قل انما انا بشر
آپ کہہ دیجئے میں نہیں کہتا۔
موضوع روایت ہے
صحیح روایت:
ان أول ما خلق الله القلم
تیسری دلیل:
نور تھے مگر انسان کی شکل میں آئے تھے
فرشتوں کو انسان کی شکل میں مگر کھاتے نہیں تھے.
کبھی نوری مخلوق کو انسان کی شکل میں کھاتے نہیں ابراہیم کے مہمان
اے نبی آپ کہہ دیجئے میں بسر ہوں مگر میں نور ہوں کہیں نہیں
آپ نے کئی روایات میں خود کو بشر کہا ہے نور نہیں
فیصلہ جھوٹے کے حق میں
مسلم
بخاری میں
دو رکعت میں سلام ذوالیدین
(5)حیات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم۔
نبی کے چہرے پر بوسہ دیا میت کو بوسہ دینے کی دلیل مگر موت نبوی کے قائل نہیں ۔
سب سے پہلا فتنہ یہی رونما ہوا تھا ابوبکر نے قرآن کی آیت پڑھ کر ختم کردیا اور فرمایا "فقدمات"تاکہ کوئی احتمال ہی نہ بچے۔
صحابہ کا اجتماع موت نبوی پر ہوا مگر آج بھی حیات کم آتی موجود ہیں ۔
کہا جاتا ہے نبی زندہ آپ کہ بیویاں پیس کی جاتی ہیں ۔
(6) کیا مردے سنتے ہیں؟
فرمان باری تعالی ہے:
إنك لا تسمع الموتى ولا تسمع الصم الدعاء
اعتراض:قبرستان میں سلام کیوں کرتے، اگر نہیں سنتے تو جوابالحمدلله کیسے دیں گے؟
جواب:ہم جواب لینے کے لئے سلام نہیں کرتے بلکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی دعاء ہے جو قبرستان میں پڑھی جاتی ہے۔
جیسے:قل يا أيها الكافرون پڑھتے ہیں،تو کیا پیچھے کھڑے ہوئے کافر ہوتے ہیں،جن سے خطاب کیا جاتا ہے۔
اچھا حدیث میں یہ بھی تو آتا ہے نا کہ مردے کو جب دفن کر کے لوگ واپس ہوتے ہیں تو وہ ان کے جوتے کی آواز سنتا ہے،جی ہاں مگر خاص ہے:(إذا دفن الميت) 24 گھنٹہ کی بات نہیں ہے۔
کہاجاتا ہے جب مجھے بھوک لگتی ہے تب میں کھاتا ہوں کیا ہمیشہ کھانا سمجھا جاتا ہے۔
یہ اللہ سناتا ہے اس وقت ہمیں یہ اللہ کی قدرت ہے۔
ویسے اگر آپ اس حدیث سے
سننا ثابت کررہے ہیں تو بولنا بھی ثابت ہے کیونکہ اس کی ابتداء میں ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ مردہ نیک ہوتو کہتا ہے مجھے میرے ٹھکانے کی طرف جلدی لے چلو اگر برا ہوتا ہے تو کہتا ہے ہائے میری بربادی ۔۔۔(لہذا قبرستان جاکر فیس ٹو فیس بات کرو اگر بولنا عام نہیں مانتے تو سننا عام کیسے ہوگا۔
کفار مکہ میں سے جو بدر میں مقتول ہوئے ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مخاطب کرکے کہا تھا جہنم میں پہنچ گئے رب کا وعدہ سچ ہوا اس پر حضرت عمر نے تعجب ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر یہ ابھی تم سے بہتر سن رہے ہیں ۔
ولا تسمع الصم الدعاء (باریکی)
جس سے ایک قوت سلب ہوئی وہ نہیں تو جس سے تمام قوتیں سلب ہیں وہ کیونکر سنیں گے۔
مردوں کے سننے سے متعلق یہ آیت:(واذقال إبراهيم رب ارمي كيف تحيي الموتى)بھی پیش کرتے ہیں جو کہ بے بنیاد ہے وہاں تو وہ پرندے آئے تمہارے مردے کیوں نہیں آتے وہ تو معجزہ تھا۔
(7)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے صدقے آدم علیہ السلام نے دعاکی؟
حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے،الشفاء حدیث کی کتاب نہیں، اور حدیث مان بھی لیں تو من گھڑت ہے جو کہ حدیث ہوتی ہی نہیں ۔
اللہ کا کلام تو یہ کہتا ہے:
فتلقى آدم من ربه كلمات
وہ کلمات کیا تھے:
دوسری آیت میں ہے:ربنا ظلمنا أنفسنا وان لم تغفر لنا و ترحمنا لنكونن من الخاسرين
کیا قرآن و سنت باہم متعارض یو سکتے؟
(8)رفع الیدین سنت ہے:
گھوڑوں کی دم کہنا اور لوگوں کا اعتراض
آپ نے سلام پھیرتے وقت ہاتھ کو حرکت دینے سے منع کیا تھا اور اس کو خیل شمس سے تشبیہ دی تھی۔
یا لوگ نماز کی حالت میں ہاتھ اٹھا کر دعاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔
آپ اپنی سنت کو گھوڑے کی دم سے کیونکر تشبیہ دیں گے؟
اگر آپ نے اسے بتایا ہوتا تو لوگ کہتے آپ ہی نے بتایا تھا مطلب آپ نے ان کی مرضی سے کئے جانے والے عمل پر انکار کیا تھا اگر آپ اپنی سنت سے روکنا چاہتے تو اسی طرح کہتے جس طرح قربانی کے گوشت اور قبروں کی زیارت کے بار میں فرمایا:کہ پہلے منع کیا تھا اب کرو یا نہ کرو
اسی طرح بت رکھنے والی بات بہت بڑی نا انصافی ہے۔
سجدہ میں نہیں گرتے؟
پہلے رفع میں نہیں گرتے؟
منافقین کو رسوائی پسند تھی وہ تو خود کو سب سے زیادہ ایمان والا تو وہ کیوں بت لائیں گے؟
دوسروں کے پیروں پر چوٹ نہیں لگتے؟
کئی احادیث رفع یدین پر ہیں عبداللہ بن مسعود سے ہے ایک روایت نہ کرنے کہ مگر اس میں بھی اختلاف ہے صحیح یا ضعیف ہونے میں۔
کرنا ہی اصل ہے نہ کرنے گنجائش سوئی کے ناکہ کے مترادف ہے۔
(9)آمین سری ہا جہری:
مسند اسحاق میں 2396نمبر کی حدیث میں ہے کہ ایک صحابیہ فرمان ہیں کہ:صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمعته وهو يقول :مالك يوم الدين ...الضالين،قال آمين ، حتى سمعته وهي في صف النساء.
أمن ابن الزبير ومن وراءه حتى كان للمسجد للجة البخاري ، باب جهر الإمام بالتأمين (٧٨٠)
إذا أمن الإمام فأمنوا....
(1)مزار پر جانے سے بیٹا بیٹی کا مل جانا
بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں اولاد نہیں ہوتی کافی علاج کے بعد بھی جب کامیابی نہیں ملتی تو ہم قبروں کا رخ کرتے ہیں اور وہاں جاکر بابا سے مانگنے سے ہمیں اولاد مل جاتی ہے؟
میرے بھائیوں:دعاء عبادت ہے جو صرف اللہ کیلئے لائق و زیبا اس کا کسی اور کیلئے پھیرنا شرک ہے،،،اگر آپ کو وہاں جاکر اولاد مل جاتی ہے تو کیا قبر والے نے دیا ہر گز نہیں،دینے والا اللہ ہی ہے،کیونکہ قبر والا تو سن بھئ نہیں سکتا اور ایسے لوگوں سے نفع و نقصان کی امید لگانے والے سے بڑا گمراہ کوئی ہو ہی نہیں سکتا، جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے:(ومن أضل ممن يدعوا من دون الله من لا يستجيب له إلى يوم القيامة وهم عن دعائهم غافلون)
کیونکہ بندہ موت کے بعد اس دنیا سے کٹ جاتا ہے،برزخ کی زندگی میں ہوتا ہے،یہاں سے وہاں آواز نہیں پہنچ سکتی تو جواب دینا یا نفع و نقصان کا تصور ہی نہیں پیدا ہوتا۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ مردے سنتے ہیں جیسا کہ بدر کے مقتولین کو جب کنویں میں پھینکا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خطاب کیا تھا اور جب صحابہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ مردوں سے خطاب کررہے ہیں تو آپ نے فرمایا تھا کہ اس وقت وہ تم سے زیادہ ہماری باتوں کو سن رہے ہیں۔
اس میں کوئی دلیل نہیں ہے کہ مردے سنتے ہیں،کیونکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا ۔
ورنہ صحابہ یہ ہرگز نہ کہتے کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ مردوں سے خطاب کررہے ہیں،،،گویا ان کے یہاں یہ بات بالکل واضح تھی کہ مردے زندوں کی باتیں نہیں سنتت ہیں!
اسی طرح اللہ نے مردوں کے عدم سماعت کی بابت فرمایا:(إنما يستجيب اللذين يسمعون والموتى يبعثهم الله يوم القيامه)
پھر کچھ لوگ کہتے ہیں چلو آپ کی بات تو بجا ہے مگر،،،وہاں جانے پر کیوں مل جاتا ہے؟
تو یہ جاننا چاہئے کہ قبروں پر جاکر اولاد کا سوال کرنا شرک ہے، اور اللہ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوتا،کتنے لوگ وہاں جاکر بھی بے مراد ہی رہتے ہیں،جس کو ملا دیا گو اللہ نے ہی مگر اس کا ایمان جو چلا جو کہ سب سے بہترین اثاثہ ہے۔
(2)قرآن پڑھ کر مردے کو ثواب بخشنا
اس بارے میں علماء کے مابین اختلاف ہے؛
1-بخشا جو سکتا ہے۔
2-نہیں بخشا جا سکتا ہے۔
منع کے قائلین میں سے امام شافعی رحمہ اللہ بھی ہیں۔
امام ابن کثیر نے فرمان باري تعالى:{ وان ليس للإنسان إلا ما سعى کی تفسیر کے ضمن میں یہ کہا ہے کہ قرآن پڑھ کر ثواب نہیں بخشا جا سکتا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو اللہ کے نبی کے صحابہ کے پاس مال کم اور قرآن زیادہ تھا مثال کے طور پر حدیث واہبہ میں ایک صحابی کو مہر کیلئے کوئی مال نہ ملا سوائے تہ بند کے مگر قرآن کو مہر بنایا گیا۔
فائدہ:مزدوری اور پیشہ بھی مہر ہو سکتے ہیں۔
کیا ہمیں کہیں ملتا ہے کہ کسی صحابی نے قرآن پڑھ کر ثواب کسی میت کو بخشا ہو۔
اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو سب سے بہتر قرآن پڑھنے والے تھے کیا آپ نے کبھی قرآن پڑھ کر بخشا خدیجہ یا حمزہ یا کسی اور کیلئے؟!
اگر واقعی ثواب ہوتا تو کسی نی کسی سے وارد ہوتی۔۔۔۔۔
اسی لئے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ کے نبی اور صحابہ نے داعیہ اور امکان کے باوجود کوئی کام نہیں کیا ہے وہ کرنا کار خیر نہیں ہوسکتا!۔
(3)مصافحہ ایک یا دونوں ہاتھوں سے؟
سنت ایک ہہ ہاتھ سے ہے،جیسا کہ
▪حضرت عبداللہ بن بسر سے مروی ہے کہتے ہیں کہ:ترون يدي هذه صافحت بها رسول الله صلى الله عليه وسلم(التمهيد لابن عبدالبر بإسناد صحيح).
▪حضرت عمر کا ایک ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پکڑے ہویے تھے(صحیح بخاری،باب المصافحہ)
▪جب ایک مسلمان اپنا ہاتھ دوسرے بھائی کے ہاتھ میں دے کر مصافحہ کرتا ہے تو اس کے سارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں(مسند احمد)
دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنے کے بھی بعض لوگ (بعض علماء سے بھی منقول ہے مگر راجح ایک ہہ ہاتھ سے ہے یہ اور بات کہ دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنے والے کو برا بھلا نہیں کہا جائے گا جسے اس فتوی پر اعتماد ہو وہ اس پر بھی عمل کرسکتا ہے مگر راجح ایک ہاتھ والا ہے) اور مصافحہ کہتے ہی ایک ہاتھ کے دوسرے ہاتھ کے ملنے کو
حقیقت میں دو ہاتھ (دو + دو =چار)ہاتھ سے مصافحے کے حوالے سے کوئی ایسی حدیث وارد ہی نہیں جسے صحیح یا ضعیف کہا جا سکے۔
ہاں اس بارے میں بخاری شریف میں عبداللہ بن مسعود سے مروی ایک حدیث جس میں ہے کہ آپ نے درود کا طریقہ پوچھا تو آپ نے ان کا ایک ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ میں کرلیا(جوکہ تین ہاتھ سے مصافحہ کی دلیل ہے جس کا قائل کوئی نہیں خاص طور پر یہ کہ اس میں بڑے کے دو اور چھوٹے کے ایک ہاتھ کا تذکرہ ہے جبکہ آج کل پیر اور اور مرید کے درمیان الٹا ہے،پیر کا ایک یا چند انگلیاں ہوتی ہیں جبکہ مرید کے دونوں ہاتھ ہوتے ہیں، حقیقت میں یہ مصافحہ سے متعلق نہیں بلکہ یہ تعلیم سے متعلق آپ کی شفقت تھی تاکہ وہ شرح صدر کے ساتھ آپ کی بات توجہ سے سن سکیں اور یہ بات بھی یاد رہے کہ اس باب سے پہلے مصافحہ کے باب میں بخاری شریف کے اندر ہی ایک ہاتھ سے مصافحہ والی دلیل بھی وارد ہے)۔
بعض لوگ ہہ اشکال پیش کرتے ہیں کہ انگریز ایک ہاتھ سے سلام کرتے ہیں:
جبہ داڑھی بھی تو انگریزوں کے یہاں پائے جاتے ہیں چھوڑ دو گے؟!
یاد رہے جو چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اگر فرعون بھی اسے انجام دے تو اسے چھوڑا نہیں جائے گا ۔۔۔ورنہ یہ مسلمانوں کو نبی کی سنت سے دور کرنے کا سب سے آسان طریقہ ہوگا!😀😀😀😀
📌مصافحہ کے بعد سینے پر ہاتھ پھیرنا ۔۔۔۔
(٤)نبي نور تھے یا بشر؟
کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بشر تھے؟
بشر اور آدمی تھے مگر ہماری طرح(اشکال)
قل إنما أنا بشر مثلكم يوحى إلي ...(الكهف)
سورہ انبیاء کی آیت نمبر 2اور 3 میں(جو محبوب کو اپنی طرح کہے وہ ظالم ہے)۔
سورہ انبیاء ہی کی ساتویں آیت میں یہ بھی تو ہے کہ نبی کو ہم نے انسانوں میں سے بنایا ہے۔
اعتراض:کافر اور مسلم دونوں انسان ہیں مگر(مثل ہیں کیا)۔
قرآن اور رامائن دونوں کتاب ہیں(برابر ہیں کیا)۔
ہم تھوکیں تو بدبو آئے لوگ گھن کھائیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھوک تو شفاء ہوجاتا تھا،اندھے کو آنکھ آجاتی تھی،دکھنے میں آدمی تھے باقی ساری چیزوں میں فرق تھا،صحابہ آپ کے وضوء کے باقیات کو چہروں پر ملتے تھے۔
مقام کے اعتبار سے نہیں تخلیق کے اعتبار سے بھی فرق تھا۔۔۔
آپ کو پیچھے دکھائی دیتا تھا۔
سایہ نہیں تھا۔(ایلاءوالی حدیث میں سایا ثابت ام المومینین نے سایہ دیکھ کر پہچان لیا۔
نور من نوراللہ اور کاغذ کے دو ٹکڑے
طائف میں پتھر - اونٹ کی اوجھڑی-کفارکا گلے میں پٹہ ڈال کر کھینچنا۔بیٹیوں کو طلاق ابولہب کے بیٹے سے۔ابو بکر کے پچھے سواری -غار میں چھپنا۔
کہتے ہیں آپ سوتےدل جاگتاتھا۔
شق صدر کے وقت آپ دیکھ رہے تھے؟
میرا رب کھلاتاہے پلاتا ہے
نور اور بشریت میں کوئی منافات نہیں فتمثل لہا بشرط
فبھت الذی کفر میں بشریت کی حکمت
احمد رضا کا شعر
واجب میں عبدیت کہاں ۔۔۔۔ممکن میں طاقت نہیں
حیران ہوں ۔۔۔۔تو یہ بھی نہیں اور وہ بھی نہیں
پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ أنا بشر مثلكم...
بعض نور بعض بشر
نور والوں کی دلیل :
قد جاء كم من الله نور وكتاب مبين
يهدي به الله ...يهدي بهما الله
دلیل:
فآمنوا بالله ورسوله والنور الذي أنزلنا معه.
ایک حدیث:
ان أول ما خلق الله نور نبيكم.جابر بن سمرہ
پہلے صفات پیدا ہوئی یا ذات
جیسا کہ تم کہتے ہو صفات کے اعتبار سے نور تھے
قدم مبارک کے نیچے کعبہ کے نیچے کی مٹی لگی تھی باقی الگ جنت کی نعمتوں سے
کیا قرآن نے نور کو بشر کے مقابلے میں ذکر کیا ہے
یہ سوال گویا اسی طرح ہے کہ کوئی کہے تم موچی ہو یا ۔مسلمان؟
کہتے ہیں سینہ چاک کرنے پر ایک قطرہ بھی خون نہ نکلا تو یہ معجزہ تھا جیسے حضرت عیسی کا باپ کے بغیر پیدا ہونا،احد میں خون (فاطمہ چٹائی جلاکر زخم پر رکھ رہی تھیں ۔
خلقت کے اعتبار سے بھی نور کہتے ہیں اور کہتے ہیں کبھی نور غالب آتی کبھی بشریت
اگر نور تو والدین چچا بھی نور تھے وہ یہ کہ سکتے ہیں کہ اللہ بشر سے نور پیدا کرنے پر قادر ہے۔
قل انما انا بشر
آپ کہہ دیجئے میں نہیں کہتا۔
موضوع روایت ہے
صحیح روایت:
ان أول ما خلق الله القلم
تیسری دلیل:
نور تھے مگر انسان کی شکل میں آئے تھے
فرشتوں کو انسان کی شکل میں مگر کھاتے نہیں تھے.
کبھی نوری مخلوق کو انسان کی شکل میں کھاتے نہیں ابراہیم کے مہمان
اے نبی آپ کہہ دیجئے میں بسر ہوں مگر میں نور ہوں کہیں نہیں
آپ نے کئی روایات میں خود کو بشر کہا ہے نور نہیں
فیصلہ جھوٹے کے حق میں
مسلم
بخاری میں
دو رکعت میں سلام ذوالیدین
(5)حیات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم۔
نبی کے چہرے پر بوسہ دیا میت کو بوسہ دینے کی دلیل مگر موت نبوی کے قائل نہیں ۔
سب سے پہلا فتنہ یہی رونما ہوا تھا ابوبکر نے قرآن کی آیت پڑھ کر ختم کردیا اور فرمایا "فقدمات"تاکہ کوئی احتمال ہی نہ بچے۔
صحابہ کا اجتماع موت نبوی پر ہوا مگر آج بھی حیات کم آتی موجود ہیں ۔
کہا جاتا ہے نبی زندہ آپ کہ بیویاں پیس کی جاتی ہیں ۔
(6) کیا مردے سنتے ہیں؟
فرمان باری تعالی ہے:
إنك لا تسمع الموتى ولا تسمع الصم الدعاء
اعتراض:قبرستان میں سلام کیوں کرتے، اگر نہیں سنتے تو جوابالحمدلله کیسے دیں گے؟
جواب:ہم جواب لینے کے لئے سلام نہیں کرتے بلکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی دعاء ہے جو قبرستان میں پڑھی جاتی ہے۔
جیسے:قل يا أيها الكافرون پڑھتے ہیں،تو کیا پیچھے کھڑے ہوئے کافر ہوتے ہیں،جن سے خطاب کیا جاتا ہے۔
اچھا حدیث میں یہ بھی تو آتا ہے نا کہ مردے کو جب دفن کر کے لوگ واپس ہوتے ہیں تو وہ ان کے جوتے کی آواز سنتا ہے،جی ہاں مگر خاص ہے:(إذا دفن الميت) 24 گھنٹہ کی بات نہیں ہے۔
کہاجاتا ہے جب مجھے بھوک لگتی ہے تب میں کھاتا ہوں کیا ہمیشہ کھانا سمجھا جاتا ہے۔
یہ اللہ سناتا ہے اس وقت ہمیں یہ اللہ کی قدرت ہے۔
ویسے اگر آپ اس حدیث سے
سننا ثابت کررہے ہیں تو بولنا بھی ثابت ہے کیونکہ اس کی ابتداء میں ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ مردہ نیک ہوتو کہتا ہے مجھے میرے ٹھکانے کی طرف جلدی لے چلو اگر برا ہوتا ہے تو کہتا ہے ہائے میری بربادی ۔۔۔(لہذا قبرستان جاکر فیس ٹو فیس بات کرو اگر بولنا عام نہیں مانتے تو سننا عام کیسے ہوگا۔
کفار مکہ میں سے جو بدر میں مقتول ہوئے ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مخاطب کرکے کہا تھا جہنم میں پہنچ گئے رب کا وعدہ سچ ہوا اس پر حضرت عمر نے تعجب ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر یہ ابھی تم سے بہتر سن رہے ہیں ۔
ولا تسمع الصم الدعاء (باریکی)
جس سے ایک قوت سلب ہوئی وہ نہیں تو جس سے تمام قوتیں سلب ہیں وہ کیونکر سنیں گے۔
مردوں کے سننے سے متعلق یہ آیت:(واذقال إبراهيم رب ارمي كيف تحيي الموتى)بھی پیش کرتے ہیں جو کہ بے بنیاد ہے وہاں تو وہ پرندے آئے تمہارے مردے کیوں نہیں آتے وہ تو معجزہ تھا۔
(7)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے صدقے آدم علیہ السلام نے دعاکی؟
حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہے،الشفاء حدیث کی کتاب نہیں، اور حدیث مان بھی لیں تو من گھڑت ہے جو کہ حدیث ہوتی ہی نہیں ۔
اللہ کا کلام تو یہ کہتا ہے:
فتلقى آدم من ربه كلمات
وہ کلمات کیا تھے:
دوسری آیت میں ہے:ربنا ظلمنا أنفسنا وان لم تغفر لنا و ترحمنا لنكونن من الخاسرين
کیا قرآن و سنت باہم متعارض یو سکتے؟
(8)رفع الیدین سنت ہے:
گھوڑوں کی دم کہنا اور لوگوں کا اعتراض
آپ نے سلام پھیرتے وقت ہاتھ کو حرکت دینے سے منع کیا تھا اور اس کو خیل شمس سے تشبیہ دی تھی۔
یا لوگ نماز کی حالت میں ہاتھ اٹھا کر دعاء کرنے سے منع فرمایا ہے۔
آپ اپنی سنت کو گھوڑے کی دم سے کیونکر تشبیہ دیں گے؟
اگر آپ نے اسے بتایا ہوتا تو لوگ کہتے آپ ہی نے بتایا تھا مطلب آپ نے ان کی مرضی سے کئے جانے والے عمل پر انکار کیا تھا اگر آپ اپنی سنت سے روکنا چاہتے تو اسی طرح کہتے جس طرح قربانی کے گوشت اور قبروں کی زیارت کے بار میں فرمایا:کہ پہلے منع کیا تھا اب کرو یا نہ کرو
اسی طرح بت رکھنے والی بات بہت بڑی نا انصافی ہے۔
سجدہ میں نہیں گرتے؟
پہلے رفع میں نہیں گرتے؟
منافقین کو رسوائی پسند تھی وہ تو خود کو سب سے زیادہ ایمان والا تو وہ کیوں بت لائیں گے؟
دوسروں کے پیروں پر چوٹ نہیں لگتے؟
کئی احادیث رفع یدین پر ہیں عبداللہ بن مسعود سے ہے ایک روایت نہ کرنے کہ مگر اس میں بھی اختلاف ہے صحیح یا ضعیف ہونے میں۔
کرنا ہی اصل ہے نہ کرنے گنجائش سوئی کے ناکہ کے مترادف ہے۔
(9)آمین سری ہا جہری:
مسند اسحاق میں 2396نمبر کی حدیث میں ہے کہ ایک صحابیہ فرمان ہیں کہ:صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمعته وهو يقول :مالك يوم الدين ...الضالين،قال آمين ، حتى سمعته وهي في صف النساء.
أمن ابن الزبير ومن وراءه حتى كان للمسجد للجة البخاري ، باب جهر الإمام بالتأمين (٧٨٠)
إذا أمن الإمام فأمنوا....