القائمة الرئيسية

الصفحات

شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ اور طریقہ قادریہ


شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ اور طریقہ قادریہ
ممتاز نوری (صبیح اسلامک دعوہ سینٹر،قصیم،سعودی عرب)
آج 11 ربیع الآخر 1440ھ ہے آج کے دن منائی جانے والی گیارہویں شریف بھی  بر صغیر کے مسلمانوں کی طرف سے ایجاد کردہ  خود ساختہ مناسبات میں سے ایک ہے،اسکی وجہ آج ہی کے دن شیخ عبدالقادر جیلانی  (جن كا مكمل نام عبدالقادر بن ابی صالح عبداللہ بن جنکی دوست الجیلی(الجيلانى)الحنبلی،جبکہ آپ کی کنیت ابو محمد اور لقب محی الدین اور
شیخ الاسلام ہے، آپکی ولادت جیلان(طبرستان کے بعد ایک شہر)میں  سن471ھ ىا 470 میں ہوئی،آپ کی وفات سن561ھ میں ہوئی.،علاقائی نسبت کی وجہ سے آپ کو جیلانی، گیلانی یاکیلانی کہا جاتاہے،آپ کے اساتذہ میں ابوغالب محمد بن حسن باقلانی،احمد بن مظفر بن سوس،ابوالقاسم ابن بیان وغیرہ شامل ہیں .آپ سے امامأبو سعد سمعانی ،حافظ عبدالغنی،شیخ موفق الدین ابن قدامہ وغیرہ نے شرف تلمذحاصل کیا.آپ نے  تىن كتابىں؛ غنية الطالبين(الغنية لطالبي طريق الحق)،فتوح الغيب،الفتح الباني والفيض الرحماني)بهى تأليف كىہیں. 
آپ سے متعلق علماء و ائمہ  کی متعدد تعریفیں وارد ہیں:
امام ذھبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:شیخ امام عالم زاہد عارف قدوہ شیخ الاسلام اولیاء کے علم.(سیر اعلام النبلاء 20/439).
امام سمعانی فرماتے ہیں :عبدالقادر جیلان سے تعلق رکھتے تھے اپنے زمانے میں حنابلہ کے امام اور ان کے شیخ تھے ،فقیہ،صالح،دیندار،بھلے،کثرت سے ذکر کرنے والے ہمیشہ غور  و فکر کرنے والے اور جلد رونے والے تھے .(دیکھئے:سیر اعلام النبلاء :20/441).
ابن کثیر رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے :آپ کیلئے اچھا حسن تھا،آپ خاموش مزاج تھے،نیکی کا حکم کرتے اور برائی سے روکتے تھے،ان میں بہت زہد تھا، ان کے بارے میں بہت سے احوال اور مکاشفات منقول ہیں ، ان کے اصحاب اور پیروکاروں سے ان کے بارے میں کئی مقالات معقول ہیں ان سے متعلق کئی اقوال و افعال اور مکاسفات ذکر کئے جاتے ہیں جن میں سے اکثر غلو سے خالی نہیں ہیں آپ نیک اور پرہیزگار  تھے ، اپ نے کئی ایک کتابیں تصنیف فرمائی ہیں جیسے :غنیة الطالبين اور فتوح الغیب وغیرہ ان میں بہت سی اچھی باتیں بھی ہیں اور کچھ ضعیف اور موضوع روایات بھی ہیں مجموعی طور سے وہ سادات مشائخ میں سے تھے.(البدایہ  والنھایہ12/768) ).کی ولادت یا اسکا لوگوں سے ملاقات کے لئے خاص کردہ دن ہونا بتائی جاتی ہے،ویسے کسی بھی شخصیت پر گفتگو یا تحریر کے وقت اس طرف توجہ دینا از حد ضروری ہے کہ جوبات بھی کہی یا لکھی جائے وہ عدل و انصاف پر مبنی علمی معیار کے مطابق ہو،خاص طور سے اس شخص کی اہمیت کا اعتراف کرنا بھی بہت ضروری ہے،جس نے دین کی خاطر بیس بہا قربانی پیش کی ہوں،مگر اس کا یہ مطلب ہر گز بھی نہیں کہ ان  سے غلطیوں  کا امکان نہ ماں کر ان کی غلطی کو مانا ہی نہ جائے،یہ قاعدہ شیخ عبدالقادر جیلانی  اور ان کے علاوہ دیگر علمائے اسلام پر فٹ ہوتا ہے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ ان عظیم ائمہ اسلام میں سے ہیں جو اپنے زمانہ میں  مسلمانوں کے علم عمل فتوی وغیرہ دین  کے دیگر  ابواب میں سردار تھے،وہ اپنے زمانہ کے مشائخ کے درمیان شریعت کو سب سے زیادہ لازم پکڑنے والے نیکی  کی پابندی اور برائی سے اجتناب کرنے والے تھے،اور وہ شریعت کو تمام امور پر مقدم رکھتے تھے۔
زاہد و واعظ تھے آپ کی ایک مجلس میں کئی لوگ توبہ کیا کرتے تھے،اللہ نے ان کی یادیں لوگوں میں خوبصورت بنادیں اور آپ کی فضیلت کو لوگوں میں عام کر دیا۔ان پر اللہ کی کشادہ رحمت ہو-۔
شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ سنت کی اتباع  کرنے والے تھے وہ بدعتی  نہ تھے،سلف  صالحین کے طریقے پر چلنے والے تھے انہوں نے اپنی تالیفات میں لوگوں کو سلف کی پیروی پر ابھارا ہے،انہوں  نے اسی کی تعلیم بھی دی ہے،وہ لوگوں کو دین کے نام پر بدعتوں کی ایجاد سے منع کرتے تھے، اشاعرہ اور ان کی طرح دوسرے متکلمین کی کھل کر مخالفت کرتے تھے۔
شیخ اہل حق اہل سنت و جماعت سے انکے مسائل عقیدہ ؛توحید،ایمان،نبوات اور آخرت  کے بارے میں عقائد سے متفق تھے۔
آپ کی تالیفات میں چند غلطیاں ، لغزشیں  اور کچھ بدعات بھی واقع ہوگئی ہیں،مگر آپ کے فضائل کے سامنے ان کی کوئی حیثیت نہیں،ان اخطاء اور ان کے غلط ہونے کے سبب سے  متعلق جانکاری کیلئے شیخ دکتور  سعید بن مسفر  کی کتاب: الشيخ عبدالقادر الجيلاني وآراؤه الاعتقادية والصوفية  کا ص 440 سے 476 کا مراجعہ کیا جاسکتا ہے۔
 یہ بھی درست نہیں کہ کسی عالم دین چہ جاییکہ کسی عام آدمی  کو حق اور درستگی کا معیار کامل تصور کرلیا جائے،اور اسی کے قول کو حق مانا جائے اور ان کے مخالف کی باتوں کو باطل قرار دیا جائے،اب یہ چاہے شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ ہوں یا کوئی اور یاد رہے کہ حق وہی ہے جو کتاب وسنت کے موافق ہو چاہے اس کا کہنے والا کوئی بھی ہو،اور جو بات کتاب وسنت کے مخالف ہو اس کو ترک کرکے کتاب و سنت کی بات کو ماننا ضروری ہے،چاہے اس مخالف  قول کے کہنے والے عبدالقادر جیلانی ہوں یا مالک شافعی احمد یا کوئی دوسرا شخص ہو۔
تنبیہ:شیخ عبدالقادر  جیلانی رحمہ اللہ  کی تزکیہ سے ان کی جانب منسوب لوگوں  کا تزکیہ مقصد نہیں ہے
کیونکہ کسی شخص کا خود کو کسی کی منسوب کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ واقعی ان کی تعلیمات پر عمل کرنے والا ہو،کتنے لوگ خود کو کسی کی جانب منسوب کرتے ہیں مگر وہ اس سے سب سے دور ہوتے ہیں،کتنے گمراہ لوگ زہد  و تقوی کا لبادہ اوڑھتے ہیں مگر ان لا زہد  و تقوی سے دور دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا۔آج کل کا موجودہ صوفی طریقہ ھو طریقہ  قادریہ کے نام سے معروف ہے وہ اس درست طریقہ پر باقی نہیں جو شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کا طریقہ تھا،بلکہ یہ صوفیت کا قرآن و سنت سے منحرف طریقہ ہے،ان کے یہاں شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ سے متعلق حد درجہ گلو پائی جاتی ہے۔بلکہ اس قدر غلو کیا جاتا ہے کہ ان کے لیے اللہ کی صفات کا اطلاق ہونے لگتاہے،ان کے قبر متعلق  خوب غلو پایاجاتا ہے ،ان سے فریاد رسی کی جاتی ہے،ان کے اوصاف و کرامات  کے بیان میں  غلو  کیا جاتا ہے۔
اگر آج کے نام نہاد شیخ کے منتسبین اور کتاب وسنت اور سلف  صالحین سے وارد شدہ تعلیمات بلکہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے تعلیمات کے مابین مقارنہ سے دونوں گروہوں کے درمیان دوری واضح ہوجاتی ہے،اور قادریہ فرقے کی خود اپنے شیخ کی تعلیمات سے انحراف کا اندازہ ہوتا ہے،کیونکہ انہوں نے ایسی بدعتین ایجاد کرلی ہیں جو کسی بھی صورت میں شیخ رحمہ اللہ پسند نہیں کرسکتے۔
معتبر اہل علم کے یہاں  ان کا شمار غلو  کے شکار لوگوں میں ہوتا ہے،جیساکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمہ اللہ کے بکری پر زیارت کے مسئلے 1/228میں رد کے باب میں وارد ہے۔
اسی طرح علامہ محمد بن ابراہیم آل شیخ کے فتاوی  میں ان کے بعض شرکیات کے ارتکاب کی طرف اشارہ ہے۔
دیکھئے:فتاوی ابن ابراہیم 1/276،109۔،فتاوی لجنہ دائمہ  2/250،252۔
درر  سنیہ 1/74۔
محترم قارئین:شیخ عبدالقادر جیلانی کے پیروکاروں  نے ان پر خوب جھوٹ گڑھی ہیں اور انھوں نے آپ کے جانب ایسی چیزیں منسوب کی ہیں جسے انھوں نے نہ تو کہا ہے اور نہ ہی وہ اس سے راضی ہوسکتے ہیں اور وہ آپ کی سیرت اور طریقہ سلف کی اتباع  اور بدعت سے اجتناب کی دعوت کے مخالف ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمہ اللہ نے مجموع فتاوی:27/127میں ایسے ہی چند اکاذیب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخ عبدالقادر نے ایسا نہیں کہا ہے،اور نہ ہی اس کا حکم دیا ہے،اور جس نے ان کے حوالے سے یہ بات کہی ہے اس نے آپ پر جھوٹ بولا ہے۔
انہیں اکاذیب میں سے ایک جھوٹ یہ بھی ہے کہ ایک شرکیہ (کفر و ضلالت) پر مبنی قصیدہ آپ کی جانب منسوب کیا گیا ہے جس کے بارے میں یقین سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ اس میں مذکورہ اشعار سے بالکل بری ہیں:
علماء کے علوم انہیں کے علم سے ماخوذ ہے،عبادات انہیں کی فرض کردہ ہیں،جہنم کو بند کرانے پر قادر ہیں،اپنے وفادار مریدوں کی مدد کرتے ہیں،انہیں مصائب سے محفوظ رکھتے ہیں، اس کے ساتھ عمل کے وزن کے وقت موجود ہوں گے۔
تمام معاملات کی چابیاں،آخرت کے احوال اللہ کے ذمہ ہیں کسی مقر فرشتے،نبی مرسل یا کسی نیک بندے کے پاس کوئی اختیار نہیں اللہ نے اپنے پیارے رسول کو (جو سب سے عظیم ہستی ہیں،اللہ کی مخلوقات میں سب سے بالا و برتر ہیں )یہ حکم فرمایا:
قل لا أملك لنفسي نفعا ولا ضرا إلا ما شاءالله ولوكنت اعلم الغيب لا ستكثرت من الخير وما مسني  السوء إن انا إلا  نذير وبشير لقوم يؤمنون الاعراف:١٨٨
اسی طرح:قل اني لا أملك لكم ضرا  و لا رشدا (٢١)قل اني لن يجيرني من الله أحد ولن أجد من دونه ملتحدا  (الجن ٢١/٢٢)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قرابت داروں  کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھاکہ وہ خود جہنم کی اگ سے  ایمان اور شریعت پر عمل کرکے بچالیں کیونکہ انہیں اللہ سے کوئی چیز بچانے والی نہیں ہے
آپ نے یہ بھی بتادیا کہ آدم،نوح،ابراہیم،موسی،اور عیسی علیہم السلام قیامت والے دن نفسی نفسی کہیں گے تو شیخ  عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ یا کوئی دوسری مخلوق کو یہ اختیار کیسے حاصل ہوگا کہ وہ اپنے مریدوں کو نجات دلائے،اپنے وفاداروں کی حمایت اور طرفداری کریں ان کی مدد کریں بروز قیامت ان کے اعمال کے وزن کے وقت ان کے ساتھ رہیں،جہنم  کے دروازے بند کرا دیں۔
اس قصیدہ کے کہنے والے نے غلو میں اس قدر اضافہ کیا کہ حس و عقل اور شرع سب کو پار کرگیا،اس نے یہ دعوہ کیا کہ وہ محمد کے نور سے  مخکوقات سے پہلے تھے اور وہ محبوبوں کے اجتماع کے وقت قوسین کے برابر تھے یعنی وہ محمد اور جبریل علیہ السلام کے ساتھ تھے،اور وہ نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں تھے،اور انھوں نے خود اپنے کف قدرت پر طوفان کا مشاہدہ کیا،وہ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تھے جب وہ آگ میں ڈالے گئے اور اس آگ کا ٹھنڈا ہونا آپ کی ہی دعاء کے سبب تھا،اور وہ اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ بھی تھے،اور مینڈھا بھی آپ کی قوت سے نازل ہوا تھا،وہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے ساتھ بھی تھے جب انکی بینائی چلی گئی تھی اور آپ ک
بینائی بھی آپ کے تھوک ک سبب واپس آئی انھیں نے حضرت ادریس کو جنت الفردوس میں تخت نشین کیا ہے،وہ موسی علیہ السلام کے پاس بھی تھے جب انھوں نے اپنے رب سے دعاء کی،ان کی لاٹھی بھی آپ کے لاٹھی سے نکلی تھی،وہ عیسی علیہ السلام کے ساتھ ماں کے گود میں بھی تھے،داود علیہ السلام کو قراءت میں اچھی آواز بھی انھیں کی دین تھی،اس کے علاوہ بھی بہت بھونڈے دعوی کیا ہے اس قصیدہ کے کہنے والے نے بلکہ اس نے تو اپنے قصیدے کے تین شعر میں اللہ ہونے کا بھی دعوی کیا ہے،جس میں سب سے زیادہ تصریح اس قول میں کی ہے کہ:
أنا الواحد الفرد الكبير بذاته     أنا الواصف  الموصوف شيخ الطريقة
اللہ تعالی اس بلند و بالا ہے ،اس کے بعد کفر  اور کیا ہے ؟اللہ کی پناہ
ان سے متعلق دراسات اور کتابیں:بعض اسکالرس نے شیخ جیلانی کے عقیدہ اور سیرت پر بحث لکھنے کا اہتمام کیا ہے،جیسا کہ شیخ سعید بن مسفر  وفقہ اللہ  نے اپنی کتاب الشيخ عبدالقادر الجيلاني و آراؤه الاعتقادية والصوفية میں کیا ہے،واضح رہے کہ شیخ نے جامعہ ام القری میں اسے دکتوراہ کے رسالہ کے طور پر پیش کیا ہے آپ نے اپنے اس بحث کے خلاصہ کے طور پر فرمایا ہے کہ:
پہلی بات:شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ  عقیدے کے تمام ابواب:مسائل ایمان،توحید،نبوات،یوم آخر،میں  اہل سنت والجماعت کے منہج پر سلفی عقیدہ کے ماننے والے تھے،اسی طرح آپ نے ولات امر کی اطاعت کو لازم پکڑنے کو ثابت کیا ہے،اور ان پر خروج کو جائز نہیں کہا ہے.
دوسری بات: سنت سے قریب تر معتدل معنی والے صوفیت  کے پہلے مرحلہ میں جس میں غالبا  کتاب وسنت پر اعتماد کیا جاتا تھا اور اعمال قلوب پر ترکیز  کیا جاتا تھا وہ اس کے مشائخ میں سے تھے۔
تیسری بات: ان کے تصوف کے علوم کو ان مشایخ  سے(جو کتاب و سنت سے معتمد علم سے استدلال  کرتے تھے جیسے ان کے شیخ دباس جو کہ امی تھے پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے) حاصل کرنے کو دیکھتے ہوئے ان سے کچھ غلطیاں بھی واقع ہوئی ہیں،اور ا  سے بعض بدعتوں  کا ارتکاب بھی ہوا ہے،مگر یہ لغزشیں  ان کے نیکیوں کے سامنے  کچھ بھی نہیں،معصوم تو صرف انبیاء کرام ہی تھے،ان کے علاوہ لوگوں سے غلطی ہوئی ہے،مگر جب پانی دو قلہ  پہنچ جائے تو اس میں گندگی اثر انداز نہیں ہوتی۔
چوتھی بات: شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی طرف منسوب زیادہ تر کرامات میں مبالغہ سے کام لیا  گیا ہے، ان میں سے بعض صحت کے درجہ کو بھی نہیں پہونچتیں ،ان میں سے جن کا قبول کرنا ممکن ہے وہ یا تو فراست کے باب سے ہے،یا ان کرامات کے ضمن  میں آئیں گے جس کے قائل  معروف شرعی  ضوابط کے ساتھ اہل سنت والجماعت بھی ہیں جن لا تذکرہ رسالہ کے اندر کیا جاچکا ہے۔
الشيخ عبدالقادر الجيلاني وآراؤه الاعتقادية  والصوفية ص ٦٦٠ /٦٦١.

شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے نام پر انجام دیئے جانے والے چند خرافات:
1-گیارہویں شریف(ختم غوثیہ شریف میں یاعبدالقادر المدد کے نعرے لگائے جاتے ہیں)الم نشرح،اخلاص اور یس کی مخصوص  مقدار میں ورد کی جاتی ہے۔
●مصر میں شیخ احمد مصری کا موت کے بعد زندگی کی جھوٹی اور بے دلیل داستان ۔
گیارہویں کرنے سے آسانیاں  ہوتی ہیں اور مصائب دور ہوتے ہیں ۔
چھوٹی اور بڑی گیارہویں۔
2-نماز کے بعد بغداد کی طرف رخ کرکے با ادب قیام۔
قابل غور نكات:
-عرف قديم  اور لفظ صوفيت
-كتب برائ كرامات جيلاني(قلائد الجواهر+بهجة الأبرار)
-أخطاء الشيخ الجيلاني وتوجيهاته