ٹھنڈی کے مسائل
ممتاز
نوری(قصیم،سعودی عرب)
ٹھنڈی اور گرمی ، ٹھنڈک اور گرم اور دن و رات کا اختلاف اور
اللہ تعالی نے ان دونوں میں جو عبرتین اور نشانیاں پیدا کی ہیں جیسے سورج چاند
ستارے اور ساتوں آسمان یہ سب مخلوق میں سے اللہ تعالی کی نشانیاں ہیں،جو اللہ کی
وحدانیت ربوبیت اور قیومیت اور اس کے عظیم قدرت اور کمال تدبیر پر
دلالت کرتی ہیں،اور اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ صرف اللہ تعالی ہی عبادت کا
مستحق ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں ، اور یہ کہ اس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے
اور یہ کہ ساری مخلوقات اس کی محتاج ہیں،سبھی اس کے سامنے بے بس ہیں ،طبیعت
کا اس میں کوئی قدرت و اختیار نہیں ہے،جو ہمیں اس میں سے مل گیا اسے ہم سے اللہ کے
علاوہ کوئی چھین نہیں سکتا اور جو اللہ نے ہمیں عطا نہیں کیا کوئی ہمیں دے نہیں
سکتا.
وہی پاک پروردگار دن و ماہ میں تبدیلی لاتا ہے وہی زمانے اور سال کو
سمیٹتا ہے،وہی ہے جو ٹھنڈی کے بعد گرمی لاتا ہے اور گرم کے بعد ٹھنڈ کا موسم لاتا
ہے، اسے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے.
فرمان باری تعالی ہے:(إن
في خلق السماوات والأرض واختلف اليل والنهار لآيات لأولي الألباب(آل عمران:١٩٠)،اور دوسری جگہ ارشاد ہے:(وفي الأرض آيات للموقنين (٢٠) وفي أنفسكم أفلا تبصرون(الذاريات ٢٠-٢١(,ایک اور مقام پر ارشاد
ہے:أولم ينظروا في ملكوت السماوات والأرض وما خلق الله من
شيء(الأعراف:١٨٥)
اس
وقت ہم ٹھنڈی کے ابتدائی ایام سے گذر رہے ہیں ، ٹھنڈی کی ضروریات دیگر مواسم سے
علیحدہ ہوتی ہیں ، گرمی میں انسان باریک کپڑے پہنتا ہے،جبکہ ٹھنڈی میں موٹے اونی
کپڑے درکار ہوتے ہیں انسان کو موسم سرما میں ٹھنڈی سے بچنے کیلئے درکار ضروریات کے
سلسلے میں چند احکام حسب ذیل ہیں .
1-
جانوروں
کے ثمر سے بنے جیکٹ اور دستانوں کو استعمال جائز ہے بشرطیکہ وہ چیتے یا شیر کے نہ
ہوں کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے.
2-
شال
یا چادر وغیرہ سے دوران نماز منھ ڈھانپنا درست نہیں اس سلسلے میں بھی نہی
وارد ہے.
3-
آگ
(دفایہ)کی جانب رخ کرکےنماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے.
4- موزوں پر مسح کی رخصت بھی دی گئی ہے.اس سلسلے میں حدیث متواتر
ہیں،موزوں پر مسح کیلئے درج ذیل شرطیں ہیں ؛
1-طہارت کے بعد موزے پہنے جائیں.
2-موزے اعضاء وضو کو ساتر ہوں .
3-مسافر اور مقیم کیلئے متعین مدت کے اندر ہوں.
4-مسح حدث اصغر کی صورت میں ہو حدث اکبر کیلئے غسل ضروری ہے.
5-
وضوء
کیلئے گرم پانی کا استعمال کیا جا سکتا ہے(حضرت عمر کیلئے پانی گرم کیا جاتا تھا).
6-
وضوء
کے وقت مکمل طرح سے اعضاء دھونے کا اہتمام کیا جائے کوئی بھی عضو خشک نہ رہے.
7-
ستونوں
کے درمیان بلاوجہ صرف گرمی کے حصول کی خاطر نماز نہ پڑھیں .