نماز كے أوقات اور سنن رواتب
ممتازعالم نسىم أحمد (قصىم,سعودى عرب)
عربی زبان میں نماز کیلئے
لفظ الصلاة کا استعمال ہوتا ہے،جس کے معنی دعاء کے ہوتے ہیں،اصطلاح شریعت میں
الصلاة (نماز)اس عبادت کو کہا جاتا ہے، جو مخصوص اعمال اور اقوال پہ مشتمل ہوتی ہے
اس کی شروعات تکبیر سے اور خاتمہ تسلیم پر ہوتی ہے،یہ مسلمانوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ دن میں پانچ مرتبہ
فرض ہے,اللہ تعالی نے عبادات کیلئے ایک مخصوص وقت متعین کیا ہے جس میں سے ہمیں بعض
کا علم ہوسکتا ہے اور ہوسکتا ہے بعض ہم پر مخفی ہوں بہر صورت ہم اس کے مخلف ہیں ان
سے تجاوز سوائے عذر کی حالت کے جائز نہیں
ہے، لہذا مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ بلاعذر وقت کے نکل جانے تک موخر کرےاللہ
تعالی نے سورہ کی آیت إن الصلاة كانت على المؤمنين كتابا موقوتا میں اسی جانب اشارہ کیا ہے،پس بلاسبب عمدا فوت
شدہ نمازوں کی قضاء نہیں ہوسکتی (یہی
قول حضرت عمر بن خطاب ،ابن عمر سعد بن ابی وقاص
سلمان ابن مسعود قاسم بن محمد بن
ابی بکر ، ابن سیرین مطرف بن عبداللہ ،عمر بن عبد العزیز وغیرہ کا بھی ہے،شیخ
الاسلام ابن تیمیہ اور ابن قیم الجوزیہ اور مام شوکا نی کا یہی کہنا ہے معاصرین میں سے شیخ ابن باز اور اب عثیمین نے بھی اسی
کو راجح کہا ہے۔جبکہ بعض لوگوں نے ناسی اور نائم پر قیاس کرتے ہوئے اس پر قضاء
کو واجب قراردیا ہے مگر فارق کی
موجودگی میں قیاس درست نہیں ہوتی جیسا کہ یہاں ہے کیونکہ
عامد گنہگار ہے جبکہ بھولنے والے پر کوئی
گناہ نہیں لہذا عاصی کو غیر عاصی پر قیاس کرنا کیونکر درست ہوگا)۔،جو شخص سستی
اور کاہلی کرتے ہوئے نماز کو چھوڑ دیتا ہے اس کے گناہ گار ہونے پر مسلمانوں کا اتفاق ہے،اور وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوگا,ایسے
شخص کو اس گناہ پر شرمندہ ہوکر آئندہ ایسا
کرنے سے بچنے کا عزم کرلینا چاہئے،اور اسے خوب
نیک اعمال اور نفل نمازوں کا اہتمام کرنا چاہیے ،امام ابن حزم رحم اللہ
فرماتے ہیں کہ :(جو شخص جاں بوجھ کر نماز کو وقت کے نکلنے تک چھوڑ دے ایسا
شخص کبھی بھی اس کی قضاء نہیں کرسکتا
ہے،لہذا اسے چاہئے کہ وہ نیک کام اور نفل
نمازوں کی کثرت کرے تاکہ بروز قیامت
اس کا نامہ اعمال بھاری ہو،اور اسے اللہ تعالی سے توبہ و استغفار کرنا چاہئے(المحلی:2/235),لیکن
اگر کسی کی نماز بسبب عذر جیسے نیند یا بھول کی وجہ سے وقت سے نکل جائے تو اسے چاہیئے
کہ عذر کے ختم ہوتے ہی یا اٹھ کر یا یاد آتے ہی وقت پر ادائیگی ہی کی طرح بلا زیادہ
یا نقصان پڑھ لے جیساکہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:(من نسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّهَا
إِذَا ذَكَرَهَا لا كَفَّارَةَ لَهَا إِلا ذَلِكَ)(مسلم)جس
کی تفصیل پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان میں بیان کىا ہے،جیسا کہ
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ
عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:(نماز ظہر کا
وقت سورج کے زوال کے بعد سے آدمی کا سایہ اس کے مثل ہوجانے تک رہتا ہے،یہاں تک کہ
عصر کا وقت آجائے اور عصر کا وقت سورج کے پیلا ہوجانے تک رہتا ہے(یہی اصل وقت ہے
البتہ بخاری اور مسلم شریف میں موجود پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان:《جس شخص نے سورج کے غروب ہونے سے قبل ایک
رکعت بھی پالیا گویا اس نے نماز عصر کو(اس کے وقت میں)پالیا》 میں نماز عصر کے
اضطراری وقت کا بیان ہے)مغرب کی نماز کا وقت شفق کے غائب ہونے تک ہوتا ہے،نماز
عشاء کا وقت آدھی رات تک ہوتا ہے(آدھی رات
کی جانکاری کیلئے غروب اور فجر ثانی کے مابین وقت کو آدھا کردیں)نماز صبح کا وقت
طلوع فجر(ثانی)سے سورج کے نکلنے تک ہے لہذا جب سورج نکلنے لگے تو نماز پڑھنے سے رک
جاو اس لئے کہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔(مسلم شریف)
اس حدیث میں نمازوں کے اول و آخر وقت کا تذکرہ ہوا ہے،اسی طرح
۔۔۔۔۔ کی وہ حدیث بھی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی
فرضیت کے بعد دو دن نماز پڑھائی پہلے دن تمام نمازیں اول وقت میں پڑھائی جبکہ
دوسرے دن آخر وقت میں اور پھر فرمایا اے
محمد صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں کے وقت ان
دونوں وقتوں کے درمیان ہیں۔
أبوداود والترمذي,
وغيرهما عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أمني جبريل عليه السلام عند البيت مرتين،
فصلى بي الظهر حين زالت الشمس، وكانت قدر الشراك، وصلى بي العصر حين كان ظله مثله،
وصلى بي يعني المغرب حين أفطر الصائم، وصلى بي العشاء حين غاب الشفق، وصلى بي
الفجر حين حرم الطعام والشراب على الصائم، فلما كان الغد صلى بي الظهر حين كان ظله
مثله، وصلى بي العصر حين كان ظله مثليه، وصلى بي المغرب حين أفطر الصائم، وصلى بي
العشاء إلى ثلث الليل، وصلى بي الفجر فأسفر» ثم التفت إلي فقال: «يا محمد، هذا وقت
الأنبياء من قبلك، والوقت ما بين هذين الوقتين».
قال الشيخ الألباني حديث حسن صحيح .
ظہر :زوال(سورج کا بیچ آسمان سے ہٹ کر مغرب
کی جانب ڈھل جانا) سے آدمی کا سایہ اس کے حقیقی طول کے برابر ہوجانے تک۔,عصر:سایہ
کی برابری سے سورج کے پیلا ہوجانے تک۔,مغرب :غروب شمس سے (شفق احمر)آسمان کی لالی
کے خاتمہ تک ,عشاء کا وقت شفق کے خاتمہ سے
آدھی رات تک ,فجر:طلوع فجر ثانی سے طلوع آفتاب تک سطور بالا میں ہم نے نماز پنجگانہ کے اوقات کی معرفت
حاصل کی جس کا مطلب یہ ہے کہ
کسی بھی نماز کا ان اوقات میں پڑھ لینے سے
اسے وقت میں ادا مانیں گے جبکہ اس کے بعد ان کی ادائیگی قضاء شمار ہوگی۔
اللہ تعالی نے پانچ نمازیں
فرض کی ہیں اور اس میں واقع ہونے
والی خلل کے تکمیل کیلئے ان سے پہلے اور بعد میں کچھ نوافل بھی متعین کئے ہیں جو خیر
و فضل میں بڑھوتری کا باعث ہیں،جو مسنون نمازیں ہمیشہ
فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ اس کے پہلے یا بعد میں ادا کئے جاتے
ہیں انھیں سنن رواتب کہا جاتا ہے جس کی تعداد بارہ رکعت ہے
فجر سے پہلے دو رکعت ظہر سے قبل چار اور
دو اس کے بعد مغرب کے بعد دو اور
عشاء کے بعد بھی دو اسی بارے مین وہ مشہور
حدیث وارد ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ان پر مداومت برتنے والوں کیلئے جنت میں گھر
تعمیر کیا جاتا ہے،چونکہ یہ فرض نمازوں سے
ملے ہوئے ہیں لہذا ان کا وقت بھی فرض نمازوں کا ہی وقت ہے لہذا ظہر سے پہلے کی سنتیں
ظہر کا وقت ہوجانے پر ہی ادا کیا جائے گا
اسی طرح ظہر کے بعد کی سنت اس کے وقت کے نکلنے کے بعد نہیں پڑھی جائے گی الا یہ کہ
کسی نے عذر کے بناء پر چھوڑا ہو، اسی طرح
مغرب کی سنت مغرب کے بعد ہی پڑھی جائے گی اسی طرح فجر کے پہلے کی سنت فجر کے وقت
کے داخل ہونے پر ہی پڑھی جائے گی ہاں مطلق نوافل جن کے بارے میں حضرت عبداللہ بن
مغفل رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کی ہر دو اذان کے درمیان نماز ہےتو یہ
ہر نماز کیلئے عام ہے اذان واقامت کے درمیان (دخول وقت کے بعد)نفل نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ
سنن رواتب جو نماز سے خاص ہو انہیں نماز ہی
کے وقت پڑھنا ہے چاہے پہلے یا بعد میں