القائمة الرئيسية

الصفحات

حقيقة الإخوان المسلمين (باللغة الاردية)

حقیقتِ اخوانیت
 شیخ ابورضوان محمّدی سلفی (استاذ جامعہ محمدیہ منصورہ)
مورخہ 24 فروری 2018 کو شولاپور جمیعت اہل حدیث کے زیراہتمام ایک اجلاس ہوا جس کا مرکزی عنوان تھا "حقیقت اخوانیت" اور اس میں تین خطابات ہوئے اس پروگرام کے ردعمل میں دو پوسٹیں وہاٹساپ پر ھمیں موصول ہوئیں ایک ایاز احمد اصلاحی صاحب کی تحریر ہے دوسری سمیع اللہ خان صاحب کی دونوں تحریروں میں تحریکی فکر کا روایتی انداز ہے جذباتی انداز میں اپنے حق میں خوبصورت دعوے اور مقابل بالخصوص سلفیوں کے بارے میں ریڈی میڈ قسم کے گھسے پٹے الزامات جنھیں پڑھ کر  کسی جواب کی ضرورت بالکل محسوس نہیں ہوئی کیونکہ ان میں کوئی علمی بات اور دعووں کی کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس اجلاس میں ہونے والی تقریروں میں پہلے ہی ان باتوں کا جواب موجود ہے
پھر بھی مختصر تجزیہ پیش ہے۔
انہوں نے اجلاس اور اس کی تقریروں کو فتنہ انگیز اور منفی بنیادوں پر کہا ہے جواب ہے
یہ تقریریں امت کے نوجوانوں کو بچانے کیلئے بہت ضروری ہیں موجودہ حالات کی ضرورت ہیں اور اس بنیاد پر مثبت اور اصلاحی ہیں۔ تقریریں سن کر فیصلہ کیجئے کہ دونوں میں سے کون سا دعوی صحیح ہے؟
ایاز اصلاحی صاحب نے سلفیوں کو اس حدیث کا مصداق ٹھہرانے کی کوشش کی کہ  نبی اکرام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ پیشن گوئی کی گئی ہے کہ اس پرُفتن دور میں دین کے نام پر بننے والے گروہ بہت ہوں گے لیکن ان میں بیشتر وہ ہوں گے جو اسلام کا نام لیکر غیر اسلام کی خدمت کریں گے۔
ایاز صاحب پر تعجب ہے کہ انہوں نے جو لکھا وہ خود نہیں سمجھ سکے اخوانیوں اور سلفیوں میں سے دور فتن کی پیداوار کون ہے؟
آپ ہی نے نقل کیا ہم اخوانی 1928 کی پیداوار ہیں
سلفی کی نسبت تو صحابہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے لہذا ان کا وجود عہد رسالت سے ہے اور سلفیوں کی خدمات پوری تاریخ میں اور آج بھی دین خالص کی اطاعت اشاعت و دفاع اور ہر باطل کی تردید سے لبریز ہے۔
جبکہ اخوانیوں اور تحریکیوں کی خدمات کیا ہیں کس کے لیے ہیں 1928 سے اب تک کی تاریخ دیکھ لیجئے انہوں نے کسی نہ کسی شکل میں ہمیشہ دشمنان دین کو فائدہ اور امت مسلمہ کو نقصان پہنچایا ہے یہ ایران کی اندھی حمایت کرتے ہیں اور قدم قدم پر ان کا ساتھ دیتے ہیں جو عقیدت اور عمل میں ہمیشہ دین حق کے خلاف سرگرم رہے ہیں۔
مرسی صاحب نے مصر کی صدارت کے مختصر سے دور میں دو مرتبہ ایران کا دورہ کیا ان کے ایک نمائندے نے اسرائیل کا خفیہ دورہ کیا صدر مرسی نے مصر کے کئی کلیدی عہدوں پر روافض کی تقرری کی اور یہ سلسلہ جاری رہاصہیونی اور عالمی ایجنسیوں کو مسلمانوں میں ھنگامہ آرائی کرنے دھماکہ کرنےکیلئے رنگروٹ انہی تحریکیوں کے ذریعے ملتے رہے اور اسلام اور مسلمانوں کی بد نامی کا سبب بنتے رہے مسلمانوں کے خلاف عالمی ذہنی سازش اور کاروائیوں کی راہ ھموار کرتے رہے مسلم نوجوانوں کو تباہی کی  راہ پر ڈالتے رہے ۔۔۔۔ہندوستان کی ممنوعہ تنظیم کس کی اولاد اور پیداوار ہئے ؟
آج بھی ان کا فکری و منہجی مصدر کیا ہے ؟کیا آپ چاہتے ہیں کہ یہ حقائق کھول  کر بیان کئے جائیں؟  .....مجبور نہ کیجئے
انہوں نے لکھا "امام حسن البناء" اور ان کے چند ساتھیوں کے ذریعے اخوان المسلمین خالص احیاء دین کی غرض سے قائم کی گئی تھی سوال ہے کہ حسن البناء آپ کے نزدیک کس اعتبار سے "امام" ہیں کیا آپ ان کی تقلید کرتے ہیں اور کروانا چاہتے ہیں؟ دوسرا سوال ہے کیا حسن البناءصاحب کا دین کتاب وسنت کا خالص دین  تھا؟ مصطفٰی سباعی اور سعید حوی اور ان جیسےقائدین اخوان کا عقیدہ اور منہج اور عمل دین خالص کی ترجمانی کرتےتھے؟ وحدت الوجود کا ہندوانہ عقیدہ توسل بالشخص کا اہلسنت کے یہاں ( بشمول امام ابو حنیفہ) ناجائز عمل ـــــــــاورایسے متعدد منحرف عقائد و اعمال کے ساتھ کوئی شخص یا اسکی فکر اور تحریک خالص دین والی کیسے ہو سکتی ہے؟  محترم پہلے خالص دین کا علم حاصل کیجئےاور اس کے معیار پر لوگوں کی فکر منہج عقیدہ اور عمل کو پرکھیئے شخصیتوں سے حق کو نہیں بلکہ حق سے شخصیتوں کو پہچانا جاتا ہے۔ حسن البناء اور ان کے رفقاء اللّه کی صفات کے بارے میں "تاویل" کے مذہب کو ماننے والے ہیں جو قرآن و حدیث اور اہلسنّت کے اجماعی عقیدے کے خلاف ہے۔  معلوم کر لیجیئے!
یہ تحریکی سلفیوں کو ایک الزام تواتر کے ساتھ دیتے ہیں کہ یہ عربوں کا مال کھاتے ہیں اور ان سے وفاداری کرتے ہیں۔ دین کو سطحی سیاسی اورپروپیگنڈائی انداز میں سمجھنے اور سمجھانے والوں سے اس قسم کی بےتکی بات کی ہی امید کی جاسکتی ہے مگر یہ برصغیر کا ایک ٹرینڈ ہے عربوں کو کوسنے کی ایک فضا اور میڈیائی روایت قائم کر دی گئی ہے یہود و نصاریٰ نے عربوں اور سعودی عرب کے تعلق سے جو مزاج اور رجحان دیا ہے یہ اسی کی اتباع کرتے ہیں سعودی اور عربوں کے خلاف یہود و نصاریٰ کا جھوٹا میڈیا ان کے یہاں وحی الٰہی بن جاتا ہے اور ایران اور تحریکیوں کی مسلم مخالف سر گرمیوں کے دستاویزی ثبوت بھی رد کردیتے ہیں جان لیجئے کہ سلفیوں کا تعلق عربوں اور سعودی عرب سے کوئی پیٹرول نکلنے کے بعد کا نہیں ہے عربوں کی غربت کے زمانے میں بر صغیر کے سلفیوں نے اپنے وسائل کے مطابق ان کی بھر پور امداد کی ہے اور ان سے تعلق دینی تعلق ہے جسے عقیدہ  ولاء و براء کہتے ہیں اور یہ عقیدہ اگر صیح ہوگا تو آدمی صحابہ کرام کو گالیاں دینے والوں کو دوست اور توحید وسنت کی خدمت کرنے والوں کو دشمن نہیں بنائے گا ـ بحرین کے اخوانی قائد طارق سویدان نے کویت میں ایرانی وفد سے کہا تھا  اگر تم حضرت ابوہریرہؓ  اور صحابہؓ کو برا بھلا کہنا چاہتے ہو تو ٹھیک ہے مگر بس ہمارے سامنے نہ کہو..(دیکھیے کتاب احزروا لدغ العقارب) اخوانیوں کے ایسے کئی بیانات اور اقدامات بتاتے ہیں کہ دین ،ایمان اور ضمیر کون بیچتا ہے اور مادی مفادات کی بنیاد پر کس کے قبلے بدلتے ہیں مسلم دشمنوں کا ہر دور میں اعتراف رہا ہے کہ "سلفی بِکتے نہیں" تحریکوں کے لیے ایرانی امدادوں کا سلسلہ اب کوئی چھپی بات نہیں رہی ہاں اخوانیوں کا اسرائیل اور امریکہ کی مسلم دشمن ایجنسیوں سے تعلّق ابھی پوری طرح لوگوں کے سامنے کھلا نہیں ہے لیکن پوری طرح چھپا بھی نہیں رہا۔ تحریر اسکوائر پر حسنی مبارک کے خلاف ہونے والے احتجاج کا قائد کون تھا؟ اور اس کی ڈور کس کے ہاتھ میں تھی ۔۔ہندوستان کے لوگ نا جانیں لیکن عربوں کے سامنے یہ بات بالکل صاف ہو چکی ہے۔ کہ یہ قائد یہودی ایجنسی گوگل کا کارندہ تھا۔ اخوانی اور تحریکی خود کو اتحاد کا علمبردار اور سلفیوں کو بلا سمجھے رٹے رٹائے اعتراض سے متّہم کرتے ہوئے انتشار اور فتنہ کا ذمّہ دار قرار دیتے ہیں۔ جبکہ اخوانی قائدین کے ایسے بیانات اور اخوانیوں کے ایسے اعمال برابر سامنے آتے رہتے ہیں جو دوسروں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ اخوانی قائد علی العشماوی کا صاف فرمان ہے کہ جو لوگ ہم سے نہیں ملتے وہ کافر ہیں۔ سیّد قطب نے اخوانیوں کے علاوہ سارے معاشرہ کو جاہلی قرار دیا ہے۔ فی ظلال القران کو پڑھ کر ایک شخص نے شیخ العشماوی سے پوچھا کے سیّد صاحب کی تحریریں پڑھ کر مجھے یہ معلوم ہوا کہ سارے مسلمان کافر ہیں پھر ہم ان کا ذبیحہ کھائیں یا نہیں ؟ ۔۔۔۔اس پر شیخ العشماوی نے سیّد قطب سے رجوع کیا تو انہوں نے جواب دیا کے " انھیں مسلمانوں کو اہل کتاب کے زمرے میں رکھ کر ان کا ذبیحہ کھانے دو۔" ( یہ بات شولاپور کے خطاب میں بیان کی گئی ہے احذروا لدغ العقارب نامی کتابچے میں یہ باتیں حوالوں کے ساتھ موجود ہیں)
عرب علماء اخوانیوں کو تکفیری گروہ کہتے ہیں کہ یہ سب کو کافر قرار دیتے ہیں کتنے مسلم وزراء کو کافر قرار دے کر ان کے کارندوں نے قتل کر دیا۔ کل تک ہندوستان میں کانگریس اور دوسری سیاسی پارٹیوں سے وابستہ مسلمانوں کو تحریکی برملا کافر ٹھہراتے تھے اور اپنی کم علمی سے 'ومن لم یحکم بما انزل اللّه فاولئک ھم الکافرون' کا مصداق ٹھہراتے تھے۔
آج بھی اخوانی تمام مسلم حکام کو کافر کہتے ہیں ان کے کارپرداز عوام ہی نہیں علماء کو کفر اور گمراہی کا مرتکب قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک سعودی حکومت اپنی تمام دینی خدمات کے باوجود کفر اور کافروں کی ہمنوا   ہے۔ مگر ایران جمہوری بھی ہے اسلامی بھی بلکہ امیر معاویہؓ کی حکومت سے زیادہ اچّھی حکومت ہے  ۔  ۔  ۔  ہاں ! یہ امیر معاویہؓ اور صحابہؓ پر تنقید کرتے ہیں سعودی تو کسی شمار میں نہیں مگر ایران پر کبھی تنقید نہیں کرتے ۔ کیوں ؟ اس لیے کہ ان کے نزدیک صحیح اور غلط کا اور دوستی اور دشمنی کا معیار عقیدہ اور عمل صالح ہے ہی نہیں۔ ان کا معیار اپنی خود ساختہ فکر اور مفادات ہیں اور اہل حق کی مخالفت اور اہل موافقت کو یہ ڈھٹائی سے امّت کی خیر خواہی باور کراتے ہیں کہ یہ اتحاد کا نسخہ ہے ؟ یہ اسلام پسندی ہے؟ یوسف القرضاوی صاحب نے الجزائر پرایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ "الحریة عندنا مقدم علی تطبیق الشریعة" ۔ ' آزادی ہمارے نزدیک شریعت نافذ کرنے سے زیادہ مقدم اور اہم ہے۔' ۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے یہاں اتحاد کا مطلب ہے رافضیوں اور ان کے واسطے دشمنان اسلام سے ہاتھ ملانا۔ اور شرک کا رد کرنے والے اور توحید کے متوالوں کی مخالفت کرنا۔اگر کوئی شرک' بدعت' اور غلط منہج کی تردید کرے تو وہ اختلاف پیدا کرنے والا ہے۔ میرا اخوانیوں اور تحریکیوں سے سوال ہے کہ آپ کی اسلام پسندی کا مصدر کیا ہے ؟ کیا آپ رسول اللّه صلی اللّه علیہ وسلّم اور صحابہ کرامؓ سے بہتر دین والا کسی کو سمجھتے ہیں۔۔۔۔ تو بتائیے کہ اللّه کے نبی صلی اللّه علیہ وسلّم اور صحابہؓ نے شرک سے' دین میں نئے کاموں سے کتنا سمجھوتا کیا؟ جو آپ کرتے ہیں۔ یہ آپ کی کیسی اسلام پسندی ہے کہ احادیث رسول صلی اللّه علیہ وسلّم کی آپ کے یہاں عام تنقیص، تخفیف، اور تردید کی جاتی ہے  صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخیاں کی جاتی ہیں کئی اخوانیوں نے آپ کے امام " حسن البناء" کو صحابہ سے افضل قرار دیا۔جامعہ ازہر کے بعض اساتذہ نے جب غیظ و غضب کا مظاہرہ کیا تو قرضاوی صاحب نے اسے ان لوگوں کی ذاتی رائے قرار دے کر دفاع کیا۔ جب کے صحابہ کو افضل و عدول ماننا رائے کا معاملہ نہیں ہے۔ قرآن و حدیث سے ثابت شدہ اہلسنّت کا اجماعی عقیدہ ہے۔
اتفاق و اتحاد کی دعوت دینے والے یہ اسلام پسند افغانستان میں روسیوں کے دانت کھٹّے کرنے والے شیخ جمیل الرحمٰن رحمہ اللّه اور ان کے گروہ کے خلاف محاذ کھڑا کرتے ہیں۔ جب کہ شیخ جمیل نے افغانستان کے ایک حصّے میں اسلامی حکومت قائم کر لی تھی۔ ان اسلام پسندوں نے ان سے اتحاد و اتفاق کیوں نہیں کیا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ امّت پر جو فتنے اور انتشار کے بادل منڈلا رہے ہیں اس کے کئی عوامل میں سے ایک بڑا عامل مسلمانوں کے بیچ ایسے شر پسندوں کا وجود ہے۔ جو اسلام پسندی کے نام پر اسلام دشمنی کے آلئہ کار بنتے ہیں۔
جو ہر وقت مخالفین کے ایجنڈوں پر کام کرتے ہیں۔سچے مسلمانوں اور داعیوں کے خلاف پروپگنڈہ کرتے ہیں ( سعودی عرب، عالم کفر یہود و نصاریٰ اور اخوانیوں کا پہلا نشانہ ہے)
ایسے میں تحریکیوں کی یہ رٹ لگانا کہ امّت کے ایسے حالات میں یہ موضوع کیوں چھیڑا جا رہا ہے۔ یہ انتشار کی کوشش ہے۔ یہ سازش ہے۔یہ یہود و نصاریٰ کی مدد ہے؟ نہیں نہیں ۔۔ حقیقت میں یہ امّت کے برے حالات کے سبب کا بیان ہے۔ یہ امّت کے علاج کی کوشش ہے۔ یہ سچائی کو بے نقاب کرنے کا عمل ہے۔ اسلام پسندی کے چولے میں سازش کرنے والوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش ہے۔ یہ یہود و نصاریٰ کے اصل مدد گاروں اور اصل دشمنوں کے تعارف کا عمل ہے۔
مضمون میں پوچھا گیا ہے کے سلفیوں نے کیا کیا ہے اور مسلمانوں کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ حیرت کی بات ہے کہ یہ لوگ بھی عالمی میڈیا کی طرح جو حقیقت ہے اس کی نفی کرتے ہیں اور جو نہیں ہے اسے ثابت کرتے ہیں عالم اسلام میں سعودیوں اور سلفیوں نے جو کیا ہے جو کر رہے ہیں اور جو قربانیاں دی ہیں ایرانی اور اخوانی اس کا عشر عشیر بھی نہیں کر سکے ہیں۔ شام ، فلسطین ، عراق ، یمن ، ہر جگہ اہلسنّت کے شانہ بشانہ سب سے زیادہ کتاب و سنّت کے متوالے ہی نظر آئینگے۔شام کے 25 لاکھ جی ہاں 25 لاکھ سے زیادہ پناہ گزیں سعودی عرب میں تمام شہری حقوق مفت تعلیم و علاج کی سہولت کے ساتھ مقیم ہیں مگر تحریکی اسے بیان نہیں کرتے بلکہ اس کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔ برما کے مسلمانوں کے لیے بھی برسوں سے سعودی عرب کے دروازے کھلے ہوئے ہیں افریقی ممالک سے لیکر مغربی ممالک کے گلی کوچوں تک اسلام کی دعوت میں سب سے نمایاں کردار سعودی عرب کویت اور یہاں کے سلفیوں کا ہی ملے گا۔ یہی تو یہود و نصاریٰ کو کھٹک رہا ہے اور اس کو روکنے کے لیے مسلمانوں کے درمیان فتنے برپا کئے جاتے ہیں اور اس عمل میں ان کا سب سے بڑا تاریخی مددگار ایران ہے اور ایران کے حلیف اخوانی اور تحریکی ہیں۔
پوسٹ میں ایک انتہائی مضحکہ خیز بات یہ لکھی گئی ہے کہ اخوان المسلمین کے اسلام پسند ہونے پر علماء اسلام کا اجماع ہے۔۔۔۔یقیناً یہ اس صدی کے لطیفوں میں شمار کئے جانے کے لائق ہے۔ صاحب ذرا آنکھیں کھولیے اپنے اردگرد کے لوگوں کو دنیا نا سمجھیں حقیقت تو یہ ہے کہ اخوانیوں اور تحریکیوں کے پاس پختہ کار علماء کی شدید قلّت رہی ہے یہاں شدّت پسندوں کا غلبہ رہا ہے بھائی شولا پور میں اسٹیج سے ہاتھ میں ایک ایسی کتاب دکھائی گئی ہے جس میں صرف عالم اسلام کے کئی بڑے علماء اور علماء کی کئی کمیٹیوں کے فتوے اور جوابات' اخوانیوں کے بارے میں نقل کئے گئے ہیں۔۔۔ سارے علما نے اخوان کو اہل سنّت کے منہج سے ہٹا ہوا، خارجی مزاج کے علمبردار، باطنی فرقوں کے اثرات سے متاثر اور گمراہ قرار دیا ہے۔ ان کے بڑوں کے عقائد و افکار کی بے راہ روی کو اجاگر کیا ہے اس کے باوجود کن لوگوں کے بارے میں آپ کا یہ دعوی ہے کہ یہ علماء ہیں اور یہ ان کا اجماع ہے؟ کیا آپ نے یہ خبر کسی اسرائیلی یا ایرانی ایجنسی سے سن لی ہے؟ ارے خود اخوانیوں سے الگ ہونے والے اخوانی قائد محمّد سرور صاحب کی اخوانیوں کے منھج اور بعض طریقوں پر تنقید ہی پڑھ لیتے تو اجماع کا دعوی نہیں کرتے۔ محمّد سرور کے ماننے والے سروریہ کہلاتے ہیں جیسے سیّد قطب کے ماننے والے قطبین کہے جاتے ہیں ان کا آپس میں بھی اختلاف ہے۔
علماء کے اجماع کے نام اور حقیقت کے بالکل برخلاف دعوے کے ساتھ ہی ایک پوسٹ میں علی میاں ندوی کو نشانہ بنانے کی بات کہی گئی ہے یہ گھٹیا سیاست کا جذباتی انداز ہے کہ علی میاں کے عقیدت مندوں کو سلفیت کے خلاف ورغلایا جائے۔ تحریکیت کا اور سلفیت کا ایک فرق یہ بھی ہے کہ 'سلفی سیاست کو دین کا حصّہ اور اس کا تابع مانتے ہیں اور اخوانی دین کو سیاست کا حصّہ اور سیاست کا تابع مانتے ہیں'۔
پوسٹ میں داعش کا وجود نا مسعود سعودیوں اور سلفیوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے یہ بھی عجوبہ ہی ہے کہ داعش سعودی عرب کی مسجدوں میں دھماکے کریں سعودی اور سلفی علماء کو دھمکیاں دیں پھر بھی ان کے دوست۔ اور داعش کے شانہ بشانہ ایرانی رافضی کام کریں القاعدہ اور داعش کے زخمیوں کا علاج ایران اور اسرائیل میں ہوتا رہے (جیسا کہ نیٹ پر ایمن الظواہری کے بیان سے ثابت ہو چکا ہئے اور دوسرے ثبوتوں کے ذریعے بھی) پھر بھی ایران اور اخوانی داعش اور القاعدہ سے بری الذمہ ہی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ داعش اور القاعدہ کی خارجی اور تکفیری فکر اور فکری سانچہ اخوان کی فکر اور منھج سے ڈھلا اور استوار ہوا ہے۔
ان کے قائدین اور ارکان کے پاس اخوانی لٹریچر کی موجودگی اور ان کے بعض ترجمانوں کا یہ بیان و اعتراف سامنے آچکا ہے کہ اخوانیوں کی بعض کتابیں بالخصوص سیّد قطب صاحب کی بعض کتابیں ان - القاعدہ و داعش- کی رہنما اور مشعلِ راہ ہیں۔۔۔ تحقیق کر لیجیئے۔
ہمارے خیال میں فی الحال اتنی باتیں کافی ہیں۔ اسلئے قلم کو زبردستی روک رہا ہوں، اسلئے کہ یہ بھی قدرے تفصیل ہو گئی ہے۔ مگر ابھی کافی باتیں باقی ہیں، جو کچھ کہا گیا اسے اشارہ سمجھیں۔ اب اس تحریر کے جواب اور رد عمل میں جو کہا اور لکھا جائے گا تو ضرورت محسوس ہونے پر انشاء اللّه مزید تفصیل اور حقائق پیش کئے جائیں گے۔
  اللّه تعالٰی ہمیں حق کا علمبردار بنائے رکھے۔

(منقول)