حفظ قرآن كا آسان طرىقہ
ممتاز النوري (داعي ومترجم مكتب الدعوة بصبيح)
قرآن اللہ تعالی کا کلام ہے , اس کی برتری مخلوقات كے كلام كى نسبت میں ایسے ہی ہے جیسے خالق کائنات کی فضیلت تمام مخلوقات پر, اس کی تلاوت سب سے بہتر مصروفیت ہے،ىہ اللہ کی طرف سے بواسطہ سید الملائکہ (حضرت جبریل علیہ السلام ) سيد المرسلين نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ اظہر پر نازل کردہ وہ مبارک کتابِ ہدایت ہے جس کے ہر حرف کی تلاوت پر دس نیکیوں کی بشارت دی گئی ہے،بروز قیامت یہ اپنے پڑھنے والوں کے لئے شفاعت کرے گا،اس کی تلاوت نزول سکینت كا باعث ہے، اس کے پڑھنے اور پڑھانے والے دنیا کے سب سے بہتر أفراد قرادیئے گئے ہیں،اس کى تلاوت كے ذریعہ اللہ تعالى لوگوں کو بلند ى عطاء کرتا ہے،جو كسى کو اس کے ایک آیت کی تعلیم دىدے اس کی تلاوت کئے جانے تک اسے ثواب ملتا رہےگا,اس کی تلاوت کے مجالس کو رحمت الہی ڈھانپتی ہیں ،فرشتے ان پر سایہ کرتے ہیں ،ان پر سکینت ناز ہوتی ہے،اور اللہ تعالى ایسے لوگوں کا ذکر اپنے مقرب فرشتوں كےدرمىان کرتا ہے،قرآن کریم کو اللہ تعالى نے نصىحت خواہوں كى خاطر آسان کردیا ہے،یہ ایک معجزہ ہے،جس كى اىك آىت كےمثل لانے سے بهى دنىا كے سارے انس وجن كو عاجز قرار دىا گىا ہے,قرآن مجىد کا حفظ کرنا عظىم عبادت اور جنت مىں داخلے كا مختصر اور آسان ترين طرىقہ ہے, اس میں ماہر شخص كو اللہ کے مقرب فرشتوں كى معىت حاصل ہوگى،اور جو بمشکل اس کی تلاوت اٹک اٹک کر کرتا ہو اور وہ اس پر گراں محسوس ہو اس کی خاطرتو دوگنا اجر ہے،اس کا یاد کرنا اور اس کی تلاوت کرنا جنت میں بلند درجہ کے حصول کا باعث ہے،حافط قرآن کے ساتھ اس کے والدین کی بھی تکریم ہوتی ہے،ايسا حافظ قرآن جو اس پر عمل کرنے والا ہو وہ قابل اکرام اور توقیر ہے،اس كى عظمت اور بركت كے سبب زمانہ قدىم سےہى اہل اسلام كےىہاں اسكے تدريس,تفہىم ا و رحفظ کا کافی اہتمام ہوتا ہے،آج بهى كم وبىش ہر گاؤں اور ہر بستی میں حفاظ قرآن کی کثرت ہے ،اس مادى دور مىں بهى ہر سال سعودى عرب كى جانب سے منعقد كئے جانے والے عالمی مسابقات میں اس سے متعلق عجائب دیکھنے کو ملتے ہیں،ہر ذی شعور باپ کی پہلی خواہش ىہى ہوتی ہے کہ اس کا بیٹا حافظ قرآن بنے،بڑی عمر کو پہونچ جانے پر بھی كافى لو گوں خصوصا علم دین سے وابستہ أفراد میں حفظ قرآن کے تئیں حسرت دیکھی جاتی ہے،بعض معلمىن اور مقرئ حضرات کو اس باب مىں ایک مخصوص اور مجرب لائحہ عمل کی تلاش ہوتی ہے, جس كے مطابق وه نسل نوكو قرآن مجىد كى مضبوط تعلىم دے سكىں,آئیےہم قرآن كرىم كے بآسانى اور راسخ و مضبوط حفظ و مراجعہ كے باب مىں مفىد ترىن طرىقہ كار سے استفاده كے لئے مسجد نبوی شریف کےہردلعزىز امام و خطیب,مشرف عام برائے حلقات قرآن و متون علمیہ اور محکمہ مدینہ منوره کے جسٹس شیخ ڈاکٹر عبدالمحسن بن محمد القاسم حفطہ اللہ کی ایک انمول اورگراں قدر مضمون سطور ذیل میں ملاحظہ کریں:
شىخ محترم نے الله كى تعرىف اور نبى كرىم ﷺپر درود كے بعد فرماىا:
كم وقت مىں مضبوط اور راسخ حفظ قرآن کیلئے یہ سب سے اچھا طریقہ ہے,سورہ جمعہ کى ایک وجہ (صفحہ) کے مثال سے یہ طریقہ کچھ اس طرح ہے؛
-1پہلی آیت:﴿يسبح لله ما في السماوات وما في الأرض الملك القدوس العزيز الحكيم﴾بیس مرتبہ پڑھیں.
2-دوسری آیت:﴿هو الذي في الأميين رسولا منهم يتلوا عليهم آياته ويزكيهم و يعلمهم الكتاب والحكمة وإن كانوا من قبل لفي ضلل مبين﴾بیس مرتبہ پڑھیں.
3-تیسری آیت:﴿وآخرين منهم لما يلحقوا بهم وهو العزيز الحكيم﴾بیس مرتبہ پڑھیں.
4-چوتھی آیت:﴿ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذوالفضل العظيم﴾ بیس مرتبہ پڑھیں.
5- ان میں ربط پیدا کرنے کیلئے گذشتہ چاروں آیتیں شروع سے آخر تک بیس مرتبہ پڑھیں.
6-پانچویں آیت:﴿مثل الذين حملوا التوراة ثم لم يحملوها كمثل الحمار يحمل أسفارا بئس مثل القوم الذين كذبوا بآيات الله والله لا يهدي القوم الظالمين﴾بیس مرتبہ پڑھیں.
7-چھٹی آیت:﴿قل يا أيها الذين هادوا إن زعمتم أنكم أولياء لله من دون الناس فتمنوا الموت إن كنتم صادقين﴾ بیس مرتبہ پڑھیں.
-8ساتویں آیت:﴿ولا يتمنونه أبدا بما قدمت أيديهم والله عليم بالظالمين﴾بیس مرتبہ پڑھیں.
9-آٹھویں آیت:﴿قل إن الموت الذي تفرون منه فإنه ملاقيكم ثم تردون إلى عالم الغيب والشهادة فينبئكم بما كنتم تعملون﴾بیس مرتبہ پڑھیں.
10-آىات میں ربط پیدا کرنے کیلئے پانچویں آیت سے آٹھویں آیت تك کو بیس مرتبہ پڑھیں, پهر اس وجہ (صفحہ) کو ازبر کرنے کی خاطر پہلی آیت سے آٹھویں تک كو بیس مرتبہ پڑھیں اورقرآن کریم کے تمام صفحات کے حفظ میں اسى طریقے کو لازم پکڑیں،ایک دن میں آٹھویں حصے(ثمن) سے زیادہ نہ یاد کریں،تاکہ محفوظات کی تعداد زیادہ ہو جانےپر وه خلط ملط نہ ہوں.
جب دوسرے دن آپ نیا صفحہ یاد کرنا چاہىں تو کون سا طریقہ اختیار کرىں گے؟
اگر آپ اگلے دن نیا صفحہ یاد کرنا چاہیں, تو مذکورہ طریقہ كے مطابق نئے حفظ کی ابتداء سے قبل گذشتہ صفحہ كو شروع سے آخر تک بیس مرتبہ پڑھیں تاکہ وہ بالکل پختہ ہو جائے،پھر نئے صفحہ کے حفظ کا آغاز کریں.
بىك وقت حفظ اور مراجعہ دونوں كا کیسے اہتمام کرىں؟
قرآن مجىد كو بلا مراجعہ ہرگز نہ یاد کریں,كىونكہ اگر آپ بلا مراجعہ ایک ایک صفحہ کرکے پورا قرآن حفظ کرلیں گے,تو بهى بعد مىں ان یاد کئے ہوئے صفحات کی طرف رجوع کرتے ہوئے آپ کو محسوس ہو گا کہ آپ سب کچھ بھول چکے ہیں ،لہذا حفظ قرآن کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ بيك وقت حفظ و مراجعہ دونون كا اہتمام كرىں،اور قرآن کے ہر دس پارہ کو ایک قسم بناتے ہوئے اسے تین قسموں میں تقسیم کرلیں،اور مكمل دس پارے حفظ کرنے تك اگر آپ دن میں ایک صفحہ یاد کریں تو چار صفحے کا مراجعہ بھی لازمى کریں، دس پاروں كے یاد ہوجانےپر آپ ایک ماہ صرف مراجعہ كى خاطر خاص کریں اور ہر روز آٹھ صفحات کا مراجعہ کریں پھر ایک ماہ کے بعد حسب استطاعت ایک یا دو صفحات یاد کرتے ہوئے باقی اجزاء کے حفظ کی ابتداء کریں، اور ہر دن آٹھ آٹھ صفحات کا مراجعہ کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو بیس پارے یاد ہوجائیں،بیس پارے یاد کرنے کے بعد آپ بیس پاروں کی مراجعہ کے لئے دو ماہ تک نیا حفظ نہ کریں ،بس ہردن دن آپ آٹھ صفحے كا مراجعہ کریں، مراجعہ کیلئے مخصوص دو ماہ کے ختم ہوجانے پر آپ ہردن حسب استطاعت ایک یا دو صفحہ یاد کرتے ہوئے پورے قرآن کے حفظ کرنے تک روزانہ آٹھ صفحات کا مراجعہ بهى جاری رکھیں.
مکمل حفظ قرآن کے بعد ہر دن آدھا پارہ مراجعہ کی مقدار سے پہلے دس پارے کو ایک ماہ تک دہرائیں پھر درميانى دس پارے کی طرف بڑھیں, ہر دن آدھے پارے کا مراجعہ كرىں,اور یومیہ پہلے دس پارے کے آٹھ صفحہ کی ناظره قراءت كا بهى اہتمام کرتےرہىں ,پھر آخری دس أجزاء کے مراجعہ كا قصد کریں ایک ماہ تک روزآنہ آدھا پارہ آخری جزء سے اور آٹھ صفحات پہلے دس پاروں سےاور گذشتہ بیس پاروں میں سے آٹھ آٹھ صفحات کے حساب سےمراجعہ كریں.
اس طرح مراجعہ سے فراغت کے بعد پورے قرآن کا مراجعہ کیسے کىا جائے؟
آپ ہر دن دو پارے کی یومیہ مقدار سے پورے قرآن کے مراجعہ کی شروعات کرىں،ان دو پارہ کو یومیہ تین مرتبہ دوہرائیں اس طرح سے ہر دو ہفتے میں آپ ایک مرتبہ پورے قرآن کا مراجعہ کرسکتے ہیں،پورے ایک سال کے اندر اسی طرز پر عمل کرتے ہوئے آپ پورا قرآن بالکل پختہ یاد کرسکتے ہیں،لہذا سال بھر آپ اسی طریقہ کار کو اپناكر قرآن كے حفظ کو مضبوط كریں.
قرآن کو حفظ کرنے کے ایک سال بعد کیا کرىں ؟
قرآن کے مکمل حفظ اور مراجعہ کے ایک سال بعدسے آپ مرتے دم تک کیلئے نبی كريم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اس كو سات حزب بناکر اسے لازم پکڑیں اور ہر ہفتے قرآن کو ایک مرتبہ ضرور ختم کریں،جىسا كہ مسند أحمد کی ایک روایت میں ؛ حضرت أوس بن حذیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے سوال کیا کہ آپ لوگ قرآن کے حصے کیسے کرتے ہو؟،انھوں نے فرمایا:تین سورتین ،پانچ سورتین،سات سورتین ،نو سورتین،گیارہ سورتین،مفصل یعنی قاف سے آخری تک کا ایک حصہ یعنی پہلے دن سورہ فاتحہ ست سورہ نساء کے اخیر تک ، دوسرے دن سورہ مائدہ سے سورہ توبہ کے اخیر تک ،تیسرے دن سورہ یونس سے سورہ نحل کے اخیر تک،چوتھے دن سورہ اسراء سے سورہ فرقان کے آخر تک،پانچویں دن سورہ شعراء سے سورہ یس کے آخر تک،چھٹے دن سورہ صافات سے سورہ حجرات کے آخر تک اور ساتویں دن سورہ ق سے سوره ناس ىعنى آخری قرآن تک پڑھتے تھے،نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے حزب کو (آسانی سے یاد رکھنے کی غرض سے) علماء نہ اپنے قول :(فمي بشوق)کے مجموعے میں جمع کردیا ہے،جس کے ہر حرف سے ہر دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حزب کی ابتداء کی طرف اشارہ ہے، حرف فاء سے سورہ فاتحہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ کا پہلے دن کا حزب سورہ فاتحہ سے شروع ہوتا تھا،میم سے سورہ مائدہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے دن کا حزب سورہ مائدہ سے شروع ہوتا تھا،حرف یاء سے سورہ یونس کی جانب اشارہ کرتے ہوئےآپ کے تیسرے دن کے حزب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے،حرف باء سے سورہ بنی اسرائیل(اسے سورہ إسراء کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے چوتھے دن کا حزب بتایا گیا ہے، حرف شین سے سورہ شعراء کی طرف اشارہ کرکے اسے پانچویں دن کے حزب کی ابتداء بتائی گئی ہے، حرف واؤسے سورہ والصافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے اپ کے چھٹے دن کے حزب کی شروعات بتائی گئی ہے،حرف قاف سے سورہ قاف کہ طرف اشارہ کرتے ہوئے قاف سے ناس تک کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتویں دن کے حزب کی شروعات بتائی گئی ہے ، موجودہ قرآن کی تحزیب(حزب كر تحديد) حجاج بن یوسف کی جانب سے وضع کردہ ہے.
قرآن كے متشابہ آیات میں فرق کیسے كىا جائے؟
اگر دو آیتوں میں تشابہ ہو تو اس کے لئے سب سے افصل طریقہ یہی ہے کہ ان دونوں آیتوں کى جگہ مصحف میں کھول کر ان کے مابین فرق دیکھتے ہوئے اس پر غور کریں،اور ان سے متعلق خود اپنے لئے ایک خاص قاعدہ بنائیں،مراجعہ کے دوران بار بار اس کو ملحوظ رکھیں،یہاں تک کہ ان کے مابین موجودہ تشابہ آپ کو بالکل ازبر ہو جائے.
حفظ سے متعلق اہم قواعد و ضوابط:
1-ضروری ہے کہ آپ حفظ کسی شیخ کے زیر نگرانی کریں تاکہ آپ کی تلاوت صحیح ہو.
2-ہردن دو صفحہ یاد کریں ایک صفحہ نماز فجر کے بعد اور دوسرا عصر یا مغرب کے بعد اس طرح سے ان شاءاللہ آپ سال بھر کے اندر پورا قرآن اتقان کے ساتھ ازبر کرلیں گے،آپ کا حفظ مضبوط ہوگا،اگر آپ صرف محفوظ کی تعداد میں کثرت کو مد نظر رکھیں گے تو محفوظ کمزور ہوجائے گا.
3-حفظ کی ابتداء سہولت كى خاطرسور ہ ناس سے سورہ بقرہ کی طرف کریں ،البتہ حفظ قرآن کے بعد مراجعہ كىلئے سورہ بقرہ سے سورہ ناس كى ترتىب كوہى لازم پكڑىں.
4-حفظ یکساں طباعت والے مصحف سے ہو،تاکہ اس سے حفظ کی پختگی میں مدد مل سکے اور آیات کی جگہوں اورصفحہ کی ابتداء و انتہاء کو یاد کرنے میں آسانی ہو .
5-پہلے دو سال میں كىا جانے والا حفظ خلط ملط ہونے لگتا ہے،اس مرحلہ کو جمع کرنے کا مرحلہ(مرحلہ تجمیع) کہا جاتا ہے،اس مرحلے میں قرآن کے اختلاط اور کثرت خطأ پر فکر مند اور پریشان نہ ہوں،آزمائش کے ناطے یہ مرحلہ مشکل ترین ہوتا ہے ،شیطان اس مرحلے میں آپ کو حفط قرآن سے روکنے کی خوب کوشش کرے گا،لہذا آپ اس کی طرف سے آنے والے وساو س پر کان نہ لگائیں،اور حفظ قرآن کے سلسلے کو جاری رکھیں اس لئے کہ یہ ایک خزانہ ہے جو ہر کس وناکس کو نہیں ملتا...
سطور بالا کے مترجم مضمون میں مثال کے ذریعہ حفظ قرآن کا ایسا آسان طریقہ بیان کیا گیا ہے جس پر عمل کرکے ہم آیات میں ربط کے ساتھ ساتھ انھیں ازبر طریقے سے یاد کرسکتے ہیں،اس تحریر میں حفظ کے ساتھ مراجعہ پر خصوصی توجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حفظ کے مختلف مراحل میں بیک حفظ و مراجعہ کے اہتمام کا طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے،حفظ قران کے بعد بھی بکثرت تلاوت قرآن پر زور دیتے ہوئے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے طرز عمل کی جانب اشارہ کیا گیا ہے،متشابہ آیات کی تفریق کے لئے ان پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مخصوص قاعدہ اخذ کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور اخیر میں چند ایسے راہ نما اصول بیان کئے گئے ہیں جو یقینا اس باب میں نہایت ہی مفید ثابت ہوں گے, امید ہے کہ اس طرز عمل کو بروئے کار لاکر قرآن کے حفظ کی خواہش رکھنے والے خاطر خواہ استفادہ کریں گے اور معلمین کرام اور مقرئ حضرات کیلئے بھی نسل نو کی تربیت میں اس سے رہنمائی ملے گی.
اخىر مىں اللہ تعالی سے دعاگو ہوں کہ الہ العالمین قرآن مجید کو ہمارے دلوں کا سکون بنادے،ہمیں اس کے حفظ کی توفیق عطا کرے،اور اسے بروز قیامت ہمارے لئے شفاعت کا ذریعہ بنائے (آمین).