ہم ماہ رمضان کا استقبال کیسے کریں؟
ابونايف خير الاسلام بحرالحق چاندپوری
اللہ تعالی نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے
نوازا ہے جنہیں ہم شمار نہیں كر سكتے، ان نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت یہ ہے كہ اس
نے ہمیں اپنے گناهوں كی بخشش، ایمان كی تجدید اور نیكیوں سے اپنے دامن كو بھرنے كے
لیے بہت سے مواقع فراہم كیے ہیں۔ ان عظیم مواقع میں سے ایك سنہری موقع ماه رمضان
ہے جو كہ ہمارے لیے سراپا رحمت وبركت كا مہینہ ہے، مغفرت، بخشش، جودوسخا، صدقہ
وخیرات، جہنم سے آزادی اور جنت كی بشارت كا مہینہ ہے، یقینا یہ مہینہ بندوں كے
لیے رب كریم كی طرف سے بیش قیمت تحفہ اور بہت بڑا انعام ہے۔ اور اس كے اندر صیام
وقیام كا اہتمام كرنا ان كے لیے بہت بڑی سعادت ہے، چند دنوں كے بعد یہ مہینہ ایک
بار پھر ڈھیر ساری خوشیاں لے كر اپنے فیوض وبركات كے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہونے
والا ہے، ہو نہ ہو یہ ہماری زندگی كا آخری رمضان ہو، لہذا آئیے ہم خواب غفلت سے
بیدار ہو كر اپنی زندگی، صحت اور جوانی كو غنیمت سمجھتے ہوئے ماه رمضان كے آداب
كو ملحوظ ركھتے ہوئےاس كا پرزور استقبال كرتےہیں، تاكہ ہم صحیح معنوں میں اس كے
فیوض وبركات سے مستفید ہو سكیں۔
ذیل كی سطور میں ماه رمضان كے استقبال
كے بعض آداب كو بیان كرنے كی كوشش كی گئی هے۔
(1) دعا
كرنا:
رمضان كی آمد سے قبل الله تعالیٰ سے
ہمیں دعا كرنا چاہیے كه اے الله! تو ہمیں رمضان المبارک كا مہینہ نصیب فرما، اسی
طرح ہمیں اپنی صحت كے لیے دعا كرنا چاہیے اور زیاده سے زیاده عبادت كی توفیق طلب
كرنا چاہیے، بعض اسلاف امت چھ ماه تك اس ماه كے حصول كے لیے رب العالمین سے دعا
كرتے اور جب انہیں یہ مہینہ مل جاتا تو اس میں خوب عبادت كرتے اور رمضان گذرتے ہی
اپنے اعمال كی قبولیت كے لیے دعا كرتے تھے۔ لہذا جب ہمیں ماه رمضان كا نیا چاند
نظر آئے تو ہم یہ دعا پڑھیں: ’’اللھم أهله علینا بالیمن والإیمان والسلامۃ
والإسلام ربي وربك الله‘‘]الجامع الصغیر:۶۶۷۷وصححه الالبانی] نبي صلی الله علیه وسلم جب نیا چاند دیكھتے تو
یہی دعا پڑھتے۔
)۲( تشكر الٰہی:
جب ہم ماه رمضان میں قدم ركھ دیں تو
الله تعالیٰ كا شكر ادا كریں كیونكہ رمضان رب كی طرف سے بنده كے لیے ایک عظیم نعمت
ہے، لهذا اس نعمت كا احساس اپنے اندر پیدا كرنا ہوگا اس تصور كے ساتھ كہ رب كریم
نے ہمیں ایک بار پھر یہ بابركت مہینہ عطا فرمایا ورنہ كتنے لوگ پچھلے سال همارے
ساتھ تھے آج وه قبر میں مدفون ہیں، اس احساس كا تقاضا ہے كه ہم مولائے كریم كا
شكریہ ادا كریں كیونكہ الله تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿لَئِن شَکَرْتُمْ
لأَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِن کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِیْدٌ﴾ [ابراهیم:۷] اگر تم شكر گزاری كروگے تو بے شك میں تمهیں زیاده دوں گا اور
اگر تم ناشكری كروگے تو یقینا میرا عذاب بہت سخت ہے۔
(۳) خوشی
ومسرت كا اظهار:
مومن بنده ہر سال رمضان كی آمد كا
شدت سے انتظار كرتا ہے اور اس كے حاصل ہونے پر خوشی كا اظہار بھی كرتا هے، كیونكہ
وه جانتا هے كه یہ وہی مہینہ ہے جس كو الله تعالیٰ نے روزے كی فرضیت كے لیے خاص
كیا، یه وه مہینہ ہے جس میں نور وہدایت كا سرچشمہ قرآن كریم كا نزول ہوا، جس میں
صلاۃ تراویح كو مشروع كیا گیا، جس میں ایک رات كو ہزار مہینوں كی عبادت سے افضل
قرار دیا گیا، وه جانتا ہے كہ اس میں بنده عبادت كركے اپنے آپ كو جنت میں داخل
كرنے اور جهنم سے دور رہنے كا مستحق بنا سكتا هے۔ رسول الله صلی الله علیه وسلم
ماه رمضان كی آمد پر خوشی كا اظهار فرماتے اور اپنے اصحاب كو اس كی بشارت سناتے
اور اس كی عظمت كا احساس دلاتے ہوئے فرماتے: ’’أتاكم رمضان شھر مبارك، فرض الله
عزوجل علیكم صیامه، تفتح فیه أبواب السماء، وتغلق فیه أبواب الجحیم، وتغل فیه
مردۃ الشیاطین، لله فیه لیلۃ خیر من ألف شھر، من حرم خیرھا فقد حرم‘‘ [سنن نسائی:
۲۱۰۵ وصححه الالبانی] ’’تمہارے پاس ماه
رمضان ایہ مبارك مہینہ آچكا ہے، اس كے روزے كو الله عزوجل نے تم پر فرض قرار دیا
هے، جس میں آسمان كے دروازے كھول دیے جاتے اور جهنم كے دروازے بند كر دیے جاتے
ہیں اور سركش شیطانوں كو جكڑ دیا جاتا ہے۔ الله كے لیے اس میں ایك رات ایسی ہے جو
ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو اس كی خیر سے محروم ره جائے، حقیقت میں وہی محروم هے۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوا كہ رسول اكرم
صلی الله علیه وسلم رمضان المبارک كی آمد پر خوشی كا اظهار فرماتے، اس كے فضائل
ومناقب بیان كركے صحابهٔ كرام كو اس كی قدرومنزلت كا احساس دلاتے تھے۔ لهذا ہمیں
بھی رسول الله صلی الله علیه وسلم كی اقتدا كرتے ہوئے اس ماه كی آمد پر خوشی كا
اظهار كرنا اور شرح صدر كے ساتھ اس كا استقبال كرنا چاہیے۔ ہمارے ایمان كا یہی
تقاضا ہے كیونكہ شریعت كے كسی بھی عمل سے متعلق بغض ركھنا، اسے ناپسند كرنا اور
كراہت كا اظهار كرنا صریح كفر ہے۔ الله تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ
کَرِھُوا مَا أَنزَلَ اللَّہُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَہُمْ﴾ [محمد:۹] ’’یہ اس لیے كه وه الله كی نازل كرده چیز سے ناخوش ہوئے، پس الله
تعالیٰ نے بھی ان كے اعمال ضائع كر دیے۔‘‘
لهذا جو لوگ رمضان اور روزه كو ناپسند
كرتے ہیں اور اپنی صحت كے لیے مضر سمجھتے ہوئے عمداً روزه ترك كردیتے ہیں انہیں
اپنے دین وایمان كا احتساب كرنا چاہیے۔
(۴) عظمت
كا احساس:
چونكہ رمضان بڑی عظمت والا مہینہ ہے،
اس كی عظمت كا یہ عالم ہے كہ اس میں صرف ایک رات ہزار مہینوں سے افضل ہے، اس عظمت
كا احساس لے كر ہمیں اس ماه كا استقبال كرنا چاہیے تاكہ ہمارے اندر غفلت وسستی اور
صیام وقیام سے بے رغبتی وبےاعتنائی جیسے اوصاف بد پیدا نہ ہوں۔
(۵)
روزے كے احكام ومسائل كو سیكھنا:
روزه ایک عبادت ہے اور عبادت كی
درستگی علم پر موقوف ہے، لهذا ضروری ہے كہ ہم اس ماه كا استقبال تعلیم وتعلم كے
ساتھ كریں، روزے كے اركان، واجبات، مستحبات اور مبطلات كو سیكھیں تاكہ ہم علم
وبصیرت كے ساتھ روزه ركھ سكیں اور ہمارا روزه رب كی بارگاه میں مقبول ہو۔
*(٦) توبه
واستغفار كا اهتمام*
هم میں سے ہر شخص خطاكار ہے، لیكن خطا
كاروں میں سب سے بہتر وه ہے جو اپنے گناہوں پر نادم وشرمنده ہو كر سچی توبہ كرلے
اور اپنے رب كو راضی كرلے، لهذا ہمیں ہر وقت توبہ كرنا چاہیے۔ الله تعالیٰ فرماتا
هے: ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَی اللَّہِ تَوْبَۃً
نَّصُوحاً ﴾ [التحریم: ۸] اے ایمان والو! تم الله كے سامنے سچی خالص توبہ كرو۔
بالخصوص ماه رمضان میں اس كا خوب
اہتمام كر نا چاہیے كیونكہ رمضان توبہ واستغفار اور گناہوں كی بخشش كا مہینہ ہے،
لهذا ہمیں چاہیے كہ اس ماه كا استقبال سچی توبہ كے ساتھ كریں اور تمام محارم
ومعاصی كو چھوڑ كر ایك نئی اور صاف ستھری زندگی كی شروعات كریں۔
*(۷) اخلاص*
اخلاص تمام طاعتوں كی روح اور نیكیوں
كی مقبولیت كی كنجی ہے لهذا جب ہم اس ماه كا استقبال كریں تو اخلاص كا دامن ہرگز
نہ چھوڑیں، فرائض ونوافل، صدقات وخیرات، تلاوت قرآن اور ذكر واذكار جیسے تمام
امور میں صرف الله كی رضا مندی مقصود ہو اور ہمارے كسی بھی عمل كا مقصد ریاونمود
اور شہرت طلبی ہرگز نہ ہو۔ الله تعالیٰ فرماتا ہے:﴿فَمَن کَانَ یَرْجُو لِقَاء رَبِّہِ
فَلْیَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحاً وَلَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہِ أَحَداً﴾ [الكهف:
۱۱۰] تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے كی
آرزو ہو اسے چاہیے كہ نیک اعمال كرے اور اپنے پروردگار كی عبادت میں كسی كو بھی
شریک نہ كرے۔
*(۸) رمضان سے قبل شعبان كا روزه*
رسول اكرم صلی الله علیه وسلم رمضان
سے پہلے ماه شعبان كے روزے كا بہت زیاده اہتمام كرتے تھے۔ حضرت عائشه رضی الله
عنہا فرماتی ہیں: ’’اور میںنے انہیں شعبان كے علاوه كسی اور ماه میں زیاده روزے
ركھتے ہوئے نہیں دیكھا۔‘‘ [صحیح بخاری:۱۸۶۸] جب
آپ سے شعبان میں بكثرت روزے ركھنے كا سبب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’رجب اور
رمضان كے درمیان یہ وه مہینہ ہے جس میں لوگ غافل ہوتے ہیں حالانكہ یہ وه مہینہ ہے
جس میں اعمال رب العالمین كی طرف اٹھائے جاتے ہیں اس لیے میں پسند كرتا ہوں كہ
میرے اعمال اٹھائے جائیں تو میں روزه كی حالت میں رہوں۔‘‘ [سنن نسائی:۲۳۵۸ وحسنه الالبانی]
ماه شعبان میں رسول صلی الله علیه
وسلم كے زیاده روزے ركھنے كے كئی اسباب اور كئی حكمتیں بیان كی گئی ہیں۔ چنانچہ
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے اس سلسلے میں تین حكمتیں بیان فرمائی ہیں وه درج ذیل
ہیں:
(۱) ہر مہینے تین دن كے روزوں كا جمع ہونا
نبی صلی الله علیه وسلم ہر مہینے تین
دن یعنی ایام بیض كے روزے ركھتے تھے لیكن بسا اوقات سفر وغیره كی وجہ سے وه روزے
چھوٹ جاتے اور وه كئی مہینوں كے جمع ہو جاتے، تو ماه شعبان میں آپ ان كی قضا
فرماتے تھے۔
(۲) رمضان كی تعظیم اور روحانی تیاری
آپ صلی الله علیه وسلم نے ماه شعبان
میں بكثرت روزه ماه رمضان كی تعظیم میں ركھتے تھے، لهذا شعبان كے ان روزوں كو
رمضان كے روزوں سے وہی نسبت ہے جو فرض نمازوں سے پہلے پڑھے جانے والے نوافل كو فرض
نمازوں سے ہوتی ہے۔
(۳) ماه شعبان میں بندوں كے اعمال
پروردگار عالم كی طرف اٹھائے جاتے ہیں، تو آپ صلی الله علیه وسلم نے پسند كیا كہ
آپ كے اعمال اٹھائے جائیں تو آپ روزے سے ہوں۔ [تهذیب السنن:۳؍۳۱۸، فتح الباری:۴؍۲۵۳]
ابن رجب رحمه الله فرماتے ہیں:
’’كہا جاتا ہے كہ شعبان میں روزه صیام رمضان كے لیے تدریب اور
تمرین كی طرح هے، تاكہ بنده جب ماه رمضان كے روزے میں داخل ہو تو اسے مشقت نہ ہو،
اس لیے كہ اس نے شعبان میں روزے كی مشق كركے اپنے نفس كو روزے كا عادی بنا لیا ہے
اور صیام رمضان سے قبل ہی روزے كی حلاوت اور مٹھاس كو پا لیا ہے۔ ایسا شخص جب
رمضان المبارک میں پوری توانائی اور قوت كے ساتھ قدم ركھے گا تو اس كا نفس رحمن كی
طاعت وعبادت پر راضی ہوگا۔‘‘ [لطائف المعارف:۱۳۸ بتصرف]
لهذا ہمیں چاہیے كہ ہم ماه شعبان میں
نفلی روزے كا اہتمام كریں تاكہ ہمیں رمضان كے فرض روزے ركھنے میں كوئی تكلیف اور
پریشانی محسوس نہ ہو۔
واضح رہے كہ نصف شعبان كے بعد نفلی
روزے ركھنے سے رک جانا چاہیے۔ الا یہ كہ آدمی كا عمل سابقہ ایام سے چلا آرہا ہو۔
[سنن ابودائود:۳۲۳۷، سنن ترمذی:۷۳۸]
(۹) روزے كا اهتمام
اور جب ہم ماه رمضان میں قدم ركھ دیں
تو اس كے روزے كا اہتمام كریں كیونكہ اس ماه كی سب سے اہم عبادت روزه ہے، اس كے
روزے كو الله تعالیٰ نے امت مسلمہ پر فرض قرار دیا هے: ﴿فَمَنْ شَهِدَ
مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ [البقرة:
185] تم میں سے جو شخص اس مہینہ كو پائے وه اس كا روزه ركھے۔
*(۱۰)
قیام اللیل كا اہتمام*
اسی طرح ہم ماه رمضان كا استقبال قیام
اللیل كے ساتھ كریں گے كیونكہ ماه رمضان كی ایک عظیم عبادت قیام اللیل ہے، اس كی
بڑی فضیلت ہے۔ رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا:’’من قام رمضان إیمانا
واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه‘‘ [سنن ابو دائود :۱۳۷۱ وصححه الالبانی] ’’جس نے ایمان اور ثواب كی نیت سے رمضان كا
قیام كیا اس كے پچھلے گناه معاف كر دیے جاتے ہیں‘‘
*(۱۱)
تلاوت قرآن كا اهتمام*
قرآن اور رمضان كا بڑا گهرا رشتہ ہے،
اسی مہینہ میں قرآن كریم كا نزول ہوا ہے، لهذا ہمیں چاہیے كہ ہم روزه كے ساتھ
ساتھ اس مہینے میں قرآن كریم كی تلاوت كا خوب اہتمام كریں تاكہ یہ قرآن بروز
قیامت ہمارے حق میں روزه كے ساتھ رب كی بارگاه میں دخول جنت كی سفارش كرے، رسول
الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: ’’الصیام والقرآن یشفعان للعبد یوم القیامۃ،
یقول الصیام: أی رب منعته الطعام والشهوات بالنهار فشفعني فیه ویقول القرآن:
منعته النوم باللیل فشفعني فیه، قال: فیشفعان۔ [مسند احمد:۶۶۲۶، اسناده صحیح] روزه اور قرآن بروز قیامت بندے كے حق میں نے
شفاعت كریں گے، روزه كہے گا اے میرے رب! میں نے اسے دن میں كھانے پینے اور خواہشات
نفسانی سے روكے ركھا لهذا اس كے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ اور قرآن كہے گا اے
میرے رب! میں نے اسے رات كو سونے سے روكے ركھا لهذا اس كے بارے میں میری شفاعت
قبول فرما، آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: ان دونوں كی سفارش قبول كر لی جائے
گی۔
*(۱۲)حلقهٔ قرآن قائم كرنا*
ماه رمضان میں عام طور پر زیاده تر
لوگ اپنے اپنے مشاغل سے فارغ ہو كر اپنے اہل وعیال كے ساتھ اپنے گھروں میں رہنا
پسند كرتے ہیں، ان ایام میں بآسانی لوگوں كو قرآن كی تعلیم سے جوڑا جا سكتا ہے،
لهذا آئیے ہم ماه رمضان كا استقبال قرآن كی تعلیم وتعلم سے كریں اور اس كے لیے
مسجدوں میں حلقہ قرآن قائم كریں۔ حضرت ابن عباس رضی الله عنہما فرماتے ہیں: ’’كان رسول اللهﷺ أجود الناس، وكان أجود مایكون في رمضان حین
یلقاه جبریل وكان یلقاه في كل لیلۃ من رمضان فیدارسه القرآن‘‘ [صحیح بخاری:۳۵۵۴]
رسول الله صلی الله علیه وسلم لوگوں
میں سب سے زیاده سخی تھے اور رمضان میں اس وقت آپ كی سخاوت اور بڑھ جاتی جب آپ
سے جبریل علیه السلام ملاقات كرتے اور جبریل علیه السلام آپ سے رمضان كی ہر رات
ملاقات كرتے اور آپ كو قرآن كا دور كراتے تھے۔
ابن رجب رحمه الله فرماتے ہیں كہ :
’’یہ حدیث ماه رمضان میں بكثرت قرآن كریم كی تلاوت كرنے، اس كے
لیے اكٹھا ہونے اور زیاده قرآن جاننے والے كو قرآن سنانے كے استحباب پر دلالت
كرتی ہے۔‘‘ [لطائف المعارف:۱۶۹]
اگر ہم نے قرآن كریم سے اپنا تعلق
مضبوط كیا تو ہم ماه رمضان میں روزے كے فیوض وبركات كے ساتھ ساتھ ان چار بشارتوں
كے بھی حقدار بن سكیں گے جن كا ذكر آپ نے اس حدیث میں كیا ہے: ’’ما اجتمع قوم في
بیت من بیوت الله یتلون كتاب الله، ویتدارسونه بینھم، إلا نزلت علیھم السكینۃ
وغشیتھم الرحمۃ، وحفتھم الملائكۃ وذكرھم الله فیمن عنده‘‘ [صحیح مسلم: ۲۶۹۹]
الله تعالیٰ كے كسی گھر میں جب لوگ
جمع ہوں، قرآن مجید كی تلاو ت كریں، قرآن كریم كا باہمی مذاكره كریں تو ان پر
سكینت نازل ہوتی ہے، انہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں۔ نیز
الله تعالیٰ ان كا اپنے ہاں تذكره فرماتا هے۔
*(۱۳)
افطار كرانا*
ماه رمضان میں نیكیاں كمانے كا ایک
بہت بڑا ذریعہ روزے دار كو افطار كرانا بھی ہے، رسول الله صلی الله علیه وسلم نے
فرمایا: ’’من فطر صائما كان له مثل أجره غیر أنه لا ینقص من أجر الصائم
شیئا‘‘ [سنن ترمذی: ۸۰۷ حسن صحیح] جس نے كسی روزے دار كو افطار كرایا اسے بھی اتنا ہی
اجر ملے گا جتنا اجر روزه دار كے لیے ہوگا۔ اور روزه دار كے اجر میں كوئی كمی نہیں
ہوگی۔
*(۱۴)
لیلۃ القدركی تلاش*
اس مبارک مہینہ كے آخری عشره كی طاق
راتوں میں ایک بڑی عظمت والی رات ہے، جس كی عبادت ہزار مہینوں كی عبادت سے بہتر
ہے۔ الله تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَہْرٍ
﴾ [القدر:۲] ہمیں چاہیے كہ اس رات كو حاصل كرنے كے لیے آخری عشره كی طاق
راتوں كو قیام اللیل، قراءت قرآن، دعاء اور ذكر واذكار كے ذریعہ جاگیں تاكہ ہمیں
وه عظمت والی رات حاصل ہو جائے۔ رسول الله صلی الله علیه وسلم اس عشره كے اندر
عبادت میں خوب محنت كرتے تھے۔ ’’كان النبي إذا دخل العشر شد مئزره وأحیا لیله
وأیقظ أهله‘‘ [صحیح بخاری: ۲۰۲۴] ’’جب
آخری عشره داخل ہوتا تو رسول الله صلی الله علیه وسلم (عبادت كے لیے) كمر بستہ ہو
جاتے اور راتوں كو جاگتے اور گھر والوں كو جگاتے تھے۔
(۱۵)
زبان وجوارح كی حفاظت
جھوٹ، غیبت، چغل خوری اور گالی گلوج
وغیره ہر حال میں اسلام نے حرام قرار دیا ہے لیكن روزے كی حالت میں ان كی قباحت اور
بڑھ جاتی ہے كیونكہ یہ چیزیں روزه كوبے سود بنا دیتی ہیں۔ لهذا ہم پر ضروری ہےكہ
روزه ركھتے ہوئے اپنی زبان اور تمام اعضاء وجوارح كو ان تمام امور سے دور ركہیں جن
سے روزه ٹوٹ جاتا ہے۔ ورنہ ہمارا روزه محض بھوک وپیاس بن كر ره جائے گا۔ رسول الله
صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: ’’من لم یدع قول الزور والعمل به فلیس لله حاجۃ
في أن یدع طعامه وشرابه‘‘
[صحیح بخاری:۱۹۰۳] جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل كرنا
نہیں چھوڑا تو الله تعالیٰ كو كوئی ضرورت نہیں كہ وه اپنا كھانا پینا چھوڑ دے۔
الله تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک كا
بہترین استقبال كرنے اور اس میں زیاده سے زیاده نیكیاں كمانے كی توفیق دے۔ آمین۔
****
کتبہ:ابونايف خير الاسلام بحرالحق چاندپوری
خادم کلیہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ شریکنڈ جھارکھنڈ