القائمة الرئيسية

الصفحات

مراض اور وباؤں سے تحفظ کیلئے ہدایات نبوى ﷺ


امراض اور وباؤں سے تحفظ کیلئے

ہدایات نبوى 


إعداد
ڈاکٹر/ ناجي بن إبراهيم العرفج-حفظه الله-




اردو ترجمہ
أبوعبدالله النوري
(داعى و مترجم صُبَىْح اسلامك گائڈینس سینٹر- القصيم )


إهداء
مجھے اپنے مسلمان بھائیوں اور تمام لوگوں کی خدمت میں یہ مختصر سی کتاب پیش کرتے ہوئے کافی خوشی ہورہی ہے،میں اللہ خالق و مالک ، وحده لا شریک سے دعاگو ہوں کہ وہ ہم تمام لوگوں کو ایمان، کامیابی اور صحت و تندرستی سے نوازے اور ہمیں ہر قسم کی الجھن ، برائی اور (حالىہ دنوں) پوری دنیا کو دہلادینے والی کورونا وائرس جیسے وبائی مرض سے محفوظ رکھے، بے شک وہ ذات باری تعالی ہر چیز پر قادر اور  اپنے  بندوں کےتمام  احوال سے واقف ہے۔


نوٹ:
• اس منشور کو پڑھنے میں آسانی اور  -باذن اللہ- دنیا کی دیگر زبانوں میں ترجمہ کى خوا ہش کے پیش نظر مختصر انداز میں لکھا گیا ہے۔
• متعدد  زبانوں میں اس منشور کے ترجمے موجود بھی  ہیں۔





تمہيد
چودہ صدی قبل ، طب وقائی کےايجاد  سے پہلے ہی پیغمبر اسلام،  آخری نبی حضرت محمد ﷺ كى  عظیم ہداىات پر مشتمل فرمودات   میں ہمیں سكون ،  اطمینان اور ہر قسم كى بے چینی، پریشانی، بیماری اور کورونا وائرس (covid-19) جىسى وباؤں سےتحفظ كے لئے رہنمائى ملتى  ہے۔ كىونكہ اس کا منبع قرآنی وحی کا وہ سلسلہ تھا جسے اللہ تعالی نے ہدایت و رحمت اور نور و شفاء قرار دیا ہے ۔
جو شخص أمراض سے حفاظت ، سلامتی اور دیگر  کامیابی  كا خواہاں ہو  اسے ایک اکیلے ، تنہا اللہ پر حقیقی ایمان لاكر  تنہا اسی کی عبادت کرنی چاہئے،  کیونکہ وہی وہ ذات با بركات  ہے جس کے ہاتھ میں پوری دنیا کى بادشاہت ہے، تمام أمور كا اختىار  اورتمام  قوتىں اسی کے ہاتھ میں ہیں،  وہی قادر مطلق  اورہم سب كى  حفاظت کرنے والا ہے،  اور وہی اپنے حکم سے  بىماروں كو  شفاء دینے والا  بهى ہے،  قرآن کریم میں فرمان بارى تعالى  ہے: ﴿وإذا مَرِضتُ فَهُوَ يَشفِينِ، ترجمہ: (اور جب میں بیمار پڑجاؤں تو مجھے شفاء عطا فرماتا ہے )۔ اور قرآن کریم  میں الله كا  یہ بھی  فرمان ہے: ﴿قل لن يُصِيبَنَا إلّا مَا كَتَبَ اللهُ لنا هو مولانا وعلى اللهِ فليتَوكّل المُؤمِنُون﴾، ترجمہ: (آپ کہہ دیجئے کہ ہمیں سوائے اللہ کے ہمارے حق میں لکھے ہوئے کہ کوئی چیز پہنچ ہی نہیں سکتی وہ ہمارا کارساز اور مولی ہےمومنوں کو تو اللہ کی ذات پاک پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے)۔
اس مضبوط ایمان کے ساتھ ہم صحیح معنوں میں نفع و نقصان كے مالك ، روزى،  زندگى  اور موت  عطا كرنے والے  اللہ پر بھروسہ کرنے والے بن سکتے ہیں ، یاد رہے کہ اللہ پر بھروسہ  اور توكل کا حكم دىنے كےساتھ ساتھ اسلام ہمیں صحی رہنمائیوں اور احتیاطی تدابیر کو اپنانے کا بھی حکم دیتا ہے ۔
پیارے نبی حضرت محمدﷺ نے  بهى ہمیں اللہ پر توکل کے ساتھ اسباب کو اپنانے کی تعلیم دی ہے،  آپ ﷺ نے ہمیں پریشانیوں، بیماریوں اور وباؤں سے بچاؤ اور احتیاطى تدبىرىں اختىار كرتےہوئے بیماری کی صورت  میں علاج کا بهى  حکم فرمایا ہے۔
عصر حاضر  میں وباء کے پھیلاؤ کى صورت میں متعارف عزل صحی بھی آپ   کی ہدایات میں سے ہی ہے،  آپ ﷺ نے مسلمانوں کو عبادت اور فرض نمازوں کے لئے دن و رات میں پانچ بار صفائی اور طہارت کا حکم دیا ہے۔
دونوں ہاتھ،  چہرہ ، منہ ، ناک اورجسم کے دیگر اعضاء  کا دھونا بھی وضوء كى عبادت  میں داخل ہے اور ہم جانتے ہیں کہ دن میں انہیں  کئی  بار دھونا اور صاف کرنا ان وائرس اور بکٹیریا وغیرہ کو ختم کرنے میں معاون ہے جن کی وجہ سے انسان کا جسم متاثر ہوسكتا ہے،  چھینک اور کھانسی کے وقت آپ ﷺ نے ہمیں منہ کو ڈھانکنے پر بھی ابھارا  ہے۔
حالىہ دنوں ڈاکٹروں، عالمى صحت محكموں ، ہاسپیٹل اوردیگر طبى اور حکومتی ادارے صحت سے متعلق جن احتیاطی تدابیر اور بچاؤ کے اسباب جیسے: سماجى دورى  اور ذاتی حفظان صحت اور ہاتھوں کے دھونےکا مشورہ وغیرہ کی  تاکید كى جارہى ہیں یہ سب ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی ان ہدایات میں موجود ہیں جن كے اہتمام  کا حکم آپ ﷺ  نے ہمیں کئی صدیوں پہلےہى  دے  دیا ہے ۔
پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی ہدایات  میں وباء کے خاتمہ کی خاطر  موجود عزل صحى اور صفائی  كى اہمیت سے متعلق کچھ دن پہلے نیوز ویک نامی امریکی میگزین میں امریکی عالم پروفیسر کرین کونسدین كى شائع شدہ مضمون كے انٹروىو  كے دوران کسی نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ کسی اور  کو جانتے ہیں جس نے وباء کے انتشار کے وقت صفائی ستھرائی اور سماجى دورى    کی رائے  پیش کی ہو؟
"Do you know who else suggested good hygiene and quarantining during a pandemic?"
اس سوال کے جواب میں امریکی پروفیسر نے بے ساختہ کہا وہ پیغمبر اسلام محمد (ﷺ)  ہیں جنہوں ۱۳۰۰سال قبل یہ بات کہی ہے۔
"Muhammad the prophet of Islam, over 1,300 years ago".
اس بات پرامرىكى  پروفیسر نے درج ذیل چند حدیثوں کے حوالے سے استدلال بهى کیا ہے، انہیں میں سے ایک حدیث یہ بھی ہے جس میں فرمان نبوی ﷺ ہے: ((جب تم کسی جگہ طاعون کے پھیلنے کی خبر سنو تو وہاں  مت جاؤ اور اگر تم طاعون والی جگہ موجود ہو تو وہاں سے نکل کر نہ بھاگو))۔
اسى طرح  فرمان نبوی ﷺ: ((بیمار کو صحتمند کے پاس نہ لے جاؤ))۔
اور فرمان نبوی ﷺ: ((طہارت(صفائی) آدھا ایمان ہے))۔
اسی طرح پروفیسر نے درج ذیل صحیح حدیث میں وارد علاج كے حكم كو شامل فرمان نبوى  ﷺ كى  جانب بھی اشارہ کیاہے كہ: ((بدؤوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم علاج کریں؟  آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں! اللہ کے بندوں علاج کرو کیونکہ اللہ تعالی نے کوئی بھی بیماری ایسی نازل نہیں کی ہے جس کى اس نے دوا نہ نازل کی ہو سوائے ایک بیماری کے! لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ  وہ کون سی بیماری ہے؟ آپ ﷺ  نے فرمایا : بڑھاپا))۔
   سطور ذىل  میں وه چند دعائیں اور  احادیث پىش كى جارہى  ہیں جنہیں ہمارے نبی محمد ﷺ نے ارشاد فرمائے ہیں ، ىہ اىسے ایمانی اسباب ہیں جو خالق  حقىقى سےفرىاد ، ایمان كى مضبوطى  اور اللہ کی قدرت كاملہ پر مضبوط   یقین كى صورت میں اللہ کے حکم سے مومن کو محفوظ رکھیں گے  اور اسے  پریشانیوں سے بچائیں گے ، لہذا ہمىں اس بات كا  اعتراف ہونا چاہئے كہ الله ہى  ہمارى حفاظت كرنے والا ہے،  اور صحت و عافیت اور شفاء سب اللہ -سبحانہ و تعالی- کے ہاتھ میں ہى ہے، تمام اسباب اور انكے أثرات  بهى  اسى کے ہاتھ میں ہیں ۔
·       رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((جس نے رات میں سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھ لیں وہ دونوں اس کے لئے کافی ہوجائیں گی))،..[حدیث صحیح ہے اسے بخاری نے روایت کیا ہے]۔
·       رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((تم صبح و شام تین تین بار  ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اور ﴿الْمُعَوِّذَتَيْنِ  پڑھو یہ تمہارے لئے ہر چیز سے کافی ہوجائیں گی))، [حدیث صحیح ہے اسے أبوداؤد  نے روایت کیا ہے]۔
    اسى طرح نبی ﷺ نے متعدد احادیث میں "آیة الكرسي" کے قراءت کی فضیلت بھی بیان کی ہے،  انہیں میں  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں آپ ﷺ کا اقرار بھی ہے:
      جب تم اپنے بستر پہ جاؤ ،  تو آیة الكرسي: ﴿اللَّهُ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ آخر تک پڑھ لو،  اس طرح  تمہارے اوپر اللہ کی طرف سے نگراں مقرر کردیا جائے گا اور شیطان صبح تک تمہارے قریب بھی نہیں آئے گا))، [حدیث صحیح ہے اسے بخاری نے روایت کیا ہے]۔
·       رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
جو بندہ ہر صبح اور شام  تین بار ((بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لاَ يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ)) پڑھتا ہے،  اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہونچاسكتی, [حدیث صحیح ہے اسے ترمذى  نے روایت کیا ہے]۔
·       رسول اللہ ﷺ  ان دعاؤں کو صبح یا شام کبھی بھی نہیں چھوڑتے تهے :
((اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِى دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي))،  [حدیث صحیح ہے اسے  ابن حبان  نے روایت کیا ہے]۔
اللہ کے حکم سے اس دعا كے ذرىعہ بندے كو  ہمہ جہت حفاظت اور بچاؤ حاصل ہوگی ۔
·       رسول اللہ ﷺ یہ دعاء پڑھا کرتے تھے:
((اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئِ الْأَسْقَامِ))، [حدیث صحیح ہے اسے أبو داؤد نے روایت کیا ہے]۔
        یہ بہت ہى جامع اور شامل دعاء نبوی  ﷺ ہے،  جس میں عقلی و  نفسانی بیماری، ہر پریشانی و علت كے ساتھ ساتھ گذری ہوئی ،  حالیہ اور مستقبل كى  تکلیفوں  سے بهى پناہ اور بچاؤ کا سوال کیا گیا ہے ۔
·       رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
    جب انسان گھر سے نکلتے وقت :....................................................... ((باسمِ اللهِ، تَوكَّلتُ على اللهِ، لا حَولَ ولا قُوَّةَ إلَّاباللهِ)) پڑھتا ہے ، تو اس سے کہا جاتا ہے : تجھے ہدایت مل گئی،  اللہ تیرے  لئے کافی ہوگیا ،تجھے( ہر بلاء سے) حفاظت مل گئی، پس شیطان اس سے دور ہوجاتا ہے اور اس سے دوسرا شیطان کہتا ہے: اس شخص سے تیرا کیا  (ہونے والا) جو ہدایت پا گیا، جس کے لئے اللہ کافی ہوگیا اور جس كے حفاظت كى ذمہ دارى خود  الله نے لے لى؟))،..[حدیث صحیح ہے اسے أبو داؤد نے روایت کیا ہے]۔
·       رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
جس نے نماز فجر کے فورا بعد کسی سے بات کرنے سے پہلے ہی دس مرتبہ کہا : ((لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ ، وحدَهُ لا شريكَ لَهُ، لَهُ الملكُ ولَهُ الحمدُ ، يُحيي ويُميتُ وَهوَ على كلِّ شيءٍ قديرٌ)) اس کے لئے اللہ تعالی دس نیکیاں لکھتے ہیں،  اس کے دس گناہ معاف ہوتے ہیں،  اس کے دس درجات بلند کئے جاتے ہیں اور ىہ اس کے لئے پورے دن ہر ناپسندیدہ چیز اور شیطان سے ڈهال ہوجاتی ہے۔..[حدیث صحیح ہے اسے ترمذى  نے روایت کیا ہے]۔
·       أم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہےکہ:
 رسول اللہ ﷺ ہر رات بستر پر جاتے ہوئے اپنی ہتھیلیوں کو جمع کرکے ان میں پھونکتے اوران میں: ﴿قُلْ هو اللَّهُ أحَدٌ،  ﴿قُلْ أعُوذُ برَبِّ الفَلَقِ اور ﴿قُلْ أعُوذُ برَبِّ النَّاسِ پڑھتے، پھر جہاں تک ہاتھ پہونچتا وہاں تک ہاتھوں سے  مسح کرتے پہلے اپنے سر اور چہرے اور جسم کے اگلے حصے سے شروع کرتے ایسا آپﷺ  تین مرتبہ کیا کرتے تھے۔[حدیث صحیح ہے اسے امام بخارى نے روایت کیا ہے]۔
طب علاجی سے متعلق بھی ہمیں پیارے رسول ﷺ سے عظیم رہنمائی اور انمول ہدایات ملتی ہیں،  انہیں میں سے نبی ﷺ کا صحابہ  كرام کے سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کرنے والے عمل کا اقرار بھی ہے۔ جب انہوں نے جھاڑ پھونک اور طلب شفاء کے لئے ایسا کیا تها ، جیساکہ بچھو کے ڈنک کا شکارہوئے شخص کے قصے میں آىاہے۔
·       حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:
 (( میں نے  اس شخص كے پاس جاكر سورہ فاتحہ پڑھ كر دم كىا , جس سے وہ شفاىاب  اور صحتمند ہوگیا ...جب ہم رسول اللہﷺ  کے پاس پہونچے اور میں نے اس بارے میں آپ کو اطلاع دی تو آپﷺ نے فرمایا : تمہیں کیسے پتہ چلا کہ یہ رقیہ ہے؟)) [حدیث صحیح ہے اسے امام ابوداود نے روایت کیا ہے]۔
·       انہیں میں سے وہ نبوی توجیہ بھی ہے جسے صحابی جلیل نے ہمارے لئے  روایت کی ہے:
  حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:  میں نے نبی ﷺ سےاپنے بدن میں موجود ایک درد کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا : تم اپنے ہاتھ کو درد کی جگہ رکھ کر تین مرتبہ باسم اللہ کہو ، اور پھر سات مرتبہ((أعوذ بعزة الله و قدرته من شر ما أجد و أحاذر))  کہو ،حضرت عثمان کہتے ہیں کہ:  میں نے ایسا ہی کیا تو اللہ نے میری تکلیف کو ختم کردیا [حدیث صحیح ہے اسے امام مسلم  نے روایت کیا ہے]۔
·       جب  ایک شخص نبی ﷺ  کے پاس آیا اور کہنے لگا:
  اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے گذشتہ رات بچھو نے  ڈنک مار دیا ہے ، تو نبی كرىم  ﷺ نے فرمایا: اگر تم شام کے وقت ((أعوذ بكلماتِ اللهِ التَّامَّاتِ من شرِّ ما خلق)) کہے ہوتے تو وہ تمہیں نقصان نہ پہونچاتا۔ [حدیث صحیح ہے اسے امام بخارى نے روایت کیا ہے]۔
·       اورأم  المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ
 نبی ﷺ اپنے گھر کے بعض افراد کو دعاء  کرتے اور اپنے دائیں ہاتھ کو  مسح کرتے  ہوئے فرماتے: ((اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ أذْهِبِ البَاسَ، اشْفِهِ وأَنْتَ الشَّافِي، لا شِفَاءَ إلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لا يُغَادِرُ سَقَمًا))، [حدیث صحیح ہے اسے امام بخارى نے روایت کیا ہے]۔
      ثابت  رحمہ الله نے کہا:  اے ابو حمزہ ، مجھے تکلیف ہے،  تو انس  رضى الله عنہ نے کہا:  کیا میں تم پہ  نبی ﷺ والا  رقیہ نہ پڑھوں،  انہوں (ثابت)  نے کہا : ہاں کیوں نہیں ضرور پڑھیں تو انہوں  (أبو حمزه انس) نے کہا: ((اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، مُذْهِبَ البَاسِ، اشْفِ أنْتَ الشَّافِي، لا شَافِيَ إلَّا أنْتَ، شِفَاءً لا يُغَادِرُ سَقَمًا))، [حدیث صحیح ہے اسے امام بخارى نے روایت کیا ہے]۔
ایک سچے مومن کا یہ پکا ایمان ہوتا ہے کہ اکیلا اللہ خالق و مالک ہی تمام برائیوں ،  بیماریوں اور وباؤں سے بچانے والا ہے ، ہم سب کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے اور اسی کی جانب توبہ و استغفار دعاء اور خاکساری  کا اظہار کرتے ہوئے رجوع کرنا چاہئے اور نبی ﷺ کی دی گئی تعلیمات اور آپ پر نازل کی گئی وحی  (قرآن کریم ) پر عمل کرنا چاہئے تاکہ ہم کامیاب ہوں اور  ہر طرح کے پریشانی وباء بیماریوں اور الجھنوں اور گھٹن سے محفوظ  رہیں۔
فرمان باری تعالی  ہے : ﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَأَخَذْنَاهُمْ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ﴾، ترجمہ: ((اور ہم نے اور امتوں کی طرف بھی جو کہ آپ سے پہلے گذر چکی ہیں پیغمبر بھیجے تھے  سو ہم نے ان کو تنگدستی اور بیماری سے پکڑا تاکہ وہ اظہار عجز کرسکیں))۔
فرمان باری تعالی ہے : ﴿وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي رَحِيمٌ وَدُودٌ ﴾، ترجمہ: ((تم اپنے رب سے استغفار کرو اور اس کی طرف توبہ کرو یقین مانو کہ میرا رب بڑی مہربانی والا اور بہت محبت کرنے والا ہے))۔
فرمان باری تعالی ہے : ﴿وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ،  ترجمہ: ((اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ))۔




دعاء
اے اللہ تو ہماری ،  ہمارے  احباب ، مسلمانوں اور تمام لوگوں کی ہر وباء اور مصیبت سے حفاظت فرما۔
اے اللہ ہم تجھ سے دنیا  اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتے ہیں اور ہم تجھ سے اپنے دین  اور اپنی دنیا اور اپنے اہل اور مال میں عافیت اور در گذر کا سوال کرتے ہیں اے اللہ تو ہمارے عیوب کو چھپا دے ہمارے خوف کو امن سے بدل دے  ہمارے آگے ہمارے پیچھے ہمارے دائیں ہمارے بائیں سے اور ہمارے اوپر سے ہماری حفاظت فرما  اور اے اللہ ہم تیری عظمت کے ذریعہ تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ہمیں ہمارے نیچے جانب سے ہلاک ہونے سے بچا۔
اے اللہ ہم برص،  پاگل پن، أعضاء کی سڑن،  اور تمام بری بیماریوں سے تیری پناہ  چاہتے ہیں ۔
اے اللہ تو ہمیں ہمارے والدین تمام زندہ و مردہ مسلمان مرد وعورت کی مغفرت فرما ۔
اے اللہ تو ہمیں دنیا  اور آخرت کی بھلائی سے نواز  اور ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ رکھ ۔
سید البشر ، نبی ِّمصطفی  پر درود  وسلام  ہوں۔


□□□
 Download book: 
 https://drive.google.com/file/d/1tMLw_rH5u0oh2d4OjvE2Mk5dWA586Vvt/view?usp=sharing