تمام تعریفیں اللہ رب دو جہاں کیلئے ہیں
اور درود و سلام ہوں ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے آل و اصحاب
پر .
أمابعد:
یہ موزوں پرمسح سے متعلق احکام کاخلاصہ ہے،جس میں میں نے شرعی دلائل سے قریب تر احکام پر اکتفاء کیاہے، میں اللہ تعالی سے اخلاص اور توفیق کا طالب ہوں۔
أمابعد:
یہ موزوں پرمسح سے متعلق احکام کاخلاصہ ہے،جس میں میں نے شرعی دلائل سے قریب تر احکام پر اکتفاء کیاہے، میں اللہ تعالی سے اخلاص اور توفیق کا طالب ہوں۔
مسح علی الخفین کی تعریف:
خفین سے مراد :باریک چمڑے سے بنے پیر پر پہنی جانے والی چیز، اسکی جمع
خِفاف آتى ہے۔
اس سے مراد یہاں: چمڑے یا اس جیسی چیز سے بنا وہ مخصوص لباس ہے جو پاؤں
کو ٹخنے تك ڈھانکے رکھے۔
اسی کے حکم میں جوارب بھی آتے ہیں: جو روئی ، اون یا بال وغیرہ سے بنے ہوئے
پیر میں پہننے کیلئے استعمال ہوتے ہیں ۔
اور مسح سے مراد: بھیگے ہوئے ہاتھ کومسح کی مشروعیت والی جگہ پھیرنا ہے۔
مسح علی الخفین کا حکم:
مسح علی الخفین کتاب و سنت کے متواتر دلائل اور اجماع سے ثابت ہے۔
لہذا جو موزہ پہنے ہوئے ہو اس کے لئے ان پر مسح کرنا ان کو دھونے سے
افضل ہے۔اور جو موزے نہ پہنے ہو اس کیلئے پیروں کا دھونا ان پر مسح کرنے
کیلئے انہیں پہننے سے افضل ہے؛کیونکہ یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کار ہے۔
مسح علی الخفین کے مشروعیت کے دلائل:
۱-فرمان باری تعالی:(ياأيها الذين ءامنوا إذا
قمتم إلى الصلاة فاغسلوا وجوهكم و و أيديكم إلى المرافق وامسحوا برؤوسكم و أرجلكم
إلى الكعبين)المائدة:٦
بایں طور کہ فرمان باری تعالی:(وأرجلكم)سے متعلق قراءات سبع میں دو صحیح اور ثابت قراءتیں وارد ہیں:
پہلی قراءت: نصب کے ساتھ ہے جو مفعول بہ
یعنی فرمان باری تعالی(وجوھکم)پر عطف کے محل میں ہے اس قراءت کے اعتبار سے دونوں
پیروں کا دھونا سمجھا جائے گا۔
دوسری قراءت:جر کے ساتھ (برؤوسکم)پر عطف ہوگا اس طرح دونوں پیروں
یعنی موزوں پر مسح کیا جائے گا۔جیساکہ سنت سے ثابت ہے۔
۲-حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضوء کررہے تھے وہ کہتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزووں کو نکالنے کیلئے جھکا تو آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا:انہیں یوں رہنے کیوں کہ میں انہیں پاکی کی حالت میں پہنا ہوں پھر آپ نے ان پر مسح کیا۔
اس کی تخریج بخاری نے (۲۰۶) اور مسلم نے (۲۷۴)نمبر پہ کہ ہے۔
۲-حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضوء کررہے تھے وہ کہتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزووں کو نکالنے کیلئے جھکا تو آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا:انہیں یوں رہنے کیوں کہ میں انہیں پاکی کی حالت میں پہنا ہوں پھر آپ نے ان پر مسح کیا۔
اس کی تخریج بخاری نے (۲۰۶) اور مسلم نے (۲۷۴)نمبر پہ کہ ہے۔
۳-اجماع:اہل علم کا مسح علی الخفین کی
مشروعیت پر اجماع ہے۔
مسح علی الخفین کی شرطیں:
مسح علی الخفین کی چار شرطیں ہیں؛
پہلی شرط:موزوں کا پاکی کی حالت میں پہنا جانا۔کیونکہ نبی صلی اللہ
علیہ وسلم نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا:انہیں یوں رہنے کیوں کہ میں
انہیں پاکی کی حالت میں پہنا ہوں.
دوسری شرط:موزوں کا پاک ہونا،اگر وہ نجس
ہوں تو ان پر مسح کرنا درست نہ ہوگا کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک
دفعہ اپنے اصحاب کو جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھا رہے تھے تو آپ نے دوران نماز ہی
انہیں الگ کردیا اور پھر لوگوں کو بتایا کہ جبریل علیہ السلام نے آکر اس میں گندگی
ہونے کی خبر دی ۔(اس کی تخریج ابو داود نے ۶۵۰نمبر پر کیا ہے)۔جو اس بات کی دلیل ہے کہ جس چیز میں گندگی ہو اس میں
نماز درست نہ ہوگی۔کیونکہ اگر گندگی پر پانی سے مسح کیا جائے گا تو مسح کرنے والے
کو گندگی لاحق ہو جائے گی لہذا وہ صاف نہ ہوگا۔
تیسری شرط:صرف حدث اصغر سے طہارت کیلئے
موزوں پر مسح کرنا نہ کہ جنابت یا غسل واجب ہونے کی صورت میں کیونکہ حضرت صفوان بن
رسول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت سفر میں
تین دن اور تین راتیں موزے نہ نکالنے کا حکم دیا سوائے جنابت کی صورت کے نہ کہ
پیشاب پاخانہ اور سونے کے بعد ۔
اس کی تخریج ترمذی (۹۶)اور نسائی(۱۲۶)اور ابن ماجہ (۴۷۸)نے کی ہے)۔
اس کی تخریج ترمذی (۹۶)اور نسائی(۱۲۶)اور ابن ماجہ (۴۷۸)نے کی ہے)۔
چوتھی شرط:شریعت میں متعین وقت کے اندر ہی مسح کیا جائے جو کہ مقیم
کیلئے ایک دن اور رات ہے اور مسافر کیلئے تین دن اور اور راتیں جیساکہ حضرت علی بن
ابی طالب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسح کے مدت کے طور پرمقیم کے
لئے ایک دن اور ایک رات مقرر کی اور مسافر کیلئے تین دن تین راتیں.
اسے امام مسلم نے ۲۷۶ نمبر پر روایت کیا ہے۔
اسے امام مسلم نے ۲۷۶ نمبر پر روایت کیا ہے۔
مسح کی مدت کا آغاز حدث کے بعد پہلی مرتبہ مسح سے ہوگا اور مقیم
کیلئے چوبیس گھنٹے کے بعد جب کہ مسافر کیلئے بہتر گھنٹے کے بعد ختم ہوجائے گا۔
مسح علی الخفین کے بارے میں اہم مسائل:
۱-جمہور اہل علم کے مطابق ٹخنوں سے نیچے موزے
اور اسی طرح جوتوں پر مسح درست نہیں اور یہی احتیاط کے زیادہ قریب بھی ہے۔
۲-پھٹے ہوئے موزے پر مسح کے جائز ہونے پر اہل
علم کے مابین اختلاف ہے ،ابن تیمیہ اور ابن عثیمین رحمہما اللہ نے اس پر موزہ کے
نام کا اطلاق اور اس میں چلنے کے امکان تک مسح کے جواز کو اختیار کیا ہے۔
3-اہل علم کے مابین باریک موزے پر مسح کے بارے میں اختلاف ہے بہت سے
محقق اہل علم جن میں شیخ ابن عثیمین بھی ہیں اس پر مسح کے امکان تک اس پر مسح کو
جائز ہونے کو اختیار کیا ہے۔
۴-جب کوئی حالت اقامت میں موزہ پہنے پھر سفر
پر نکل جائے تو وہ مسافر کی مدت مکمل کرے گا۔
۵-جب کوئی سفر میں موزہ پہنے اور پھر مقیم
ہوجائے تو وہ مقیم کے مسح کی مدت مکمل کرے اگر مدت باقی ہوتو ورنہ موزہ نکال دے
گا۔
۶-جب کوئی موزہ پہنے اور پھر حدث سے قبل ہی
اس پر دوسرا موزہ پہن لے تو دونوں میں سے جس پر چاہے مسح کرسکتا ہے۔
۷-جب کوئی موزہ پہن کر حدث کا شکار ہوجائے
پھر وضوء کرنے سے قبل ہی اس پر دوسرا موزہ پہن لے تو وہ پہلے ہی پر مسح کرے گا
کیوں کہ دوسرے کو پہنتے وقت اس طہارت باقی نہ تھی۔
۸-جب کوئی موزہ پہن کر حدث کا شکار ہوجائے
پھر اس پر (وضو کرتے ہوئے)مسح کرے اور دوسرا موزہ پہن لے تو وہ طہارت کی
حالت میں پہننے کی وجہ سے دوسرے پر مسح کرسکتا ہے مگر مسح کے مدت کی ابتداء پہلے
کے مسح سے ہی شمار ہوگی،یہی شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کا اختیار ہے۔
۹-جب کوئی موزے پر موزہ پہن لے اور اوپر والے
پر مسح کرکے اسے نکال دے تو وہ باقی مدت نچلے پر مسح کرتے ہوئے مکمل کرے گا۔اس کی
طرف ابن عثیمین رحمہ اللہ کا بھی میلان ہے۔
۱۰-جب کوئی مسح کے بعد موزہ نکال دے تو اس سے
اس کا وضو باطل نہیں ہوتا اسی کو ابن تیمیہ نے اختیار کیا ہے اور ابن عثیمین نے
اسے صحیح قرار دیا ہے۔لیکن جب اس کے بعد وہ حدث کا شکار ہوگا تو وضوء کرتے وقت اس
کے لئے مسح کرنا درست نہ ہوگا بلکہ دھونا ضروری ہوگا۔
۱۱-مسح کی مدت مکمل ہونے سے بھی حدث کا شکار
ہونے سےقبل طہارت باطل نہیں ہوتی شيخ الاسلام ابن تیمیہ اور شيخ ابن عثیمین رحمہما اللہ نے اسے ہی
اختیار کیا ہے ۔
مسح علی الخفین کی کیفیت:
وضوء میں دھوئے جانے والے قدم کے اوپری حصہ پر اپنے ہاتھ کو
پھیرنا،مطلب یہ کہ مسح موزہ کے اوپری حصے پر ہی کیا جائے گا۔جیساکہ حضرت علی رضی
اللہ عنہ فرماتے ہیں :اگر دین میں عقل کا دخل ہوتا تو موزے کا نچلا حصہ اوپری حصے
کے مقابلے مسح کا زیادہ حقدار ہوتا۔اسے ابو داود نے (۱۶۲)نمبر پہ نقل کیا ہے اور البانی
نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔