موسم کی تبدیلی اللہ تبارک و تعالی کی نشانیوں میں سے ہے ،یہ اللہ
تعالی کی وحدانیت ربوبیت اور قیومیت اور اسکی عظیم قدرت پر دلالت کرتے ہیں ، ان سے
یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ صرف اللہ ہی عبادت کے لائق ہے باقی سب اس کے محتاج اور
حکم کے تابع ہیں اس تبدیلی میں طبیعت کا کوئی عمل دخل نہیں اللہ ہی ایام و شہور کا
بدلنے والا ہے۔
نصيحت:غفلت اور لا یعنی امور میں زندگی کے ایام کو عموماً اور ان ایام کو خصوصا ضائع نہ کریں
موت کے وقت پچھتاوا ہوگا۔
دنیا میں رہتے ہوئے نیکی کمائی جا سکتی ہے مگر موت کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوجائیگا۔
مانگنے اور تمنا کرنے پر بھی وقت نہیں نک سکے گا۔
اللہ کی نعمتوں پر شکر گذاری:
ٹھنڈی کے کپڑے ۔ہیٹر۔گیزر۔کمبل وغیرہ
اللہ تعالی نے ان نعمتوں کو یاد دلاتے ہوئے فرمایا ہے:((سورہ نحل :۵))۷”۸۰اور ۸۱میں بھی
مام ابن رجب نے لطائف المعارف میں ٹھنڈی سے بچنے کیلئے حضرت عمر بن خطاب کی وصیت نقل کی ہے۔
مطلب ہمییں ٹھنڈی کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے اس سے بچاو کی ترتیب خود اور اہل خانہ کیلئے ضروری ہے۔
یاد رہیں کہ ان نعمتوں کا شکریہ بہت ضروری ہے،اور نعمتیں شکر کے ذریعہ برقرار رہتی ہیں۔
فرمان باری تعالی ہے:(وإذ تأذن ربكم لئن شكرتم لأزيدنكم و لئن كفرتم إن عذابي لشديد)إبراهيم :٧
•مسلمان مسلمان كا بهائي ہے(فقراء مساکین ،یتیم بیوہ محتاج خانہ جگی سے پریشان مہاجر اور پناہ گزین سیلاب سے متاثر لوگوں کی مدد کی جائے کچھ لوگ آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر رہنے پر مجبور ہیں ان کا خیال رکھا جائے۔
•جب ہم اپنے نفس اہل خانہ اور اولاد کو سردی سے محفوظ رکھنے کی ترکیب اپنائیں تو ہمییں انہیں عذاب جہنم سے بچانے کی بابت بھی سوچنا چاہئے۔
فرمان باری تعالی ہے:يا أيها الذين قوا أنفسكم و أهليكم نارا (التحريم:٦)اور فرمان نبوی ہے: كلكم راع و كللكم مسؤول عن رعيته(بخاري و مسلم)
بخيلي أور كنجوسي سے بچیں
دن اور رات کے آنے جانے اور موسم کی تبدیلی میں آسانی اور سختی کے احوال کی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے۔
※سردیوں میں بارش اور ہوائیں بھی چلتی ہیں ان سے متعلق آداب بھی ہمیں جان لینا چاہئے※
سردی کی رخصتیں:
۱-جمعہ اور جماعت سے بوقت ضرورت پیچھے رہ جانے کا جواز اور دو نمازیں اکٹھی پڑھنے کی آسانی۔
۲-
سردی میں سرزد ہونے والی غلطیاں:
وضعی کے وقت پانی کے ٹھنڈک کی وجہ سے اعضاء کا مکمل نہ دھونا
اور لاپرواہی برتنا۔
تنبیہ:ایک مسلمان کا خود کو قصدا مشقت میں ڈالنا درست نہیں ہے۔
۲-صرف پانی کی ٹھنڈک کے سبب تیمم کرنا:
تیمم کی مشروعیت کی شرطیں:
۱-پانی کی عدم موجودگی۔
۲-نقصان بیماری یا اس میں اضافہ یا دیر کے خدشے سے پانی کے استعمال کا نا ممکن ہونا ۔
۳-دوران نماز چہرہ یا منہ بلا حاجت ڈھانپنا۔
سردی کے سبب ان امور کی اجازت ہے:
۱-دستانہ پہننا۔
۲-الیکٹریک ہیٹر (دفایہ)کا استعمال،،،یاد رہے کہ اسے سامنے رکھ نماز ادا کی جا سکتی ہے اس کراہت کے قائلیں آگ کے پجاریوں کی مشابہت سے بچنے کیلئے ایسا کہتے ہیں حالانکہ جا میں لپٹ نہ ہو اسے سامنے رکھنے میں کوئی حرج نہیں مگر اختلاف سے بچتے ہوئے نہ کرنا ہی بہتر ہے۔
موزوں پر مسح:
موزوں پر مسح کی شرطیں:
۱-موزہ کی پاکی۔
۲-موزے کا محل فرض (ٹخنے کے ساتھ قدم )کا ڈھانپنے والا ہونا۔
۳-عام طور سے اسے پہن کر چلنا ممکن ہو ۔
٤-پانی کے ذریعہ مکمل طہارت کے بعد پہنا جانا۔
٥-صرف حدث اصغر میں مسح کیا جانا۔
٦-مدت مسح(مقيم کے لئے ایک دن ایک رات (٢٤گھنٹے)اور مسافر کیلئے تین دن اور تین راتیں(۷۲گھنٹے)۔
مدت مسح کی ابتدا وضو ٹوٹنے کے بعد پہلے مسح سے شروع ہوگی۔
مثال کے طور پر ۹بجے صبح ہی وضو ٹوٹا مگر ۱۲بجے نماز ظہر کیلئے وضو کرتے ہوئے مسح کیا تو اسی وقت سے ابتدا ہوگی۔
مسح کی کیفیت:
مسح کرنے والا اپنے دو ہتھیلیوں کو بھگا کر انہیں بیک وقت دائیں اور بائیں قدموں کے اوپری حصے پر انگلیوں کو پھیلاکر پيركى انگلیوں سے شروع کرتے ہوئے پنڈلی تک پھیرے ۔
*چاہے دونوں موزوں پر کان کی مسح کے مانند بیک وقت مسح کریں یا پہلے دائیں اور پھر بائیں پر مسح کیا جائے اسی طرح چاہے داہنے یا بائیں ہاتھ ہی سے دونوں موزوں پر مسح کرلے اس سلسلے میں کوئی مضایقہ نہیں اس بارے میں معاملہ امر واسع ہے۔
*البتہ بعض لوگوں کے دونوں ہاتھوں سے دونوں پیروں پر مسح کی کوئی اصل نہیں ۔
*علی کل حال جس بھی طرح موزے کے اوپری حصہ پر مسح کر لیا جائے کافی ہوگا۔ دیکھئے فتاوی ابن عثیمین:۱۱/ ۱۷۷۔
*راجح قول کے مطابق صرف مدت مسح کے خاتمہ یا موزہ نکال دینے سے وضو نہیں ٹوٹتا(شرح ممتع۱/ ۲۶۳)۔
لیکن پھر مسح کیلئے پیر دھونےکے ساتھ مکمل وضوء کے بعد موزہ پہننا ہوگا۔
جب کوئی ایک سے زائد موزہ پہن لے تو اس کی درج ذیل صورتیں ہوں گی:
۱-ایک موزہ پہننے کے بعد حدث سے پہلے دوسرا موزہ پہننے والا دونوں میں سے جس پر بھی چاہے مسح کرسکتا ہے۔
۲-جو ایک موزہ پہن کر دوسرا موزہ پہننے سے پہلے حدث کا شکار ہوجائے اور بلا وضوء دوسرا موزہ پہنے تو ایسا شخص پہلے موزہ پر مسح کرے گا دوسرے پر نہیں کرسکتا۔
۳-جب پہلے موزہ پہن کر حدث کے بعد مسح کرکے دوسرا موزہ پہنے تو اس صورت میں راجح قول کےمطابق طہارت کے حالت میں پہننے کی وجہ سے دوسرے پر مسح کرسکتا ہے،مگر مسح کی ابتدا کا وقت پہلے پر مسح سے ہی شمار ہوگا۔اس صورت میں ایسا شخص پہلے پر بھی مسح کرسکتا ہے۔
۴-جب کوئی موزے پر موزہ پہنے اور دوسرے موزے پر مسح کرکے اسے نکال دے تو کیا وہ باقی مدت تک پہلے پر مسح کرسکتا ہے ؟جی ہاں اسی طرح جس طرح کسی کے موزے کے اوپری پرت کو الھیڑ دیا جائے وہ اندرونی پرت پر مسح کرتا رہے۔
ان کے یکے بعد دیگرے بتدریج آنے میں بہت سی حکمتیں پنہاں ہیں ذرا
کریں اگر اچانک موسم تبدیل ہوجاتے تو کیا ہوتا؟!
سورج کی سخت تپش اور اس کی کمی اور مختلف مواسم کا آنا جانا تصور
کریں اگر ایک ہی موسم رہتا تو ؟!
عقلمند مومن ہر موسم کو خوشی اور رضامندی سے قبول کرتا ہے اور زندگی
کے لطف اٹھاتا ہے۔
دین یا دنیا کے کاموں میں کسی موسم کے آنے جانے کا اس پر کوئی اثر
نہیں پڑتا جبکہ سست اور کاہل قسم کے لوگ ہر موسم کو کوستے ہیں اور انہیں اپنی سستی
کا سبب تصور کرتے ہیں چنانچہ سردی گرمی اور بارش کے جانے کا انظار کرتے ہوئے اہم
ترین کاموں کو ملتوی کرتے نظر آتے ہیں۔اسی سلسلے میں کسی شاعر نے کہا ہے؛
إذا كان يؤذيك حر المصيف
وكرب الخريف و برد الشتا
و..يلهيك حسن زمان الربيع
فأخذت.. للعلم قل لي متى؟!
لہذا ہم ہر موسم میں اللہ کی نعمتوں سے لطف آندوز ہوکر زندگی میں آگے
بڑھیں سستی اور کاہلی کے شکار نہ ہوں۔
ٹھنڈی یا گرمی کے بہانے بنا کر واجبات اور طاعات کو نہ چھوڑیں خصوصا
نماز فجر میں سستی نہ برتیں اسی طرح عورتیں گرمی کا بہانہ کرتے ہوئے حجاب سے کنارہ
کشی نہ اپنائیں-
اگر کسی کو ٹھنڈی یا گرمی بہانہ لگے تو وہ جہنم کی ٹھنڈی یا گرمی کو
یاد کرے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا:جہنم نے اللہ تعالی سے یہ کہتے ہوئے شکایت کی کہ اے اللہ میرا بعض حصہ
بعض حصے کو کھائے جارہا ہے:..........................۔(بخاری و مسلم)
یاد رہے کہ حسی سبب جو سورج کے دور ہونے کو بتایا جاتا ہے اس میں اور
حدیث میں کوئی ٹکراو نہیں ہے۔
یک لوگوں کے لئے ٹھنڈی کا موسم بہت ہی اہم موقع ہے کیونکہ اس موسم
میں دن چھوٹے اور راتیں بڑی ہوتی ہیں ؛
حضرت رضی اللہ عنہ سے مصنف ابن ابی شیبہ اور حلیہ اولیاء میں منقول
ہے کہ :
الشتاء غنيمة العابدين.
اسی طرح اب مسعود کے بارے میں آتا ہے کہ وہ ٹھنڈی کے موسم کی آمد پر
خوشی ظاہر کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ :مرحبا بالشتاء تنزل فيه البركة يطول فيه الليل
للقيام و يقصر فيه النهار للصيام (لطائف المعارف).
امام ترمذی نے ایک روایت نقل کی ہے اور اسے مرسل کہا ہے جسے البانی
نے اسکے متعدد طرق کی بناء پر حسن کہا ہے :الغنيمة الباردة الصوم في الشتاء.
فائدہ:سفر یا حیض و مفاد کے سبب جن کے رمضان میں کچھ روزے رہ گئے ہوں
ان کی قضاء کیلئے یہ بہترین موقع ہے۔
اسی
طرح رمضان کے دنوں میں جماع یا ظہار کے کفارے کے طور پر روزے بھی ان میں بآسانی
رکھے جا سکتے ہیں!نصيحت:غفلت اور لا یعنی امور میں زندگی کے ایام کو عموماً اور ان ایام کو خصوصا ضائع نہ کریں
موت کے وقت پچھتاوا ہوگا۔
دنیا میں رہتے ہوئے نیکی کمائی جا سکتی ہے مگر موت کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوجائیگا۔
مانگنے اور تمنا کرنے پر بھی وقت نہیں نک سکے گا۔
اللہ کی نعمتوں پر شکر گذاری:
ٹھنڈی کے کپڑے ۔ہیٹر۔گیزر۔کمبل وغیرہ
اللہ تعالی نے ان نعمتوں کو یاد دلاتے ہوئے فرمایا ہے:((سورہ نحل :۵))۷”۸۰اور ۸۱میں بھی
مام ابن رجب نے لطائف المعارف میں ٹھنڈی سے بچنے کیلئے حضرت عمر بن خطاب کی وصیت نقل کی ہے۔
مطلب ہمییں ٹھنڈی کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے اس سے بچاو کی ترتیب خود اور اہل خانہ کیلئے ضروری ہے۔
یاد رہیں کہ ان نعمتوں کا شکریہ بہت ضروری ہے،اور نعمتیں شکر کے ذریعہ برقرار رہتی ہیں۔
فرمان باری تعالی ہے:(وإذ تأذن ربكم لئن شكرتم لأزيدنكم و لئن كفرتم إن عذابي لشديد)إبراهيم :٧
•مسلمان مسلمان كا بهائي ہے(فقراء مساکین ،یتیم بیوہ محتاج خانہ جگی سے پریشان مہاجر اور پناہ گزین سیلاب سے متاثر لوگوں کی مدد کی جائے کچھ لوگ آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر رہنے پر مجبور ہیں ان کا خیال رکھا جائے۔
•جب ہم اپنے نفس اہل خانہ اور اولاد کو سردی سے محفوظ رکھنے کی ترکیب اپنائیں تو ہمییں انہیں عذاب جہنم سے بچانے کی بابت بھی سوچنا چاہئے۔
فرمان باری تعالی ہے:يا أيها الذين قوا أنفسكم و أهليكم نارا (التحريم:٦)اور فرمان نبوی ہے: كلكم راع و كللكم مسؤول عن رعيته(بخاري و مسلم)
بخيلي أور كنجوسي سے بچیں
دن اور رات کے آنے جانے اور موسم کی تبدیلی میں آسانی اور سختی کے احوال کی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے۔
※سردیوں میں بارش اور ہوائیں بھی چلتی ہیں ان سے متعلق آداب بھی ہمیں جان لینا چاہئے※
سردی کی رخصتیں:
۱-جمعہ اور جماعت سے بوقت ضرورت پیچھے رہ جانے کا جواز اور دو نمازیں اکٹھی پڑھنے کی آسانی۔
۲-
سردی میں سرزد ہونے والی غلطیاں:
وضعی کے وقت پانی کے ٹھنڈک کی وجہ سے اعضاء کا مکمل نہ دھونا
اور لاپرواہی برتنا۔
تنبیہ:ایک مسلمان کا خود کو قصدا مشقت میں ڈالنا درست نہیں ہے۔
۲-صرف پانی کی ٹھنڈک کے سبب تیمم کرنا:
تیمم کی مشروعیت کی شرطیں:
۱-پانی کی عدم موجودگی۔
۲-نقصان بیماری یا اس میں اضافہ یا دیر کے خدشے سے پانی کے استعمال کا نا ممکن ہونا ۔
۳-دوران نماز چہرہ یا منہ بلا حاجت ڈھانپنا۔
سردی کے سبب ان امور کی اجازت ہے:
۱-دستانہ پہننا۔
۲-الیکٹریک ہیٹر (دفایہ)کا استعمال،،،یاد رہے کہ اسے سامنے رکھ نماز ادا کی جا سکتی ہے اس کراہت کے قائلیں آگ کے پجاریوں کی مشابہت سے بچنے کیلئے ایسا کہتے ہیں حالانکہ جا میں لپٹ نہ ہو اسے سامنے رکھنے میں کوئی حرج نہیں مگر اختلاف سے بچتے ہوئے نہ کرنا ہی بہتر ہے۔
موزوں پر مسح:
موزوں پر مسح کی شرطیں:
۱-موزہ کی پاکی۔
۲-موزے کا محل فرض (ٹخنے کے ساتھ قدم )کا ڈھانپنے والا ہونا۔
۳-عام طور سے اسے پہن کر چلنا ممکن ہو ۔
٤-پانی کے ذریعہ مکمل طہارت کے بعد پہنا جانا۔
٥-صرف حدث اصغر میں مسح کیا جانا۔
٦-مدت مسح(مقيم کے لئے ایک دن ایک رات (٢٤گھنٹے)اور مسافر کیلئے تین دن اور تین راتیں(۷۲گھنٹے)۔
مدت مسح کی ابتدا وضو ٹوٹنے کے بعد پہلے مسح سے شروع ہوگی۔
مثال کے طور پر ۹بجے صبح ہی وضو ٹوٹا مگر ۱۲بجے نماز ظہر کیلئے وضو کرتے ہوئے مسح کیا تو اسی وقت سے ابتدا ہوگی۔
مسح کی کیفیت:
مسح کرنے والا اپنے دو ہتھیلیوں کو بھگا کر انہیں بیک وقت دائیں اور بائیں قدموں کے اوپری حصے پر انگلیوں کو پھیلاکر پيركى انگلیوں سے شروع کرتے ہوئے پنڈلی تک پھیرے ۔
*چاہے دونوں موزوں پر کان کی مسح کے مانند بیک وقت مسح کریں یا پہلے دائیں اور پھر بائیں پر مسح کیا جائے اسی طرح چاہے داہنے یا بائیں ہاتھ ہی سے دونوں موزوں پر مسح کرلے اس سلسلے میں کوئی مضایقہ نہیں اس بارے میں معاملہ امر واسع ہے۔
*البتہ بعض لوگوں کے دونوں ہاتھوں سے دونوں پیروں پر مسح کی کوئی اصل نہیں ۔
*علی کل حال جس بھی طرح موزے کے اوپری حصہ پر مسح کر لیا جائے کافی ہوگا۔ دیکھئے فتاوی ابن عثیمین:۱۱/ ۱۷۷۔
*راجح قول کے مطابق صرف مدت مسح کے خاتمہ یا موزہ نکال دینے سے وضو نہیں ٹوٹتا(شرح ممتع۱/ ۲۶۳)۔
لیکن پھر مسح کیلئے پیر دھونےکے ساتھ مکمل وضوء کے بعد موزہ پہننا ہوگا۔
جب کوئی ایک سے زائد موزہ پہن لے تو اس کی درج ذیل صورتیں ہوں گی:
۱-ایک موزہ پہننے کے بعد حدث سے پہلے دوسرا موزہ پہننے والا دونوں میں سے جس پر بھی چاہے مسح کرسکتا ہے۔
۲-جو ایک موزہ پہن کر دوسرا موزہ پہننے سے پہلے حدث کا شکار ہوجائے اور بلا وضوء دوسرا موزہ پہنے تو ایسا شخص پہلے موزہ پر مسح کرے گا دوسرے پر نہیں کرسکتا۔
۳-جب پہلے موزہ پہن کر حدث کے بعد مسح کرکے دوسرا موزہ پہنے تو اس صورت میں راجح قول کےمطابق طہارت کے حالت میں پہننے کی وجہ سے دوسرے پر مسح کرسکتا ہے،مگر مسح کی ابتدا کا وقت پہلے پر مسح سے ہی شمار ہوگا۔اس صورت میں ایسا شخص پہلے پر بھی مسح کرسکتا ہے۔
۴-جب کوئی موزے پر موزہ پہنے اور دوسرے موزے پر مسح کرکے اسے نکال دے تو کیا وہ باقی مدت تک پہلے پر مسح کرسکتا ہے ؟جی ہاں اسی طرح جس طرح کسی کے موزے کے اوپری پرت کو الھیڑ دیا جائے وہ اندرونی پرت پر مسح کرتا رہے۔