غسل کے احکام و مسائل
ایک مسلمان ہمیشہ پاک ہوتا ہے البتہ بعض صورتوں میں
حکما ناپاک ہو جاتا ہے،جس کی وجہ سے اس پر مسنون غسل کرنا واجب ہو جاتا ہے
(اول)جن چیزوں سےغسل واجب ہوتا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں :
(1)حقوق زوجیت ادا کرنے سے(صحیح البخاری:291(
2))عورت کے ایام حیض ونفاس ختم ہونے پر(صحیح البخاری:306(
(3)احتلام کی وجہ سےبشرطیکہ تری کا وجود ہو(سنن ابو داود:236(
(4) میت کو غسل دیناواجب ہے (صحیح البخاری:1849(
5))اسلام قبول کرنے والا بھی غسل کرے گا(سنن ابو داود:355)
نوٹ: اگر غسل خانہ اور بیت الخلاء اکٹھے ہوں، تو اس میں داخل ہونے سے پہلے مسنون دعا پڑھ لیں، اللہم إنی أعوذبک من الخبث والخبائث۔
)دوم)غسل جنابت کا مسنون طریقہ:
)۱(سب سے پہلے دونوں ہاتھ دھوئیں ۔
)۲(پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر جسم پر لگی ہوئی نجاست کو دھوئیں ۔
)۳(پھر ہاتھوں کو صابن یا مٹی سے اچھی طرح دھوئیں ۔
)۴(پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کریں (صرف پاوں چھوڑ دیں(
)۵(پھر انگلیوں کے ذریعے پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچائیں۔
)۶(پھر پانی لے کر اپنی انگلیوں کے ذریعے سر کے بالوں کی تہہ میں داخل کریں۔
)۷(پھر تین چلو بھر کر یکے بعد دیگرےسر میں ڈالیں۔
)۸(پھر سارے جسم پر پانی بہائیں ۔
)9(آخر میں اس جگہ سے علیحدہ ہو کر دونوں پاوں دھو لیں۔ (صحیح البخاری:248،272،257)
کچھ ہدایات:
1۔ غسل دائیں اطراف سے شروع کرنا چاہیے۔ (صحیح البخاری:258،168)
2۔غسل جنابت میں عورت کے لیے سر کی مینڈیا ں کھولنا ضروری نہیں ہے۔(سنن ابو داود:255)
3۔غسل کرتے ہوئے پانی کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے،رسول اللہ ﷺاڑھائی کلو گرام پانی سے غسل کرلیا کرتے تھے۔(صحیح البخاری:201(
4۔چھپ کر اور ستر ڈھانپ کر غسل کرنا چاہیے۔(سنن ابو داود:4012(
5۔عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کیا جا سکتا ہے۔(سنن ابو داود:صحیح مسلم:323(
6۔میاں بیوی اکٹھے غسل جنابت کر سکتے ہیں ۔(صحیح البخاری:261(
7۔ایسے غسل خانے میں جہاں بیت الخلاء بھی ساتھ ہو تو بیت الخلاء سے دور ہو کر ایسی جگہ نہائیں جہاں اس کی کوئی چیز نہ پہنچ سکے۔(فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ و الافتاء:5/86(
8۔مسنون غسل کے بعد وضو کی ضرورت نہیں۔(سنن ابو داود:250)بشرطیکہ غسل میں وضو کرنے کے بعد شرمگاہ کو ہاتھ نہ لگا ہو۔
9۔غسل کے بعد تولیے کا استعمال اور ہاتھوں کو جھاڑنا درست ہے۔(صحیح البخاری:276 (
)سوم)ایسے مواقع جن پر غسل کرنا مسنون ہے:
(1)نماز جمعہ کے لیے(صحیح البخاری:858)،(2)عیدین کے لیے(موطا:1/177)،(3) میت کو غسل دینے والے کے لیے(جامع ترمذی :993)(4)احرام باندھنے کے لیے(جامع ترمذی:830)،(5)مستحاضہ عورت کو نمازوں کے لیے(صحیح البخاری:327)،(6)جس پر غشی طاری ہو اس کے لیے(صحیح البخاری:687)، (7)مشرک کو دفن کرنے کے بعد(سنن نسائی:190(
(محدث فورم(
(اول)جن چیزوں سےغسل واجب ہوتا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں :
(1)حقوق زوجیت ادا کرنے سے(صحیح البخاری:291(
2))عورت کے ایام حیض ونفاس ختم ہونے پر(صحیح البخاری:306(
(3)احتلام کی وجہ سےبشرطیکہ تری کا وجود ہو(سنن ابو داود:236(
(4) میت کو غسل دیناواجب ہے (صحیح البخاری:1849(
5))اسلام قبول کرنے والا بھی غسل کرے گا(سنن ابو داود:355)
نوٹ: اگر غسل خانہ اور بیت الخلاء اکٹھے ہوں، تو اس میں داخل ہونے سے پہلے مسنون دعا پڑھ لیں، اللہم إنی أعوذبک من الخبث والخبائث۔
)دوم)غسل جنابت کا مسنون طریقہ:
)۱(سب سے پہلے دونوں ہاتھ دھوئیں ۔
)۲(پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر جسم پر لگی ہوئی نجاست کو دھوئیں ۔
)۳(پھر ہاتھوں کو صابن یا مٹی سے اچھی طرح دھوئیں ۔
)۴(پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کریں (صرف پاوں چھوڑ دیں(
)۵(پھر انگلیوں کے ذریعے پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچائیں۔
)۶(پھر پانی لے کر اپنی انگلیوں کے ذریعے سر کے بالوں کی تہہ میں داخل کریں۔
)۷(پھر تین چلو بھر کر یکے بعد دیگرےسر میں ڈالیں۔
)۸(پھر سارے جسم پر پانی بہائیں ۔
)9(آخر میں اس جگہ سے علیحدہ ہو کر دونوں پاوں دھو لیں۔ (صحیح البخاری:248،272،257)
کچھ ہدایات:
1۔ غسل دائیں اطراف سے شروع کرنا چاہیے۔ (صحیح البخاری:258،168)
2۔غسل جنابت میں عورت کے لیے سر کی مینڈیا ں کھولنا ضروری نہیں ہے۔(سنن ابو داود:255)
3۔غسل کرتے ہوئے پانی کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے،رسول اللہ ﷺاڑھائی کلو گرام پانی سے غسل کرلیا کرتے تھے۔(صحیح البخاری:201(
4۔چھپ کر اور ستر ڈھانپ کر غسل کرنا چاہیے۔(سنن ابو داود:4012(
5۔عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کیا جا سکتا ہے۔(سنن ابو داود:صحیح مسلم:323(
6۔میاں بیوی اکٹھے غسل جنابت کر سکتے ہیں ۔(صحیح البخاری:261(
7۔ایسے غسل خانے میں جہاں بیت الخلاء بھی ساتھ ہو تو بیت الخلاء سے دور ہو کر ایسی جگہ نہائیں جہاں اس کی کوئی چیز نہ پہنچ سکے۔(فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ و الافتاء:5/86(
8۔مسنون غسل کے بعد وضو کی ضرورت نہیں۔(سنن ابو داود:250)بشرطیکہ غسل میں وضو کرنے کے بعد شرمگاہ کو ہاتھ نہ لگا ہو۔
9۔غسل کے بعد تولیے کا استعمال اور ہاتھوں کو جھاڑنا درست ہے۔(صحیح البخاری:276 (
)سوم)ایسے مواقع جن پر غسل کرنا مسنون ہے:
(1)نماز جمعہ کے لیے(صحیح البخاری:858)،(2)عیدین کے لیے(موطا:1/177)،(3) میت کو غسل دینے والے کے لیے(جامع ترمذی :993)(4)احرام باندھنے کے لیے(جامع ترمذی:830)،(5)مستحاضہ عورت کو نمازوں کے لیے(صحیح البخاری:327)،(6)جس پر غشی طاری ہو اس کے لیے(صحیح البخاری:687)، (7)مشرک کو دفن کرنے کے بعد(سنن نسائی:190(
(محدث فورم(