بسم الله الرحمن الرحيم
میں اللہ رب العزت ،مالک
عرش عظیم سے دعا گو ہوں ؛ کہ وہ دنیا و آخرت میں آپ کا حامی و ناصر ہو اور آپ جہاں
بھی رہیں خیروبرکت آپکےقدم چومیں۔
نیز اللہ تعالی آپ کو
حصول نعمت کے وقت شکر گذار اور مصیبت کے وقت صبر کرنے والا بنائے ،اگرکوئی گناہ
سرزد ہوجائے تو ایسى صورت میں آپ استغفار کرنےوالےہوں؛واضح رہےکہ یہ (مذكوره)تین چیز يں سعادت وکامرانی کی دلیل ہیں۔
اللہ تعالی آپ کو اپنے
فرمانبردار بندوںمیں سے بنائے آپ یہ بات جان لیں کہ حنیفیت -ملت
ابراہیمی-کامطلب یہ ہے کہ: آپ اخلاص کے ساتھ صرف اور صرف.اللہ تعالی کی عبادت
کریں،اللہ نے اپنے تمام بندوں کو صرف یہی حکم دیا ہے اور بندوں کی تخلیق کا مقصد
بھی بس یہی ہے ,جیسا کہ فرمان ربانی ہے:]وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون[ترجمہ:(اور
میں نے بنی نوع انس و جن کو صرف اپنی بندگی کیلئے پیدا کیا ہے)۔
سطور بالا سے ہم پر یہ
بات بالکل عیاں ہوگئی کہ اللہ تعالی نے ہمیں صرف اپنی عبادت کیلئے پیدا فرمایا ہے
تو ہمیں یہ بات بھی ذہن نشیں کرلینى چاہیے کہ عبادت بغیر توحید کے
عبادت نہیں ہوتی اسی طرح جس طرح سے بغیر طہارت کے نماز نہیں ہوتی۔سو
عبادت میں شرک کی آمیزش سے عبادت باطل ہو جاتی ہے، جس طرح سےحدث کے بعد طہارت کا
تصور نہیں ہوتا۔جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:]ما كان للمشركين أن يعمروا مساجد الله
شاهدين على أنفسهم بالكفر أولئك حبطت أعمالهم وفي النار هم خالدون[ترجمہ:(مشرک
لوگوں کےلئے حالت شرک وکفر میں مسجدوں کی تعمیر کا کوئی فائدہ نہیں ،ان کے اعمال
تو ضائع و برباد ہوگئے ہیں,اور وہ لوگ ہمیشہ جہنم کا ایندھن بن کر رہیں گے)۔
اب جب آپ نے یہ بات جان
لی کہ شرک اعمال کو ضائع وبرباد کردیتا ہے اور مشرک کو ہمیشہ ہمیش کیلئے
جہنم میں رہنا پڑے گا ، تو اس بات کی خطرناکی کو جانتے ہوئے ہمیں اس سے بچنے
کی تدبیر کے بارے میں سوچنا ضروری ہے تاکہ اللہ تعالی ہمیں شرک کی جال سے
محفوظ رکھے،واضح رہے کہ قرآن مجید میں مذکور درج ذیل چار قاعدے کی معرفت سے
ہم اس.سےبچ.سکتےہیں:
پہلا قاعدہ:یہ کہ آپ جان لیں ؛نبی کریم rنے جن کافروں سے جنگیں کی تھیں وہ بھی اللہ تعالی کو تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا،سب کو رزق دینے والا،زندگی اور موت بخشنے والا ،نیز پورى دنیا کا نظام چلانے والا مانتے تھے ،مگر ان کے اس عقیدہ نےبھی ان کو دین اسلام میں داخل نہیں کیا ۔جیساکہ اللہ کافرمان ہے :]قل من يرزقكم من السماء أمن يملك السمع والأبصار ومن يخرج الحي من الميت ويخرج الميت من الحي ومن يدبر الأمر فسيقولون الله فقل أفلا تتقون[ترجمہ:(اے نبی r آپ ان سے کہیں کہ :تمہیں آسمان و زمین سےرزق کون عطاکرتا ہے؟قوت سماع اور بینائی کا مالک کون ہے؟زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے کون نکالتاہے؟معاملات کی تدبیر کس کے ہاتھ میں ہے؟بے شک ان کا جواب یہی ہوگا کہ"اللہ"،سوآپ ان سے کہہ دیں کہ تب پھرتم اللہ تعالی سے ڈرتے کیوں.نہیں.ہو))۔
دوسرا قاعدہ:نبی rکے زمانہ میں بهى کافر لوگ کہا کرتے تھے کہ ہم ان (بتوں)کو صرف اور صرف اس لئے پکارتے ہیں کہ ہم ان کے ذریعہ سے اللہ کا قرب حاصل کریں اور یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہوں۔,قربت كی دلیل:اللہ تعالی کا فرمان:]والذين اتخذوا من دونه أولياء ما
نعبدهم
إلا ليقربونا إلى الله زلفى إن الله يحكم بينهم فيما هم فيه يختلفون إن الله لا
يهدي من هو كاذب كفار[ترجمہ:
(اور جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ دوسرے معبود بنا لئے ہیں؛ کہتے ہیں کہ: ہم ان کی
بندگی تو بس اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ تعالی سے قریب کریں،بے شک اللہ تعالی
ان کے اختلاف کے بارے میں ضرور فیصلہ کرےگا بلاشبہ اللہ تعالی جھوٹے اور حق سے منھ
.موڑنے .والے .کو ہدایت نہیں دیتا).
اورشفاعت
کی دلیل:اللہ تعالی کا فرمان: ]ويعبدون من دون الله مالا يضرهم ولا ينفعهم
ويقولون هؤلاء شفعاؤنا عند الله قل أتنبئون الله بما لا يعلم في السموات ولا في
الأرض سبحنه وتعلى عما يشركون[ترجمہ:
(اور وہ لوگ اللہ تعالی کے علاوہ ایسے لوگوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ نفع
پہونچا سکتے ہیں اور نہ نقصان ,اور کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ تعالی کے نزدیک ہمارے
سفارشی ہیں،اے نبی rآپ
ان سے کہہ دیں کہ: کیا اللہ تعالی سےآسمان و زمین میں کوئی بھی شئی اوجھل ہے جسے
تم اللہ تعالی کو بتانا چاہ رہے ہو؟!اللہ تعالی پاک اور بلندوبالا ہے ان سب سے جسے
وہ اس کا ساتھی ٹھہراتےہیں)۔
واضح رہے کہ شفاعت کی دو
قسمیں ہیں:
پہلی قسم:منفی
شفاعت(شریعت میں جس کے سلسلے میں.منع.وارد.ہے).
دوسری قسم:مثبت
شفاعت(شریعت میں جس .کو صحیح قرار دیا گیا ہے) .
سو منفی شفاعت یہ ہےکہ ایسی چیزیں جس پر اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا
قادر نہ ہو اسے غیر اللہ سے طلب کیا جائے، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:]يا أيها ..الذين آمنوا أنفقوا مما رزقنكم من
قبل أن يأتي يوم لا بيع فيه ولا... خلة ولا شفاعة والكافرون هم الظالمون[ترجمہ:(اے.ایمان.والو!ہم.نےتمہیں
جورزق عطاء کیا ہےاس میں سے(اللہ تعالی کے راستے میں) خرچ کرو،اس سے پہلے کہ وہ دن آن پہونچے جس میں نہ تجارت
نفع بخش ہوگی اور نہ ہی دوستی اور سفارش کوئی فائدہ پہونچا سکیں گے،اور کافر لوگ
تو ہیں ہی حد سے تجاوز کرنے والے)۔
اور مثبت شفاعت:وہ ہے جو اللہ تعالی
سےطلب کیجائے.
شفاعت کرنے سے ..شفاعت کرنے ..والے کی تکریم مقصود ہوتی
ہے۔
اور جس کیلئے شفاعت
کیا جائے اس کے قول ..و عمل سے اللہ تعالی کا راضی ہونا شرط ہے ,اور ..اسکے لئے
شفاعت ..اسی وقت ہوگی. جب .اللہ ..تعالی .شفاعت
کیلئے اجازت دے گا ,جیساکہ اللہ تعالی .نے .فرمایا:]من ذا.الذي... يشفع ....عنده إلا بإذنه[
ترجمہ:(کون ہے ..جو اللہ تعالی
سے اس کى اجازت کے بغیر شفاعت کرنے
والاہے؟!)۔
تیسرا قاعدہ:نبی
کریم rنے
مختلف عقائد ومنہج کوماننے والوں پرغلبہ حاصل کیا تھا،ان.میں.سےبعض.سورج.اورچاندکوپوجتےتھےتو
کچھ لوگ فرشتوں کو اپنا حاجت روامانتےتھے،کچھ نبیوں اورنیک لوگوں کی بندگی کرتے
تھے تو کچھ پیڑ اور پتھروں کی عبادت میں لگے ہوئے تھے اور نبی rنے
بغیرکسی تمیزکےسب کے ساتھ جنگیں کیں،اللہ تعالی نے فرمایا:]وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله
لله[ترجمہ:(اور اے مسلمانو!تم ان( کافروں)سے جنگ
کرو.. یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ بچے اور پورا دین صرف اللہ تعالی کے لئے ہوجائے)۔
سورج اور چاندکی بندگی سے ممانعت کی
دلیل،اللہ تعالی کا فرمان:]ومن آياته الليل والنهار والشمس والقمر لا
تسجدوا للشمس ولا للقمر واسجدوا لله الذي خلقهن إن كنتم إياه تعبدون[ترجمہ:
(اور اللہ تعالی کی نشانیوں ہی میں سے رات،دن ،سورج اور چاند بھی ہیں،تو تم سورج
اورچاندکو سجدہ نہ کرو!بلکہ جوان کاپیداکرنے والا ہے اس کوسجدہ کرو اگر تم
صرف اسى كى عبادت کرنے والےہو!))۔
أنبياءكرام كی عبادت
سےممانعت کی دلیل:اللہ تعالی کا فرمان :]وإذ قال الله يعيسى ابن مريم ء أنت قلت
للناس اتخذوني وأمي إلهين من دون الله قال سبحانك ما يكون لي أن أقول ما ليس لي
بحق[ترجمہ:
(اورجب اللہ تعالی فرمائےگاکہ:اے عیسی بن مریم کیا تم نےلوگوں کوحکم دیاتھا
کہ وہ لوگ تمہیں اورتمہاری والدہ کو ميرےعلاوہ معبودبنالیں؟
تو وہ (عیسی علیہ السلام)جواب دیں گے
کہ:اللہ تیریذات پاک ہےمجھے .جو حق تونے. عطا ہی نہیں
کیا وہ کام میں کیونکر.کرسکتا.ہوں؟)۔
نىك لوگوں کی عبادت سےممانعت کی دلیل؛اللہ عزوجل کا فرمان:]قل ادعوا الذين زعمتم من دونه فلا يملكون كشف.الضر.عنكم.ولاتحويلا*أولئك الذين يدعون يبتغون إلى ربهم الوسيلة أيهم أقرب ويرجون رحمته ويخافون عذابه إن عذاب ربك كان محذورا[ترجمہ: (اے نبی rآپ کہہ دیجئے
کہ تم لوگوں نے جنھیں اللہ کے علاوہ معبود مان رکھا ہے انھیں پکارو وہ نہ تو تمہاری تکلیف دور کرسکتے ہیں اور نہ ہی کسی آنےوالی مصیبت کو تم سے پھیر سکتے*جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں خود وہ اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں ہوتے ہیں: کہ ان میں سے کون زیادہ نزدیک ہوجائے وہ خود اسکے رحمت کی امید رکھتے ہیں،اور اس کے عذاب سے خوفزدہ رہتے ہیں،دراصل رب کائنات کا عذاب ڈرنے ہی کی چیز ہے)۔
درختوں
اور پتھروں کی عبادت سے ممانعت کی دلیل ؛اللہ تعالی کافرمان:]أفرأيتم اللات والعزى.ومنوة الثالثة الأخرى[ترجمہ:
(کیا تم لوگوں نےلات،منات اور عزی نامی بتوں کو نہیں دیکھا؟) ,اور أبو واقدلیثی tفرماتے
ہیں کہ ہم ایک دفعہ نبی کریم rکے
ہمراہ وادی حنین. کی طرف نکلے ,چونکہ ہمیں اسلام قبو ل .کئے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں
ہواتھا ,وہاں پرہم نے جب مشرکوں کے اس درخت
کو دیکھا جس پر وہ اپنےتلوار لٹکایا کرتے تھے,اور اسکے پاس
بیٹھا کرتے تھے,جسے ذات انواط کہا جاتا تھا,چنانچہ ہم ان درختوں ميں سے ایک درخت کے پاس سے
گذرےتو ہم نے نبی r سے کہا کہ :اے اللہ کے رسولr ہمارے لئے اسی طرح ایک "ذات انواط"بنادیں جیساکہ ان
مشرکوں کیلئےہے،اس پرنبی rنے
فرمایا:اللہ اکبر!یہ تو گذشتہ قوموں کی نقالی ہے،تم لوگوں نے ہو بہو
وہی بات طلب کی ہےجیساکہ قوم موسی نے موسی علیہ السلام سے طلب کیا تھا کہ:]اجعل لنا إلها كما لهم آلهة[ترجمہ:
(آپ ہمارے لئےبھی ایک معبود بنادیں جیسا کہ ان کافروں کے
پاس معبود ہے)۔
چوتھا قاعدہ:عصر
حاضر کے مشرکین پہلے زمانہ کے مشرکوں سے بڑے مشرک ہیں ،
اس لئے کہ پہلے کے مشرک لوگ صرف آسانى اور سہولت کے وقت
شرک کرتے اور مصیبت کے وقت وہ خالص اللہ کو يادکیا کرتے تھے ، جب
کہ آج کے مشرک لوگ آسانی اور مصیبت ہر حالت میں شرک
کرتے ہیں۔جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا:]فإذا ركبوا في الفلك دعوا الله مخلصين له
الدين فلما نجاهم إلى البر إذا هم يشركون[ترجمہ:(جب
یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے تو اس وقت صرف ایک اللہ کو
پکارتے تھے اورخشکی پر پہونچ کر. فورا شرک کرنے
لگتے تھے).
والله أعلم
***
(ترجمة أردية لكتاب : "القواعد الأربعة" لشيخ الاسلام محمد بن سليمان التميمي-رحمة الله-)