امامِ ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا منہج
آپکا پورا نام نعمان بن ثابت رحمہ اللہ ہے۔ آپ کوفہ کے رہنے والے تھے، آپکی پیدائش ٨٠ میں ہوئی آپکے زمانے تک حدیثیں ابھی جمع نہیں ہوئی تھیں اور نہ ہی آپ نے محدثین کے طرز پر سفر وغیرہ اختیار کیئے لہٰذا تقویٰ اور ذہانت وباریک بینی کے باوجود آپکے بیان کردہ مسائل میں سقم رہا، اگرچہ بہت سے مسائل جو تفریعات کے طور پر آپکے نام سے مشہور کیئے گئے، آپ اُن سے بری ہیں، البتہ آپکا منہج سلف والا ہی تھا اور آپ نے اپنے شاگردوں کی تربیت اسی منہج پر کی، حتی کہ ابو یوسف اور محمد بن الحسن نے اپنے استاذ ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے دوتہائی مسائل میں اختلاف کیا ہے۔
(نافع الکبیر ص ٤ لعبدالحی الکھنوی)
دیگر ائمہ کی طرح آپ سے بھی بہت اقوال ملتے ہیں جن میں عمل بالحدیث کی طرف دعوت دی گئی ہے۔
(١) آپ رحمہ اللہ سے بھی یہ قول منقول ہے کہ:
اذا صح الحدیث فھو مذھبی
(جب حدیث صحیح ثابت ہوجائے تو وہی میرا مذہب ہے)
(رد المختار ١/٥٠، فتاویٰ دیوبند ١/٦٥)
ثابت ہوا کہ آپکا مذہب حدیث پر مبنی تھا۔
(٢) آپ رحمہ اللہ نے فرمایا:
لاینبغی لمن لم یعرف دلیلی ان یفتی بکلامی
(جو شخص میری دلیل سے واقف نہیں اُس کیلئے یہ لائق نہیں کہ میرے کلام کے مطابق فتویٰ دے) یعنی میری تقلید نہیں کرنی بلکہ دلیل کی پیروی کرنی ہے۔
(حجة اﷲ البالغہ ١/١٥٧، عقدالجید ١٢٢،١٢٣)
(٣) امام صاحب یہ بھی فرمایا کرتے تھے:
ان توجہ لکم دلیل فقولوا بہ
(اگر دلیل تمہارے سامنے آجائے تو اُسی کو اختیار کرو)
( در المختار ١/٥٠)
(٤) امام صاحب جب کوئی فتویٰ دیتے تو یہ بھی کہتے تھے:
ہٰذا رأی النعمان بن ثابت یعنی نفسہ وہواحسن ماقدرنا علیہ فمن جآء بأحسن فھواولیٰ بالصواب
(یہ نعمان بن ثابت کی رائے ہے اور یہ بہترین بات ہے جسکی ہم قدرت رکھتے ہیں البتہ جو اس سے بھی بہتر بات لے آئے تو اسکی بات صواب( یعنی درست) کہلائے جانے کی زیادہ حقدار ہے)
(حجة اﷲ البالغة ١ /١٥٧ طبع :میر محمد)
اور یہ بات یقینی ہے کہ قرآن وحدیث زیادہ بہتر ہیں لہٰذا اگر قرآن وحدیث امام صاحب کی بات سے ٹکرا جائیں تو انہیں ہی لیا جائے گا یہی امام صاحب کا منہج ہے باقی رہی یہ بات کہ امام صاحب نے قرآن وحدیث کے مطابق فتویٰ کیوں نہیں دیا؟ تو اسکا جواب یہ ہے کہ آپ معصوم عن الخطا نہیں تھے۔
آپ بھول بھی سکتے ہیں، غلطی بھی کرسکتے ہیں اور اس دلیل سے ناواقف بھی ہوسکتے ہیں لہٰذا آپ رحمہ اللہ معذور ہیں لیکن بعد میں آنے والے معذور نہیں کیونکہ اُن تک حدیثیں پہنچ چکی ہیں۔ اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن ہم صرف اسی پر اکتفاء کرتے ہیں اور آخر میں مقلدین کا طرز عمل بھی بیان کرنا چاہتے ہیں کہ جو اپنے ائمہ کی ان تمام باتوں کو پس پشت ڈال کر انکی اندھی تقلید کیئے جارہے ہیں۔
تحریر:زمان احمد سلفی
امامِ مالک رحمہ اللہ کا منہج
امام مالک بن انس رحمہ اللہ مدینہ کے مشہور مام ہیں آپکی پیدائش
٩٣ ہجری کی ہے آپکی کتاب ''موطا'' ہے جس میں آپ نے نبی کریم ﷺ کی احادیث نہایت اعلیٰ اسانید کیساتھ جمع کی ہیں البتہ اس میں آپکے فتاوٰی بھی موجود ہیں اسی وجہ سے جب خلیفہ منصور نے امامِ مالک رحمہ اللہ کے سامنے اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ میں چاھتا ہوں کہ آپ کی کتاب پر لوگوں کو جمع کردوں اور اسکے نسخے لکھوا کر ہر شہر میں ایک نسخہ بھجوادوں اور لوگوں کو حکم دے دوں کہ ''مؤطا'' پر عمل کریں۔ تو امامِ مالک رحمہ اللہ نے اُسے منع کیا اور کہا :
ان الناس قد جمعوا واطلعو علی اشیاء لم نطلع علیہا
(بے شک لوگ بہت سی روایات کو جمع کرچکے اور بہت سی چیزوں پر مطلع ہوچکے کہ جن پر ہم مطلع نہیں)
(ذکرہ ابن کثیر فی اختصار علوم الحدیث ص ٤٠ طبع دارالسلام مع الباعث الحثیث، وذکرہ الشاہ ولی اﷲ الدہلوی فی حجة اﷲ البالغہ بزیادت نقلاً عن السیوطی۔ حجة اﷲ البالغہ ١/١٤٥)
یعنی میرا علم کامل نہیں کہ میں لوگوں کو اپنے فتاویٰ کا پابند بناؤں۔ اس سے معلوم ہو اکہ امام مالک رحمہ اللہ نے لوگوں کو اپنی تقلید سے روکا ہے۔
انکا مشہور قول ہے:
لیس احد بعد النبی ۖ لا ویؤخذ من قولہ ویترک لاّ النبی ۖ۔
(نبی کریم ﷺکے علاوہ ہر ایک کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور چھوڑی بھی جاسکتی ہے)
(جامع بیان العلم ٢/٩١ فتاویٰ الدین الخالص ١/١٢، عقد الجید لشاہ ولی اﷲ ص ١٢٢ طبع محمد سعید اینڈ سنز)
یعنی دلیل کے ساتھ ہو تو لی جائے گی ورنہ چھوڑدی جائے گی۔
اسی طرح آپ فرمایا کرتے تھے:
انما انا بشراخطیٔ وأصیب، فانظروا فی رأیی کل ما وافق الکتاب والسنة فخذوا بہ، وما لم یوافق الکتاب والسنة فاترکوہ۔
(بے شک میں بشر ہوں غلطی بھی کرسکتا ہوں اور درست بات بھی کہہ سکتا ہوں لہٰذا تم میری آراء پر تحقیقی نظر ڈال لیاکرو ، جو بات بھی کتاب وسنت کے موافق ہو اُسے لے لو، اور جو بات کتاب وسنت کے مخالف ہو اُسے چھوڑ دو۔)
(القول المفید للشوکانی ص ٢٣٥، فتاویٰ الدین الخالص ١/١٢)
ثابت ہوا کہ امام صاحب اندھی تقلید کے مخالف ہیں اور انکا منہج یہی ہے کہ کتاب وسنت کی پیروی کی جائے۔
زمان احمد سلفی
امامِ شافعی رحمہ اللہ کا منہج
امام صاحب کا پورا نام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ ہے آپکی پیدائش ١٥٠ کی ہے۔ آپ بھی بہت پائے کے امام ہیں آپ رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے کئی مرتبہ مؤطا پڑھی، آپ حدیث رسول ﷺکے بہت بڑے حامی تھے اور تقلید کے بہت بڑے مخالف۔
آپکی کئی تصانیف ہیں جن میں حدیث کی کتاب مسند الشافعی، اصول فقہ کی پہلی کتاب ''الرسالہ'' اور کئی جلدوں پر مشتمل مسائل کی''کتاب الأم'' شامل ہیں۔
آپ رحمہ اللہ سے بھی بہت سے اقوال نقل کئے گئے ہیں جو آپکے منہج کی وضاحت کرتے ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔
(١) آپکے شاگرد اسماعیل بن یحییٰ المزنی نے امام صاحب سے منقول مسائل کو اختصار کیساتھ ایک کتاب میں جمع کیا ہے اس کتاب کا نام ''مختصر المزنی'' ہے اسکے پہلے صفحہ پر ہی آپکے شاگرد لکھتے ہیں:
اختصرت ہٰذا الکتاب من علم محمد بن دریس الشافعی ومن معنی قولہ لأقربہ علی من رادہ مع علامہ نہیہ عن تقلیدہ وتقلید غیرہ
(میں نے اس کتاب کو محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ کے علم اور اقوال میں سے مختصراً لکھا ہے تاکہ انکے علم کو چاہنے والوں کے قریب کردوں اس کے باوجود کہ امام صاحب نے لوگوں کو اپنی اور اپنے علاوہ دوسرے ائمہ کی تقلید سے منع کیا ہے)
(مختصر المزنی ص ١، علام الموقعین ٢/٢٠٠)
(٢) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
'' مثل الذی یطلب العلم بلا حجة کمثل حاطب لیل، یحمل حزمة حطب وفیہ فعی تلدغہ وہو لا یدری
(جو شخص بغیر دلیل کے علم حاصل کرتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو رات کو لکڑیاں جمع کرتا ہے۔ لکڑیوں کا ایک گٹھا باندھ کر اٹھاتا ہے جبکہ اُس میں سانپ ہے جو اُسے ڈس لیتا ہے اور اسے خبر بھی نہیں ہوتی)
( علام الموقعین ٢/٢٠٠)
(٣) شاہ ولی اﷲ الدہلوی رحمہ اللہ اپنی معروف کتاب حجة اﷲ البالغہ میں امام شافعی رحمہ اللہ کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وروی الحاکم والبیہقی عن الشافعی انہ کان یقول: ذا صح الحدیث فھو مذھبی
(جب حدیث صحیح ثابت ہوجائے تو وہی میرا مذہب ہے)
(حجة اﷲ البالغہ ١/١٥٧)
(٤) اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے :
کل مسألة صحّ فیہا الخبر عن رسول اﷲ ۖ عن اھل النقل بخلاف ماقلت فأنا راجع عنہا فی حیاتی وبعد موتی
(ہر وہ مسئلہ جس میں میرے قول کے خلاف صحیح حدیث ثابت ہوجائے تو میں اُس قول سے رجوع کرتا ہوں اپنی زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی)
(فتاویٰ الدین الخالص ١/١٣)
زمان احمد سلفی
امامِ احمد رحمہ اللہ کا منہج
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی بہت بڑے محدث اور فقیہہ تھے اور عمل بالحدیث کے بے لاگ داعی تھے، آپکی پیدائش ١٦٤ میں ہوئی۔ آپ کی پوری زندگی ہی آپ کے منہج کی وضاحت کرتی ہے آپ نے حدیث کا بہت بڑا ذخیرہ جمع کیا جو کہ ''مسندأحمد'' کے نام سے معروف ہے اور اس میں تیس ہزار کے قریب احادیث ہیں آپ رحمہ اللہ سے بھی بہت سے اقوال ذکر کیئے گئے ہیں اختصار کے پیش نظر چند پیش خدمت ہیں۔
(١) آپ نے فرمایا:
لاتقلد نی ولا تقلد مالکاً ولا الثوری ولا الأوزاعی، وخذوا من حیث اخذوا
(نہ میری تقلید کرو، نہ مالک کی، نہ ثوری، نہ اوزاعی کی، بلکہ احکام کو وہاں سے لو جہاں سے انہوں نے لیا) یعنی کتاب وسنت سے۔
(علام الموقعین ٢/٢٠١، القول المفید ص ٢٦)
(٢) نیزفرمایا:
من قلة فقہ الرجل ان یقلد دینہ الرجال
(کسی شخص کی بے وقوفی کی یہ دلیل ہے کہ وہ اپنے دین کے بارے میں لوگوں کی تقلید کرے)
(علام الموقعین ٢/٢٠١، القول المفید ص ٢٦)
(٣) امام احمد رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ آپ کو مؤطا مالک زیادہ پسند ہے یا ''جامع سفیان'' تو آپ نے فرمایا:
لاذا ولاذا علیک بالأثر
(نہ یہ، نہ وہ، بلکہ لازم پکڑو حدیث کو)
(مناقب المام احمد لابن الجوزی ص ١٩٣، ١٩٤ بدعة التعصب المذھبی۔ ص ٩٩)
(٤) امام صاحب سے کسی نے سوال پوچھا کہ کیا میں رائے پر مشتمل کتاب لکھ سکتا ہوں؟
تو آپ نے اسے منع فرمایا۔ اُس نے کہا کہ ابنِ المبارک نے تو لکھی ہیں۔
آپ نے جواب دیا:
ابن المبارک لم ینزل من السمآئ، نماامرناان نأخذ العلم من فوق
(ابنِ مبارک کوئی آسمان سے نہیں اترے، ہمیں تو صرف اس بات کا حکم ہے کہ اوپر والوں سے علم حاصل کریں)
(بدعة التعصب المذھبی ص ٩٩)
زمان احمد سلفی
آپکا پورا نام نعمان بن ثابت رحمہ اللہ ہے۔ آپ کوفہ کے رہنے والے تھے، آپکی پیدائش ٨٠ میں ہوئی آپکے زمانے تک حدیثیں ابھی جمع نہیں ہوئی تھیں اور نہ ہی آپ نے محدثین کے طرز پر سفر وغیرہ اختیار کیئے لہٰذا تقویٰ اور ذہانت وباریک بینی کے باوجود آپکے بیان کردہ مسائل میں سقم رہا، اگرچہ بہت سے مسائل جو تفریعات کے طور پر آپکے نام سے مشہور کیئے گئے، آپ اُن سے بری ہیں، البتہ آپکا منہج سلف والا ہی تھا اور آپ نے اپنے شاگردوں کی تربیت اسی منہج پر کی، حتی کہ ابو یوسف اور محمد بن الحسن نے اپنے استاذ ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے دوتہائی مسائل میں اختلاف کیا ہے۔
(نافع الکبیر ص ٤ لعبدالحی الکھنوی)
دیگر ائمہ کی طرح آپ سے بھی بہت اقوال ملتے ہیں جن میں عمل بالحدیث کی طرف دعوت دی گئی ہے۔
(١) آپ رحمہ اللہ سے بھی یہ قول منقول ہے کہ:
اذا صح الحدیث فھو مذھبی
(جب حدیث صحیح ثابت ہوجائے تو وہی میرا مذہب ہے)
(رد المختار ١/٥٠، فتاویٰ دیوبند ١/٦٥)
ثابت ہوا کہ آپکا مذہب حدیث پر مبنی تھا۔
(٢) آپ رحمہ اللہ نے فرمایا:
لاینبغی لمن لم یعرف دلیلی ان یفتی بکلامی
(جو شخص میری دلیل سے واقف نہیں اُس کیلئے یہ لائق نہیں کہ میرے کلام کے مطابق فتویٰ دے) یعنی میری تقلید نہیں کرنی بلکہ دلیل کی پیروی کرنی ہے۔
(حجة اﷲ البالغہ ١/١٥٧، عقدالجید ١٢٢،١٢٣)
(٣) امام صاحب یہ بھی فرمایا کرتے تھے:
ان توجہ لکم دلیل فقولوا بہ
(اگر دلیل تمہارے سامنے آجائے تو اُسی کو اختیار کرو)
( در المختار ١/٥٠)
(٤) امام صاحب جب کوئی فتویٰ دیتے تو یہ بھی کہتے تھے:
ہٰذا رأی النعمان بن ثابت یعنی نفسہ وہواحسن ماقدرنا علیہ فمن جآء بأحسن فھواولیٰ بالصواب
(یہ نعمان بن ثابت کی رائے ہے اور یہ بہترین بات ہے جسکی ہم قدرت رکھتے ہیں البتہ جو اس سے بھی بہتر بات لے آئے تو اسکی بات صواب( یعنی درست) کہلائے جانے کی زیادہ حقدار ہے)
(حجة اﷲ البالغة ١ /١٥٧ طبع :میر محمد)
اور یہ بات یقینی ہے کہ قرآن وحدیث زیادہ بہتر ہیں لہٰذا اگر قرآن وحدیث امام صاحب کی بات سے ٹکرا جائیں تو انہیں ہی لیا جائے گا یہی امام صاحب کا منہج ہے باقی رہی یہ بات کہ امام صاحب نے قرآن وحدیث کے مطابق فتویٰ کیوں نہیں دیا؟ تو اسکا جواب یہ ہے کہ آپ معصوم عن الخطا نہیں تھے۔
آپ بھول بھی سکتے ہیں، غلطی بھی کرسکتے ہیں اور اس دلیل سے ناواقف بھی ہوسکتے ہیں لہٰذا آپ رحمہ اللہ معذور ہیں لیکن بعد میں آنے والے معذور نہیں کیونکہ اُن تک حدیثیں پہنچ چکی ہیں۔ اور بھی بہت سے اقوال ہیں لیکن ہم صرف اسی پر اکتفاء کرتے ہیں اور آخر میں مقلدین کا طرز عمل بھی بیان کرنا چاہتے ہیں کہ جو اپنے ائمہ کی ان تمام باتوں کو پس پشت ڈال کر انکی اندھی تقلید کیئے جارہے ہیں۔
تحریر:زمان احمد سلفی
امامِ مالک رحمہ اللہ کا منہج
امام مالک بن انس رحمہ اللہ مدینہ کے مشہور مام ہیں آپکی پیدائش
٩٣ ہجری کی ہے آپکی کتاب ''موطا'' ہے جس میں آپ نے نبی کریم ﷺ کی احادیث نہایت اعلیٰ اسانید کیساتھ جمع کی ہیں البتہ اس میں آپکے فتاوٰی بھی موجود ہیں اسی وجہ سے جب خلیفہ منصور نے امامِ مالک رحمہ اللہ کے سامنے اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ میں چاھتا ہوں کہ آپ کی کتاب پر لوگوں کو جمع کردوں اور اسکے نسخے لکھوا کر ہر شہر میں ایک نسخہ بھجوادوں اور لوگوں کو حکم دے دوں کہ ''مؤطا'' پر عمل کریں۔ تو امامِ مالک رحمہ اللہ نے اُسے منع کیا اور کہا :
ان الناس قد جمعوا واطلعو علی اشیاء لم نطلع علیہا
(بے شک لوگ بہت سی روایات کو جمع کرچکے اور بہت سی چیزوں پر مطلع ہوچکے کہ جن پر ہم مطلع نہیں)
(ذکرہ ابن کثیر فی اختصار علوم الحدیث ص ٤٠ طبع دارالسلام مع الباعث الحثیث، وذکرہ الشاہ ولی اﷲ الدہلوی فی حجة اﷲ البالغہ بزیادت نقلاً عن السیوطی۔ حجة اﷲ البالغہ ١/١٤٥)
یعنی میرا علم کامل نہیں کہ میں لوگوں کو اپنے فتاویٰ کا پابند بناؤں۔ اس سے معلوم ہو اکہ امام مالک رحمہ اللہ نے لوگوں کو اپنی تقلید سے روکا ہے۔
انکا مشہور قول ہے:
لیس احد بعد النبی ۖ لا ویؤخذ من قولہ ویترک لاّ النبی ۖ۔
(نبی کریم ﷺکے علاوہ ہر ایک کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور چھوڑی بھی جاسکتی ہے)
(جامع بیان العلم ٢/٩١ فتاویٰ الدین الخالص ١/١٢، عقد الجید لشاہ ولی اﷲ ص ١٢٢ طبع محمد سعید اینڈ سنز)
یعنی دلیل کے ساتھ ہو تو لی جائے گی ورنہ چھوڑدی جائے گی۔
اسی طرح آپ فرمایا کرتے تھے:
انما انا بشراخطیٔ وأصیب، فانظروا فی رأیی کل ما وافق الکتاب والسنة فخذوا بہ، وما لم یوافق الکتاب والسنة فاترکوہ۔
(بے شک میں بشر ہوں غلطی بھی کرسکتا ہوں اور درست بات بھی کہہ سکتا ہوں لہٰذا تم میری آراء پر تحقیقی نظر ڈال لیاکرو ، جو بات بھی کتاب وسنت کے موافق ہو اُسے لے لو، اور جو بات کتاب وسنت کے مخالف ہو اُسے چھوڑ دو۔)
(القول المفید للشوکانی ص ٢٣٥، فتاویٰ الدین الخالص ١/١٢)
ثابت ہوا کہ امام صاحب اندھی تقلید کے مخالف ہیں اور انکا منہج یہی ہے کہ کتاب وسنت کی پیروی کی جائے۔
زمان احمد سلفی
امامِ شافعی رحمہ اللہ کا منہج
امام صاحب کا پورا نام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ ہے آپکی پیدائش ١٥٠ کی ہے۔ آپ بھی بہت پائے کے امام ہیں آپ رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے کئی مرتبہ مؤطا پڑھی، آپ حدیث رسول ﷺکے بہت بڑے حامی تھے اور تقلید کے بہت بڑے مخالف۔
آپکی کئی تصانیف ہیں جن میں حدیث کی کتاب مسند الشافعی، اصول فقہ کی پہلی کتاب ''الرسالہ'' اور کئی جلدوں پر مشتمل مسائل کی''کتاب الأم'' شامل ہیں۔
آپ رحمہ اللہ سے بھی بہت سے اقوال نقل کئے گئے ہیں جو آپکے منہج کی وضاحت کرتے ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔
(١) آپکے شاگرد اسماعیل بن یحییٰ المزنی نے امام صاحب سے منقول مسائل کو اختصار کیساتھ ایک کتاب میں جمع کیا ہے اس کتاب کا نام ''مختصر المزنی'' ہے اسکے پہلے صفحہ پر ہی آپکے شاگرد لکھتے ہیں:
اختصرت ہٰذا الکتاب من علم محمد بن دریس الشافعی ومن معنی قولہ لأقربہ علی من رادہ مع علامہ نہیہ عن تقلیدہ وتقلید غیرہ
(میں نے اس کتاب کو محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ کے علم اور اقوال میں سے مختصراً لکھا ہے تاکہ انکے علم کو چاہنے والوں کے قریب کردوں اس کے باوجود کہ امام صاحب نے لوگوں کو اپنی اور اپنے علاوہ دوسرے ائمہ کی تقلید سے منع کیا ہے)
(مختصر المزنی ص ١، علام الموقعین ٢/٢٠٠)
(٢) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
'' مثل الذی یطلب العلم بلا حجة کمثل حاطب لیل، یحمل حزمة حطب وفیہ فعی تلدغہ وہو لا یدری
(جو شخص بغیر دلیل کے علم حاصل کرتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو رات کو لکڑیاں جمع کرتا ہے۔ لکڑیوں کا ایک گٹھا باندھ کر اٹھاتا ہے جبکہ اُس میں سانپ ہے جو اُسے ڈس لیتا ہے اور اسے خبر بھی نہیں ہوتی)
( علام الموقعین ٢/٢٠٠)
(٣) شاہ ولی اﷲ الدہلوی رحمہ اللہ اپنی معروف کتاب حجة اﷲ البالغہ میں امام شافعی رحمہ اللہ کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وروی الحاکم والبیہقی عن الشافعی انہ کان یقول: ذا صح الحدیث فھو مذھبی
(جب حدیث صحیح ثابت ہوجائے تو وہی میرا مذہب ہے)
(حجة اﷲ البالغہ ١/١٥٧)
(٤) اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے :
کل مسألة صحّ فیہا الخبر عن رسول اﷲ ۖ عن اھل النقل بخلاف ماقلت فأنا راجع عنہا فی حیاتی وبعد موتی
(ہر وہ مسئلہ جس میں میرے قول کے خلاف صحیح حدیث ثابت ہوجائے تو میں اُس قول سے رجوع کرتا ہوں اپنی زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی)
(فتاویٰ الدین الخالص ١/١٣)
زمان احمد سلفی
امامِ احمد رحمہ اللہ کا منہج
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی بہت بڑے محدث اور فقیہہ تھے اور عمل بالحدیث کے بے لاگ داعی تھے، آپکی پیدائش ١٦٤ میں ہوئی۔ آپ کی پوری زندگی ہی آپ کے منہج کی وضاحت کرتی ہے آپ نے حدیث کا بہت بڑا ذخیرہ جمع کیا جو کہ ''مسندأحمد'' کے نام سے معروف ہے اور اس میں تیس ہزار کے قریب احادیث ہیں آپ رحمہ اللہ سے بھی بہت سے اقوال ذکر کیئے گئے ہیں اختصار کے پیش نظر چند پیش خدمت ہیں۔
(١) آپ نے فرمایا:
لاتقلد نی ولا تقلد مالکاً ولا الثوری ولا الأوزاعی، وخذوا من حیث اخذوا
(نہ میری تقلید کرو، نہ مالک کی، نہ ثوری، نہ اوزاعی کی، بلکہ احکام کو وہاں سے لو جہاں سے انہوں نے لیا) یعنی کتاب وسنت سے۔
(علام الموقعین ٢/٢٠١، القول المفید ص ٢٦)
(٢) نیزفرمایا:
من قلة فقہ الرجل ان یقلد دینہ الرجال
(کسی شخص کی بے وقوفی کی یہ دلیل ہے کہ وہ اپنے دین کے بارے میں لوگوں کی تقلید کرے)
(علام الموقعین ٢/٢٠١، القول المفید ص ٢٦)
(٣) امام احمد رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ آپ کو مؤطا مالک زیادہ پسند ہے یا ''جامع سفیان'' تو آپ نے فرمایا:
لاذا ولاذا علیک بالأثر
(نہ یہ، نہ وہ، بلکہ لازم پکڑو حدیث کو)
(مناقب المام احمد لابن الجوزی ص ١٩٣، ١٩٤ بدعة التعصب المذھبی۔ ص ٩٩)
(٤) امام صاحب سے کسی نے سوال پوچھا کہ کیا میں رائے پر مشتمل کتاب لکھ سکتا ہوں؟
تو آپ نے اسے منع فرمایا۔ اُس نے کہا کہ ابنِ المبارک نے تو لکھی ہیں۔
آپ نے جواب دیا:
ابن المبارک لم ینزل من السمآئ، نماامرناان نأخذ العلم من فوق
(ابنِ مبارک کوئی آسمان سے نہیں اترے، ہمیں تو صرف اس بات کا حکم ہے کہ اوپر والوں سے علم حاصل کریں)
(بدعة التعصب المذھبی ص ٩٩)
زمان احمد سلفی