القائمة الرئيسية

الصفحات


 وضوء کی فضیلت اور اہمیت:
-1فضیلت:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:((ما منكم من أحد يتوضأ فيسبغ الوضوء ثم يقول:أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله،الا فتحت له أبواب الجنة الثمانية،يدخل من أيها شاء))۔ (مسلم شریف) 
2-اہمیت:فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:((لا يقبل الله صلاة أحدكم إذا  أحدث حتى يتوضأ)) ۔(بخاری شریف)
 وضوء کا طریقہ:
1-زبان سے بغیر بولے صرف دل میں  وضوء کی نیت کریں۔
2-پھر "بسم اللہ"پڑھیں۔
3-پھر اپنی ہتھیلیوں  کو تین مرتبہ دھوئیں ایک یا دو بار دھونا بھی کافی ہوگا۔
4-پھر تین مرتبہ کلی کریں اور ناک میں پانی داخل کرکے اسکی صفائی کریں۔ایک یا دو بار بھی کافی ہوگا۔  
5-پھر تین مرتبہ چہرہ دھوئے ایک یا دو بار کی کافی ہوگا۔
6-پھر دونوں ہاتھوں میں  سے پہلے دائیں پھر بائیں کو انگلی کے سرے سے کہنی تک تین بار  دھوئے ایک یا دو مرتبہ بھی کافی ہوگا۔
7-پھر ایک پانی ہی سے دونوں کانوں سمیت سر کا ایک مرتبہ مسح کریں۔
8-پھر دونوں پیر پہلے دائیں اور پھر بائیں کو ٹخنوں تک تین مرتبہ دھوئیں ایک یا دو بار بھی کافی ہوگا۔
9-پھر وضوء سے فارغ ہوکر یہ دعاء پڑھیں:(أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله)۔
 وضوء کی مخالفات: 
1-وضوء کی ابتداء میں زبان سے نیت کرنا۔
2-ضرورت سے زیادہ پانی خرچی کرنا۔
3-وضوء کے بعض اعضاء پر پانی نہ پہونچنا۔
4-گردن کا مسح کرنا۔
5-اعضاء وضوء کا مشروع مقدار سے زیادہ دھونا۔
6-سر کا مسح ایک سے زیادہ مرتبہ کرنا۔
7-ہوا کے خروج پر استنجاء کرنا:جبکہ استنجاء صرف پیشاب یا پاخانہ کے بعد ہی مشروع ہے۔
8-موالات کو ترک کرنے کے سبب وضوء  مکمل طرح سے نہ کرنا۔
9-بعض عورتوں کا اس طرح سے  نیل پالش کا استعمال کرنا جس سے وضوء یا غسل کے وقت چمڑے تک پانی نہیں پہونچتا۔
 موزوں پر مسح :
یہ ایک رخصت ہے جس سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے وارد شدہ  احادیث حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں،اور موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرنا مسنون ہے،نچلے حصے پر مسح نہیں کیا جائے گا،کیونکہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے خلاف ہے،موزوں پر مسح کرنا جائز ہے اگر چہ وہ پھٹے ہی کیوں نہ ہوں،مقیم شخص ایک دن اور ایک رات جبکہ مسافر تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرسکتا ہے،مذکورہ مدت کی ابتداء حدث اصغر کے بعد پہلی مرتبہ مسح سے ہوگی اور جنابت کی صورت میں مسح باطل ہوگی۔
4ودی کا حکم
خارج کا نام
حکم
سبب
کیا لازم ہوگا
ملاحظہ
منى
 پاک
احتلام یا جماع
غسل گیلے حالت میں دھونا اور سوکھے کا کھرچنا۔

مذی
ناپاک
جماع کے متعلق سوچنا۔
شرمگاہ کو دھوکر وضوء کرنا۔

ودی
ناپاک
پیشاب کے بعد
شرمگاہ کو دھوکر وضوء کرنا۔


غسل جنابت کے دو طریقے ہیں(مکمل اور مجزئ):
مکمل طریقہ:
1-دل میں اس غسل کے ذریعہ جنابت سے پاکی کی نیت کرنا۔
2-شرمگاہ پر لگی ہوئی گندگی دھونا۔
3-شرمگاہ کو دھونے کے بعد دونوں ہاتھ صابون سے دھونا۔
4-پھر نماز کی طرح مکمل وضوء کرنا ۔
5-پھر سر پر تین مرتبہ  پانی ڈال کرکے اسے بھیگانا۔
6-پھر  جسم  کے دائیں  اور بائیں جانب کو دھونا۔
7-پھر سارے بدن پر پانی انڈیل کر دھونا۔
8-غسل سے فارغ ہوکر وضوء کے بعد مسنون یہ دعاء:(أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله)پڑھے۔
9-غسل جنابت کے مسئلے میں مرد ہی کی طرح عورت کا بھی حکم ہے،ہاں البتہ اسے خاص طور پر حیض سے طہارت کی خاطر غسل کے وقت اپنے بال کی چوٹیوں کو کھولنا ہوگا۔
مجزئ غسل:
1-نیت کرنا۔
2-کلی اور ناک میں پانی داخل کرنے کے ساتھ ساتھ پورے بدن پر پانی ڈالنا۔
نوٹ:بعض مسلمان بیوی سے ہمبستری کے بعد بھی اس گمان میں نہیں نہاتے کہ غسل بغیر انزال کے واجب نہیں جو کی بہت بڑی غلطی ہے۔
 نماز کا طریقہ:
نمازی جہاں بھی ہو پورے بدن کے ساتھ قبلہ-کعبہ-کی جانب رخ کرکے جو نماز؛(فرض یا نفل) پڑھنا چاہے دل میں اس کی نیت کرلے زبان سے نیت کرنا درست نہیں ہے،پھر"اللہ اکبر"کہتے ہوئے  تکبیر تحریمہ کہے  اور اپنی نظروں سے سجدے کی جگہ دیکھے،تکبیر کے وقت اپنے دونوں ہاتھ کندھے یا کان کی لو تک اٹھائے اور انھیں اپنے سینے پر اس طرح رکھے کہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر ہو پھر دعاء استفتاح پڑھے:((سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك))اس کے علاوہ دیگر ثابت شدہ ادعیہ استفتاح بھی پڑھی جاسکتی ہیں ۔
پھر "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم" ، "بسم الله الرحمن الرحيم" پڑھ کر سورہ فاتحہ کی تلاوت کرے اس کے بعد آمین کہے،جس کا معنی ہے اے اللہ تو قبول فرما،پھر قرآن کا آسانی سے یاد شدہ حصہ پڑھیں،پھر دونوں ہاتھ کندھے یا کان تک اٹھائے ہوئے تکبیر کہہ کر رکوع کرے،رکوع کی حالت میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے،اور اطمینان کے ساتھ رکوع کرے اور رکوع کے اندر "سبحان ربي العظيم" یا "سبحانك اللهم ربنا وبحمدك اللهم اغفرلي" پڑھتا رہے پھر اگر امام یا منفرد ہو تو دونوں ہاتھ کندھے یا کان تک اٹھاتے ہوئے سمع الله لمن حمده کہہ کر رکوع سے سر اٹھائے اور ((ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه)) پڑھے۔
پھر تکبیر کہتے ہوئے آسانی کی صورت میں  اپنے گھٹنوں کو ہاتھ سے پہلے رکھتے ہوئے سجدہ کرے ، ورنہ گھٹنے سے پہلے ہاتھوں کو بھی رکھا جاسکتا ہے،سجدہ سات اعضاء:(( پیشانی ناک سمیت،دونوں ہاتھ،دونوں پیر،دونوں گھٹنے دونون قدم کے کنارے)پر کرے اور سجدے میں یہ دعاء:((سبحان ربي الأعلى)) یا ((سبحانك اللهم ربنا وبحمدك اللهم اغفر لي))پڑھے اور دونوں بازووں کو اپنے بغل سے،پیٹ کو رانوں سے  جدا رکھے ،اور اپنے بازو کو زمین سے اوپر رکھے تاکہ کتے سے مشابہت لازم نہ آئے۔
پھر تکبیر کہتے ہوئے اپنے سر کو  اٹھائے اور اپنے بائیں قدم کو بچھا  کر اس پر بیٹھ جائے اور دایاں پیر کھڑا رکھے،اور اپنےدونوں ہاتھ کو اپنے ران اور گھٹنوں پر رکھے اور یہ دعاء:((رب اغفرلي ، رب اغفرلي )) یا ((رب اغفرلي وارحمني واهدني وارزقني واهدني واجبرني وعافني))پڑھے۔
پھر تکبیر کہتے ہوئے دوسرا سجدہ کرے اور پہلے سجدے کی طرح اس میں بھی کرے،پھر دوسری رکعت کیلئے کھڑے ہو اور جس طرح پہلی رکعت پڑھا ہے ویسے ہی دوسری رکعت بھی پڑھے،پھر اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی داہنی ران پر رکھ کر تشہد کیلئے بیٹھ جائے اس حالت میں وہ سبابہ(انگوٹھے کے بغل والی بڑی انگلی جسے شہادت کی انگلی کہی جاتی ہے) کے علاوہ اپنی تمام انگلیوں کو سمیٹے  رکھے،اور اس سے توحید اور دعاء کے وقت اشارہ کرے ، اگر نماز دو رکعت والی جیسے؛فجر، جمعہ،نفل یا عید کی نماز ہو تو اس میں تشہد:((التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عبادالله الصالحين  أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله ،اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد))پڑھے ،اور پھر چار چیزوں سے یہ کہتے ہوئے اللہ سے پناہ مانگے:((اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم ومن عذاب القبر ومن فتنة المحيا والممات ومن فتنة المسيح الدجال))پھر جو چاہے دعاکرکے، دائیں اور بائیں جانب السلام عليكم ورحمة الله کہتے ہوئے سلام پھیرے ۔
اگر نماز تین یا چا رکعت والی ہو تو ابھی مذکورہ تشہد اول  ((أشهد أن لا اله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله )) پڑھ کر تیسری رکعت کیلئے کھڑے ہو جائے اور اس میں صرف سورہ فاتحہ کی تلاوت کرے اور پہلی دوسری رکعت کی طرح دوسرے اعمال انجام دے،پھر اگر تین رکعت والی نمازجیسے مغرب  ہے تو تورک کی حالت میں بیٹھ  جائے اور آخری تشہد پڑھے درود ابراہیمی اور دعاء کے ساتھ جیسا کہ گذر چکا ہے۔
اور اگر نماز چار رکعت والی ہو جیسے ظہر عصر عشاء تو پھر چوتھی رکعت کے بعد تورک کی حالت میں بیٹھ جائے اور آخری  تشہد درود ابراہیمی اور دعاء کے ساتھ(جیسا کہ گذر چکا ہے) پڑھے پھر اس کے  بعد میں دائیں اور بائیں السلام علیکم ورحمة الله کہہ کے سلام پھیرے۔
 مریض  کى طہارت:
 1-مریض پر پانی کے ذریعہ طہارت حاصل کرنا ضروری ہے،لہذا وہ حدث اصغر کی صورت میں وضوء کرے گا اور حدث اکبر کی صورت میں نہائے گا۔
2-لیکن پانی سے طہارت حاصل کرنے کی استطاعت نہ ہونے پر وہ غبار والے دیوار یا برتن یا رومال میں مٹی منگا کر اس سے تیمم کرے گا۔
3-تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے دونوں ہاتھ زمین پر ایک مرتبہ مارے ،اور اسے اپنے چہرے اور ہتھیلی  پر مل لے۔
4-اگر آدمی خود طہارت نہ حاصل کر سکے تو کوئی دوسرا شخص اسے وضو یا تیمم کرا سکتا ہے۔
5-اگر کسی شخص کے وضو کے بعض حصوں پر زخم ہو،تو وہ اسے پانی سے دھوئے ، اگر پانی سے دھونے کے سبب نقصان کا خوف ہو تو اپنے ہاتھ کو بھگو کرکے اس حصے پر مسح کرے،اگر مسح سے بھی اس پر اثر ہو تو اس پر تیمم کیا جائے گا۔
6-اگر کسی شخص کے وضو کے بعض حصے پر پٹی یا پلاسٹر ہو تو وہ اس حصے پر پانی سے مسح کرےگا ، تیمم کی حاجت نہیں ہوگی۔
7-مریض کیلئے ضروری تو یہی ہے کہ وہ خود کو ہر طرح کی گندگیوں سے پاک رکھے ، لیکن عاجزی کی صورت میں اپنی حالت پر نماز پڑھے ، اسکی نماز درست ہے دوہرانے کی ضرورت نہ ہوگی۔
8-مریض کیلئے طہارت سے عاجزی کے سبب نماز کا وقت نکلنے کے بعد تک ملتوی کرنا درست نہیں ہے،بلکہ اسے حسب استطاعت طہارت حاصل کرکے اپنی حالت پر نماز پڑھ لینی چاہیے،اگر چہ اس کے بدن پر کچھ نجاست لگی رہے،اس کی نماز ہو جائے گی،کوئی حرج نہیں ۔
 مریض کی نماز:
1-بیمار شخص کیلئے کھڑے ہوکر نماز کی ادائیگی ضروری ہے ،لیکن اگر کھڑے ہوکر نماز نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر نماز پڑھے اگر بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکے تو قبلہ رخ ہوکر اپنے پہلو پر نماز پڑھے اگر ،اگر استطاعت نہ ہو تو کسی بھی سمت نماز پڑھ لے اسکی نماز درست ہوگی،دوہرانے کی ضرورت نہیں،اگر پہلو پر بھی نماز نہ پڑھ سکے تو پیٹھ کے بل لیٹے ہوئے اپنے پیر کو قبلہ کی طرف کرکے نماز پڑھے اگر اسکی بھی استطاعت نہ پائے تو جیسے بھی جس رخ بھی ممکن ہو پڑھ لے گا اسے دوہرانے کی ضرورت نہ ہوگی۔
2- بیمار شخص کو نماز پڑھتے وقت رکوع اور سجدہ کرنا ضروری ہے،لیکن اگر استطاعت نہ ہو تو سر کے اشارہ سے اس طور پر کہ سجدہ کو رکوع سے زیادہ نیچے کرتے ہوئے  بھی نماز کی ادائیگی ہو سکتی ہے۔
3- اگر بیمار شخص سر کے اشارے کی بھی طاقت نہ پائے تو دل کی نیت سے نماز ادا کرے تکبیر اور قراءت کے بعد رکوع ، سجدے،قیام اور قعود کی دل میں ہی نیت کرتا رہے۔
4-بیمار شخص کیلئے تمام نمازیں ان کے مقررہ اوقات میں پڑھنا ضروری ہے،اگر یہ اس پر بھاری لگے تو ظہر عصر اور مغرب و عشاء میں جمع کر سکتا ہے چاہے جمع تاخیر کرے یا جمع تقدیم جس طرح بھی اسے آسان لگے،ہاں نماز فجر کو اس سے پہلے یا بعد کے ساتھ جمع نہیں کیا جا سکتا ہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کےرسالہ "سجدہ سہو کے احکام" کا خلاصہ:
1-نماز کے مکمل ہونے سے پہلے سلام پھیر دینے کی صورت:جب نمازی بھول کر نماز کے مکمل ہونے سے پہلے ہی سلام پھیر دے۔
 اگر لمبے وقفے کے بعد یاد آئے تو نماز دوہرائے گا،لیکن اگر تھوڑی مدت؛جیسے پانچ منٹ کی دہری ہو تو نماز پوری کرکے پھر سے سلام پھیرے۔
سلام پھیرنے کے بعد دو سجدہ سہو کرنے کے بعد پھر سے سلام پھیرے۔

2-نماز میں اضافے کی صورت میں؛جب نمازی نماز میں قیام، قعود،رکوع یا سجدہ کا اضافہ کردے۔
اگر اضافے سے فراغت کے بعد یاد آئے تو اسے صرف سجدہ سہو کرنا پڑے گا،لیکن درمیان میں ہی یاد آجائے تو اضافے سے رجوع کرنا ضروری ہوگا۔
سلام پھیرنے کے بعد دو سجدہ سہو کرے اور دوبارہ سلام پھیرے۔

 3-ارکان چھوٹنے کی صورت میں: جب نمازی سے تکبیرہ تحریمہ کے علاوہ  نماز کے ارکان میں سے کوئی رکن بھول سے چھوٹ جائے
اگر آئندہ رکعت میں  چھوٹے ہوئے رکن کی جگہ پہنچ جائے تو چھوٹے ہوئے رکن والی رکعت نہیں شمار کی جائے گی اور اس کے بعد والی رکعت اس کے قائم مقام ہوگی،مگر آئندہ رکعت میں اس رکن تک پہنچنے سے پہلے چھوٹے رکن کی طرف واپس ہوکر اسے پورا کرکے باقی نماز پوری کریں گے۔
ان دونوں حالات میں نمازی کیلئے سلام کے بعد سجدہ سہو کرنے واجب  ہوں گے۔
نماز میں شک ہوجانے کی صورت میں:اگر رکعتوں کہ تعداد میں شک ہوجائے کہ دو پڑھیں ہیں ہا تین تو اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔
پہلی حالت:یہ کہ نمازی کو کوئی دو میں سے کوئی راجح معلوم ہو اس صورت میں وہ راجح پر عمل کرتے ہوئے اسی کے مطابق اپنی نماز کو مکمل کرکے سلام پھیرے گا۔
دوسری حالت:یہ کہ اسے کوئی چیز راجح معلوم نہ ہو، وہ ایسی صورت میں یقین یعنی کم سے کم کو مان کر اپنی نماز مکمل کرے گا۔
پہلی صورت میں وہ سجدہ سہو سلام کے بعد کرے گا ۔
دوسری صورت میں سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے گا۔

 پہلی تشہد کو بھول سے چھوڑنا اسی طرح تمام واجبات کا حکم بھی پہلی تشہد کے حکم کی طرح ہوگا۔
1-اگر اسے مکمل طرح سے کھڑے ہونے کے بعد تو نماز کو جاری رکھے گا اور تشہد کے لئے واپس نہیں ہوگا۔
2-اگر اٹھنے کے بعد اور مکمل کھڑے ہونے سے پہلے یاد آئے تو واپس ہو بیٹھ کر تشہد پڑھے اور پھر نماز کو مکمل کرے۔
3-اگراسے قیام کے وقت کے ران کے پنڈلی سے علیحدگی سے قبل یاد آجائے تو بیٹھے رہے،تشہد پڑھے اور نماز کو مکمل کرے،اس صورت میں سجدہ سہو نہیں کرنا ہوگا،کیونکہ کوئی زیادتی یا نقصان حاصل ہی نہیں ہوا۔

سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کرے گا۔

 نماز کی شرطیں،ارکان اور واجبات:
شرط: جس کے بغیر نماز صحیح  ہی نہیں ہوتی ۔
1-اسلام؛اس کا ضد کفر ہے اور کافر کا عمل مردود ہوتا ہے۔
2-عقل؛اس کا ضد جنون(پاگل پن)ہے،اور مجنون سے ثواب و عقاب کا قلم اٹھا لیا جاتا ہے یہاں تک کہ اسے افاقہ ہوجائے۔
3-تمییز؛اس کا ضد صغیر سنی ہے،جس کا حد سات سال ہے،پھر   اسے نماز کا حکم دیا جائے گا۔
4-حدث کا ختم کرنا ،مطلب حدث اصغر سے وضوء کے ذریعہ طہارت حاصل کرنا،اور حدث اکبر یعنی جنابت سے طہارت حاصل کرنے کیلئے غسل کرنا۔
5-وقت کا داخل ہونا۔
6-شرمگاہ کا چھپانا۔
7-قبلہ رخ ہونا۔
8-دل میں نیت کرنا۔
9-بدن ، کپڑے ، اور زمین سے  نجاست کا ازالہ کرنا۔
رکن:اس کے سہوا  یا عمدا ترک سے نماز باطل ہوجاتی ہے۔
1-فرض نمازوں میں استطاعت کی صورت میں قیام کرنا۔
2-تکبیرہ تحریمہ کہنا۔
3-ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا۔
4-رکوع۔
5-رکوع سے اٹھنا۔
6-سات اعضاء پر سجدہ کرنا۔
7-سجدہ سے اٹھنا۔
8-دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا۔
9-آخری تشہد۔
10-تشہد اخیر کیلئے بیٹھنا۔
11-آخری تشہد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  پر درود بھیجنا۔
12-دونوں سلام۔
13-تمام ارکان میں اطمینان۔
14-ترتیب ۔
 واجب:جسکے عمدا چھوڑنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے البتہ بھول کر چھوٹنے پر سجدہ سہو کے ذریعہ اسکی تلافی کی جاسکتی ہے۔
 1-تکبیرہ تحریمہ کے علاوہ تمام تکبیرات۔
2-رکوع میں سبحان ربي العظيم کہنا۔
3-مقتدیوں کے علاوہ امام اور منفرد سب کا سمع الله لمن حمده کہنا۔
4-سب کا "ربنا ولك الحمد" کہنا۔
5-سجدہ میں "سبحان ربي الأعلى" کہنا۔
6-دونوں سجدوں کے درمیان  "رب اغفرلي" کہنا۔
7-پہلا تشہد۔
8-پہلے تشہد کے لئے بیٹھنا۔

تنبیہ:یہ تحریر شیخ محمد الشنقیطقی(امام جامع عساف،ریاض،مملکت سعودی عرب)کے قلم سے شائع شدہ پمفلٹ کا ترجمہ ہے۔