عقیقہ سے متعلق ضرورى مسائل
ممتازعالم نسىم أحمد
نورى(دعوة وجاليات صبىح)
عقیقہ اس ذبیحہ کو کہتے ہیں جسے بچے (ذكر و
أنثى)کی ولادت کے ساتویں دن قربان کیا جاتا ہے(الصحاح(4/1527),النهاية3/276).
عقیقہ عقیق اور عقہ اصل میں نو مولود کے سر کے
بال کو کہا جاتا ہے،پھر اس کے حلق کے موقع پر ذبح کىا جانے والا جانور بهى اسی سے
جانا جا نے لگا،کیونکہ وه بال اسکے ذبح کے وقت مونڈا جاتا ہے،اور عرب کے یہاں ایک
چیز کو دوسرے ساتھ یا قریبی چیز کے نام سے موسوم کرنا عام سی بات ہے(غريب
الحديث2/153)،لہذا ج ب عقیقہ بولاجاتا ہے تو مولود کے لئے ذبح کئے جانے والے جانور
ہی کا خیال آتا ہے گویا یہ ایک عرفی حقیقت بن گیا ہے،اور ىہ بهى کہا جاتا ہے کہ
عقیقہ عق سے مشتق جس کا معنی قطع یعنی کاٹنے کے ہیں اسى سے کہا جاتا ہے عق
والدیہ:جب کوئی اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کا معاملہ نہ کرے اور ان کے ساتھ قطع
تعلق کرے،اس بکری کو عقیقہ اس لئے کہا جانے لگا کیونکہ اس کا حلق کاٹا جاتا ہے،مگر
اس پر یہ اشکال ہوسکتا ہے کہ قطع تو عام ہے اور ہر ذبیحہ کے سر کو کاٹا جاتا ہے ،
لیکن پھر بھی امام احمد سے مذکورہ معنی اور اس کی توضیح کا انکار وارد ہے اوران كا
کہنا کہ عقیقہ ذبح ہی کو کہا جاتا ہے(التمهيد4/310),الاستذكار(15/369),تحفة
المودود (30)دىكهئے منحة العلام شرح بلوغ المرام للفوزان(9/303).
عقیقہ کی حکمت اللہ کی عطاکردہ نعمتوں کے تجدید
پر اس شکر ادا کرنا ہے،اور چونکہ بچے کی ولادت ایک بڑی نعمت ہوتی ہے والدین کو
اپنے لخت جگر سے نفع اور بھلائی و فرمانبرداری کی امید ہوتی ہے.
عقیقہ کو نسیکہ(التمهيد4/306)اور تمیمہ (منحة
العلام9/303)بھی کہا جاتا ہے.
جمہور اہل علم کے نزدیک عقیقہ کرنا سنت موکدہ
ہے(تحفة المودود (31).
إمام أبو داؤد(2842),إمام نسائى(7/162),إمام
أحمد(11/320-321) اورامام مالک(2/500) رحمہم اللہ نے ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:من ولد
له ولد فأحب أن ينسك عن ولده فليفعل.ترجمہ:جس کے یہاں بچے کی ولادت ہو اور وہ اپنے بچے کی طرف سے ذبح
کرنا چاہے تو ضرور کرے.
اسی طرح اصحاب سنن
(أبوداؤد:2838,ترمذى:1522,نسائى:7/166,ابن ماجه: 3165),نے حضرت سمرہ بن جندب رضی
اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:كل
غلام مرتَهَن بعقيقته،تذبح عنه يوم سابعه ويحلق ويتصدق بوزن شعره فضة أو ما
يعادلها ويسمى .ترجمہ:ہر بچہ اپنے
عقیقہ کے ساتھ مرہون ہوتا ہے،اس کی ولادت کے ساتویں دن ذبح کیا جائے گا،اور سر
مونڈا جائے گا اور اس کے بال کے مقدار میں چاندی یا اس کی قیمت صدقہ کیا جائے گا
اور اس کا نام رکھا جائے گا.
بچے کی طرف سے دو جانور (البتہ مجبوری کی صورت
میں ایک بھی کیا جانا کافی ہوگا). جبکہ بچی کی طرف سے ایک جانور ذبح کرنا مسنون
ہے.جیسا کہ ترمذی شریف(1513) میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی
حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ بچے کی طرف
سے دو ہم مثل بکرے ذبح کئے جائیں اور بچی کی طرف سے صرف ایک بکرا.
امام ابن قیم رحمہ اللہ اس تفاضل کی حکمت بیان
کرتے ہوئے اپنی مشہور کتاب تحفة المودود بأحكام المولود ص (53/54)میں فرماتے
ہیں:یہ شریعت کا قاعدہ ہے،اللہ تعالی نے مذکر اور مونث میں فرق کیا ہے،مونث کو
مواریث،دیات،شہادات،عتق و عقیقہ میں مذکر کا نصف قرار دیا ہے،جیسا کہ امام
ترمذی(1547) رحمہ اللہ نے حضرت امامہ سے ایک حدیث نقل کرکے اسے صحىح قرار دیا ہے
کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(جومسلمان کسی مسلمان کو آزاد کرتا ہے،وہ اس
کے لئے جہنم سے ازادی کا سبب ہوگا،اس کا ہر عضو اس کے عضو کے بدلے ہوگا،اور جو
مسلمان دو مسلمان عورت کو آزاد کرتا ہے وہ دونوں اس کے لئے جہنم سے ازادی کا سبب
ہوں گے،اس کا ہر عضو ان دونوں کے ہر عضو کے بدلے ہوگا.، اگر عقىقہ میں مفاضلت سے
متعلق کوئی صریح سنت واضح نہ ہوتی تو بھی اس لحاظ سے تفصیل باقی رہتی، جب کہ عقیقہ
میں دونوں میں تفاضل سے متعلق صریح اور ثابت سنتیں وارد ہیں!.
اور ابن قیم رحمہ اللہ زاد المعاد2/331 میں یہ
بھی فرماتے ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے مذکر کو مونث پر فضیلت بخشی ہے،جیسا کہ
فرمان باری تعالی ہے:وليس الذكر كالأنثى(آل عمران:36)اس تفاضل
کا تقاضہ یہ ہے کہ مذکر کو مونث پر احکام میں ترجیح دی جائے اور تحقیق کہ شریعت نے
اس میں تفضیل برتی ہے،بایں طور کہ مذکر کو گواہی میراث اور دیت کے مسائل میں دو
مونث کے برابر قرار دیا ہے،اسی طرح عقیقہ کو بھی انہیں سے جوڑ دیا گیا ہے.
فائده: عقیقہ میں بکرا بڑے جانور؛اونٹ اور گائے
سے افضل ہے کیونکہ سنت میں وہی وارد ہے,بکری (أنثى)بھی ذبح کی جا سکتی ہے,ىادر
ہےكہ عقیقہ کے لئے بکری کا ذبح کرنا ضروری ہے،پہلے سے ذبح کی ہوئی بکری خرید کر
اسے عقیقہ کی نیت سے تقسیم کرنا درست نہیں.
تنبىہ: عقیقہ كلا جانور بھیمة
الانعام میں سے ہونا ضروری
ہے,مرغے ىا ہرن وغىره كا ذبح درست نہ ہوگا.
عقیقہ ولادت کے ساتویں دن کرنا افضل ہے اگر
ساتویں دن نہ کرسکے تو چودہویں دن اگر چودہویں دن بھی نہ کرسکے تو اکیسویں دن کرے
جیسا کہ سنن بیہقی (9/303"ض)میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عقیقہ ساتویں دن یا چودہویں دن یا اکیسویں دن ذبح
کیاجائے گا، اس کے بعد بلاتحدید کسی بھی دن استطاعت کے وقت کرسکتے ہیں،البتہ جلدی
کرنا ذمہ داری سے براءت کیلئے بہتر ہے.( حدیث کی صحت و ضعف کے سلسلے میں کلام کے
سبب بعض اہل علم نے ساتویں دن کی سنیت کے بعد ہى سےکسی دن کی تحدید کے بغیر حسب
استطاعت عقیقہ کرنے کی اجازت دی ہے"المحلى:7/523").
ساتویں دن ذبح کرنےکی حکمت یہ ہے کہ بچے پر ہفتہ
کے تمام دن گذر جاتے ہیں اس سے یہ شگون لیا جاتاہے کہ بچہ کی عمر لمبی ہو گی.
س:عقیقے کا دن کس طرح شمار کریں؟
ج:یوم ولادت کے ساتھ ساتویں دن میں عقیقہ کیا
جائے گا یاد رہے کہ غروب سمش سے قبل ولادت كى صورت میں موجودہ دن کا شمار ہوگا
لیکن اگر ولادت رات میں ہوئی ہوتو دوسرے دن کی تعداد رکھی جائے گی.
عقیقہ کے بہت سے فوائد ہیں جن میں سے امام ابن
قیم رحمہ اللہ نے چند ایک کو اپنی مشہور کتاب تحفة المودود ص69 میں کچھ اس طرح ذکر
کیا ہے:
1-یہ ایک قربانی ہے جسے مولود کی طرف سے اس کے
دنیا میں آنے کے ابتدائى اىام میں قربان کیا جاتا ہے.
2-اس کے ذریعہ بچے کے رہن کو کھولا جاتا ہے،اس
لئے کہ وہ عقیقہ تك اپنے والدین کی شفاعت کرنے سے موقوف ہوتا ہے.
3-یہ ایک فدیہ ہوتا ہے جسے مولود کے فدیہ کے طور
پر پیش کیا جاتا ہے جیسے کہ اللہ تعالی نے مینڈھے کو حضرت اسماعیل کے فدیہ کے طور
پر پیش کیا تھا.
عقیقہ کرنا مولود کے نفقہ کے ذمہ دار شخص کا حق
ہے ، اسے چاہئے کہ وہ اپنے مال سے مولود کا عقیقہ کرے،جس پر نفقہ کی ذمہ داری نہیں
وہ عقیقہ نہیں کرسکتا الا یہ کہ صاحب نفقہ اجازت دے (امام شافعی)
اشکال اور جواب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن و
حسین رضی اللہ عنہما کا عقیقہ خود کیا تھا؟,ہوسکتا ہے ان کے نفقہ کی ذمہ داری آپ
صلى الله عليه وسلم نے ہى لے رکھی ہو یا پھر ان کے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
آپ کو اجازت دی ہو.
یوں تو عقیقہ مطلوب باپ سے ہی ہے(مالکیہ) دوسرا
نہیں کرسکتا ہے(حنابلہ )الا یہ کہ وه فوت ہوجائے کا یا کوئی دوسرا عذر ہو تو دوسرے
کا کرنا مکروہ نہ ہوگا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن و حسین رضی اللہ عنہما
کا عقیقہ کرنا اپ کا مؤمنىن سے سب سے زیادہ قرىب ہونے کے باب سے تھا.
فائده:اگر بچہ سن بلوغت کو پہونچ جائے اور اس کا
عقیقہ نہ ہوا ہو تو اسے چاہئے کہ استطاعت کی صورت میں وہ خود کرے.
جمہور اہل علم نے اس بارے میں صراحت کی عدم
موجودگی کے باعث عقیقہ کے جانور کو قربانی کے جانور پر قیاس کرتے ہوئے ہر باب میں
دونوں کو یکساں قرار دیا اور کہا ہے کہ جانور بھیمة الأنعام میں سے مسنہ یعنی
ثنی(ثنیہ) دو دانتا ہونا چاہیے،یعنی بکرا بکری ایک سالہ ، گائے بیل دوسالہ،اونٹ
تین سالہ اور بھیڑ کا چھ ماہ کا ہونا شرط رکھا ہے،کانا ،لنگڑا،بیمار،کمزور،مکسور
اور ناقص صفات کو مانع قرار دیا ہے،اس کے کسی بھی جزء کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے
اور قربانی کے طرح ہی عقیقہ کے گوشت کو کھانے ، ہدیہ اور صدقہ کرنے کی ترغیب دی ہے
جبکہ بعض اہل علم ان شروط کو قربانی کے جانور کیلئے مشروط مانتے ہوئے عقیقہ کے
جانور میں ان صفات کو ضروری نہیں مانتے البتہ ان شروط کی رعایت کو افضل ضرور قرار
دیتے ہیں.
فائده:عقیقہ کے جانور كا عمر ، وزن اور حجم میں
متقارب ہونا بہتر ہے،لیکن میسر نہ ہونے کی صورت میں مذکورہ صفات میں تقارب کا
اعتبار نہ ہوگا.
بعض لوگوں میں مشہور ہے کہ عقیقہ کے جانور کا
گوشت کاٹتے وقت ہڈی نہ توڑنے کا خیال رکھنا چاہئے،بچہ جانور کو نہ دیکھے, گھر والے
جانور کی ایک ہڈی بھی استعمال نہ کریں ,بچے کا باپ ذبح کے وقت لازمی طور پر موجود
رہے ,عقیقہ کا گوشت میٹھے (شکر ڈال کر)پانی میں بنایا جائے ,تو ان باتوں پر شریعت
سے کوئی دلیل نہ ہونے کی وجہ سے ایسا کرنا یہ سارے بے بنیاد باتیں ہیں. ہڈی نہ توڑنے
کے بارے میں امام بيهقي اور حاكم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے اىك رواىت نقل
كىا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:السنة
شاتان مكافئتان عن الغلام وعن الجارية شاةيقطع جد ولا لا يكسر لها عظم(اما حاكم نے اس حدىث
كو صحىح الإسناد قرار دىا ہے اور امام ذہنی نے بھی ان کی موافق بهى کی ہے، مگر
امام نووی نے معلول قرار دیا ہے المجموع (8/407 )،علامہ البانی کی تحقیق میں بھی
اس کی تصعیف ہى ہے,وه کہتے ہیں كہ اس میں دو علتیں ہیں:
1-انقطاع.2-شذوذ اور ادراج (یطبخ
جدولا:حضرت عطاء کا قول ہے).
إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل (4/395-392).
تنبیہ: نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانی کے
باب میں بڑے جانور؛اونٹ اور گائے میں سات حصے ثابت ہیں مگر یاد رہے کہ عقیقہ کے
باب میں ایسا نہیں بلکہ ہر مولود کے بدلے مستقل جانور کا ہونا ضروری ہے. کیونکہ اس
بابت تشریک وارد نہیں ہے اور عبادات تعریفی ہوتے ہیں،اور اس لئے بھی کہ یہ فدیہ
ہوتا ہے اور فدیہ میں تبعیص درست نہیں،لہذا کسی نفس کی طرف سے فدیہ ہونے میں نفس
کا ہی ہونا ضروری ہے.
فوائد:
(1)اگر بچہ زندہ پیدا ہو اور ساتویں دن سے قبل
فوت ہوجائے تو بھی اس کی طرف سے عقیقہ کیا جائے گا یہی نہیں بلکہ اگر بچہ روح
پھونکے جانے کے بعد مردہ پیدا ہو تو بھی عقیقہ کیا جائے گا ہاں اگر روح کے پھونکے
جانے سے قبل بچہ مردہ پیدا ہو تو اس کی طرف سے عقیقہ نہ کیا جائے گا,روح کی بابت
جانکاری دنوں کے تعداد سے کی جائے گی بایں طور کہ اگر چار ماہ یعنی 120دن مکمل
ہوگئے ہوں تو روح کا پھونکا جانا مانا جائے اس سے قبل نہ پھونکا جانا سمجھا جائے
گا.
(2)بچے کی ولادت پر ذبح کئے جانے والے دونوں
جانوروں کو علیحدہ علیحدہ اوقات اور اماکن پر بھی ذبح کرنے میں كوئى حرج نہیں ہے.
اسی طرح عقیقہ کے وقت بچے کا اس جگہ رہنا بھی ضروری نہیں ہے.
فائده:عقیقے كا گوشت پکا کر کھلا نا ىا تقسىم
كرنا افضل ہے، البتہ بوقت حاجت کچے گوشت كے توزىع كى بهى گنجائش ہے.
اخیر میں اللہ تعالی سے دعاگو ہوں کہ الہ
العالمین ہمیں سنتوں کو سمجھ کر ان کے مطابق عبادات کے انجام دہی کی توفیق عطا
فرما(آمین)