القائمة الرئيسية

الصفحات

صبيح اسلامک سينٹر ميں فضيلة الشيخ داكٹر سيد معراج رباني حفظه الله كى آمد


صبيح اسلامک سينٹر ميں 
فضيلة الشيخ داكٹر سيد معراج رباني حفظه الله
كى آمد
 آج بروز جمعہ ۲۱۔فروری۔۲۰۲۰م مطابق ۲۷۔جمادی الآخرة۔۱۴۴۱ھ بعد نماز عصر تقریباً ساڑھے پانچ بجے قبل نماز مغرب مکتب کے متعاون بھائیوں اور فریق تطوعی مرکز صبیح کے ساتھ عالم اسلام کے مشہور داعی و مبلغ خطیب شعلہ بیاں کفر اور شرک و بدعت کی ایوان میں لرزہ طاری کرنے والے بے باک مقرر فضیلہ الشیخ ڈاکٹر سید معراج ربانی حفظہ اللہ کے استقبال کا شرف حاصل ہوا آپ کے ساتھ آپ کے صاحبزادے عبداللہ عبدالعزیز اور عبدالمحسن سے بھی ملاقات ہوئی مختصر گفتگو اور تعارف کے بعد چونکہ نماز مغرب کا وقت ہوچکا تھا مسجد گئے مسجد شیخ صالح جلہمی میں چونکہ افتتاح کے دن سے ہی تقریباً دو سالہ عرصے سے اس مسجد میں ناچیز ہی پر اذان و امامت کی ذمہ داری ہے لہذا شیخ سے نماز پڑھانے کی درخواست کی شیخ نے صاحبزادے عبداللہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا عبداللہ ہیں کوئی بات نہیں لہذا عبداللہ ہی نے مغرب کی اذان دی اور امامت بھی کروائی نماز کے بعد شیخ محترم نے سفر کی تھکاوٹ کے سبب آرام کیا نماز عشاء کے بعد شیخ اپنے بریدہ سے تشریف لانے والے تمام احباب کے ساتھ مکتب آئے وہاں پر مکتب کے ذمہ داروں سے ملاقات کی اور مختصر سی مجلس کے بعد شیخ کے صاحبزادے عبداللہ کی خوبصورت آواز میں تلاوت کے ذریعہ پروگرام کا آغاز ہوا شیخ نے تقریباً ڈھیڑھ گھنٹے  موجودہ دور میں فتنوں سے نجات کے اسباب کے عنوان پر مسحور کن خطاب فرمایا اور تقریباً عصر حاضر کے تمام فتنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان سے نکلنے کا راستہ بتایا،ایک لاجواب مثال شیخ محترم نے پیش جو یقیناً ہر مسلمان کے لئے قابل عمل ہے شیخ نے نئے منظور شدہ قوانین و ضوابط اور مسلمانوں کی زبوں حالی کی طرف اشارہ کرے ہوئے کہا کہ مسلمانوں اللہ کی طرف رجوع کرو اور اسی سے دعا کرو ان دشمنان دین کے پیچھے مت پڑو کیونکہ ان میں طاقت ہے ان کے پاس اسباب ہیں وہ نقصان پہونچا سکتے ہیں اللہ سے رجوع کرو اسی کے سامنے ہاتھ پھیلاؤ یہ سب بھی اسی کی مخلوقات ہیں اللہ چاہے تو یہ تمہارے پیر چاٹیں گے اسی طرح جیسے جیسے کوئی اپنے دوست کے گھر جاکر جب اسے آواز دے اے فلاں تو دروازے پر موجود کتا بھونکنے لگتا ہے تو کیا اب تم اس کتے سے لڑو گے یا واپس جاؤ گے یا پھر اپنے ساتھی کو بار بار آواز دوگے یقیناً کتے سے لڑنا ہوشیاری نہیں اور دوست سے ملاقات بھی چونکہ ضروری ہے اسلئے واپسی بھی درست نہیں بار بار اپنے دوست کو آواز دینے میں ہی  بھلائی ہے کیونکہ اگر آپ کا دوست آواز سن آپ کے پاس آئے گا تو یہ بھونکنے والا کتا آپ کے پیر چاٹے گا لہذا ان سے لڑو مت اللہ سے مدد طلب کرو اگر اللہ نے آپ کی سن لی تو یہ بھی آپ کے تابع ہوجائیں گےخیر شیخ نے متعدد مثالیں اور بے قیمتی فوائد پر مشتمل بہترین خطاب کیا،شیخ نے مسلمانوں کو آپسی  اختلافات سے بچتے ہوئے بھائی چارہ کو عام کرنے اور مل جل کر اللہ کے دین کی سربلندی کے کئے کام کرنے پر بھی زور دیا ۔ کب ڈھیڑھ گھنٹے گذر گئے معلوم بھی نہیں چلا دل تو یہی کر رہا تھا کہ شیخ بولتے ہی جائیں سامعین بھی پوری توجہ کے ساتھ شیخ کے خطاب کو سماعت کررہے تھے پروگرام کے اخیر میں  زبانی اور تحریری طور پر کئی ایک بہترین سوالات کئے گئے شیخ نے ان کا تشفی بخش جواب دیا جس کے سبب پروگرام کے بعد کئی احباب نے اپنے باطل عقائد و نظریات کی اصلاح کا اعلان کیا پروگرام میں حاضر چند غیر مسلم بھائیوں کو اسلام کے تئیں ان کے اشکالات اور غلط فہمیوں کا جواب بھی ملا بہر حال پروگرام بہت مفید اور ثمر آور رہا  ، اللہ تعالی شىخ محترم کے جہود کو قبول فرمائے آپ کے علم سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہونچائے ۔اللہ تعالى  شىخ  کو صحت و تندرستی عطا کرے اور  لمبی دے،،، پروگرام میں ہندوستان پاکستان بنغلہ دیش اور نیپال وغیرہ کے تقریباً ۱۰۰ سے زائد لوگ شرک تھے پروگرام کے اخیر میں تمام حاضرین نے کھانا تناول كىاگىا اورلوگ رخصت ہوگئے ،،،،
اللہ تعالی مکتب کے ذمہ داران اور محسنین کی کوششوں کو قبول فرمائے اور ان کے ان جہود کو دنیا و آخرت میں ان کے لئے نجات اور سربلندی کا ذریعہ بنائے ۔
الصورة
الصورة
الصورةالصورة