القائمة الرئيسية

الصفحات

عشرہ ذي الحجہ اور قربانی کے ضرورى مسائل


عشرہ ذي الحجہ اور قربانی کے ضرورى مسائل
ممتازعالم بن نسيم أحمد نورى(قصيم ,سعودى عرب)
   قارئین کرام :اللہ رب دو جہاں نے ہمیں اس کائنات میں  صرف اور صرف اپنی  عبادت کیلئے پیدا فرمایا ہے،ہم جو بھی اعمال کرتے ہیں ان کا بدلہ بروز قیامت ہمیں ہی ملے گا،یوں تو ہمیں ہمہ وقت اپنے خالق کی بندگی میں کوشاں ہونا چاہئے, اور نیک اعمال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے, تاہم اللہ رب العزت نے اپنے نيك بندوں  کیلئے  کچھ ایسے مواسم عطا فرمائے ہیں جن میں ہمیں نیک اعمال كےتئيں معمول سے زیادہ کمر بستہ ہوكرمختلف ومتنوع اعمال صالحہ سے  اپنے میزان حسنات کو بھاری کرنے کی تگ ودو کرنی چاہئے.
      نیکیوں کے انھین مواسم بہار میں سے ذی الحجہ کا پہلا عشرہ بھی ہے،اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اس عشرہ کی قسم کھائی ہے,جو ان كی اہمیت پر واضح دلیل ہے,اللہ تعالى  نے  فرمایا :(والفجر وليال عشر)) الفجر:1-2), جمہور مفسرين نے اس آیت سے ذوالحجہ کےپہلے عشرہ کو مراد بتايا ہے,حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ    نےبهى اسى  قول  كو راجح كہا  ہے,اس كى وضاحت بخاري شريف میں عبدالله بن عباس tسے مروی حدیث سے بھی ہوتی ہے,نبی اکرم r نے فرمایا:(مامن أيام العمل الصالح فيها أحب الى الله من هذه الأيام -يعني الأيام العشر -قالوا:يارسول الله ولا الجهاد في سبيل الله ؟ قال ولا الجهاد في سبيل الله الا رجل خرج بنفسه وماله ثم لم يرجع من ذلك بشيئ). ترجمہ: کوئی بھی دن ایسے  نہیں ہیں  جن میں  نیک عمل کرنا اللہ تعالی کو ان ایام(ماہ ذوالحجہ کےپہلے عشرے)میں عمل کرنے سے زیادہ محبوب ہوں,صحابہ کرام نےفرمایاکہ:اےاللہ کےرسول:rکیا (دوسرے دنو    ںمیں کئے گئے) جہاد بھی ان ایام میں کئے ہوئے نیک اعمال سے بہتر نہیں ہوں گے؟نبى اكرم r نے       جواب ديا: ہاں جہاد بھی ان ایام میں کئے گئے نیک اعمال کے برابر نہیں ،سوائے اس کے کہ کوئی شخص اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کیلئے نكلا ہو پھر ان میں سے کسی ساتھ واپس نہ آیا ہو!,اورمسند أحمد میں حضرت عبدالله بن عمرt سے مروي ايك دوسرى حديث ميں نبي  اكرمrنے  فرمايا:(ما من أيام أعظم ولا أحب الى الله العمل فيهن من هذه الأيام العشر فأكثروا فيهن من التهليل والتكبير والتحميد) ترجمہ(ان  دس دنو ں کے علاوہ کوئی اور دن ايسا نہیں جن کے نیک اعمال اللہ تعالی کے نزديك زیادہ  عظمت والے اور پسنديده ہوں چنانچہ ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ سےزیادہ تکبیر پڑھتے ر ہو اور اللہ کی حمد وثناء سے اپنى زبان تر   ركهو.
      حافظ ابن حجر رحمہ الله   ان دنوں کی اللہ کے نزدیک اس قدر فضيلت ہونے کی وجہ بیان کرتےہوئے  فرما تے ہيں :(ان ايام كى فضيلت اس لئے ہے)کیونکہ اللہ تعالی نے ان دنوں میں اسلام کے تمام اہم عبادات؛روزہ ، نماز،حج،صدقہ،ذکر وتکبیر کو یکجا کردیا ہے جوکہ دوسرے دنوں میں ایک ساتھ جمع نہیں ہوتے۔يوم عرفہ اوریوم النحر بھی انہیں دنوں میں سے ہیں.
دینی بھائیو!سطور بالا سے ہمیں ماہ ذوالحجہ کے پہلے عشرہ کی فضیلت کا بخوبی اندازہ ہوگیا , ہمیں چاہئے کہ ان مبارک ایام کو غنیمت جانتے ہوئے،ان دنوں میں مستحب اعمال ؛حج وعمرہ(مستطیع لوگوں کیلئے)،روزہ،نماز،صدقہ،تلاوت،دعاء،ذکر اذکار،توبہ واستغفار،تکبیر وتحمید،صلہ رحمی و دیگر نوافل کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کریں،واضح رہے کہ یہ گنتی کے چند دن ہی ہیں،لہذا ہم ان گنے چنے دنوں میں اپنے نفس سے مجاہدہ کرتے ہوئے اسے عبادت الہی کا عادی بنائیں،اور مذکورہ اعمال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی ٹھان لیں،سوره عنكبوت آيت 69میں ارشاد باری تعالی ہے:(والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا وإن الله
لمع المحسنين),ترجمہ:جو لوگ ہمارے دین کی خاطر کوشس کرتے ہیں ہم ان کو ضرور بالضرور اپنے راستے دکھا دکھا دیں گے،اور یقینا اللہ تعالی نیک عمل کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے.
یاد دہانی:
1-ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد قربانی کا ارادہ رکھنے والے حضرات قربانی کرنے تک ناخن،بال وغیرہ نہ کاٹیں(مسلم)، اسی طرح وہ  شخص جو قربانی کی استطاعت نہ پائے،اور وہ نیک نیتی کے ساتھ دس دن ان کاموں سے رکے رہ کر قربانی کے دن بال،ناخن،وغیرہ کاٹے تو اسے بھی  سنن ابى داود كى ایک  حسن حدیث کے مطابق قربانی کا اجرملے گا.
2-ذوالحجہ کی نویں تاریخ یعنی یوم عرفہ کے روزے کی بڑی فضیلت وارد ہے، نبی کریم rسے اس کے اجر کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپr نے فرمایا کہ :اس دن روزہ رکھنا گذشتہ اور آئندہ دو سالہ گناہوں کیلئے کفارہ بن جاتا ہے.
محترم قارئین:انھیں دس دنوں میں یوم النحر بھی ہے،جس میں دنیا بھر میں فرزندان توحید حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی یاد میں نبی کریم r کی اتباع کرتے ہوئے ،اللہ کی رضا کے حصول کی خاطر بے شمار جانورون کو قربان کرتے ہیں ،یہ اسلام کے  اہم شعائر میں سے ہے،جس پر عمل ہر صاحب استطاعت پر لازم ہے،نبی اکرم r ہر سال قربانی پیش کرتے تھے،ترمذی شریف میں عبداللہ بن عمر t سے مروی ہے کہ:(أقام النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة عشر سنين يضحي)ترجمہ:رسول اللہ r مدینہ میں دس سال تک مقیم رہے،اس دوران آپ ہر سال قربانی کرتے تھے.اور  ترمذی شریف کی ایک روایت میں مخنف بن سلیمt فرماتے  ہیں کہ آپ r لوگوں کو بھی اس کی تاکید کرتے ہوئے کہتے:(يا أيهاالناس،ان على كل أهل  بيت في كل عام أضحية)ترجمہ:اے لوگو!بے شک ہر .گھر والوں پر ہر سال ایک قربانی ضروری ہے، اور آپ r ىہ بهى فرمایا کرتے تھے کہ:(من وجد سعة لأن يضحي فلم يضح فلا يحضر مصلانا)ترجمہ:جو شخص استطاعت کے باوجود قربانی نہیں کرتا وہ ہماری عید گاہ کا رخ نہ کرے(مستدرك حاكم"حسن:البانى").
  مندرجہ بالا احا دیث  سے قربانی کی اہمیت اور اسکا متاکد ہونا واضح ہے،لہذا استطاعت کی صورت میں ہمیں قربانی نہیں چھوڑنی چاہئے،بلکہ خلوص نیت کےساتھ لازمی طور پر ہر سال قربانی کرنی چاہئے،واضح رہے کہ اس عظیم عبادت کے ذریعہ اللہ تعالی ہمارے تقوی کی جانچ کرتا ہے،لہذا ہمیں اس عبادت میں ریاء ونمود سے بچنا چاہئے،سوره حج آيت :37 میں ارشاد باری تعالی ہے:(لن ينال الله لحومها ولا دماءها ولكن يناله التقوى منكم)ترجمہ:اللہ تعالی کو قربانیوں کے گوشت اور خون نہیں بلکہ تمہارے دلوں کی پرہیزگاری پہنچتی ہے.,لہذا اس عبادت  کو اللہ کی  رضا اور اس کے حکم کے مطابق انجام دینے کیلئے  چندضروری احکام و مسائل ملاحظہ فرمائیں:
قربانى كا حكم:قربانی اہل علم کے صحیح قول کے مطابق سنت موکدہ ہے،جیسا کہ گذشتہ  احادیث سے ثابت ہے اور نبی کریمrفرماتے تھے:(إذا دخلت العشر،وأراد أحدكم ان يضحي،فلا يمس من شعره وبشره شيئا)(مسلم)ترجمہ:جب ذوالحجہ کا ابتدائی عشرہ  شروع ہوجائے اور تم میں سے کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو تو اسے جسم کا بال یا کوئی بھی زائد حصہ کاٹنے سے پرہیز کرنا چاہئے.اس حدیث میں قربانی کو مکلف کے ارادے پر محمول کیا گیا ہے، جوگذشتہ احاديث ميں موجود لفظ امر كو وجوب سے پهيرنے كيلئے اہم قرينہ ہے,اسی طرح بعض صحابہ کرام سنت کی اتباع کے حرص کے باوجود کئی مرتبہ قدرت واستطاعت ہونے.پر بھی قربانی صرف اس لئے نہیں کرتے تھے تاکہ لوگ اسے واجب نہ سمجھ بیٹھیں!
 قربانى كے دن:قربانی کی کل مدت چار دن ہے،جونماز عید الاضحی کے بعد سے شروع ہوکر آخری ایام تشریق (13ذوالحجہ) تک جاری رہتا ہے،یاد رہے کہ ذبح کے لئے پہلا دن افضل ہے. جیسا کہ فرمان نبوی r ہے:"إن أول ما نبدأ من يومنا هذا نصلي،ثم نرجع فننحر فمن فعل فقد أصاب سنتنا"(بخارى), ترجمہ:آج کے دن ہم سب سے پہلے نماز عید کی ادائیگی کریں گے،پھر واپس ہوکر قربانی کریں گے،جس نے ایساکیا اس نے میری سنت کو پالیا. نیز دوسری جگہ فرمایا:"...وكل أيام التشريق ذبح"(صحيح.ابن.حبان).ترجمہ:سارےایام.تشریق(11،12،13ذوالحجہ) ذبح کے دن ہیں.
قربانى كے جانور: اللہ رب العلمین نے قربانی کیلئے مشروع جانوروں کی طرف سورہ حج کی آیت نمبر34میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:(ليذكروا اسم الله على ما رزقهم من بهيمة الأنعامترجمہ:تاکہ اللہ نے جو انہیں چوپائے عطاکئے ہیں ان پر اللہ کا نام لیں.حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ نے "بهيمة الأنعام"سےمراد اونٹ،گائے اور بکری(تمام اجناس سمیت)کو مانا ہے.
خصی جانور كى قربانى: خصی جانور کی قربانی بھی حلال اور جائز ہے،کیوں کہ یہ سنن ابن ماجہ وغیرہ کی صحیح حدیث میں نبی کریم r سے ثابت ہے.
بڑے جانوروں کی قربانی میں شرکت:بکرے،مینڈھے اور دنبے ایک شخص اور اس كے اہل خانہ کی جانب سے قربان کئے جاتے ہیں،لیکن بڑے جانور؛اونٹ،بیل اور بھینس میں سات سات لوگوں کی شراکت بھی جائز ہے,ايك ہى شخص حسب ضرورت بلا رياء ايك سے زائد جانور يا حصے  بهى قربان كرسكتا ہے. واضح رہے کہ بکرے كا ایک سالہ،بیل دو سالہ،جبکہ اونٹ کا پانچ سالہ ہونا ضروری ہے،اسى كو بعض علماء دو دانتا سے  تعبير كرتے ہيں,كيونكہ ان عمر ميں جانور اس وصف كو پہونچ جاتے ہيں, اگر کسی کو وصف مذكور كا جانور نہ مل سکے تو اس کیلئے بغير دانتا 6ماه كا(جذع)بھیڑ يا دنبہ قربان کرنا درست ہوگا(فتاوى اللجنة الدائمة (11/377),اسی طرح قربانی کے جانورکاصحیح سالم،عیوب سےپاک،صاف ستھرا،لحیم وشحیم اورخوبصورت.ہونا.ضروری.ہے،چنانچہ.اندھے،کانے،لولے،لنگڑے،مریض،کان کٹا،ناک کٹا،کمزور اور دبلے پتلے جانور کی قربانی درست نہ ہوگی.
قربانی کا طریقہ:قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہے،گائے،بیل،بھینس اور بکرے کو ان کے بائیں پہلو پر لٹائے ہوئے ذبح کرنے والا جانور کے گردن پر اپنا پیر رکھ کر "بسم الله الله أكبر،اللهم هذا منك ولك اللهم هذا عني" یا "اللهم تقبل مني"کہتے ہوئے  تيز دھار دار چھری كو جانور کی گردن کے کسی بھی حصے پر اس طرح چلائے کہ اس کا حلق(سانس کی نلی)،مری(کھانے اور پانی کی نلی)اور گردن کے گرد موجود دیگر دو رگیں کٹ کر خون بہہ نکلے،اور اگر قربانی ذبح کرنے والے کے علاوہ  کسی اور کی طرف سے ہے تو وه "مني"یا "عني"کی جگہ " عن " یا " من "  کہہ کر اس شخص کا نام لے گا. واضح رہے کہ اونٹ کے قربانی کا مسنون طریقہ نحر یعنی:ان کے اگلے بائیں پیر کو موڑ کر باندھنے کے بعد(قيام كى حالت ميں) اس کے گردن کی نچلے حصہ پر تیز چاقو سے
مارنا، مستحب اور اونٹ کے لئے آرام دہ ہے, یہ اور بات کہ دوسرے جانوروں کی طرح اونٹ کو بھی ذبح کرنا جائز ہے.
میت کی طرف سے قربانی:قربانی دراصل زندوںکے حق میں مشروع ہے،جیسا کہ اللہ کے رسول r اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اپنے اور اپنے اہل وعیال کیلئے قربانیاں کیا کرتے تھے. البتہ اگر زندوں کے ساتھ مردوں کے شمولیت کی بھی نیت کرلی جائے یا میت نے وصیت کی ہو تو یہ صورتیں جائز ہیں لیکن اگر صرف مردوں کی طرف سے بغیر وصیت کیا جائے تو صدقہ پر قیاس کرتے ہوئے بعض علماءكرام نے  اسے جائز مانا ہے ,نہ کہ انفرادی طور پر میت کی طرف سے قربانی سنت رسول r سے ثابت ہے،اس لئے کہ آپ r یا آپ کے صحابہ میں  سے کسی سے بھی اپنے فوت شدہ اقارب کی طرف سے خاص قربانی ثابت  نہیں ہے.
نبی کریم rکی طرف سے قربانی:بسا اوقات عقیدت میں بعض لوگ رسول اللہ r کی طرف سے بھی قربانی کرتے ہیں،جوکہ غیر شرعی عمل ہے،کیونکہ اس پر کوئی دلیل نہیں!,رہی بات سنن ترمذی یا ابوداود میں حضرت علی t کی روایت جس میں دو مینڈھوں  میں سے ایک اپنی اور  ايك نبی کریم r کی طرف سے قربانی کا ذکر ہے تو وہ راویوں میں کلام کے سبب ضعیف ہے, اگر بالفرص اسے صحیح مان لیا جائے تو یہ وصیت کا معاملہ ہوگا،جیسا کہ بعض روایات میں وصیت کی تصریح موجود ہے.
قربانی کےگوشت اورچمڑےكامصرف:قربانى كےگوشت كا خودکھانا،رشتہ داروں،دوست واحباب کو کھلانا،محتاجون میں تقسیم کرنا،اور حسب حال غیر مسلمين کو ہدیہ کرنا بھی جائز ہے.ياد ر ہے كہ قربانی کے کسی بھی حصہ کو بیچنا،یا اس میں سے قصاب کو بطور اجرت  دینا جائز نہیں ،خواہ وہ چمڑا ہی کیوں نہ ہو،لہذا  اسے مستحقین یا ان کے وکلاء تک پہونچادینا چاہئے.
     اللہ رب العلمین ہمیں ہمہ وقت اور بالخصوص فضیلت والے ایام میں سنتون کے مطابق نیک اعمال میں ایک دوسرے سے مسابقت کی توفیق عطا فرمائے(آمین)
* * *