عید حب (ویلینٹائن ڈے)اور مسلمان
لقدكان لكم في رسول الله أسوة حسنةثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
لتتبعن سنن من كان قبلكم
وما آتاكم الرسول فخذوه ومانهاكم عنه فانتهوا
ارشاد باری تعالی ہے:
ياأيهالذين آمنوا ادخلوا في السلم كافة ولا تتبعوا خطوات الشيطان إن لكم عدو مبين(سوره بقره:208)
14 فروري
عيدالحب-يوم عاشقان- يوم عشاق،بعض لوگ تو اسے "یوم عاشقان "یا یوم اظہار محبت "بہی کہتے ہیں.
شادی شدہ جوڑے ایک دوسرے کو تحائف دیتے اور وش کرتے ہیں(مشابهت غير أقوام كى سبب حرام) اسی طرح غیر شادی شدہ لڑکے لڑکیاں عشق و ہوس کے نام پر محبت کا اظہار کرنے کے اڑ میں ساری حدیں پار کرتے نظر آتے ہیں.
اسلام دین فطرت ہے اور محبت انسانی فطرت کا تقاضہ،اسلام نے محبت سے روکا نہیں بلکہ ترغیب دیتے ہوئے کہاکہ اللہ کی خاطر محبت کرنے والے عرش کی سائے میں ہوں گے.
لہذا محبت اللہ اور رسول اور اقرباء سے ہو تو بہت اچھی چیز ہے
كب ابتداء ؟
ويلنٹائن ڈے کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اس کا آغاز ایک رومی تہوار "ليپرکالیا (Liper Calia) كي صورت میں ہوا ،
قدیم رومی مرد اس تہوار کے موقع پر اپنی دوست لڑکیوں اور عورتوں کے نام
اپنی قمیص کی آستینوں پر لگاکر چلتے تہے ،
بعض اوقات یہ جوڑے تحائف کا بہی تبادلہ کرتے تہے ،بعد میں اس تہوار کو *"سینٹ ویلنٹائن" *کے نام سے منایا جانے لگا-
یہ قدیم بٹ پرست قوم (رومیوں)کے ایک دیوتا کے ایک مشرکانہ تہوار سے ہے،یہ تہوار ہر سال فروری کے وسط میں منایا جاتا تھا ، اس تہوار میں کنواری لڑکیاں محبت کے خطوط لکھ کر ایک بہت بڑے گلدان میں ڈال دیتی تھیں،جن میں سے نوجوان لڑکے انتخاب کرکے شادی سے پہلے لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو سمجھنے کیلئے ملاقاتیں کرتے اور ایک دوسرے کو پھول اور تحائف پیش کرتے تھے ،عیسائیت کے مذہبی رہنماوں نے اس مشہور بت پرستانہ رسم کو ختم کر نے کے بجائے اسے عیسائی لگادی اوڑھانے کیلئے ایک پادری ویلنٹائن سے منسوب کردیا ۔
جیلر کی بیٹی سے محبت کی بات
تيسري صدي عيسوي كا واقعه كلاڈيوس نام كا رومي بادشاه تها جواپنے دشمن سے لڑنا چاہتا تھا،تو نوجوانوں کو فوج میں شامل ہونے کا فرمان جاری کیا،لیکن بعض نوجوان شادی شدہ ہونے کے سبب فوج میں شامل نہیں ہورہے تھے جس پر بادشاہ نے شادی پر پابندی لگادی،اس وقت ويلنتائن ایک پادری نے چوری چھپ کے لوگوں کی شادیاں کرانے لگا،بادشاہ کو اطلاع ملی تو بادشاهنے14 فرورى 270م كو اسے سولی پر لٹکا دیا.(دھرنے کے طور پر ڈیتھ انورسری کے طور پر)اسى دن س آج تك إظهار محبت كا يه ناسور بهرا رواج عام هوتا جارها هى.
عیدالحب کی بنیاد پوپ جیلے ڈیوس نئ 496عیسوی میں رکھی (ویکیپیدیا)
اس کو "سینٹ ویلنٹائن "سے کیوں منسوب کیا گیا ؟
اس کے بارے میں یہ بیان کیا جاتاہے کہ نصرانیوں میں* "ویلنٹائن" *نام کا ایک پادری تہا ، جو ایک راہبہ (Non ) كا اسير اور عاشق تها ، چونکہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لئے نکاح ممنوع ہے ، اس واسطے دونوں شادی نہیں کرسکتے تہے ،اس لئے ایک دن ویلنٹائن ڈے نے اپنی معشوقہ راہبہ کو اس کی تسلی کے لئے یہ بتایا کہ اسے خواب میں یہ بتایا گیا ہے کہ 14 فروری کا دن ایسا ہے کہ اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ حقیقی ملاپ بہی کرلیں تو اسے گناہ نہیں سمجہا جائے گا ،راہبہ نے اس پر یقین کرلیا اور دونوں جوش میں یہ سب کچهہ کر گزرے -
كليسا كي روايات كي اس طرح دهجیاں اڑانے پر ان کا نجام وہی ہو اجو عموما اس قسم کے معاملات میں ہوتا ہے ،یعنی انہیں موت کے گہاٹ اتار دیا گیا ،بعد میں کچهہ منچلوں نے ویلنٹائن کو "شہید محبت "قرار دیتے ہوئے *"ویلنٹائن ڈے " *کے نام پر اس کی یادیں منانا شروع کردیا
چرچ نے اگر چہ اس کی مزمت کی اور اسے جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی عمل قرار دیا ،مگر بے راہ روی ،انارکی اور اباحیت کی جو تحریک مغرب میں عروج پر ہے اس کے مقابلہ میں اس فحش تہوار پر کسی طرح کی پابندی لگانا ذمہ داران چرچ کے بس میں نہیں رہا، ایک طرح سے عیسائیوں نے ویلنٹائن ڈے کو اپنا تہوار بنا لیا -
اس تہوار کے موقع پر خوشی ومسرت کا اظہار کیاجاتا ہے،سرخ گلاب کے پہولوں کا تبادلہ ہوتا ہے ،اس دن کی مناسبت سے کارڈ تقسیم کئے جاتے ہیں ،کارڈ میں عشق ومحبت کی باتیں شعریا نثر کی شکل میں ہوتی ہیں ،اور بعض کارڈ تو گندے قسم کے اقوال اور مضحکہ خیز تصویروں پر مشتمل ہوتے ہیں،اور اس میں عموما یہ لکہا جاتا ہے کہ "ویلنٹائنی "ہوجاؤ،دن ميں محفلوں کو سجایا جاتا ہے اور رات کو عورتوں اور مردوں ،اسی طرح لڑکوں اور لڑکیوں کا باہم مل کر رقص ہوتا ہے، اور پہول و چاکلیٹ کے پیکٹ بطور تحفہ محبت کرنے والوں کو عطا کئے جاتے ہیں.
حرمت كى وجه:
(1)ویلنٹائن ڈے یہ قدیم رومیوں اور عہد حاضر کے عیسائیوں کا ایک تہوار ہے،اور اس تہوار کو منانا اس میں شرکر کرنا ان کی مشابہت اخیتار کرنا ہے ،جب کہ یہود و نصاری اور دیگر کفار و ملحدین کی مشابہت اختیار کرنا حرام ہے
،حدیث شریف ہے
من تشبہ بقوم فہو منہم
(ابو داؤد. و قال الالباني حسن صحيح)
جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے
(2)دین اسلام ہر اعتبار سے ایک مکمل دین ہے ،اور اللہ تعالی نے اس کی تکمیل کا اعلان اپنی کتاب قرآن کریم میں کردیا ہے-
اور اسلام کا یہ کمال ،عقائد وعبادات ،معاملات واخلاقیات کے ساتہ خوشی کے ایام اور تہواروں کو بہی شامل ہے
اوراسلام میں مسلمانوں کے لئے شرعی عیدیں صرف دو ہیں، عید الفطر اور
عید الاضحی ،ان کے علاوہ مسلمانوں کی اور کوئی عید نہیں ہے ،اس واسطے ویلنٹائن ڈے منانا ان کے لئے حرام اور غیر شرعی عمل ہے
(3)ویلنٹائن ڈے کو "عاشقوں کے تہوار" کے طور پر منایا جاتا ہے، چنانچہ ہر سال 14 /فروری کو ویلنٹائن ڈے کے موقع پر اسکولوں ،کالجوں ،پارکوں ،کلبوں اور تفریحی مقامات پر اظہار محبت کے کہلے مناظر دیکہنے کو ملتے ہیں ،ویلنٹائن ڈے منانے والے ا س ڈے (day) كا مطلب يہ بتاتے ہیں
کہ اس موقع پر اپنے محبوب اور محبوبہ کے سامنے کہل کر اظہار محبت کا موقع ملتا ہے،
اور اظہار محبت کے بہانے ایک دوسرے کے قریب ہونے اور ان تمام نازیبا حرکات کرنے کی آذادی مل جاتی ہے ،جو دوسرے دنوں میں سر عام نہیں کرسکتے ،اور بعض مغربی تہذیب سے مرعوب اور فریب خوردہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں تو تمام اخلاقی حدودو قیود سے تجاوز کرجاتے ہیں،اور شہوانی جذبات کی تسکین کے لئے حیوانیت پر اتر آتے ہیں،ظاہر ہے کہ اسلا م جیسا مقدس اور پاکیزہ دین اس کی اجازت نہیں دے سکتا ہے،اسلام تو مسلمان مردوں اور عورتوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکہنے کا حکم دیتا ہے-
جب کہ ویلنٹائن ڈے بے حیائی اور فحاشی کا دوسرا نام ہے ،جو معاشرہ کو بدکاری وجنسی بے راہ روی کی طرف لے جاتا ہے ، اور نوخیز ،نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو فحاشی وبدکا ری کی طرف دعوت دے رہا ہے،
اس واسطے یہ حرام ہے ،لہذا مسلمانوں کو نہ خود ویلنٹائن ڈے منانے اور اس کے پروگراموں میں شریک ہونا چاہئے اور نہ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کو شریک ہونے دینا چاہئے ،بلکہ اس کی قباحتوں کو واضح کرکے تمام لوگوں کو اس سے روکنے کی کوشش اور جدوجہد کرنا چاہئے ،
اللہ تعالی ہم سب كو خرافات وبدعات سے بچنے کی توفیق دے-
آمین
اظهار محبت كا طريقه:
ایک کارڈ پیش کیا جاتا ہے جس پہ لکھا ہوتا ہے be my valentine جس کا مطلب یہ ہے کہ:تم میرے محبوب بن جاؤ،پیش کئے جانے والے کارڈ میں یونانی عقیدہ کے مطابق ایک خدا کی تصویر اس میں بنی ہوئی ہوتی ہے ،اسی طرح اس میں لڑکا تیر مارتا ہے جو لڑکی کے سینے میں جارہا ہوتا ہے.
پھولوں کا گلدستہ پیش کیا جاتا ہے،کہا جاتا ہے کہ پوری میں اس دن پھول کی خریداری میں 40% اضافہ ہوتا ہے.
عاشق و معشوق چاکلیٹ اور مٹھائی کے پیکٹ کا تبادلہ کرتے ہیں.
لال کپڑے خصوصی طور پر پہنتے ہیں.
اظہار محبت کیلئے اسلام میں کوئی دن خاص نہیں ہے،یادرہے کہ خوشی منانے کی خاطر ہمارے لئے عید ،بقرعید اور جمعه(مجازا) کا دن ہے مگر یہ جو ڈے ڈے کی رٹ ہے ہماری نہیں بلکہ یہ رومیون عیسائیوں اور غیروں سے اخذ کی ہوئی ہیں ۔
من تشبه بقوم فهو منهم سنن أبي داود كتاب اللباس ٤٠٣١.
آج بے حیائی عام ہے ،نوجوان لڑکے لڑکیاں مل كرنا زناكارى میں ملوث هوتے ہیں،پیسہ اور وقت برباد ہورہے ہیں۔
آج چھیڑ چھاڑ ہوتو لوگ چھوڑتے نہیں
مگر رضا مندی کے ساتھ جو چاہیں کریں کیا ایسا جائز ہے دین اسلام میں؟
ہرگز نہیں اسلام حیاء کا دین ہے اسلام ایسے کاموں سے منع کرتا ہے،ارشاد باری تعالی ہے:(ولا تقربوا الزنا إنه كان فاحشة و شاء سبيلا ) الاسراء:٣٢
اسلام میں ھیاء کی بہت ہی زیادہ اہمیت ہے،اسلام بے حیائی سے منع کرتا ہے،اور شرم و ھیاء صرف بھلائی ہی لاتی ہے،لیکن اگر شرم و حیاء دھوکر پی جائیں تو جو چاہیں کریں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:(إذا لم تستحي فاصنع ما شئت)بخاري كتاب الأدب ٦١٢٠
اور آج جو عورتیں بن ٹھن کر گھروں سے نکلتی ہیں،انہیں ڈرنا چاہئے، ان کے لئے بہت وعید وارد ہے،ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:صنفان من أهل النار لم أرهما ونساء كاسيات عاريات مائلات ممثلات رؤوسهن كأسنمة البخت (مسلم كتاب اللباس،٢١٢٨)
مومن عورتوں کی صفت یہ ہے کہ وہ چھپے طور سے دوست بنانے والی نہ ہوں
میرے بھائیوں اگر محبت کا اظہار کرنا ہے تو شادی سے بہتر ذریعہ نہیں ہوسکتا اس کے لئے فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:لم ير للمتحابين مثل النكاح ابن ماجه كتاب النكاح ١٨٤٧.
شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہین کہ:
عید حب کی مناسبت سے جشن منانا درج ذیل وجوہات کے سبب جائز نہیں:
پہلی وجہ:یہ ایک نئی ایجاد شدہ(بدعی) عید ہے ، شریعت میں اس کی کوئی بنیاد نہیں۔
دوسری وجہ:اس سے عشق اور ہوش پرستی کو بڑھاوا ملتا ہے۔
تیسری وجہ:اس کے سبب دل کو طریقہ سلف سے ہٹی ہوئی بے وقعت چیزوں کی جانب رغبت ملتی ہے۔
لہذا اس دن کو اس کی طرح کھانے پینے کپڑے اور ہدایاجات کا خصوصی اہتمام کرنا درست نہیں ہے۔
اور مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے دین پر فخر کریں اور ڈھلمل یقین ہوکر ہر آواز کے پیچھے دوڑنے والے نہ بنیں۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو ہر قسم کے ظاہری و باطنی فتنوں سے محفوظ رکھے ،اور ہمیں اپنی پناہ میں اور توفیق سے نوازے۔
مجموع الفتاوی (16/199)۔
حل:
سعودى عرب اور زهور كى دكانين
آخر کیا کمی تھی شریعت محمدی میں کہ ہم نے اسے چھوڑکر غیروں کی نقالی شروع کردی ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ لوگ ہماری تعلیمات کو اپناتے